کسی کی اجازت کے بغیر ویڈیو بنانا اور نشرکرنا قابل سزا جرم ہے: اٹارنی جنرل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے کہا ہے کہ حکومت کا مریم نواز کی پیش کردہ ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں، تاہم کسی کی اجازت کے بغیر ویڈیو بنانا اور نشرکرنا قابل سزا جرم ہے۔ اس معاملے پر عدلیہ کو نوٹس لینا چاہئے۔

نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے انور منصور خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف فیصلے کے وقت اس ویڈیو کا کوئی معاملہ نہیں تھا۔ کسی کی اجازت کے بغیر ویڈیو بنانا اور نشر کرنا جرم ہے، جس کی سزا 3 برس قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہے اور یہ سزا جرم میں شریک لوگوں پر بھی لاگو ہو گی۔

انور منصور خان نے کہا کہ اگر یہ ویڈیو سچ ثابت ہو جاتی ہے تو جج صاحب کی ویڈیو بنانے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جا سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس ویڈیو میں جو باتیں کی گئیں ہیں، اسے بنانے اور دکھانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس وڈیو کو سامنے لائیں اور اپنے آپ کو سچا ثابت کریں۔ سائبر سٹاکنگ کے متعلق قوانین موجود ہیں۔ اس حوالے سے جج صاحب بھی یہ سامنے لا سکتے ہیں اور حکومت بھی اس حوالے سے۔ پہلے کبھی بات نہیں کی گئی کہ جج صاحب کسی سے ملے، جج صاحب نے جو فیصلہ دینا تھا وہ دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ جس آدمی نے وہ ویڈیو بنائی ہے وہ اپنے کیمرے کے ہمراہ عدالت میں پیش کرے۔ اگر یہ نہیں کیا جاتا تو ویڈیو کی تصدیق کرنا مشکل ہوگا کیونکہ اس ویڈیو کو موڈیفائی کرکے ویڈیوز بنائی گئی ہیں۔ جس کے سامنے بنی ہے، وہ بھی سامنے ہو، جس کو بھیجی گئی ہے، وہ بھی سامنے آئے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں سامنے لانا ضروری ہے۔ قانون کے مطابق اس ویڈیو کا فرانزک کرا کر ہی پتہ چل سکتا ہے کہ اس میں ایڈیٹنگ ہوئی ہے یا نہیں؟

دوسری طرف معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی طرف سے ویڈیو سامنے آنے کے بعد احتساب جج ارشد ملک نے قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق سے ملاقات کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں مسلم لیگ ن کی طرف سے جاری کی گئی حالیہ ویڈیو اور مبینہ الزمات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ احتساب جج کی قائم مقام چیف جسٹس سے ملاقات 40 منٹ جاری رہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •