ادھورے آدمی کی مہلت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ناول کا آخری صفحہ پلٹتے ہوئے اُس کے چہرے کے تاثرات بد لنے لگے اور آنکھوں میں بھرا پانی اخراج کا راستہ تلاش کرنے لگا۔ آخری صفحے کے لفظ دھندلا رہے تھے۔ اُس نے سوچا میں ایسی ہی ایک کہانی پر سالوں سوچتا رہا ہوں جس کے کردار اپنی زندگیوں میں ان کردارں سے کہے ں بڑے تھے۔ متن کی آخری سطور ختم ہوتے ہی اُس نے اِس بین الاقوامی پذیرائی حاصل کرنے والے نادل کے ٹاءٹل کو دیکھا اور پہلے صفحے پر درج مصنف کے دستخط غور سے دیکھے۔ دستخط کے ساتھ اُس کے لئے نیک تمناوں سے بھرئے کچھ جملے درج تھے۔

اُس نے ناول تکیے کے پاس رکھا اور اپنی کہانی کے اُن کردارں کو یاد کرنے لگا جو آج بھی کہیں اُس میں موجود تھے اور اپنی کہانیوں کے اظہار کے راستے تلاش کر رہے تھے۔ وہ سوچنے لگا کیسے ہر کردار اور کہانی کے ہر پہلو کے لئے وہ اپنے نوٹس تیار کرتا اور اُنہیں محفوظ کیے جاتا تھا مگر اُسے یہ کہانی لکھنے کا وقت نہ مل پایا۔ اُس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنی نسوں میں داخل ہوتی ہوئی دوا کے ہر قطرے کو ڈرپ سے گرتے ہوئے دیکھنے لگا۔ جیسے جیسے ہر قطرہ ڈرپ کی بوتل سے ڈراپر میں آنے لگا اُس کا دل ویسے ویسے بیٹھنے لگا۔ آخر میں یہ کہانی کیوں نہ لکھ سکا تھا; 238 ; اگر میں ایسا سوچ سکتا ہوں تو ایسا لکھ کیوں نہیں سکتا۔ مگر مجھے تو لکھنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اُس نے اِن خیالوں سے الجھ کر دوبارہ اپنی آنکھیں بند کر لی۔

آنکھیں بند کرتے ہی سالوں پرانی فلم اُس کے اگے چلنے لگی جب وہ ایسے ہی کرداروں کے بارے میں سوچتا تھا۔ جب نت نئے پلاٹ اُس کی سوچوں میں اپنی جگہ بناتے تھے۔ جنہیں نہ تو وہ محفوظ کر سکا اور نہ ہی زندگی دے سکا۔ اِسی چلتی فلم میں اُسے اپنا زمانہِ طالب علمی نظر آنے لگا جب وہ ہر مشاعرے کا حصہ ہوتا تھا اور کالج کے میگزین کے لئے تحریریں تلاش کرتا رہتا اور راتیں افسانے لکھنے میں گزر جایا کرتیں تھیں۔ اچانک ایک نئے منظر میں اُسے حمیرا نظر آنے لگی۔

ایک منظر میں اُس کا مسکراتا چہرہ آتا اور دسرے منظر میں وہ اُسے اپنی لحد میں اتاررہا تھا۔ اُس کے جسم میں ایک تھرتھرہٹ سے پیدا ہوئی اور اُس نے آنکھیں دوبارہ کھول لی۔ حمیرا اُسے حلقہ اربابِ ذوق کے ایک اجلاس میں ملی تھی۔ جس دن اُس نے وہاں ایک نظم پڑھی تھی اور اُس نظم سے اُن کے معاشقے کی ابتدا ہوئی۔ پھر وہ ہر اجلاس میں ملنے لگے اور گھنٹوں وہ شاعری پر بات کیا کرتے تھے۔ اُس کے حمیرا سے شادی کرنے کی کوئی اور وجہ نہیں تھی سوائے یہ کہ حمیرا ادب پرور لڑکی تھی اور زندگی کی دوڑ میں باقی سب کے ساتھ بھاگنے سے گریز کر رہی تھی۔

تعلیم پوری ہوتے ہی دونوں نوکری کی تلاش میں مگن ہو گئے۔ نوکریاں تلاش کرتے ہی شادی اور شادی سے فرصت پاتے ہی اُن کے ہاں عثمان کی پیدائش ہو ئی۔ پھر نوکری بچانے اور ترقی کرنے کی فکر نے آن گھیرا۔ اِسی اثنا میں معلوم ہوا کہ والدین بوڑھے ہو گئے اور اب خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔ اسی توجہ میں وہ بوڑھے سے بوڑھے ہوتے گئے اور بستروں کو جا لگے۔ نوکری، عثمان اور بوڑے والدین کے درمیان ہی میمونہ آگئی اور عثمان اسکول جانے لگا۔

چھ دن دفتر اور چھٹی کا دن گھر نے لینا شروع کر دیا اور یوں یہ ہفتے، سالوں کا سفر آنکھ جھپکتے ہی طے کر گئے۔ وقت کو تقسیم کرنا ایک فن تھا اور بہت فنون کے ددمیان یہ فن کہیں انگریزی کے فن میں بدل گیا۔ امورِ خانہ داری اور معاش کے جھمے لوں میں کہیں وہ کردار روٹھ گئے اور کہانیاں ہوا میں تحلیل ہو گئیں۔ لفظ اجنبی لگنے لگے اور مصرعے مصری میں گھل لیے۔ دوستوں کی محفلیں کیا ہوئیں اور جو ہوئیں بھی تو اُن کے موضوعات کناروں پہ پڑے مفادات کو جا چپکے۔ وقت نے کہاں ٹھہرنا تھا کہ اِن سب سے فرصت مل جاتی تو ہم کہانی کہہ لیتے۔

ہسپتال کے اُس چھوٹے سے کمرے کی کھڑکی سے سورج کی کرنیں داخل ہوئیں تو چڑیوں کے چہچہانے کی آواز اُسے اِن خیالوں سے باہر لے آئی۔ اُس نے بنا آواز کے گرتے قطروں کو دوبارہ ڈراپر پر نظر ڈال کے دیکھا اور اندازہ لگایا ابھی کتنی دوا باقی ہے اور دوبارہ آنکھیں موندھ لی۔ آنکھیں بند ہوتے ہی اُسے پروفیسر خان ابھرتے ہوئے نظر آئے۔ وہ ایم اے کے آخری دنوں میں سے کوئی دن تھا۔ جاڑا اپنے عروج پر تھا اور پروفیسر اپنے موڈ میں واک کرتے ہوئے اُس سے مخاطب تھے۔

”کوئی بھی فن ہو یا عورت۔ ۔ ۔ بندہ پورا مانگتی ہے، بالکل پورا۔ ادھ ادھورے آدمی سے نا آرٹ کا گزارا ہے نا عورت کا۔ نا عروجِ باکمال ملے گا نہ عورت کے اندر کی دنیا۔ فیض صاحب ایک ہی ہوتے ہیں کہ ادھورے ادھورے دونوں کاموں کے ساتھ کام بنا لیتے ہیں۔ ہاں البتہ دونوں ایک دوسرے کاراستہ ہیں۔ جہاں جانا ہے پورا جاؤ۔ ۔ ۔ نہ یہ پارٹ ٹائم ہے نہ ہی کوئی وقتی پروجیکٹ۔ پوری زندگی کا حاصل جمع چاہیے۔ بنا تھکے بنا شکوہ کیے۔ پھر بات بنے تو بنے۔ ۔ ۔ “

دروازہ چر کی آواز سے کھلا اور سفید پری بنا آواز پیدا کیے جوتوں کے ساتھ چلتی ہوئی اُس کے بستر تک آئی۔

”سر کیسے ہیں آپ۔ رات کو نیند تو اچھی آئی تھی۔

”ہاں۔ ۔ نیند۔ ۔ نیند اچھی آئی تھی۔ “ اُس نے پری کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا

”پھر میں آپ کی ڈرپ بدل دیتی ہوں۔ کچھ دیر میں ڈاکٹرآنے والے ہیں۔ “ ابھی وہ گرتے قطروں کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اُس نے بستر کے ساتھ لگی میز سے ایک نئی دوا کی بوتل اٹھائی اور پرانی سے بدل دی۔ یہ کرتے ہوئے اُس نے بستر پر پڑا ناول دیکھا اور بولی۔ ”کم پڑھا کریں آپ کو ریسٹ کی ضرورت ہے۔ “ نرس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”پڑھا بھی کم۔ ۔ “ وہ جملہ بولتے بولتے رہ گیا۔ اور نرس اس کے بستر سے لٹکتا پیشاب کا تھیلا بدلنے لگی۔

”تمہیں تمہارا مرد مکمل ملا کیا۔ “

سفید پری کے چہرے سے اچانک مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ اُس نے جلدی سے بستر کے پیروں سے لگے سٹینڈ سے ایک فائل اٹھائی، اُس پر کچھ درج کیا اور بنا اُس کو دیکھے اور کچھ کہے کمرے سے باہر نکل گئی۔

اُس نے دوبارہ آنکھیں بند کیں تو فلم دوبارہ شروع ہو گئی۔ اماں ابا کے کمرے میں عثمان کا سامان پہنچ چکا تھا اور اُس کی گالوں پر ہلکے ہلکے بال ظاہر ہونے لگے تھے۔ میمونہ کا قد نکل رہا تھا جب اُس کی شا میں اور چھٹیاں اپنے گھر کی تعمیر میں گزرنے لگیں اور گھر مکمل ہونے تک اُسے ذیابیطس چمٹ چکی تھی۔ ابھی وہ اپنے گھر میں شفٹ ہی ہوئے تھے کہ حمیرا نے میمونہ کو اپنے گھر رخصت کرنے کا سوچا اور اُسے دوبارہ ادھار لینے کی خاطر بینکوں کا رخ کرنا پڑا۔

دروازہ پھر تیزی سے کھلا اور پری ڈاکٹر سمیت کمرے میں داخل ہوئی۔ اُس نے سر اٹھایا اور خود کو بستر کا سہارا دیا۔

”جی صدیقی صاحب! کیسا محسوس کر رہے ہیں اب؟“

”پہلے جیسا ہی محسوس کر رہا ہوں۔ “ ڈاکٹر نے فائل سے سر اٹھا کر اُسے دیکھا اور مسکرایا۔ پری کے چہرے پر کوئی تاثرات نہیں اور وہ خود کو ڈاکٹر کی اوٹ میں چھپائے ہوئے ہے۔

”آپ کی بیٹی آتی ہے تو ہم آپ کے آپریشن کے متعلق طے کرتے ہیں۔ رپورٹس کچھ تسلی بخش نہیں۔ آپ ریسٹ کیجئے۔ “ ڈاکٹر بنا جواب کا انتظار کیے باہر چلا گیا۔ نرس نے دروازہ بند کرتے ہوئے ایک نگاہ اُس کی دوا پر ڈالی اور باہر چلی گئی۔

اُس نے دوبارہ آنکھیں بند کیں تو عثمان اعلیٰ تعلیم کے لئے ملک سے باہر جا رہا تھا۔ اُس کو گئے ابھی ہفتہ بھر ہی ہوا ہو گا کہ میمونہ شوہر سے لڑ کر گھر آگئی اور پھر کبھی اپنے گھر نہ جا سکی۔ میمونہ اکیلے ہی واپس نہیں آئی تھی۔ وہ اُن دونوں کے لئے مستقل پریشانی ساتھ لائی تھی۔ تب ہی حمیرا نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا۔ اُسے یہ سب سوچتے ہوئے اُن کاغذوں کا خیال آنے لگا جن پر اُن وقتوں کے دوران وہ ادھورے، ٹوٹے پھوٹے کردار تراشتا رہا تھا۔ وہ کردار جن میں کوئی جان نہ تھی اور جو زندگی سے، ایک عام اور معمولی سے زندگی سے بھی بہت چھوٹے تھے۔

اُسے پروفیسر خان پھر یاد آنے لگاجب باغِ جناح میں سیر کرتے ہوئے اُس نے اچانک رک کر اُس کے کاندھے تھامتے ہوئے کہا تھا : ”میں یہ جو سب تاریخی حقائق تلاش کر پاتا ہوں یہ امورِ خانہ داری اور دفتری فراءض سے کام چوری کا حاصل ہیں“ یہ کہہ کر اُس نے ایک قہقہہ لگا یا اور واپس سیر کرنے لگا۔ پروفیسر خان کے قہقہے پر اُس کی آنکھیں دوبارہ کھلی اوروہ دروازے کے درمیان میں لگے شیشے سے گیلری میں آتے جاتے لوگوں کے سائے کو دیوار پر دیکھنے لگا۔

دیوار پر نظریں جمائے اُسے یہ خیال آیا اگر میں اپنے بیوی بچوں سے دور کسی جگہ پر ملازم ہوتا اور مہینوں بعد اُن سے ملنے آتا تو میں اپنی کہانیوں میں زندگی کا لمبا عرصہ اپنے کرداروں کے ساتھ گزار سکتا تھا۔ مگر مجھے یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا۔ لیکن حمیرا کیسے اکیلے سب کر پاتی، کیسے اماں ابا کا خیال رکھ پاتی، کیسے بچے پالتی; 238 ; کیا کچھ عورتیں اکیلے بچے پال نہیں لیتیں ; 238 ; حمیرا بھی پال لیتی۔ ایسا کچھ نہیں ہو پایا۔ کیا میری ترجیحات بدل گئی تھی۔ کیا میں محض اپنا وقت گزار رہا تھا اور خود ہی اپنے کرداروں سے فرار چاہتا تھا۔

کھلتے دروازے نے اُسے جھنجھوڑا اور اُس نے اپنی آنکھوں کا پانی صاف کیا۔

”سام لیکم صاب جی! ٹھیک او۔ “ یہ نیلی وردی میں پوش خاکروب تھا۔ جس نے آتے ہی اُس کے بستر کے پاس پڑی کچرے کی ٹوکری سے گند نکالنا شروع کر دیا۔

اُس کا جی چاہا وہ اِس کو کہے پری کو بلا لاؤ۔ اور اُس کو بتا ؤ میں برا آدمی نہیں ہوں۔ میں تو پروفیسر خان کی باتوں کی تصدیق کر رہا ہوں۔ وہ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ خاکروب کمرے سے باہر چلا گے ا۔ اُس نے پھر سے آنکھیں میچ لیں۔

میمونہ کی پریشانی نے نہ صرف حمیرا کو گھر تک محدود کیا بلکہ پہلے بستر سے لگایا اور پھر خدا کے مہمان خانے بھیج دیا۔ حمیرا کا جانا ہی تھا کہ عثمان کی بیوی اور میمونہ کی تلخیاں بڑھنے لگیں اور ایک دن وہ میاں بیوی گھر سے رخصت ہوئے اور صدیقی صاحب دفتر سے حسن ِ کارکردگی کا ایک سرٹیفکیٹ لے کر ہمیشہ کے لئے گھر آ گئے۔ پھر سے کرداروں کو منانے کی کوشش کی، کہانیوں کی دنیاؤں میں کھونے کی سعی دہرائی۔ لفظوں کے آگے ہاتھ باندھے اور جملوں کی دھارے تیز کرنے کی کوشش کی مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔

ایک اور شام کھڑکی سے جھانکتی ہوئے اندر داخل ہوئی اور اُسے نیند نے آغوش میں لے لیا۔

آنکھ کھلی تو قطرہ اب بھی ڈراپر میں گر رہا تھا۔ اُسے معلوم ہو گیا پری خاموشی سے آکر دوا کی بوتل بدل گئی ہے۔ اُس نے خود کو اٹھانے کی کوشش کی۔ ناول کے پہلے صفحے پر مصنف کے دستخط دوبارہ دیکھے اور آخری صفحہ پلٹ کر کھولا۔ آخری صفحے پر درج اختتام کو دوبارہ پڑھنے کے بعد اُس نے وہ صفحہ نادل میں سے الگ کیا اور اُس کی پشت پر کچھ لکھنے لگا۔

”پری! “ اُس نے ایک لفظ لکھ کر اُسے کاٹا اور پھر سے کچھ لکھنے لگا۔

” میں برا آدمی نہیں۔ بس اتناہی کہنا ہے فن اور عورت۔ پورا آدمی مانگتے ہیں۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علی ابو الحسن کی دیگر تحریریں
علی ابو الحسن کی دیگر تحریریں