یاسر حسین اور اقرا عزیز، تم نے بہت غلط کیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایوارڈ تقریب جاری تھی ایسے میں اداکار، رائٹر اور اینکر یاسر حسین نے اداکارہ اقرا عزیز کو پروپوز کر ڈالا، باقاعدہ گھٹنوں پر جھکتے ہوئے پوچھا کہ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟ اقرا عزیز نے انگوٹھی قبول کر کے رضا مندی ظاہر کر دی۔ یاسر حسین نے ہاں کرنے پر فرطِ جذبات میں اقرا کو چوم لیا۔ وہاں موجود لوگوں نے خوش ہو کر تالیاں بجا دیں۔ وہیں بیٹھے ہوئے پاکستانی سینما کے لیجنڈ ندیم بیگ نے بھی مسکراتے ہوئے یاسر حسین کو گلے لگا کر مبارک باد دی۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان آ گیا۔ صالحین توبہ توبہ کر اٹھے۔ اکثریت یاسر حسین اور اقرا عزیز کو ملامت کرنے میں مصروف ہو گئی۔ ظاہر ہے نیک کام کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ یاسر حسین تم نے بہت غلط کیا ہے۔ اس طرح بھری محفل میں کسی لڑکی کو شادی کا پیغام دینا نہایت معیوب بات ہے۔ مانا کہ تم دونوں شوبزنس سے وابستہ ہو اور اس دنیا کے لوگوں کی زندگیاں کھلی کتاب کی طرح ہوتی ہیں لیکن تمہیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے تھی کہ تم ایک ایسے معاشرے کے فرد ہو جہاں شرم و حیا بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور تم نے ایسے صالح معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔

اگر شادی کرنا ہی تمہارا مقصد تھا تو تمہیں چاہیے تھا کہ تم اپنے گھر کے آس پاس رہنے والی رشتہ کرانے والی خالہ سے بات کرتے، وہ دونوں خاندانوں کی ملاقات کا اہتمام کرتیں۔ تمہارے گھر کے بڑے جب رشتہ دیکھنے جاتے تو تم گھر میں بیٹھ کر انتظار کرتے اس انتظار میں تمہیں اضطراب بھری مسرت حاصل ہوتی دوسری طرف تمہارے گھر کی خواتین کو تھوڑا ترسانے کے بعد اقرا چائے لے کر آتی۔ خواتین بھرپور جائزہ لینے کے بعد اگر ہاں کرتیں تب یہ رشتہ منظور ہوتا اور یوں تمہاری شادی ہمارے رسم و رواج کے عین مطابق ہو پاتی۔

تمہارا یہ انداز اس امر کا عکاس و غماز ہے کہ تم روایات کے باغی ہو ہمارے نزدیک یہ بغاوت نہایت قابلِ مذمت ہے، خواہ وہ جاگیر کی خاطر لڑکیوں کو گھر بٹھانے کی مخالفت میں ہو یا غیرت کے نام پر قتل کے خلاف آواز اٹھانے کی صورت ہو۔

یہ کیا بات ہوئی کہ اتنے سارے مرد و زن کے سامنے تم نے شادی کا پیغام دیا اور اقرا نے بھی حیا کی چادر کو لپیٹ کر ہاں کر ڈالی۔ کم از کم ایک زور دار تھپڑ ہی تمہارے منہ پر جڑ دیا ہوتا تا کہ دل جلوں کا کلیجہ ٹھنڈا ہوتا۔ تمہیں کیا اندازہ نہیں ہے کہ ہم کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتے۔ ہمارے ہاں اخبارات میں چھپنے والی زیادہ تر تصاویر لاشوں کی ہوتی ہیں۔ ہم بس ریپ، قتل، ڈاکے اور کرپشن کے بارے میں خبریں سننا اور دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ نیو ائیر نائٹ، ویلینٹائن ڈے اور کسی کو سرِ عام پروپوز کرنے جیسی بیہودگی کو ہم قطعاً پسند نہیں کرتے۔ کیوں کہ ہمارا فوکس بے حیائی کو پھیلنے سے روکنے پر ہے۔

اگر تمہیں اقرا سے اتنی ہی محبت تھی تو اس کا صحیح طریقہ یہ تھا کہ تم یہ بات کہیں چھپ کر تنہائی میں اس سے کرتے۔ اس سے خفیہ شادی کر لیتے۔ تم دونوں کے بارے میں طرح طرح کی خبریں اڑائی جاتیں تو تم ہمیشہ انکار کرتے اور پھر جب وہ تمہارے دو بچوں کی ماں بن چکی ہوتی تو خبر لیک ہونے پر تم مان لیتے۔ تب لوگ تمہیں معاف کر دیتے بلکہ تمہیں سپورٹ کرتے کہ شادی کر کے تم نے شرعی کام کیا ہے اور یہ جذبات کی شدت میں چومنا تو انتہائی لغو بات ہے حالاں کہ سر سے پاؤں تک چومنے والے اتنی رازداری سے کام لیتے ہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی بشرطیکہ لڑکی نے کوئی خفیہ کیمرہ نہ لگا رکھا ہو۔

تم کتنے نادان ہو شاید نادانستگی میں جذبات سے مغلوب ہو کر بے حیائی پھیلانے کا موجب بن گئے۔ ہمارے معاشرے جذبات تو سبھی رکھتے ہیں لیکن وہ بے حیائی نہیں پھیلاتے۔ شوبز کے اندر یا باہر لڑکیوں کو کبھی روپے کے بل پر اور کبھی بلیک میلنگ کے ذریعے چپکے چپکے اپنی خلوت گاہوں تک لے جا کر اپنے جذبات کی تسکین کر لیتے ہیں مگر بے حیائی نہیں پھیلاتے۔ اسی طرح شراب کے رسیا اپنی نجی محفلوں میں بھلے ہی جام کے جام لنڈھاتے ہوں مگر تقریبات میں شراب کو ہاتھ لگانے والے کو بھی کافر قرار دیتے ہیں۔

دودھ میں گٹر کا پانی ملا لیں گے، مرچوں میں لکڑی کا برادہ، کم تولیں گے، ناجائز قبضے کر لیں گے، روپے پیسے کی کرپشن کر لیں گے، لوگوں کو مٹن کے نام پر گدھے کا گوشت کھلا دیں گے، ادویات میں ملاوٹ کر لیں گے لیکن بے حیائی نہیں پھیلنے دیں گے۔ یہ پاک لوگوں کی سر زمین ہے یہاں نیک لوگ رہتے ہیں۔ لہٰذا اپنی اداؤں پر ذرا غور کرو اور یہ مان لو کہ تم نے بہت غلط کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •