کیا کیپٹن صفدر واقعی درویش ہیں ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکثر سیاسی بحث ومباحث میں یہ سوال حامی اور مخالف دونوں طرف سے زیر بحث آتا رہتا ہے کہ کیپٹن صفدر درویش ہیں کہ نہیں؟ مخالفین ان کے لئے درویشی کا لفظ بطور تنقید استعمال کرتے ہیں اور حامی بطور خوبی۔ چونکہ میرا تعلق کیپٹن صفدر کے آبائی حلقے سے ہے اس لئے میں زیادہ تر اپنے ذاتی اور خصوصاً آنکھوں دیکھے مشاہدات سے بات کروں گا۔ 2008 میں مانسہرہ II سے قومی اسمبلی کے ایم این اے فیض محمد خان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے منتخب ہوئے مگر وہ بعد وفات پا گئے اور قومی اسمبلی کی سیٹ خالی ہوئی۔

پارٹی نے اس سیٹ پر ٹکٹ فیض محمد خان کی بیٹی عنبر فیض کو دیا۔ مگر اس نے پارٹی ٹکٹ کیپٹن صفدر کے بھائی حاجی طاہر کو دے دیا۔ یہ قومی اسمبلی کا ضمنی الیکشن تھا پورے ملک کی سیاسی جماعتوں کی نظریں اس الیکشن پر تھی۔ بڑے بڑے سیاسی رہنماٶں کی اس حلقے میں آمد ہوئی۔ مختلف پارٹی پالیسیاں بیان ہوئیں اور بلند و بانگ دعوے اور بڑے بڑے وعدے وعید ہوئے۔ مگر اس موقع پر ایک دبنگ آمد اس رہنما کی ہوئی جس نے علاقائی ثقافت و رواج کے مطابق شانوں پہ علاقائی ثقافت کے مطابق چادر زیب تن کی ہوئی تھی سیاستدانوں کے روایتی دعوٶں سے ہٹ کر وہ وعدے کیے جو ایفا کئے۔

انداز بیاں بھی روایتی نہیں تھا بلکہ عام سادہ اور مادری زبان میں اور اپنی قوم اور علاقے درد رکھنے والا تھا۔ ہر جگہ جلسے میں بھائی کے لئے ووٹ کے لئے وعدہ لینے کے بجائے یہ وعدہ لیا گیا کہ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلوائیں گے۔ اگرچہ وہ سابق وزیراعظم کے داماد بھی ہیں مگر علاقے میں ان کی پہچان بابا جیون رحمتہ اللہ علیہ کے پوتے کی بھی تھی۔ جنہوں نے انگریز سرکار کے خلاف یہ شرعی فتوی صادر کیا تھا کہ تاج برطانیہ کے خلاف جہاد فرض ہو گیا۔

پھلڑہ مانسہرہ میں ایک مذہبی اجتماع کے دوران قائد شباب اسلامی مفتی حنیف قریشی نے یہ کہتے ہوئے کیپٹن صفدر کا استقبال کیا کہ ہم کیپٹن صاحب کا اس نسبت سے استقبال کر رہے ہیں کہ یہ اللہ کے ولی کے پوتے ہیں۔ کیپٹن صفدر کے چچا نے 1946 میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور تحریک پاکستان میں حصہ لیا۔ والدہ مادر ملت کے صدارتی الیکشن میں مادر ملت فاطمہ جناح کی پولنگ ایجنٹ تھیں۔ اس وقت کیپٹن صفدر ان کی جھولی میں تھے۔

گویا اس الیکشن کیمپین میں بھی کیپٹن صفدر کی شخصی خصوصیات اور مزاج کا چرچا ہر زباں پہ تھا۔ حالانکہ الیکشن ان کے بھائی لڑ رہے تھے لیکن ہر زبان پہ نام کیپٹن ہی کا تھا۔ اگرچہ اس الیکشن میں ان کے بھائی ایکشن تو نہ جیت سکے مگر اچھا خاصے ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ مگر اس کے باوجود عوامی رابطہ اورخدمت کا جذبہ ماند نہ پڑا۔ اس حلقے سے بغیر منتحب ہونے کے باوجود بڑے ترقیاقی کام کروائے۔ اس حلقے کے عوام جو ہمیشہ سے یہ خیال کرتے تھے کہ MNA کا کام ترقیاتی کام کروانا نہیں ہوتا نہ ہی اس کا کوئی فنڈ ہوتا ہے۔

مگر کیپٹن صفدر کے بغیر منتخب ہونے کے عوامی خدمت پر اہل حلقہ کی حیرت انتہا پر تھا۔ نہ صرف یہی بلکہ ان کاموں کی خود نگرانی بھی کرتے رہے اور عوام کے درمیان موجود رہے۔ عوامی خدمت کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2013 کے الیکشن میں خود اس حلقے سے الیکشن لڑا تو حلقے کی عوام نے محبت جواب اسی محبت میں دیا کہ تقریبا ایک لاکھ ووٹ حاصل کیا اور بڑی اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ کیپٹن صفدر غریب طبقے سے اٹھنے والے رہنما سابق MPA یوسف تنولی مرحوم اور غریب پرور خان عبدلقیوم خان مرحوم کو اپنے لئے باعث تقلید قرار دیتے رہے۔

2013 کے الکیشن کے بعد بھی علاقے میں مزید ترقیاتی کام ہوئے۔ کوہ بھینگڑہ (سیری زیارت) تک روڈ کی رسائی جو صرف کبھی خواب ہی معلوم ہوتا تھا اسے عملی شکل دے دی گئی۔ بجلی اور پانی کے منصوبوں پر بڑے کام ہوئے۔ گیس کے بہت بڑا منصوبے پہ صرف کام شروع ہوا بلکہ بہت بڑا کام مکمل بھی ہوا۔ تناول میں ایئر پورٹ کے کام کے لئے کوشاں رہے جس کی فزیبلٹی کی رپورٹ کی مکمل ہو چکی تھی۔ مگر اتنے بڑے کام کرونے کے ساتھ ساتھ کیپٹن صفدر ایک سکول میں بچوں میں ریوڑیاں تقسیم کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔

بچوں کے گلے میں بار ڈالتے ہوئے بھی نظر آئے۔ ایک برجوش بچوں کے ہجوم کو سینے سے لگاتے ہوئے بھی نظر آئے۔ اور دیوانے افراد سے شفقت بھری نگاہ سے ملتے دکھائی دیے۔ ایک روڈ کی کشادگی کے تنازعہ پر ایک بزرگ خاتون کے پاس خود گئے اور کہاں اماں جی میں بطور جرگہ آپ کے پاس آیا ہوں۔ وہ عورت کی کیپٹن صفدر کو اپنے گھر پر دیکھتے اور اپنے لئے جرگے کا لفظ استعمال کرنے پر نہ صرف خوشی کی انتہا نہ رہی بلکہ ساتھ سڑک گزارنے پر تنازعہ بھی یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ اب میرے پاس پتر صفدر آگیا ہے۔

جس پر علاقے کے عوام کے دل میں قدر اور بڑھ گئی۔ جس وقت عدالت نے سزا سنائی تو اس وقت حلقے میں تھے اس وقت کے عینی شاہد موجود ہیں کہ لوگ کیپٹن صفدر کے لئے دھاڑیں مار مار کر روئے۔ عوامی محبت کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2018 کے الیکشن میں ان کے جیل میں ہونے کے باوجود ان کے بھائی سجاد احمد اس حلقے سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے۔ یہ تھے کیپٹن صفدر کے علاقائی سطح پر احوال۔ اب یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ واقعی کیپٹن صفدر درویش ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •