مادیت پسندی، مادہ وکٹوریا اور۔۔۔ ایک اورآدمی


\"hinaعہدِ حاضر میں ترقی کی برق اڑانیں بھرتے انسان کو دیکھ کر حسن منظر کی کہانی”ایک اورآدمی “ یاد آتی ہے۔ اس کہانی کا تعلق انسان اور فطرت کے باہمی تصادم سے مشروط ہے۔ فطرت اور انسان جب ایک دوسرے کے مدِ مقابل آجائیں تو اس کا نتیجہ محض تباہی ، ہلاکت اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ افسانے کی کہانی کیمرون کے جنگلات سے پکڑ کر چڑیا گھر میں لائی گئی ایک امن پسند مادہ گوریلا ”وکٹوریا “کے گرد گھومتی ہے۔ جسے جانوروں کی تجارت اور منافع کی غرض سے بارہا نسلی افزائش کے مرحلے سے گزارا جاتا ہے ۔ ناکامی کی صورت میں جدید ٹیکنالوجی سے مرصع تجربات کی آزمائش سے مصنوعی طریقہ اختیار کرتے ہوئے اسے انسانی جرثومے سے حاملہ کیا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ ایک انسان نما جانور کو جنم دیتی ہے اور آخر کار اسی صدمے سے مر جاتی ہے۔ کہانی کے چند حصے ا نسانی فطرت کی مفاد پرستی اور سفاکیت کی عمدہ عکاسی کرتے ہیں جو اپنے نفع کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ جس نے فطرت اور اس سے وابستہ زندگیوں کوجدید سائنس و ٹیکنالوجی کے منفی استعمال سے اپنی زر پرستی اور ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔

”یہ حقیقت تھی،سور کا دل انسانی چھاتی میں لگانے کا تجربہ کیا جا چکا تھا اور جانوروں کا اور بہت کچھ انسانی جسموں میں وقتاَ فوقتاَ منتقل کیا جاتا رہا تھا۔ کیا ہوا اگر وصول کرنے والے کے جسم نے اُسے تھوڑے ہی دن بعد ٹھکرا دیا تھا۔ “

\"hasan-manzar-ebooks\"”زیادہ وقت اُس کا قفس کے جنگلے کی طرف پیٹھ کیے بیٹھے رہنے میں گزرتا تھا۔ جیسے اُسے آس پاس کی دنیا سے نفرت ہو۔ اُس کا راتوں کو رونا اور بڑھ گیا تھا جو گہری گونجنے والی آواز میں دور تک سُنا جا سکتا تھا ۔ ۔ آپریشن کے دوران ایک دفعہ (اس کا) دل رک گیا تھا ۔ ۔ اپنے قفس میں پہنچ کر وکٹوریا نے دو تین بار اُلٹیاں کیں، جن میں صرف پانی تھا، اپنے نچلے جسم کا جائزہ لیا اور غفلت میں چلی گئی۔ “

”تکلیف سے فارغ ہو کر اُس نے روتے ہوئے بچے کو گھبرا کر اُٹھایا اور اُسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی۔ کبھی اُس کے ہاتھ بچے کے سر پر جاتے تھے اور کبھی کانوں پر جو شاید اُ س کی توقعات سے بہت زیادہ بڑے تھے۔ اُس نے جلدی جلدی کئی بار بچے کی انگلیوں کو کھولا اور بند کیا، گھبراہٹ میں دو ایک بار اُسے سونگھا اور پھر ہاتھوں میں اُٹھا کر اُسے روشنی کی طرف بلند کیا۔ اس وقت اس کے منہ سے گونجنے والی وہی گہری آواز نکلی جو رات کو سنی جاتی تھی، لیکن اس سے ہزار گنا تیز جو سینے کی گہرائی سے نکلی تھی،جیسے اُس نے کہا ہو :’یہ کیا دے دیا؟ایک اور آدمی!“

”جب ہم اُس کی آوازیں اچانک بند ہونے پر قفس یں پہنچے تو بچہ پتوں اور کونپلوں کی ڈھیری پر سو رہا تھا۔ وکٹوریا کے بارے میں اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ شہر کے مردہ عجائب گھر کی زینت بنے گی۔ “

دیکھا جائے تو عصرِ حا ضر کے انسان کی روز افزوں ترقی قابلِ ستائش ہے لیکن اس ترقی کی جو بھاری قیمت اس نے ادا کی ہے اس سے چشم پوشی کسی طور ممکن نہیں۔ جدید سائنس ا ور ٹیکنالوجی کے بل پر نت نئے سائنسی تجربات، اختراعات اور نئی دریافتوں کی کھوج نے انسان کو فطرت سے بر سرِ پیکار کر دیا ہے۔ انسانی مفاد پرستی اورمنافقت کا معیار یہ ہے کہ وہ نہ صرف سائنس و ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے فوائد کو عزیز جانتا ہے بلکہ ان کے نقصانات کا بھی خیر مقدم کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی ا ور بربادی ،فطرت اور اس سے وابستہ زندگیوں کی خوبصورتی کو مسخ کر دیتی ہے۔ یوں فطرت کا یہ بگاڑ خود ابنِ آدم کے لئے مسائل اور پریشانیوں کے فلک بوس مینار کھڑے کر دیتا ہے۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ انسانی زندگی مادی حوالوں سے جتنی چاہے ترقی یافتہ ہو جائے وہ مہربان فطرت کی محتاج ہمیشہ \"hasan_manzar\"رہتی ہے۔ مادیت پرستی اور تشنہ خواہشات کی دوڑ میں سر پٹ دوڑتا انسان جب تھک کر گرتا ہے تو سکون اسے فطرت کی ممتا مماثل بانہوں میں ہی ملتا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے بل پر کھڑا جدید انسانی علم بذاتِ خود ایک مثبت طرزِ فکر اورمثبت طرزِ عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر بد قسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ دورِ حاضر کا انسان سائنس و ٹیکنالوجی کے استعمال سے اپنے داخلی و خارجی مفادات کا تعین کرتا ہے۔ وہ جدید حساس جوہری ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے منفی اور تخریبی قوتوں کی افزائش کے مرحلوں کو سہل بناتا ہے۔ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے جواز کو بنیاد بناتے ہوئے وہ خطرناک جوہری ہتھیار، ڈرون، میزائل اور ایٹم بم ایجاد کرتا ہے جنھیں امن کے نام پہ استعمال کرتے ہوئے کئی معصوم انسانی جانوں، چرند، پرند، فطرت اور اس سے وابستہ دیگرارضی حیاتیات کو لمحے بھر میں تلف کر کے دنیا کو ہولناک تباہی سے دو چار کرتا ہے۔

ابنِ آدم کی یہ سفاکیت اور طاقت کا زعم، جس کا تعلق ذاتی عناد ‘ زر پرستی اور اقتدار کی خواہشات سے ہوتا ہے ، اُسے فطرت سے منحرف کرتے ہوئے تباہی و بربادی پہ اُکساتا رہتا ہے۔ جس کی تکمیل کے لئے وہ ریاستی دائروں میں طرح طرح کے جواز تراشتا ہے اورقبل از وقت خود ساختہ ترتیب دی گئی جنگوں کا اہتمام یا ان کے ممکنہ امکانات کو جنم دیتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسانی ہوس‘ مفاد پرستی اور طاقت کے زعم سے پیدا ہونے والافطرت اورجدید جوہری ٹیکنالوجی کے تصادم کا یہ اژدھا اگر فطرت کو نگل جائے تو کیا انسان کی بقاءکا کوئی جواز رہ جاتا ہے؟ یقیناَ ہر گز نہیں۔ مت بھولئے یہاں اسی المیے سے وابستہ ایک اور سوال جنم لیتا ہے انسان جب کہ یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے کہ اس کی بقا فطرت سے مشروط ہے، وہ اسے تلف کردینے کے در پہ کیونکر ہے؟ نجانے وہ اس بات سے چشم پوشی کیوںکر جاتا ہے کہ فطرت کی شکست درحقیقت اس کی اپنی شکست و ریخت کو جنم دیتی ہے۔ دن بدن دگنی ہوتی ذہنی و نفسیاتی پیچید گیاں، طاقت کا عدم توازن،سرحدی کشیدگیاں، خطرناک جوہری ہتھیار، دنیا کی وسعتوں کو نگلتا گلوبلائزیشن کا عمل، الیکٹرانک میڈیا کا منفی کردار، کارپوریٹ کلچر کا غاصبانہ تسلط، عالمی طاقتوں اور انسانی فطرت کے مابین بلند ہو تا تصادم ہمارے سروں پہ منڈلاتے ممکنہ ہولناک خطرات اور ان کے درد ناک نتائج سے ہمیں بار ہا آگاہ کرتا ہے۔ لیکن اپنی کامیابیوں اور سر خوشی کی مدہوشی میں مبتلا انسان ان باتوں پہ کان کہاں دھرتا ہے۔

بلا شبہ سائنس و ٹیکنا لو جی کی اہمیت اپنی جگہ مسلم لیکن فطرت کی تباہی ہمیں کسی صورت گوارا نہیں ہونی چاہئے ۔ یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر سائنس و ٹیکنالوجی سے وابستہ اداروں اور تجربہ گاہوں کو نہ صرف مثبت فکری بنیادوں پہ استوار کیا جائے بلکہ ان کے مثبت استعمال پر بھی زور دیا جائے۔ خطرناک جوہری ٹیکنالوجی ،ہتھیار اور تجربات کی روک تھام ہی دنیا میں امن کے قیام کا باعث ہو سکتی ہے اس ضمن میں عالمی اداروں اور حکومتوں کو اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہئے ۔ یہی نہیں بلکہ قومی اور انفرادی سطح پہ ان مسائل سے نبرد آزما ہونا ہماری بھی سماجی و اخلاقی ذمہ داری ہے،جو انسان اور فطرت کے باہمی سر سبز تعلقات اور خوش آئند مستقبل کی ضمانت سے مربوط ہے۔ دوسری صورت میں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ انسان نے پتھروں سے بنے جن سیاہ و تاریک غاروں میں جنم لیا تھا وہ آج بھی منہ کھولے ہماری واپسی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔

Facebook Comments HS