تحریک انصاف حکومت نے انسانی مقعد میں سریہ ڈالنے والے کو انسانی حقوق کا فوکل پرسن مقرر کر دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت ملک میں سیاسی رسہ کشی، دھینگا مشتی، کنٹرولڈ صحافت، کمزور معیشت اور مہنگائی پر ہر کوئی ماتم کر رہا ہے۔ ملکی معاملات چلانے والوں کو بخوبی یہ پتہ ہے کہ عوام کو کس طرح الجھا کر سیاست اور کرپشن کا چورن کھلایا جا سکتا ہے۔ لوگ تو پہلے ہی کمزور جمہوریت اور کرپٹ سیاست سے خائف تھے مگر ریاست مدینہ کے خواب دکھانے والی خان صاحب کی حکومت بھی معیشت کے گول چکر میں چکراتی نظر آ رہی ہے۔ ملک تو پہلے سے ہی ان جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور طاقتوروں کے چکر میں پھنسا ہوا تھا اور نیا پاکستان بنانے والے خان صاحب نے بھی ایسے ہی چکر میں جانا پسند کیا اور اب تو ملک مزید جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور طاقتوروں کے گٹھ جوڑ سے چلتا ہوا نظر آ رہا ہے اور وزیر ریلوے شیخ رشید کی ٹرین کی طرح ملکی سیاست کے تابوت کا بھی چھانگا مانگا کی پٹڑیوں پر چلتے ہوئے بستر گول ہوتا نظر آ رہا ہے۔

یہ تو طے ہے کہ ملکی سیاست کرنے کے لیے بے تحاشا پیسہ اور طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔  سرداروں، وڈیروں، جاگیر داروں اور بھوتاروں کے بچے تو ویسے ہی سونے کا چمچ منہ میں لیکر پیدا ہوتے ہیں پھر اپنی طاقت اور پیسے کے زور پر بس کچھ ہی دنوں میں چیف سردار بن جاتے ہیں۔ علاقے میں ترقی نظر آئے نہ آئے مگر ان سرداروں اور جاگیرداروں کے بچوں کے نام بینرز اور بل بورڈز ہر جگہ جگہ ضرور نظر آئیں گے۔ ملکی تاریخ میں تو یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہوگا مگر ریاست مدینہ اور انسانی حقوق کی علم برداری کے دعوے کرنے والی پاکستان تحریک انصاف نے ملکی تاریخ میں ایسا باب رقم کیا ہے جسے عوام کافی عرصے تک یاد بھلا نہ سکیں گے۔

 ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے سینڑل وائس پریذیڈنٹ میر افتخار خان لنڈ جیسے شخص کو انسانی حقوق سندھ کا فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے جس نے کچھ ماہ پہلے گاڑی خراب ہونے پر اپنے ڈرائیوراللہ رکھیو کو غیر انسانی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے مقعد میں لوہے کا سریہ ڈال دیا تھا۔ جب وہ ویڈیو وائرل ہوا تو آئی جی سندھ کلیم امام نے نوٹس لیا اور ایس ایس پی گھوٹکی نے اس جرم کی ایف آئی آر درج کی اور اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوا۔ نہ ہی ریاست مدینہ کے وزیر اعظم عمران خان نے اس کا نوٹس لیا نہ ہی قانون کی دیوی حرکت میں آئی بس نئے پاکستان کے تھپڑ کی طرح یہ معاملہ بھی کہیں گم ہو گیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •