نوشاد کے مدھر گیتوں جیسی ان کی خودنوشت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوشاد کی کہانی بھی کیا کہانی ہے پڑھتے جائیے اور سر دھنتے جائیے جیسے لفظ نہ ہوں انہی کی ترتیب کردہ کوئی دھن ہو جو سیدھی دل میں ہی اترتی چلی جائے۔ یہ اندازہ تو اب ہوا کے ہندوستانی سنیما کی تین شاھکار فلموں پاکیزہ، مغل اعظم اور مدر انڈیا میں اگر کچھ کامن ہے تو وہ نوشاد ہے ورنہ کسی فلم میں دلیپ صاحب نہیں اور کسی میں مینا کماری۔ کہیں لتا غائب اور کہیں رفیع حاضر لیکن اگر کچھ نہیں بدلہ تونوشاد صاحب جو ان سب میں بطور موسیقار چھائے رہے۔

بدقسمتی سے ہم موسیقی سے منسلک افراد کو ایک خاص زاویے سے دیکھنے کے عادی ہیں لیکن نوشاد کو جاننے کے بعد آپ کے ذہن میں ایک ایسے پاکیزہ، محنتی اور نفیس انسان کا تصور بنتا ہے جس نے فلمی دنیا میں رہنے کے باوجود اپنا دامن تمام آلودگیوں سے پاک صاف رکھا ہو۔ نوشاد صاحب دین اسلام کی حقانیت پر یقین رکھنے والے سچے مسلمان تھے لیکن ہندو مسلم مشترکہ روایات اور سماجی اقدارکا جیتا جاگتا نمونہ بھی۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا غم یہ تھا کے  مغرب کی تقلید میں تجارت پیشہ موسیقار اپنی موسیقی کی بے حرمتی کر رہے ہیں

گھر میں مذہبی ماحول تھا اور جب والد صاحب کو پتہ چلا کہ فرزند موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں تو وہی بات جو آج بھی سننے میں مل جاتی ہے کہ یہ کیا میراثیوں والا کام۔ خیر اسی شوق میں گھر چھوڑا اور بمبئی پہنچے اس حال میں کے خالی ہاتھ اور اجنبی شہر۔ رفتہ رفتہ کام ملنے لگا۔ اسی دور میں معروف موسیقار ماسٹر غلام حیدر کو فلم پھول کے لئے لاہور سے بمبئی پچیس ہزار روپے پر بلایا گیا تو ایک تہلکہ مچ گیا اور سازندوں کے پیسے بھی دس روپے سے پچاس روپے تک ہوگئے۔ بقول نوشاد صاحب کے بمبئی کی فلم نگری کے پرانے سازندے آج بھی ماسٹر غلام حیدر کے احسان مند ہیں

شروع میں کام کی اس قدر لگن کہ ایک دن دفتر سے گھر واپسی پر کسی گیت کی دھن سوچتے سوچتے آگے نکل گئے اور قریب واقع بستی میں ایک جھونپڑی میں گھس گئے کوٹ اترا اور تسلی سے بستر پر دراز ہو کر دھن کو سنوارنے لگے رہے جب کمرے میں ایک عورت داخل ہوئی اور پوچھا کے تم کون ہو تو ہڑبڑا کر اٹھے اور کوٹ اٹھا کر باہر دوڑ لگا دی۔ کام کی سرمستی میں ایک دن چابی کی بجاے ٹین کے ڈبے سے دروازہ کھولتے رہے اور ٹرین کی کھڑکی سے سگرٹ کی بجاے وہ نوٹ بک ہی پھینک دی جس پر لکھ رہے تھے

نوشاد صاحب کی شادی کے سلسلے میں لڑکی والوں کا رجحان دیکھتے ہوئے یہ بات چھپائی گئی کے لڑکا فلموں سے وابستہ ہے ورنہ امکان یہی تھا کہ شادی ہی نہ ہوتی۔ تاہم برات والے دن سنگین صورت حال اس وقت پیدا ہو گئی جب ان دنوں ان کی معروف فلم رتن میں شامل نوشاد صاحب کے ہی نغموں پر گانے بجانے والوں نے پیسے بٹورنا شروع کر دیے۔ ادھر دھنیں بج رہیں تھیں اور دولہے کو یہ خطرہ کہ کہیں راز ہی نہ کھل جائے۔ ایسے میں سخت مزاج سسر یہ کہتے ہوئے سنے گئے کے جانے کون ہے جس نے ہر زبان پر یہ بیہودہ گیت دے دیے ہیں لیکن تھوڑی دیر بعد اسی فلم میں شامل نوشاد صاحب کی قوالی پیش ہوئی تو سسر صاحب نے جبیں خالی کر دیں اور کیف و مستی میں آ گئے

فلم مغل اعظم کی شوٹنگ کے دوران پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو جو اس وقت قریب بیس سال کے تھے اور بمبئی میں مقیم تھے اکثر فلم کے سیٹ پر آ جاتے جہاں مدھو بالا پر فلم کا ایک معروف گیت فلمایا جا رہا تھا۔ ایک ہفتے تک بھٹو صاحب باقاعدگی سے آتے رہے اور ایک دن نوشاد صاحب سے کہنے لگے میں آپ کا گیت سننے روزانہ اسٹوڈیو آ جاتا ہوں

فلم مغل اعظم کے ڈائریکٹر کے آصف بھٹو کے قریبی دوست تھے اور نوشاد صاحب ان کی صلاحیتوں کے بہت معترف ہیں۔ فلم میں آصف صاحب کے لئے ایک پریشان کن صورت حال تب پیدا ہوئی جب انارکلی کی آخری خواہش پر کے وہ ایک رات کے لئے ملکہ بننا چاہتی ہے اکبر ناراض ہو جاتا ہے۔ اس ناراضگی پر انارکلی کا جواب ایک مسئلہ بن گیا۔ ایسے میں ایک صاحب نے بڑی لاپرواہی سے کہا۔ کہنا کیا ہے۔ انارکلی اکبر کو سلام کرے گی اور کہے گی یہ ادنیٰ کنیز جلال الدین اکبر کو اپنا خون معاف کرتی ہے

کسی نے نوشاد صاحب کے علم میں یہ بات لائی کہ وہ پائل ہیں ایسے لوگ بجلی بادل وغیرہ سے بہت ڈرتے ہیں لیکن ان کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ کسی کی کمر میں چک پڑنے پر اگر اسے لات ماریں تو وہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ نوشاد صاحب کے مطابق اس کے بعد فلم انڈسٹری کی ہیروئنوں سمیت کئی لوگ کمر درد کی صورت میں ان سے لات کھانے آتے تھے۔ نماز کی پابندی کی عادت دیکھ کر ایک صاحب نے نوشاد صاحب سے کہا کے آپ نماز کے وقت سب چھوڑ کر خدا کے حضور چلے جاتے ہیں آپ فلموں میں کیوں ہیں۔ نوشاد صاحب کے مطابق پچاس سال انڈسٹری میں گزارنے کے باوجود آج تک شراب ان  کے گھر میں داخل نہیں ہوئی

مینا کماری جن دنوں بیمار تھیں ایک دن نوشاد صاحب سے کہنے لگیں نوشاد صاحب رات بھر جاگتی ہوں اس خوف سے کہ دن نکلے گا اور دن اس کشمکش میں گزرتا ہے کہ اندھیرا ہونے والا ہے۔ نوشاد صاحب نے گجراتی اسٹیج اور ہندی فلموں کے اداکار اشرف خان کا ذکر بھی کیا ہے جو نہایت عبادت گزار اور نیک تھے۔ اپنی والدہ کے اتنے فرمانبردار کے اگر کچے دھاگے سے باندھ کر بیٹھا دیتیں تو اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک وہ آ کر کھول نہ دیتیں۔ ان کی وفات کے بعد ہر سال ان کا عرس ہوتا ہے اور ان کے مرید ہندوستان سے باہر بھی پائے جاتے ہیں۔

ممبئی میں ایک نابینا صاحب فلم دیدار چھبیس مرتبہ دیکھ چکے تھے جب نوشاد نے پوچھا کے اپ تو نابینا ہیں فلم کیسے دیکھتے ہیں تو کہنے لگے میں یہ فلم دیکھنے نہیں سننے آتا ہوں۔ ممبئی کے ایک امیر تاجر کا بیٹا گونگا بہرہ تھا لیکن نوشاد صاحب کے ایک گیت کی دھن پر خوشی کا اظھار کرتا تاہم یہ بچہ بعد میں انتقال کر گیا اور اس کے والد نے قبر کے کتبے پر نوشاد صاحب کے اسی گیت کا مکھڑا  لکھوا دیا

نوشاد صاحب کو روحانی بابوں سے بھی ملنے کا شوق تھا ایک دن بابا بنڈل شاہ نامی بزرگ سے ملاقات ہوئی جو تسبیح کے طور پر رسی کا ایک بنڈل اپنے ساتھ رکھتے۔ یہ لوگوں کو خالی کاغذ پر بڑی بڑی رقمیں لکھ کر دیتے تو کچھ دن بعد کہیں نہ کہیں سے اس رقم کا بندوبست ہو جاتا۔ بابا بنڈل شاہ نے نوشاد صاحب کو پچیس لاکھ کا چیک لکھ کر دیا تو نوشاد صاحب نے لوٹا دیا اور نیک بننے کی دعا کی درخواست کی۔ بابا نے اسی چیک کی پشت پر جو دعا لکھ کر دی وہ عشا کی نماز کے بعد نوشاد صاحب کا معمول بن گئی

 حج کے دوران کئی پاکستانی ہندوستانی تو بیت اللہ میں ہی بغل گیر ہوگئے۔  نور جہاں اور لتا کے متعلق ایک انٹرویو میں نوشاد صاحب نے کہا جو آواز نور جہاں کے پاس تھی وہ لتا کے پاس نہیں۔

رفیع ہر قسم کے گانے گا سکتے تھے کشور کو رفیع کا گانا دو تو مشکل میں پڑ جائے۔ موسیقی کی سائنس پر نوشاد صاحب کا ماننا ہے کے ہم صوتی لہروں کی دنیا میں رہتے ہیں اور قیامت کے دن جو سر یا  صور پھونکا جائے گا وہ ایک صوتی لہر ہی ہو گی۔

۔ نوٹ : راشد اشرف صاحب کی زندہ کتابیں کے سلسلے کی کتاب نوشاد کی خود نوشت اٹلانٹس پبلی کشن کراچی سے حاصل کی جا سکتی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •