’’اِک حسیں گائوں تھا کنارِ آب ۔ جالب جالب‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وجود میں آنے سے پیشتر اردو ادب میں جتنے بھی بڑے ادیب اور شاعر تھے انہیں پسند کرنے والے اور پڑھنے والے ان کے ادب کے علاوہ اُن کے سیاسی اور سماجی رویوں سے آگاہ تھے۔ ترقی پسند ادیب یوں بھی اپنی تحریروں سے ہی پہچان لئے جاتے تھے کہ ان کا سیاسی اور سماجی نکتہ نظر کیا ہے۔

آپ کو پریم چند ‘ راجندر سنگھ بیدی‘ کرشن چندر‘ کیفی اعظمی ‘ اختر الایمان‘ جوش ملیح آبادی‘ احمد ندیم قاسمی یا فیض صاحب سے پوچھنا نہیں پڑتا تھا کہ آپ کے نظریات کیا ہیں کہ وہ ان کی تحریروں میں گندھے ہوتے تھے لیکن تخلیق پاکستان کے بعد جوں جوں وقت گزرا ہم بڑے ادیبوں کے سیاسی اور سماجی نظریات سے بے خبر ہوتے چلے گئے۔ کیا اس میں ایک زہر کی مانند سرائت کرتے تعصب اور تنگ نظری کا خوف تھا کہ ادیبوں نے کھلم کھلا اپنے نظریات کا اظہار کرنا ترک کر دیا یا پھر انہں نے منافقت کا دامن تھام لیا تھا۔

کیا ہم پطرس‘ مشتاق احمد یوسفی ‘ عبداللہ حسین‘ انتظار حسین‘ اشفاق احمد‘ ممتاز مفتی‘ منیر نیازی اور مجید امجدکے بارے میں جانتے ہیں کہ جمہوریت دہشت گردی ‘ ہم جنس پرستی‘ حیات بعداز موت‘ قسمت‘ بین الاقوامی سیاست یا حکمرانی کے بارے میں ان کی کیا سوچ تھی۔ ظاہر ہے ان موضوعات کے بارے میں ان کے ذاتی نظریات تو ہوں گے جن کا اظہار کرنا یا تو انہوں نے مناسب نہ جانا یا پھر آج کے پڑھنے والوں کو ان مسائل سے دلچسپی ہی نہ تھی۔

افریقی نژاد سفید فام ناول نگار جے ایم کوئٹزی جنہیں ادب کا نوبل انعام عطا کیا جا چکا ہے ان کی کتاب جو ناول کی صورت میں ہے’’ڈائری آف اے بیڈ ایئر‘‘ انہی موضوعات کا احاطہ کرتی ہے اور ہم ایک بڑے ادیب کی اندرونی سوچ سے آگاہ ہو کر اسے بہتر طور پر جان سکتے ہیں۔ ناول کا فارمیٹ بہت انوکھا ہے آج کی دنیا کے مختلف مسائل اور نظریات کے بارے میں ان کا نکتہ نظر بنیادی بیانیہ ہے جبکہ ہر صفحے کے نچلے حصے میں ایک باقاعدہ ناول فٹ نوٹس میں ایک تسلسل کے ساتھ چلا جا رہا ہے۔

اگر آپ کو مصنف کے نظریات سے دلچسپی نہیں ہے تو صرف فٹ نوٹس میں رواں دلچسپ ناول کا مطالعہ کر لیجیے۔ بہر طور یہ ایک نیا تجربہ ہے جسے صرف کوئٹزی ایسا عظیم نثر نگار ہی نبھا سکتا تھا۔ ان دنوں امریکہ اور یورپ میں جس ناول کی دھوم ہے وہ زیدی سمتھ کا ’’وہائٹ ٹیتھ‘‘ ہے جس کی شگفتگی اور مزاح سے بھر پور رواں نثر ایسی ہے کہ آپ اسے شروع کرنے کے بعد روز مرہ زندگی کے لئے بیکار ہو جاتے ہیں۔ یہ ناول ایک بیماری کی مانند آپ کو لاحق ہو جاتا ہے۔

جہان کتاب میں بین الاقوامی ادب کے مختصر تذکرے کے بعد ہم اپنے آس پاس نظر کرتے ہیں اردو کی جو کتابیں منظر عام پر آئی ہیں ان کی ٹوہ لیتے ہیں کہ ان دنوں کس نے کیا لکھا۔’’جالب جالب‘‘ کو میںنے ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالا۔ ایک تو جالب کی انقلابی وحشت اور میں نہیں مانتا کی پکار اور پھر بیان مجاہد بریلوی کا۔ جی ہاں یہ وہی مجاہد بریلوی ہیں جو بے تکان بولتے ہیں۔ مسلسل مسکراتے ہیں اور ہمہ وقت ایک پنسل سے بوس وکنار کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اس پنسل میں ان کی قادرالکلامی کا راز پنہاں ہے۔ ان سے یہ پنسل چھین لیجیے تو گونگے ہو کر بیٹھ جائیں گے اور مسکراتے رہیں گے۔ کتاب کے مختلف مضامین میں جالب کی شاعری کے جتنے حوالے ہیں وہ مجھے کیا پورے پاکستان کو ازبر ہو چکے ہیں لیکن’’داستان دل دو نیم‘‘ سے میں اب تک بے خبر تھا جو ان کی طویل ترین نظم ہے۔ جس کا آغاز وہ اپنے گائوں سے کرتے ہیں اِک حسیں گائوں تھا کنارِ آب کتنا شاداب تھا دیار آب کیا عجب بے نیاز بستی تھی مفلسی میں بھی ایک مستی تھی اپنا اک دائرہ تھا دھرتی تھی زندگی چین سے گزرتی تھی یہ بجا زیست پا پیادہ تھی دھوپ سے چھائوں تو زیادہ تھی جالب صاحب ہمارے آس پاس ہی ہوا کرتے تھے انہیں سنا بھی بہت اور ہر حالت میں دیکھا بھی بہت۔

ایک محفل سے واپسی پر انہوں نے کار کی کھڑی سے سر باہر نکال کر عوامی نیشنل پارٹی کے حق میںنعرے لگانے شروع کر دیے کہ لوگو باچا خان کی پیروی کرو۔زندہ باد۔ یوسف کامران نے تھوڑی سی زبردستی کرکے انہیں چپ کرایا۔ فرخ سہیل گوئندی مسلسل بولتا ہے اور مسلسل کتابیں شائع کرتا ہے۔ اگر صرف کتابیں شائع کرے تو زیادہ نامور ہو۔ سیاسی اور ادبی محاذ پر وہ اتنا متحرک ہے کہ گھبراہٹ ہوتی ہے۔ ‘‘لوگ در لوگ‘‘ میں ایسے لوگوں کے قصے ہیں جنہوں نے اسے متاثر کیا۔

جن کے بارے میں صرف وہی لکھ سکتا تھا۔ گویا ایک ادبی اور سیاسی تاریخ مرتب کر دی ہے۔ بے نظیر بھٹو۔ شمعون پیریز‘ شیخ رشید‘ ایک عثمانی شہزادی۔ حاجی مستان مرزا‘ حنیف رامے‘ ملک معراج خالد‘ خشونت سنگھ ‘ منو بھائی ‘ انور سجاد ایسے اچھے اور بہت بڑے لوگ سب کے سب ’’لوگ در لوگ‘‘ میں بہت زمانے ہو گئے جب گوئندی میرے عزیز اور محسن دوست تلمیذ حقانی کے توسط سے مجھ تک پہنچا۔ میں اس وقت ترک ناول نگار یاشار کمال کا ناول’’وِنڈز فرام دے پلین‘‘ پڑھ رہا تھا جس کی میں نے توصیف کی اور اس کا تعارف کروایا۔

بہت عرصہ بعد اس نے اپنے اشاعتی ادارے سے یہی ناول اردو میں شائع کیا۔ میں نے اپنے بڑے پوتے کا نام یاشار کمال سے متاثر ہو کر یاشار رکھا۔ گوئندی ترکی گیا تو میرے پوتے کی تصویر کے ساتھ یاشار کمال کو ملنے چلا گیا۔ اسے میرے بارے میں بتایا اور اس تصویر پر اس کے آٹو گراف حاصل کئے۔ یاشار کمال نے لکھا’’یاشار کے لئے‘ یاشار کی جانب سے‘‘ انہی دنوں گوئندی نے اورمان یاموک کا مشہور ناول ’’سنو‘‘ اردو میں ’’جہاں برف رہتی ہے‘‘ کے نام سے چھاپا ہے.

جس کی مترجمہ‘ انعام یافتہ مترجم ہما انور ہے جس کا ترجمہ حیرت انگیز طور پر یاموک کے نثری انداز کی قُربت میں ہے البتہ نام پر مجھے اعتراض ہے اسے آسانی سے ’’جہاں برف گرتی ہے‘‘ کہا جا سکتا تھا ایک اور اہم کتاب اقبال نظر کا ’’درویش نامہ‘‘ ہے جسے پڑھتے پڑھتے مجھے محسوس ہوا جیسے میں بھی درویش ہوا جاتا ہوں۔ بہت طاقتور اور انوکھی نثر جس کی اثر انگیزی کمال درجے کی ہے۔ اقبال نظر’’کولاژ‘‘ ایسے رجحان ساز ادبی مجلے کا ایڈیٹر ہے اور صنف نازک پر گہری نظر رکھتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مستنصر حسین تارڑ

بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

mustansar-hussain-tarar has 171 posts and counting.See all posts by mustansar-hussain-tarar