سُہر ریکیں نوشکے (قسط نمبر 1)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجود اور ناموجود میں صرف زمانی زاویوں کے امکانات کا فرق ہے، ہم بہت کچھ حاصل کر سکتے تھے مگر کثیر مواقعوں کے باوجود اس زمانے میں لاحاصل کی پرچی تھما دی جاتی تھی۔ اسی طرح وہ کام جوخواہش اور کوشش کے باوجود بھی نا ہو سکیں وہ آگے جا کر کرنے پڑتے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ نباتیات ایم ایس سی کے ریسرچ تھیسز میں میرا ٹاپکpalentology یعنی علم رکا ز کا تھا۔ جس میں مجھے بلوچستان کے ان پہاڑوں کے کوئلے پر سٹڈی کرنا تھی جو کوئٹہ کے مشرق یعنی ”سور رینج“ Sor range of Quetta کا علاقہ کہلاتا ہے۔ کوئلے کا مقدر بھی عجیب ہے ہر صورت اس کو جلنا ہی ہے۔ یعنی یہ وہ درخت ہیں جو ہزاروں سال پہلے دنیا میں موجود تھے، جب وہ زمین میں دھنس جائیں تو فوسلز کی تہیں بن کر آخر کار کوئلے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

یعنی کوئلہ ثبوت حق اور مجسمہ تاریخ کے ساتھ ساتھ تاریخ دان بھی ہے۔ جیسے سماجی وجود سے شعور کا تعین کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح کوئلے کی ساخت میں موجود pollen اور spores یعنی پھول کا نرمادہ ”زر گل“ اس کے وجود میں زندہ رہتا ہے۔ اور یوں ہزاروں برس بعد پھولوں کے زر گل سے نباتاتی اور مجموعی ماحول کی معلومعات حاصل کی جا سکتی ہے۔ اب اگر ماہرین آثار قدیمہ کھدائی کر کے قدیم تہذیبوں اور سماجوں کی معلومعات اکٹھی کر لیتے ہیں تو کوئی بڑی بات نہیں۔ میں نے اپنے نام ”گوئندی“ کی مناسبت سے ایک ناپائید پودے کے پولین کا نام ”Goindii“ بھی رکھا تھا۔

فوسلز صداقت اور امانت کا ثبوت دیتے ہیں تب ہی تو قبل از تاریخ کے انسانوں کے نشانات سٹیم سیلز stem cells کی شکل میں ادھر ادھر بکھرے پڑے رہتے ہیں ہیں۔ جن کو حکم ملنے پر دوبارہ اکٹھا کر دیا جائے گا۔

زمانہ طالبعلمی میں میرے پروفیسر اور سپروائزر ڈاکٹر اخلاق احمد بھٹہ نے مجھے سیمپل کلیکشن سے روک دیا کہ کوئٹہ کے حالات اچھے نہیں گویا تم نا جاؤ۔

ملاپ ”محبت“ کی علامت یا فلسفہ نہیں اس کا اجر ہوتا ہے جو فورا نہیں تو تاخیر سے مل کر ہی رہتا ہے۔ بس مجھے بھی محبت کا صلہ مل گیا اور ای میل کے ذرییعے مجھے ”نوشکی“ بلوچستان سے پہلے لٹریری فیسٹیول میں پُنجاب کی نمائندگی کرنے کا اعزاز بخشا گیا۔ اس سے قبل بھی کئی برسوں سے کوئٹہ سے مشاعروں کے دعوت نامے آتے رہے مگر کبھی بھیا دھر جانا ممکن نا ہو سکا، مگر اس مرتبہ تو نوشکی کے ڈی سی عبدالرزاق بلوچ کے ساتھ ساتھ ”پناہ بلوچ“ کا پرزور اصرار تھا۔

پناہ بلوچ سے میری پہلی اور واحد ملاقات گوجرانوالا میں تین برس قبل ایک کانفرنس کے دوران ہوئی، اس کا حوالہ بھی انہوں نے دیا تو یاد آنے لگا، کہ یہ وہ شخص ہے جس کو پاکستان کی تمام زبانیں آتی ہیں، اس کی زندگی کا مقصدانسان، امن اور ہیومن رائٹس کے لئے آواز بلند کرنا ہے، جس کے لئے وہ قلم سے زیادہ طاقت ور ہتھیار کسی کو نہیں سمجھتا۔ بلوچ خاتون اس کی تازہ تصنیف ہے۔ سب حوالے اپنی جگہ درست مگر جب بلانے والے بھی بار بار میرے آنے کی تصدیق مانگتے تو خطرے کی وہ تمام گھنٹیاں بجنے کرتیں جن سے ہر شخص واقف تھا۔ ویسے تو آج کل دہشت گردی کے حوالے سے مجموعی طور پر سکون ہے مگر بلوچستان کے چند شہر ابھی تک اس کی لپیٹ سے باہر نہیں نکل سکے۔

اس خطے میں بے شمار زندگیوں کی کہا نیاں فطرت اور ارادے کے استنباط کا شکار ہو کرجلد انجام پذیر رہی ہیں۔ جبر و ظلم کے ماحول میں سیا ست، سماج، تعلیم، فکر، ہنر، دانش اور سب سے بڑھ کر شعوری انسان کی شناخت کا استحصال عا لمی سازشوں کے علاوہ اندرونی انتہا پسندی اور انتظامی قوتیں برابر کی ملوث ہیں۔ گلوبل ولیج کے دور میں ٹیکنالوجی نے انسانوں کے دکھوں کو عالمی منڈی میں براڈکاسٹ تو کر دیا ہے مگر قدیم علاقائی قبائلی اور سرداری نظام میں آج بھی غیرت کے نام پنچایتی فیصلے ”سنی“ سوارہ ”اور سیاہ کار، کاروکاری کے نام پر عورت نشانہ بنتی ہے۔ مصلحتوں کی بھینرڑ چڑھنے والا علاقہ حرف حق بلند کرے تو زندگی کے تانے بانے سے آزاد اور اگر احساس محرومی میں خاموش رہے تو معیار زندگی کو سونا اگلتی بنجر زمین میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے مجبوریوں کا لباس پہن کر ان ہی ذروں میں بکھر جاتا ہے۔

ان اطلاعات کو میرے ماحول نے ذہن میں بو دیا تھا، پھر کیسے ممکن ہوتا کہ میں کوئٹہ سے دو سو میل آگے ایران کی جانب جاتے ہوئے رستے پر نوشکی جاتی، جس کے آگے دار البندین کا علاقہ ہے۔ ان دونوں کے درمیان ایک چھوٹا سا گاؤں ”پدگ“ ہے جہاں سے سڑک چاغی پہاڑ تک جاتی ہے، جہاں پاکستان کے ایٹمی دھماکے کیے گئے تھے۔ دارالبندین سے تقریباً پچیس میل کے فاصلے پر افغان مہاجرین کا بہت بڑا کیمپ ہے جہاں پر 70 ہزار سے زائد مہاجرین اپنے پکے بنائے گھروں میں رہتے ہیں۔

اس علاقے کا نام گردی جنگل سے مشہور ہے جہاں کے باسیوں کو افغانستان اور پاکستان جانے کی مکمل آزادی ہے۔ یہاں پر ہر شے کی کھلے عام سمگلنگ ہوتی ہے۔ یہاں حکومتی سطح پر بجلی کی سہولت نہیں مگر اس کے متبادل انتظامات ان کے پاس ہیں۔ ان تینوں علاقوں نوشکی، دارالبندین اور چاغی کی طرف سے افغانسان اور پاکستان کے بارڈر جہاں ملتے اس علاقے پر طالبان کی حکومت ہے۔ کوئٹہ اور نوشکی کے درمیان کچھ علاقہ مستونگ کا آتا ہے، جو آئے روز بم دھماکوں اور دہشت گردی کی لپیٹ میں رہتا ہے۔ نوشکی وہ علاقہ ہے جہاں پر چند برس پہلے تک دہشت گردوں کا قبضہ تھا۔ یہاں سے افغان بارڈر صرف 20 کلو میٹر دور ہے، بارڈر پر موجود پہاڑ وں کا آدھا حصہ پاکستان اور آدھا افغانستان میں ہے۔

بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا 44.60 فیصد ہے، ان میں طویل صحراؤں کے سلسلے، سبزے سے خالی پہاڑیاں، گہری گھاٹیاں اور کہیں کہیں سر سبز میدان، متضاد اور ہر طرح کے موسم، جن میں کوئٹہ، قلات کے برف پوش پہاڑ اور سبّی کے شدید ترین کھولتی ہوئی گرمی کے تمام مقامات پر مشتمل ہے۔

میرا ذہن کچھ بھی کہتا مگر میرے دل کے جذبوں کی ایک ہی آواز تھی بینا گوئندی یہ وہ وقت ہوتا ہے جب امن کا پیغام جو تم ایک عرصہ سے نظموں میں دیتی رہی ہو اب اس کی باقاعدہ سفیر بن کر جاؤ۔ یعنی رہبری سے بڑھ کر اپنے وطن کے لئے دیدہ وری کی ضرورت تھی، خدا شہ رگ سے قریب ہے اس کا ورد کیا اور ہاں کا پیغام بھیج دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •