ن لیگ کو جج ارشد ملک کی غیر اخلاقی ویڈیو میاں طارق نے فروخت کی: آپ نیوز پر عمران میر کا دعویٰ


پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کی جانب سے سابق وزیر اعؓظم نواز شریف کو سزا سنانے والے جج کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد دو طرفہ الزامات کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی پریس ریلیز اور بیان حلفی میں 16 سال قبل ملتان میں ’’نا زیبا ویڈیو ‘‘ کا اعتراف اور اس ویڈیو کی بنیاد پر مسلم لیگ ن کی جانب سے ’’مبینہ دباؤ‘‘ کے الزامات نے ملکی سیاست میں تہلکہ برپا کر دیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل’’ آپ نیوز ‘‘کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز کی جانب سے نواز شریف کو سزا سنانے والے جج کی مبینہ ویڈیو کے بعد احتساب عدالت کے سابق جج نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے بیان حلفی میں پانچ کرداروں کا ذکر کیا ہے جن میں مسلم لیگ ن برطانیہ کے اہم ذمہ دار ناصر بٹ، اسلام آباد کی معروف کاروباری شخصیت میاں ناصر جنجوعہ، ماہر گیلانی، خرم یوسف اور میاں طارق اور ان کے بیٹے کا ذکر کیا ہے۔

ناصر بٹ اور میاں ناصر جنجوعہ کی میاں نواز شریف سے قربت بہت زیادہ ہے۔ تاہم میاں طارق کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ صحافی عمران میر نے اس شخص کا کھوج لگا لیا ہے، میاں طارق نامی شخص ملتان کا رہائشی اور ’’نیو طارق ٹی وی سینٹر‘‘ کے نام سے کاروبار کرتا ہے۔ میاں طارق ملتان میں غیر اخلاقی اور منفی سرگرمیوں میں کافی شہرت رکھتا ہے، میاں طارق کے والد سیف الدین صادق کا گھنٹہ گھر میں’’ ملتان دواخانہ‘‘ کے نام سے حکمت کا کاروبار تھا۔ میاں طارق کے دو بھائی میاں ادریس اور میاں جاوید ہیں۔ میاں طارق کے بھائی میاں ادریس سے 2002 میں بڑی بھاری مقدار میں چرس پکڑی گئی تھی اور اس کیس میں اسے سزائے موت ہوئی تھی اور یہ سزا اس وقت ملک ارشد نے ہی سنائی تھی جو اس وقت ایڈیشنل سیشن جج ملتان تھے۔ میاں طارق نے اپنے بھائی کو سزا سے بچانے کے لئے کافی ہاتھ پاؤں مارے، اس کیس میں میاں طارق نے ملک کے ایک معروف قانون دان کی خدمات حاصل کیں۔

کچھ عرصہ کی تگ دو کے بعد میاں طارق نے ایڈیشنل سیشن جج ارشد ملک سے تعلقات استوار کر لئے۔ ارشد ملک سے دوستی کے بعد میاں طارق انہیں ایک غیر اخلاقی نجی محفل میں لے گئے اور وہاں ان کی ’’ذاتی کمزوریوں ‘‘ پر مبنی ’’نازیبا ویڈیو‘‘ بھی بنائی گئی۔ جج کی اسی ’’نازیبا ویڈیو‘‘ کی وجہ سے بلیک میلنگ کر کے میاں طارق نے اپنے بھائی کی ضمانت کروا لی۔ میاں طارق اپنے وکیل سے مل کر آہستہ آہستہ جج ارشد ملک کی ’’کمزوریوں‘‘ سے فائدہ اٹھاتے رہے۔  اس دور میں ملتان کا ڈپٹی کمشنر بھی ان کا قریبی دوست اور پارٹنر تھا

عمران میر کا کہنا تھا کہ اُس وقت میاں طارق نے اپنے وکیل کے ساتھ مل کر اسلام آباد ایف ٹین میں ایک گھر یا فلیٹ لے کر وہاں پر اس طرح کی محفلیں سجانے شروع کر دیں جس میں بعض اعلیٰ اور بااثر شخصیات کو بلایا جا تا اور ان کی ویڈیو بھی بنائی جاتیں اور پھر اُن شخصیات کو بلیک میل کیا جاتا۔ اس بلیک میلنگ کی وجہ سے میاں طارق اور وکیل صاحب نے اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات سے کئی اہم فیصلے بھی کروائے۔

عمران میر کا کہنا تھا کہ میاں طارق اور اس کے بھائیوں کا کام فراڈ، بلیک میلنگ اور منشیات فروشی ہے۔ ملتان کے ایک مشہور تاجر سے میاں طارق نے 50 کروڑ کا فراڈ بھی کیا ہوا ہے۔ میاں طارق نے دو شادیاں کر رکھی ہیں۔ پہلی بیوی سے میاں طارق کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جبکہ دوسری بیوی سے دو بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں ادریس رہائی کے بعد ملتان سے اسلام آباد شفٹ ہوگئے اور وہاں پر ’’دیوان بلڈرز‘‘ کے نام سے کنسٹرکشن کمپنی بنائی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میاں طارق کے چنگل میں ارشد ملک برح طرح پھنسے ہوئے تھے اور ان کے اشاروں پر ناچتے تھے۔ وہ ان کو یہ بھی تاثر دیتا تھا کہ میں آپ کی جان چھڑانے کی کوشش کرتا ہوں۔ جج ارشد ملک کی حالیہ ویڈیو دو ہفتے قبل 29 جون کی ہے جہاں میاں طارق نے ارشد ملک کو دھوکے سے بلایا اور ایک شخص سے یہ کہہ کر خوشگوار ماحول میں ملاقات کروائی گئی کہ لڑکی اور اس کا بھائی ان کے رابطے میں ہے اور یہ شخص سارے معاملے سے جان چھڑا سکتے ہیں۔

عمران میر کا کہنا تھا کہ میاں طارق اس ویڈیو کو ایک ارب میں فروخت کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے بہت قریبی دوست سے ذکر کیا کہ جنوبی پنجاب کے ایک بہت با اثر شخصیت جس کی نواز شریف فیملی سے رشتہ داری بھی ہے سے مل کر ایک ڈیل بنائی جائے اور وہ شریف فیملی سے بات کریں تاکہ میں اس سے اچھے خاصے پیسے بٹور سکوں۔ اس شخصیت سے تو ملاقات نہ ہو سکی لیکن وہ کسی اور ذریعے سے شریف فیملی کی اعلیٰ شخصیت سے ملے اور وہاں اُنہیں وہ ویڈیو دکھائی گئی۔ 21 منٹ سے زائد دورانیہ کی وہ ’’نازیبا ویڈیو‘‘ دیکھنے کے بعد انہیں خیال آیا کہ اس ویڈیو کو استعمال کر سکتے ہیں اور پھر وہ ویڈیو خریدی گئی، میاں طارق کو ویڈیو کے عوض ایک لینڈ کروزر اور کروڑوں روپے کیش دیئے گئے۔

عمران میر کا کہنا تھا کہ اس ویڈیو کو حاصل کرنے کے بعد اس ویڈیو کو باہر بھیجا گیا۔ مسلم لیگ ن اور مریم بی بی کی طرف سے یہ کہنا کہ جج ارشد ملک کی نازیبا ویڈیو ریاستی اداروں نے بنائی بالکل غلط بات ہے اور اس کے ثبوت بھی موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک دو روز سے میاں طارق اور اس کا بیٹا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں ہیں۔ اب انہیں سپریم کورٹ میں ثبوت کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ یہ مصدقہ بات ہے کہ مسلم لیگ ن کو میاں طارق نے جج ارشد ملک کی ویڈیو بیچی ہے۔

عمران میر کا کہنا تھا کہ ایک طرف مریم نواز نے پوری قیادت کے ساتھ بیٹھ کر پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جج ارشد ملک پر ریاستی اداروں کی طرف سے دباؤ تھا جبکہ ان کرداروں کے منظر عام پر آنے کے بعد بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ اب سپریم کورٹ ان سے سوال بھی پوچھے گی۔ عمران میر نے دعویٰ کیا کہ مریم نواز کی پریس کانفرنس کا مقصد اداروں پر گند اچھالنا تھا۔ اعلیٰ عدلیہ میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سابق جج ارشد ملک کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

Facebook Comments HS