کراچی اور سندھ کی اصطلاحات میں موجود دکھ بھری داستان


\"ayub-sheikh\"آج سے پانچ برس پہلے سندھ اسیمبلی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے، اسپیکر سندھ نثار احمد کھوڑو نے ایوان کو محبت بھرے انتباہ سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ، اخبارات، جرائد، ٹی وی اینکرز اور بعض دوسرے اصحاب جب اپنی گفتگو میں یا کوئی رپورٹر اپنی رپورٹ یا خبر پڑہتے وقت شعوری یا لاشعوری طور پر کراچی اور سندھ کہتا ہے تو وہ اس صوبے کے مکینوں پر نمک پاشی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا، اس روئے سے اجتناب برتا جائے اور لوگوں کو دُکھی نہ کریں۔

اسمبلی کی میڈیا گیلری میں ہمارے بہت سے صحافی دوست موجود تھے۔ ان سب کو یہ بات ناگوار گذری تھی۔ ہمارے میڈیا میں روز بروز پڑھنے کی عادت کم ہو رہی ہے۔ ان کے دماغ کسی بند ہونے والے ریلوے اسٹیشن کی طرح ہوتے جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے میڈیا میں تحقیقی میدان خالی ہوتا جا رہا ہے، تحقیقی رپورٹس Investigative Journalism بوریت کا سامان ہو کر رہ گئی ہیں۔ ادارے اس کی بجائے \”بریکنگ نیوز\” کو اپنی سانس کا آلہ سمجھنے لگے ہیں۔ چاہے وہ خبر سچی ہو یا جھوٹی، اچھی ہو یا بُری۔

کچھ اہم باتیں سمجھنا ضروری ہیں، مثلا

1۔             جب ہم سندھ لکھتے ہیں تو آپ کے ذہن میں ایک پورا صوبہ آجاتا ہے ، جیسے پنجاب یا بلوچستان یا خیبرپختونخوا وغیرہ۔

2۔ جب آپ کراچی میں بیٹھ کر، \”اندرون سندھ\” لکھتے ہیں ، تو آپ کے ذہن میں \”اندرون پنجاب\” یا \”اندرون بلوچستان\” اور \”اندرون خیبرپختونخواہ\” کیوں نہیں آتا؟ کیوں کہ وہان یہ اصطلاحات کبھی شروع ہی نہیں ہوئیں۔

3۔ اگر کراچی صوبہ سندھ کا آخری شہر یا اسٹیشن ہے، اور اس لئے \”اندرون\” کا لفظ باقی شہروں اور علاقوں کے لیئے تخلیق کیا گیا ہے، تو ہم سندھ کے دو دوسرے انتہائی شہروں جیکب آباد اور گھوٹکی میں بیٹھ کر باقی سندھ کو اندرون سندھ کیوں نہیں پکارتے یا بولتے؟

4۔ ہر اندر کا باہر ہوتا ہے۔ اسی طرح دائیں کا بایاں ہوتا ہے۔ اگر کراچی سے باہر کا علاقہ \”اندرون سندھ\” ہے تو اندرون کا بیرون کیا ہے؟ اگر باقی علاقے اندرون ہیں تو کیا کراچی \”بیرون سندھ\” ہے؟

5۔ ہم پاکستان میں سوات، ایبٹ آباد، ٹیکسیلا، ہرنائی، مستونگ، شنگریلا، اسکردو، چلاس، ناران کاغان، جلال پور جٹاں، وہاڑی، قصور، ملتان، رحیم یار خان، کوٹ ادو ، ٹانک، بنوں، لکی مروت، ٹوپی، جیسے سینکڑوں شہروں کے ناموں سے کیوں واقف ہیں، کیوں کہ، ان شہروں کو ہم نے ان کے ناموں سے پکارا ہے۔ اور یہ شہر اندرون اور بیرون کے احاطے میں قید نہیں کئے گئے۔

6۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کو سندھ کے بیشتر شہروں کے نام کیوں معلوم نہیں ہیں؟ آپ سندھ کے وہ شہر یاد رکھتے ہیں، یا آپ کو صرف ان شہروں کے نام معلوم ہوتے ہیں جو یا تو کسی اہم واقعے سے نسبت رکھتے ہیں یا کسی سرکاری نسبت سے۔ کتنے لوگ ہیں جو جنوبی ایشیا میں کسان تحریک کے بلند قامت ہیرو شاہ عنایت شہید کے قصبے کے نام سے عمومی طور پر واقف ہیں؟ یا مخدوم بلاول کا مدفون کہاں ہے؟ یا لاڑکانہ اور قمبر کے درمیاں کون سے \”کلہوڑو حکمران\” کا مزار ہے؟ عظیم ثقافتی و تاریخی ورثہ موہن جو دڑو ۔ کون سے شہر میں واقع ہے؟ یا ضلعہ دادو میں \”گورکھ ہل اسٹیشن\” کس تحصیل میں واقع ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

سندھ کے بیشتر لوگ سمجھتے ہیں کہ اردو میڈیا جب \”سندھ\” اور \”کراچی\” پیش کرتا ہے، تو میڈیا کا وہ حصہ تاریخ کا مذاق اڑاتا ہے یا اپنے آپ کو لاشعوری اور کم علمی کا تماشہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی تماشے اور لاشعوری باتوں جیسے عذر لنگ سے ہٹ کر اپنے گرامی قدر قارئین سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ باتیں نمک پاشی کا کام کرتی ہیں۔

ہونا کیا چاہئے؟

1۔ سندھ اور کراچی کی اصطلاحات استعمال نہ کی جائیں۔

2۔ شہری اور دیہی سندھ بولنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہئے۔

3۔ اندرون سندھ کے بجائے اس شہر اور علاقہ کا نام پکارا جائے، تاکہ وہ نام بھی دوسرے شہروں کے ناموں کی طرح مشہور ہوجائیں۔ جیسا کہ سیہون شریف، جھوک شریف، قمبر، لاڑکانو، بدین، ٹنڈو آدم، ٹنڈو محمد خان، گمبٹ، خیرپورمیرس، مٹھی، تھرپارکر، عمر کوٹ، سلام کوٹ، نگرپارکر، چھور، پنوعاقل، کیٹی بندر، بھنبھور، مکلی، خدا آباد، ہالہ وغیرہ

کچھ احباب خبر پڑھنے کی رفتار تیز کرتے ہوئے بغیر رکاوٹ کے کراچی، سندھ اور ملک کے دوسرے علاقوں میں موسم خوشگوار رہنے کا امکان جیسی خبریں پڑھ کر ہمارے اندر کا موسم ناخوشگوار کر دیتے ہیں۔ جب ایک شخص کو اجازت نہیں کہ وہ \”سندھ\” اور \”پاکستان\” کہے اور اس \”نمک پاشی\” کو ممنوع قرار دیا جاتا ہے، تو وہ تمام لوگ جو میڈیا میں بیٹھ کر ہر گھڑی سندھیوں کی تاریخ پر \”نمک پاشی\” کا کام کرتے ہیں، ان کو بھی یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے!

Facebook Comments HS

2 thoughts on “کراچی اور سندھ کی اصطلاحات میں موجود دکھ بھری داستان

  • 10/09/2016 at 6:09 شام
    Permalink

    Awesome

  • 10/09/2016 at 8:43 شام
    Permalink

    اس چیز کو مثبت چیلنج کے طور پر لیتے ہوئے موجودہ سندھ گورنمنٹ اور آنے والی گورنمنٹس، اندرون سندھ میں ذبردست ترقیاتی کام کریں اور سکھر، لاڑکانہ ( جہاں 90 ارب لگانے کے باوجود اسکا موازنہ موہنجودڑو کے کھنڈرات سے کی جاتا ہے) حیدرآباد، شکارپور، خیرپور، نواب شاہ اور مٹھی کو کراچی کے برابر لے آئیں تو شائد پھر کوئی اندرون سندھ نہ بولے، ویسے میں نہیں سمجھتا کہ ایسا کوئی جان بوجھ کر کرتا ہوگا، بس رواج پڑجاتا ہے

Comments are closed.