ادب، سیکولر ازم اور صبا حسین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گوگول کی مشہور کہانی ’اوورکوٹ‘ کا بھوت جس اجتماعی احساس جرم کا استعارہ ہے، اسی سے میری اور آپ کی کہانی بھی پھوٹتی ہے۔ دیکھا جائے تو ہم سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں، ایک ہی طرح کے لوگ، ایک ہی طرح ردعمل دینے والے اور ایک ہی انداز سے چہروں پر مختلف چہرے لگانے والے۔ مگر اندر سے ہم جانتے ہیں کہ ہماری کمینگیاں کتنی گہری اور ہمیں ہی تکلیف پہنچانے والی ہیں۔ مجھے فحش شاعری کا انتخاب بھیجنے والے ایک اردو ادیب کا جب میں نے ویب سائٹ پر شکریہ ادا کرنا چاہا تو انہوں نے فرمایا کہ میں ان کا نام نہ لکھوں، وجہ ظاہر ہے کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ یہ جانیں کہ تصنیف حیدر کو یہ شاعری کس کے ذریعے حاصل ہوئی ہے۔

سماج میں ایک رتبہ قائم رکھنا، رتبے پر زور دینا، اپنی سماجی امیج کو قائم رکھنے کے لیے جوڑ توڑ کرنا، چور دروازے دریافت کرنا۔ آخر یہ سب ہے کس لیے؟ اور کس سماج کے لیے؟ اس کے لیے جس میں سب ہماری ہی طرح ہیں۔ یعنی بہت سے چوروں، اچکوں نے مل کر ایک شریفوں کا محلہ قائم کیا ہے۔ پچھلے سال سے لے کر اب تک اردو کے جتنے ادیبوں سے علانیہ اور خاموشی سے میرے تعلقات منقطع ہوئے ہیں، اتنے اس سے پہلے ممکن نہیں تھے، جب میں نے اپنی ایک دوست سے اس بات کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ آپ بالغ ہورہے ہیں اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے۔ ادب کیا ہے؟ ادب بھی ایسے ہی سماج میں پروان چڑھنے والا، ایسے ہی چوروں اور اچکوں کے ہاتھوں دریافت کیا جانے والا اپنا کمینہ پن ہے، مگر سب سے خراب بات یہ ہے کہ ہم اپنی کمینگیوں کی دریافت میں ایماندار نہیں ہیں۔

بات یہاں سے شروع کرتے ہیں، اردو کے ایک نظم نگار میرے بہت اچھے رفیقوں میں تھے، ان کو میں نے دو بار اس بات پر ٹوکا کہ کسی مری ہوئی عورت کو اپنی پوسٹ میں ’رنڈی‘ لکھنا اور کسی غیر ملکی ادیب کو ’گدھا‘ کہنا انہیں زیب نہیں دیتا۔ تو تیسری دفعہ وہ الگ ہی صورت میں نمودار ہوئے، ایک اچھے بھلے صحافی کو گالیاں دیتے نظر آئے۔ میں نے خاموشی سے کنی کاٹ لی۔ نہ ان کے خلاف کچھ لکھا، نہ اس بار انہیں سمجھانے کی ہی کوشش کی۔ مگر وہ سخت خفا ہوئے اور اپنی خفگی کی بنیاد پر انہوں نے چند اپنے ہی جیسے ’ادیبوں‘ کے ساتھ مل کر میرے خلاف محاذ آرائی شروع کی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ لوگ تین چار روز چیخ چلا کر خاموش ہوگئے۔ نہ کسی کے منہ کا نوالہ رکا، نہ کسی کے ہاتھ کا قلم۔ مگر پھر دیکھا کہ جو صاحب اخلاقی اصولوں پر میرا گریبان پکڑ کر جھول رہے تھے، وہ کچھ دنوں بعد عورتوں کے غلط طریقے سے بیٹھنے پر جز بز ہورہے ہیں، عورت مارچ کو گالیاں دے رہے ہیں، عورت کی آزادی کے حق کو ’رنڈی بازی‘ کے لقب سے نواز رہے ہیں۔ لوگوں نے لعنت ملامت کی تو انہوں نے اپنے بیانات واپس لیے، مگر معافی مانگنا تو دور حضرت نے اپنے بیانات کو اپنی ذاتی فکر بتاکر اس کا دفاع بھی کیا۔

اب ایک اور قابل ذکر شخصیت کی بات بتاؤں، میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے، وہ میرے لیے احترام کے لائق شخصیت ہیں اور رہیں گے، مگر ہندو پاک جن دنوں جنگ کے کنارے پر آپہنچے تھے، ان کی کچھ فیس بک پوسٹس اس حد تک نفرت میں لپٹی نظر آئیں کہ حیرت ہوئی، ایک طرف وہ ’جنگ کے خلاف‘ ہیش ٹیگ نووار کے کیمپین سے وابستہ تھے اور دوسری طرف اپنے فوجیوں سے مطالبہ کرتے نظر آتے تھے کہ ماں کا دودھ پیا ہے تو سری نگر تک بمباری کرکے آؤ، جیسے سری نگر کا آدمی، آدمی نہیں، اس کا خون جنگ میں اپنے ملک پر کیے جانے والے حملے کی نیت کے ردعمل میں پیدا ہونے والے انتقامی جذبے سے بہت سستا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ انہی کی بتائی بیشتر کتابوں سے میں نے جن انسانی حقوق کی تعلیم حاصل کی تھی، وہ مجھ سے کہتی ہے کہ انسان، انسان ہے۔ اس کا قتل، اس کی موت ہر حالت میں لائق افسوس ہے۔ آدمی پاکستان کا ہو، ہندوستان کا، بنگلہ دیش، سری لنکا یا کسی بھی ملک کا۔ وہ تعلیم مجھے سکھاتی ہے کہ انسان اور انسان کے درمیان پیدا کیے جانے والا کوئی بھی فرق، چاہے وہ کتنا بھی چھوٹا کیوں نہ ہو، برا اور لائق مذمت ہے۔ کسی کے عمل پر تنقید اپنی جگہ مگر تشدد کے کسی عمل کی ترغیب و تشہیر بالکل دوسری بات ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم جن کتابوں کو پڑھتے ہیں، وہ ہمیں کچھ سکھانے یا بدلنے کا کام ٹھیک سے نہیں کرپائی ہیں، یاصرف ہم نے انہیں اس لیے پڑھا ہے تاکہ ہم بھی پڑھے لکھے کہلا سکیں۔

میں نے بہت سے پاکستانی ادیبوں سے بہت کچھ سیکھا ہے، نام گنوانا شروع کروں تو کئی نام تابڑ توڑ ذہن میں آجائیں گے۔ ان کی سیکولر امیج ان کی تحریروں اور ان کے بیانات سے ہی تو واضح ہوتی ہے۔ اب اگر کسی دن آپ اچانک انہیں دو نیشن تھیوری کی خوبیاں گنواتے دیکھ لیں تو کیا ان کو پڑھ کر اور جان کر سیکھی گئی ساری باتوں کے مینار دھڑام سے زمیں بوس نہیں ہوجائیں گے؟ ہاں ایک شخص ہے، جس کا ذکر میں سیکولر لفظ کی تشریح کے طور پر ضرور کرنا چاہوں گا، جس کی شخصیت اور اقوال میں رتی بھر فرق ڈھونڈنا مشکل ہے، جس میں برداشت اور فہم وفراست کے عناصر کوٹ کوٹ کر بھرے ہیں، وہ ہیں واجد علی سید۔ واجد صاحب ان بہت کم لوگوں میں سے ہیں، جن سے میری متواتر گفتگو ہوتی رہی ہے۔ موضوعات میں ہندو پاک کے سیاسی مسائل، تقسیم ہند، فیمنزم، عالمی فکشن، نان فکشن، ذات پات اور نہ جانے کتنی ہی باتیں شامل رہی ہیں۔ ان کی وجہ سے میں نے عالمی ادب کے بہت سے ناموں کو پڑھا اور نزدیک سے جانا۔ مگر جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ کہ وہ جلد باز نہیں ہیں۔ نہایت نازک معاملوں میں بھی گفتگو کی اہمیت کو وہ سمجھتے ہیں اور غالبا اپنے تجربوں کی مدد سے ہی انہوں نے سیکھا ہے کہ کسی بات پر ردعمل دینے کا صحیح طریقہ اور وقت کیا ہونا چاہیے۔

ویسے بھی ہمارے سماجوں میں سیکولر لفظ اس قدر گھس اور پٹ چکا ہے کہ اصلی سیکولر انسان کو دیکھتے ہی اس کی نئے سرے سے تعبیر کرنی پڑتی ہے، ورنہ ہم نے تو میلے میں پڑے ہوئے چمکتے پتھروں کو سیکولر کہہ کر صبر کرلیا ہے۔ یقینی طور پر اردو پڑھنے والوں کے لیے ایسے لوگ ہیں، جن سے آپ صحیح سیکولر ازم کا مطلب سیکھ سکتے ہیں، جو نام فوری طور پر ذہن میں آتے ہیں ان میں وسعت اللہ خان، ارشد محمود، فرنود عالم، رامش فاطمہ وغیرہ سر فہرست ہیں۔ مگر جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ کہ اس وقت کوئی بھی نام اردو ادب تخلیق کرنے والا ایسا نہیں ہے، جو صحیح معنوں میں معتدل اور بہتر سوچ کا حامی ہو۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •