کیا حکومت میڈیا کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئے پاکستان میں سیاست اور عدالت کے ساتھ صحافت کو ”سیدھے راستے“ پر لانا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس حوالے سے جس قدر ممکن ہو سکا منصوبہ بندی پہلے ہی سے کرلی گئی تھی۔ پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد میڈیا کے حوالے سے جو رویہ اور پالیسی اختیار کی اس سے صاف نظر آنا شروع ہو گیا تھا کہ آنے والے دنوں میں میڈیا انڈسٹری کے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے۔

سیاسی وفاداریاں بدلنے کیلئے مشہور جہلم کے خاندان سے تعلق رکھنے والے فواد چودھری وزیر اطلاعات بنے تو کھل کر کہہ دیا کہ ہم نیوز چینلوں کو نیچے لے کر جائیں گے اور انٹر ٹینمنٹ چینلو ں کو اوپر لایا جائے گا۔ اخبارات (پرنٹ میڈیا) کے متعلق انہوں نے فیصلہ سنایا کہ اب اس کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔ جدید ٹیکنالوجی نے پرنٹ کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت بھی بہت حد تک گھٹا دی ہے۔ لہٰذا صحافی اور میڈیا ورکرز اب کوئی اور کام تلاش کریں۔ اس تمام کھیل میں حکومت کا اصل منصوبہ تھا کہ بس پی ٹی وی باقی رہ جائے اور صر ف ان چینلوں اور اخبارات کو چلنے کا موقع دیا جائے جو پالیسی کے حوالے سے پوری طرح سرکاری ٹی وی کی پیروی کریں۔

یہ کہنا تو آسان تھا مگر اس پر عمل درآمد اس حکومت کے دیگر”کارناموں“ کی طرح کسی طرح آسان نہ تھا۔ بہرحال بحران پیدا کردیا گیا سو اس کے نتیجے میں میڈیا انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی۔ ہزاروں صحافی اور میڈیا ورکرز نوکریوں سے فارغ ہو کر سڑکوں پر آگئے جو بچ گئے بے روزگاری کی تلوار ان کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ بڑی تعداد میں ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے نوکریاں بچانے کیلئے تنخواہیں کم کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی۔ ایک عام شہری بھی جانتا ہے کہ اس بدترین مہنگائی کے دور میں اگر آمدن بھی کم ہو جائے تو محض گزارا کرنا بھی محال ہو جاتا ہے۔

نیا پاکستان کی انتظامیہ کی یہ بات ہی احمقانہ ہے کہ میڈیا انڈسٹری جدید ٹیکنالوجی کے باعث متاثر ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان میں بھی اس کا پورا ایک پس منظر ہے۔ زیادہ تفصیلات کی گنجائش نہیں صرف ایک مثال ہی کافی ہے۔ اخبارات میں کبھی کاتب تھے، پھر کمپیوٹر، کمپوزنگ کرنے والے آ گئے۔ اس فارمولے کے تحت میڈیا کے ہر شعبے میں جدت لائی جا رہی ہے۔ میڈیا ہاﺅسز کو بند کرنے اور زبردست بحران سے دوچار کرنے کے ایسے اقتدامات تاریخ میں پہلے کسی حکومت نے نہیں کیے۔

حکومت کا یہ کہنا بدنیتی ہے کہ نیوز کی اہمیت کم ہو رہی ہے اب انٹر ٹینمنٹ کو اوپر لائیں گے۔ یہ سراسر زیادتی اور ”ریاست گیری“ ہے۔ نیوز چینلوں اور اخبارات کی اہمیت آج پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اس کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ ریاست کے کئی ادارے میڈیا کے معاملات کی نگرانی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان میں ہزاروں لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے بہت بڑے پیمانے پرسوشل میڈیا کے خصوصی شعبے بنائے گئے ہیں۔ نیوز کنٹرول کرنے کیلئے دن رات کا م کرنے والے خصوصی سیل اسی لیے تو بنائے گئے ہیں کہ عوام کو صرف وہی اطلاعات پہنچیں جو چند مخصوص عناصر چاہتے ہیں۔ آزاد منش صحافیوں کے تبصرے، کالم، تجزئیے اور درست خبریں آج حکومت کیلئے بہت بڑا درد سر بن چکی ہیں۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایک طرف نیوز کو بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جبکہ دوسری طرف خود حکومت کے حامی سرمایہ کاروں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اپنے میڈیا ہاﺅسز بنائیں تاکہ آزاد میڈیا کا مقابلہ کیا جا سکے۔ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ بعض ایسے میڈیا ہاﺅسز بھی قائم کر دئیے گئے جن کی سرمایہ کاری کہاں سے ہو رہی ہے۔ کوئی نہیں جانتا۔ اور اگر جانتا ہے تو زبان کھولنے پر تیار نہیں۔

ملازمت کرنا ہر کارکن صحافی کی مجبوری ہے۔ اس حوالے سے انہیں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ہاں! مگر صحافی آداب کے کچھ تقاضے ہیں۔ جو مہذب افراد ہر قسم کے حالات میں عمل کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ نجی شعبے کی دیگر صنعتوں کی طرح میڈیا میں بھی مالکان اور ملازمین کے تعلقات بہت کم ہی مثالی ہوتے ہیں۔ ایسے میں بیرونی مداخلت وہ عنصر ہے جو دونوں کو ایک ہو کر مقابلہ کر نے پر مجبور کردیتا ہے۔ اسی لیے ہر سطح پر تنظیمیں قائم ہیں۔ اس اتحاد کو پارہ پارہ اور میڈیا صنعت کو کمزور کرنے کیلئے ایک عرصہ سے مختلف ہتھیار آزمائے جا رہے ہیں۔ لڑاﺅ اور حکومت چلاﺅ پالیسی کے تحت مالکان اور کبھی کارکنوں میں پھوٹ ڈالی جا رہی ہے۔

میڈیا کی صفوں میں بھی مختلف سطحوں پر موجود عناصر حکومتی حلقوں سے براہ راست رابطے میں رہ کر بے شمار فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ انہیں بھاری تنخواہوں اور مراعات پر مختلف اداروں میں نا صرف نوکریاں دلائی جاتی ہیں بلکہ ان کی ملازمتوں کا تحفظ بھی کیا جاتا ہے۔ ایسے افراد مشکل کے وقت بظاہر اپنی برادری اور اداروں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں لیکن ان کی ڈوریں کہیں اور سے ہلائی جا رہی ہوتی ہیں اور وہ حتمی طور پر ان غیر صحافتی عناصر کے کارندے بننے کی ڈیوٹی ہی کرتے ہیں۔ صحافت کو کنٹرول کرنے کا حکومتی مشن ہو تو یہ عناصر خود حاضر ہو کر سرکاری اداروں کو” گائیڈ لائن“ دیتے ہیں۔ مخبری تو ظاہر ہے کہ ہر طر ح کی کرتے ہیں۔

میڈیا انڈسٹری کو روندنے کیلئے جو پلان بنا اس کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ زیادہ تر ادارے بند کرا دئیے جائیں صرف انہیں ہی زندہ رہنے کا حق ملے جو راگ درباری الاپتے رہنے کی گارنٹی دے دیں۔ صحافیوں کو بے روزگار اور آزاد میڈیا ہاﺅسز کو مالی بحران سے دوچار ضرور کیا گیا لیکن حکومت کو مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے اور انشاءاللہ ملیں گے بھی نہیں۔ اس لیے پہلے فواد چودھری کو وزارت اطلاعات سے ہٹا کر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا غیر منتخب مگر میڈیا فرینڈلی چہرہ لانا سامنے مجبوری بن گیا۔

خوفناک سنسر شپ کا سلسلہ مگر کسی طور کم نہیں ہوا۔ آزاد چینلوں کو آف ائیر کرنا، اخبارات کی ترسیل روکنا، اشتہارات کی بندش کے تھرڈ کلاس حربے پوری ڈھٹائی سے آزمائے جا رہے ہیں دوسر ی جانب پروفیشنل میڈیا مالکان کو دھونس اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ ہر جائز اور ناجائز طریقے سے ان کا گھیراﺅ کیا جا رہا ہے۔ کارکن صحافی تو پہلے سے ہی ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں حکومتی حلقوں کی جانب اب یہ اڑایا جا رہا ہے کہ صحافیوں کی بھی گرفتاریاں ہوں گی۔ یہ کیسی دھمکی ہے؟ اگر ملک میں قانون نام کی کوئی شے موجود ہے تو ہر طرح کے جرم کرنے والے کو اس کی کیے کی سزا ملنا لازم ہے۔ ہم توخود کہتے ہیں کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں۔ ہر کسی کو احتساب کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ ہاں مگر سلیکٹیڈ احتساب کر کے پروفیشنل آزاد منش صحافیوں کو ”طوق غلامی“پہننے پر مجبور کرنا بلکل ویسی ہی کارروائی ہے جو وسیع تر قومی مفاد کے نام پر ارکان اسمبلی کو مقدمات میں پھانس کر لوٹے بنانے کے لئے کی جاتی ہے۔

دنیائے صحافت اس بات سے پوری طرح واقف ہے کہ حکومت کے زیر سایہ کام کرنے والے اینکر اور تجزیہ کار پوری طرح سے مفادات حاصل کر رہے ہیں ان میں سے کئی تو ہمیشہ حکمران ٹولے کے ساتھ ہوتے ہیں انہیں اشارہ کر دیا جائے تو سٹیٹس کو کے مخالفین کو کاٹ کھانے دوڑتے ہیں۔ ان میں سے کئی ایک کی وسیع و عریض جائیدادیں اور بنک بیلنس ہے۔ بعض کو غورسے دیکھا جا ئے تو صاف نظر آتا ہے کہ مفادات کا شوربہ، منہ اور آستینوں سے ٹپک رہا ہوتا ہے۔ حکومت کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ میڈیا انڈسٹر ی میں موجودہ اپنے کارندوں کے ذریعے سب کچھ کنٹرول کر لے گی۔

یہ بحران بھی سیاسی، معاشی اور عدالتی بحران جیسا ہے جس کا کوئی سرا نہیں۔ ہفتہ کو ہونے والی تاجروں کی ملک گیر ہڑتال آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔ اپنی صفحوں میں سینکڑوں کی تعداد میں میر جعفر موجود ہونے کے باوجود تاجر برادری نے تاریخی ہڑتا ل کردکھائی، کئی مقامات پر سرکاری چیلے چانٹے بھی احتجاج کا حصہ بننے پر مجبور ہو گئے۔ آج پوری دنیا پاکستان کے اندرونی حالات سے واقف ہے۔ میڈیا کی آزادی کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو لندن میں جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا وہ محض ایک نمونہ ہے۔ اندرون ملک معاملات زیادہ بگڑے تو پروفیشنل صحافی اور میڈیا کارکن نئی تاریخ رقم کرنے کے لئے تیار ملیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •