ایک پانچ سالہ بچی کا چبھتا ہوا سوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا بچوں کے بارے میں یہ خیال ہے کہ بچے معصوم ہی نہیں ذہین بھی ہوتے ہیں۔  وہ بھری محفل میں بڑی معصومیت سے ایسا سچ بول دیتے ہیں جس سچ کے اظہار کی ہمت بہت سے بڑوں اور بزرگوں کو بھی نہیں ہوتی۔ یہ علیحدہ بات کہ بہت سے والدین، رشتہ دار اور اساتذہ بچوں کی ذہانت کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔

میں اپنے کلینک میں اپنے مریضوں کے بچوں کا بڑا خیال رکھتا ہوں۔ بعض بچوں کو میرے کلینک کے سینکڑوں کچھوے بہت پسند ہیں۔ جب میں ان کی والدہ کی تھیریپی کر رہا ہوتا ہوں وہ کچھووں سے کھیل رہے ہوتےہیں۔ بعض بچوں نے میرے کلینک کو کچھووں کی لائبریری بنا لیا ہے۔ وہ جب بھی آتے ہیں پرانا کچھوا واپس کر کے نیا کچھوا لے جاتے ہیں اور اس کچھوے کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ لکڑی ‘ پتھر اور شیشے کے کچھووں کا خیال رکھنے سے ان میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔

آج میں آپ کو ایک نہایت ہی ذہین پانچ سالہ بچی CINDY کی کہانی سنانا چاہتا ہوں جس کے ایک سوال نے پورے خاندان کی زندگی بدل ڈالی۔

آج سے دو سال پیشتر جب میرا مریض جوزف مجھ سے پہلی دفعہ ملنے آیا تو بہت پریشان تھا۔ کہنے لگا آج سے دس سال پہلے جب میری پہلی بیوی سے طلاق ہوئی تو میری بیٹی سولہ سال کی تھی اور بیٹا بارہ سال کا تھا۔ میرا بیٹا اپنی ماں کے پاس چلا گیااورمیری بیٹی میرے ساتھ رہنے لگی۔ وہ مجھ سے بہت ATTACHED تھی۔ وہ کبھی کبھار اپنی ماں سے ملنے جاتی۔

طلاق کے دو سال بعد میری شیرن سے ملاقات ہوئی۔ مجھے وہ بہت پسند آئی اور ہم ڈیٹنگ کرنے لگے۔ ایک سال کی ڈیٹنگ کے بعد میں نے شیرن سے شادی کر لی۔ شروع میں میری گرل فرینڈ شیرن اور میری بیٹی جوزفین میں کوئ مسئلہ نہ تھا لیکن جب شادی کے بعد شیرن ہمارے ساتھ رہنے لگی تو شیرن اور جوزفین میں کشیدگی پیدا ہوئی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھنے لگی۔ میں نے حالات کو جتنا بہتر کرنے کی کوشش کی وہ اتنا ہی ابتر ہوتے گئے۔

پانچ سال کے بعد میری بیٹی جوزفین نے بھی شادی کر لی اور اپنے شوہر کے ساتھ رہنے لگی۔ ایک سال کے بعد اس کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام سنڈی ہے اور وہ مجھے بہت عزیز ہے۔

جوزف کی خواہش تھی کہ میں اس کی مدد کروں تا کہ اس کی بیٹی جوزفین اور اس کی بیوی شیرن کے درمیان صلح ہو جائے۔

میں شیرن سے ملا تو اس کے دل میں جوزفین کے بارے میں اچھے جذبات نہ تھے۔ کہنے لگی SHE ALWAYS GAVE ME A HARD TIME ۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ جوزفین اپنے باپ سے بہت محبت کرتی تھی اور تم سے حسد کرتی تھی لیکن اب وہ بڑی ہو گئی ہے ماں بن گئی ہے۔ اب تم اسے قبول کر لو۔ شیرن کو میں نے قائل کر لیا کہ وہ اپنے شوہر کی خاطر اس کی بیٹی اور نواسی کو اپنے گھر آنے کی دعوت دے گی۔

پھر میں جوزفین سے ملا اور اس سے درخواست کی کہ وہ اپنے باپ کی خاطر اس کی دوسری بیوی کو قبول کر لے۔ کہنے لگی میں سوچ کر بتائوں گی۔ وہ ایک مہینے کے بعد آئی تو اس نے انکار کر دیا۔ کہنے لگی میں شیرن سے نہیں مل سکتی۔ میں اسے گلے نہیں لگا سکتی اور اس کی وجہ شیرن نہیں، جوزف ہے۔ میں نے کہا ‘ وہ کیسے؟، کہنے لگی جب میری اور شیرن کی لڑائی ہوئی تو میرے باپ نے میرا ساتھ دینے کی بجائے اپنی نئی دلہن کا ساتھ دیا جس سے میرا دل ٹوٹ گیا،۔ میں نے کہا اور شیرن یہ سمجھتی ہے کہ تمہارا باپ تمہارا ساتھ دیتا ہے۔ میں نے کہا تمہاری بیٹی سنڈی کے لیے بہتر ہے کہ آپ سب ایک دوسرے سے دوستی کر لیں۔

میں نے بہت کوشش کی کہ شیرن اور جوزفین کی دوستی ہو جائے لیکن میں ناکام رہا۔ جوزف بھی دل برداشتہ تھا۔ اسے اپنی نواسی سے بہت پیار تھا لیکن وہ اسے اپنے گھر نہ لا سکتا تھا کیونکہ جوزفین اپنے باپ کے گھر میں قدم رکھنے کو تیار نہ تھی۔ چنانچہ جوزف اس کی بیٹی جوزفین اور نواسی سنڈی ایک چائے خانے TIM HORTON میں ملتے تھے۔

آخر ایک دن اس پانچ سالہ بچی نے ایک ایسا چبھتا ہوا سوال کیا جس نے اس خاندان کی زندگی بدل ڈالی۔ جوزف اپنی بیٹی اور نواسی کے ساتھ چائے پی رہا تھا کہ پانچ سالہ بچی سنڈی نے اپنی ماں کی طرف دیکھ کر پوچھا۔۔۔ ماما۔۔۔ کیا گرینڈ پاپا کا کوئی گھر نہیں ہے؟۔۔۔ ہم ان کے گھر کیوں نہیں جاتے؟۔۔۔ ہم ٹم ہورٹن میں کیوں ملتے ہیں؟۔۔۔ یہ سوال سن کر جوزفین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے سنڈی کو گلے لگایا اور اپنے باپ سے کہا ۔۔۔ پاپا اگلی دفعہ ہم آپ کے گھر میں ملیں گے۔

میں نے جوزف۔۔۔ شیرن۔۔۔ اور جوزفین کو اپنے کلینک میں بلایا۔۔۔ وہاں شیرن نے جوزفین کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی اور شیرن نے دعوت قبول کی۔۔۔ میرے کلینک میں دونوں ایک دوسرے کو گلے ملیں۔ جوزف اتنا خوش تھا کہ اس میں آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

جب جوزف نے میرا شکریہ ادا کیا تو میں نے کہا کہ تم پانچ سالہ سنڈی کے لیے آئس کریم خریدو اور اس کا شکریہ ادا کرو۔ یہ اس کے چبھتے ہوئے سوال کی کرامت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 279 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail