عدلیہ پر حملہ آور ہونے کی نون لیگی روایت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

28 نومبر 1997 کو سپریم کورٹ میں اس وقت کے چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کی سربراہی میں ایک فل بینچ اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کے مقدمہ کی سماعت کر رہا تھا۔ سماعت اس وقت اختتامی مراحل میں تھی۔ میاں نواز شریف کی طرف سے مشہور قانون دان جناب ایس ایم ظفر صاحب عدالت کے روبرو موجود تھے۔ شنید تھا کہ کچھ ہی دیر میں عدالت اپنا فیصلہ سنا دے گی۔ نون لیگی قیادت فیصلے کے بارے زیادہ پر امید نہی تھی۔

اسی اثناء میں عدالت کے حاضرین میں موجود حکومتی وزیر خواجہ آصف مضطرب ہو کر اٹھے اور عدالت کی اجازت سے باہر چلے گئے۔ ان کے باہر جانے کے کچھ ہی لمحات کے بعد عدالت میں شورو غوغا بلند ہوا، اور شور اور نعروں کی آوازیں کورٹ روم کے نزدیک آتی گئیں۔ اتنے میں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے دو صحافی کورٹ روم میں داخل ہوئے، اور انہوں نے معزز جج صاحبان کو نون لیگی رہنماؤں اور کارکنان کے عدالت پر حملہ آور ہونے کی اطلاع دی۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے مختصر الفاظ میں عدالت کو برخواست کرنے کا حکم دیا اور انتہائی تیزی سے ساتھی ججوں کے ساتھ کورٹ روم سے روانہ ہوگئے۔ اس کے تھوڑی دیر بعد نون لیگی سینیٹر اور احتساب سیل کے سربراہ سیف الرحمٰن کی قیادت میں نون لیگی زعماء کچھ اراکین اسمبلی، جن میں اس وقت کے نون لیگی ایم این اے طارق عزیز (مشہور نیلام گھر والے ) ، بھی شامل تھے، اور کارکنان پر مشتمل ایک مشتعل ہجوم کورٹ روم میں داخل ہو گیا، اور ججوں کو وہاں نہ پا کر ججوں کو خبردار کرنے والے صحافی کو زد وکوب کرنے لگا۔ جسے بڑی مشکل سے ساتھی صحافیوں نے چھڑایا۔

بعد میں اپنے ہمنوا ججوں کے ذریعے سے چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کے خلاف بغاوت کروا دی گئی، اور اس وقت کے اخبارات میں چیف جسٹس صاحب کو ذہنی طور پر بیمار شخص ثابت کرنے کی کوشش کی بھی کی جاتی رہی۔ اس وقت بھی چیف جسٹس صاحب کے خلاف دیگر ججوں خاص کر کوئٹہ رجسٹری کے جج صاحبان نوازے جانے کی کہانیاں گردش کرتی رہیں۔ اس سے پہلے کہ جسٹس سجاد علی شاہ اپنے فیصلے کے ذریعے سے میاں نواز شریف کو نا اہل کرتے، انہوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کروا کے چیف جسٹس صاحب کا تختہ الٹ دیا تھا۔

نون لیگ کے دوسرے دور حکومت میں اس وقت کے احتساب سیل کے چیئرمین سیف الرحمٰن اس وقت کی احتساب عدالت کے ایک جج جسٹس عبدالقیوم کو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا پیغام پہنچاتے رہے کہ ایس جی ایس کوٹیکنا کیس میں آصف علی ذرداری اور بے نظیر بھٹو کو زیادہ سے زیادہ سزا سنائیں۔ ان کی بد قسمتی کہ ان کی یہ گفتگو ریکارڈ کر لی گئی اور بعد میں عدالت میں پیش کر دی گئی۔ اس مشق میں جسٹس قیوم کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونے پڑ گئے، لیکن شہباز شریف کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی جا سکی۔

شاید یہی وجہ ہو کہ مریم نواز صاحبہ کی طرف سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے متعلق جب ایک ویڈیو جاری کی گئی تو تجربہ کار شہباز شریف مریم نواز سے ساتھ بیٹھنے کے باوجود لا تعلق سے نظر آئے۔

کیونکہ اگر یہ ویڈیو عدالت میں زیر بحث آئی تو ججوں پر دباؤ ڈالنے کے سابقہ واقعات بھی زیربحث آ سکتے ہیں۔ اور اس طرح شہباز شریف بھی نئے سرے سے کسی مشکل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

مریم نواز صاحبہ کی طرف سے پیش کی گئی حالیہ ویڈیو نون لیگ پر ان کا خود کش حملہ ہی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس ویڈیو پر کئی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ کے مطابق احتساب عدالت کے جج صاحب پر دباؤ تھا، جس کے تحت انہوں نے نواز شریف کو سزا سنائی۔ لیکن اپنی ویڈیو میں وہ کوئی ایسا کردار پیش نہیں کر سکیں۔ جو کہ جج پر نواز شریف کو سزا دینے کے لئے دباؤ ڈال رہا ہو۔ بلکہ ویڈیو میں نظر آنے والے کردار تو نون لیگ کے قریبی مانے جانے والے افراد ہیں۔

کیا ویڈیو میں جج ارشد ملک حکومتی پارٹی تحریک انصاف کے کسی رہنما سے مل رہے ہیں؟

کیا وہ کسی حکومتی وزیر یا اہلکار سے مل رہے ہیں؟ کیا وہ کسی ادارے یا کسی ایجینسی کے فرد سے مل رہے ہیں؟ یقیناً ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ بلکہ تصویر میں موجود شخص ارشد ملک تو نون لیگی قیادت کا قریبی تعلق دار ہے۔ اور جج کا بیان حلفی بھی یہی کہانی سناتا ہے کہ انہیں نون لیگ کی طرف سے لالچ اور دھمکیاں دونوں دی گئی تھیں۔ کل کو جب یہ معاملہ عدالت میں پیش ہو گا، تو جج کے ساتھ ساتھ ارشد ملک، اور دیگر کرداروں کو بھی تو عدالت میں طلب کیا جائے گا۔

ان سے یہ سوال بھی تو کیا جا سکتا ہے، کہ آپ لوگ احتساب عدالت کے جج کو کیوں مل رہے تھے؟ جج ارشد ملک کے بیان کے مطابق ان کو پندرہ سال پہلے ملتان میں بنائی گئی ایک ویڈیو دکھا کر بلیک میل کیا گیا، جاتی عمرہ لے جا کر نواز شریف سے ملاقات کرائی گئی۔ اور جب وہ عمرہ کرنے گئے تو مدینہ منورہ میں حسین نواز نے ان کو رشوت کی پیشکش کی۔ جب یہ سب معاملہ عدالت میں جائے گا تو یہ سوال نواز شریف سے بھی تو پوچھا جا سکتا ہے۔ کہ اپنا علاج کروانے کی بجائے آپ اپنے خلاف فیصلہ دینے والے جج کو کیوں جاتی عمرہ میں بلوا کر ملتے رہے؟

جج کی پندرہ سال پہلے ویڈیو بنانے والا ملتان کا دکاندار میاں طارق بھی تو عدالت میں بلایا جا سکتا ہے؟

اس ویڈیو سے عارضی طور پر سیاسی پوائینٹ اسکورنگ تو کی جا سکتی ہے، مگر بالآخر یہ ویڈیو نون لیگ کا اعترافی بیان ثابت ہو گی کہ ہاں ہم نے جج کو آپروچ کیا، کس مقصد سے کیا؟ اس کا جواب وہ کیا دیں گے؟ ہو سکتا ہے اگر نواز شریف کے کیسوں کی دوبارہ سماعت ہو تو ان کو دونوں کیسوں میں سزا ہو جائے، یا سزا بڑھا دی جائے۔ اور اس کے علاوہ ایک عدالت کے جج کو دھمکانے، بلیک میل کرنے، اور رشوت کی پیشکش کرنے پر نون لیگی قیادت پہلے سے زیادہ مشکلات میں گھر جائے۔

ہو سکتا ہے مریم نواز صاحبہ کی ویڈیوز کے علاوہ کسی اور طرف سے کوئی اسی طرح کی ویڈیو سامنے آ جائے۔ جس سے جج ارشد ملک کے بیان حلفی کی تصدیق ہوتی ہو۔ نون لیگی قیادت کو اب یہ احساس ہو جانا چاہیے کہ وقت بدل چکا ہے، اور اب اس طرح کے ہتھکنڈوں سے عدالتی نظام پر اثر انداز ہونا بہت مشکل ہے۔ وہ پہلے ہی میڈیا پر اپنے دیے ہوئے بیانات کے تضادات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ قطری خط جیسی بے وقعت چیزوں اور جعلی ٹرسٹ ڈیڈ عدالتوں میں پیش کر کے وہ اپنا اعتبار پہلے ہی کھو چکے ہیں۔ اگر نہیں کر سکے تو اپنے لندن میں موجود اربوں روپے کے فلیٹوں کی منی ٹریل پیش نہیں کر سکے۔ بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ یہ ویڈیو نون لیگی قیادت کے گلے کی ہڈی بننے والی ہے۔ آنے والے دنوں میں بہت سے نئے انکشافات ہوں گے۔ شاید یہ ویڈیو اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •