کرکٹ کا بخار ختم!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت، کہ ہر چینل ہر اخبار، گلی محلے کا ہر فرد اور ریڑھی والا، تبریٰ بھیج رہا ہے اپنے کھلاڑیوں پر، یہ زمانہ ٹیکس لگانے کا ہے بلکہ زمانہ نہیں موسم ہے جو ’’ٹیکسیریا‘‘ ملیریا اور ایچ آئی وی کی طرح پھیل رہا ہے۔ ہم ادیب تجویز کرینگے کہ کرکٹ میچ ہارنے پر بھی لازمی ٹیکس لگایا جائے مگر مجھے اندازہ ہے کہ چونکہ کرکٹ وزیراعظم کی جان ہے، اسلئے اس پر تبصرہ بھی نہیں کرینگے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک سیاسی شخصیت کو منشیات کیس میں پکڑے جانے پر بھی بقول شاعر ’’بس ایک خاموشی ترے سب کے جواب میں‘‘۔

خدا لگتی بتائیے، ہاکی ہمارا قومی کھیل تھا، وہ کھیل اور اس کے کھلاڑیوں کی طرف تو رحم کی نظر بھی نہیں۔ جان کی امان پائوں تو پوچھوں کہ وہ بیچارے مظلوم، غریب جو اسنوکر کی عالمی چمپئن شپ جیت کر آئے، انہیں کسی نے فٹے منہ نہیں کہا۔ کجا ان کو بلا کر شاباش دی جاتی۔ گزشتہ چند سالوں سے ضلع اور تحصیل کی سطح پر جو کرکٹ کے مقابلے کرائے گئے وہ صائب نتائج دے رہے ہیں۔ اب قبائلی علاقوں اور چھوٹے شہروں سے بھی شاہین آفریدی نکل رہے ہیں۔

یہ اتفاقیہ یا معجزاتی تکا ہمیشہ نہیں لگا کرتا۔ کیا ہمارے کھلاڑیوں کی یہ تربیت کی جاتی ہے کہ ایک نہیں، تین تین کھلاڑی ایک بال پکڑنے کو بھاگیں اور پھر بھی ناکام ٹھہریں۔ انہیں شاید یہ بھی تربیت دی جاتی ہے کہ کیچ پکڑ کر چھوڑ دیا کریں۔ بور ہوتے ہوں تو جماہیاں لیا کریں کہ رات کے ذائقے سے آنکھیں بند ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔ہمارے یہاں باقاعدہ اسپورٹس بورڈ ہے۔ جس میں قیام اور تربیت کی ساری سہولتیں موجود ہیں۔

وہاں آسٹرو ٹرف کے نام پر جو سامان خریدا گیا اور خریدا جاتا رہا، اس کی سزا تو افسر خاص بھگت رہے ہیں اور وزیروں کے علاوہ وزیراعظم بھی حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ کیا اس جگہ بھی پیسہ کھایا جاتا ہے۔ انہیں شاید یاد نہیں کہ ایک چپراسی جب رشوت مانگنے پر بے انتہائے بدنامی ( بے نامی نہیں) پر پہنچ گیا تو سرکار نے اس کو سمندر کے کنارے لہریں گننے پر لگا دیا۔ سرکار نے سوچا اب بھگتے اپنے کئے کرائے کو مگر وہ تو ہمارے نامیوں کی طرح خرانٹ تھا اس نے سمندر پر ہر گشت کرنے والے پر لہریں گننے کا ٹیکس لگا دیا۔

ہر شخص کبھی خوش دلی اور کبھی بددلی سے اس کو پیسے دے جاتا تھا۔ آپ عورتوں کو کم ہوشیار نہ سمجھیں۔ دیکھیں نا جب سے سونے کی قیمت سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ زیور ڈھونڈنے کے بہانے کتنے جیولری گھر لٹ رہے ہیں۔ اس میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں۔ مضحکہ خیز بات ہے کہ عبادت کیلئے جانے والے بعض افراد مونگ پھلیوں کے چھلکوں میں ڈرگز بھر کر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آپ داد دیں اس کوشش کی کہ پہلے مونگ پھلیوں کو برابر کے دو حصوں میں چھیلا، دانے نکال کر اس میں حشیش بھر کر مونگ پھلیاں باقاعدہ ایسے بند کیں کہ کسی کو شک بھی نہ گزرے اتنی محنت وہ کوئی اچھا کام کرنے میں صرف کرتے مگر ’’ایزی پیسہ‘‘۔

پاکستان جہانگیر خان کے زمانے تک اسکواش میں بادشاہ رہا ہے۔ پھر وہاں بھی سُونا پڑا ہے۔ ایک دو لوگ یعنی کھلاڑی سیمی فائنل تک جاکر لوٹ کر بدھو آ جاتے ہیں۔ بالکل ہماری کرکٹ ٹیم کی طرح، انہیں برا بھلا کہا گیا، بس ذرا خبر لیں تو ٹرینر اور انتظامیہ کی بھی کہ وہ بھی تو ہمارے وزیراعظم کی آنکھ کے تارے ہیں۔ ان کو بھی یہ نوکری تحفے میں دی گئی ہے۔

پھر مجھے اصحابِ کہف یاد آ گئے۔ غار میں جا کر سونے والے نو سال اوپر تین سو سال بعد جاگے تھے مگر جب اپنی جیب سے سکے نکال کر روٹی منگوانے لگے تو لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا ’’آپ تین سو سال پرانے سکے کہاں سے لائے‘‘ مگر یہ حکایت ہم پر تو منطبق نہیں ہوتی کہ ہم تو 72سال سے چند سڑکیں جو ہمارے ڈیروں تک جاتی ہوں، بنا رہے ہیں مگر ذرا ہوٹلوں میں پارٹیاں اور شادیاں کرکے دکھائو، بل دیکھ کر پتا چل جائے گا۔ شکر کریں اب وہ ترانہ تو بند ہوگا ’ہم ایک ہیں‘، کرکٹ کے بخار کے ساتھ تماشا ختم۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •