وہ بہت اچھی طوائف تھی
وہ بنکاک کی لڑکیوں کے مقابلے میں تھوڑی لانبی تھی اور ناک نقشے سے بھی تھوڑا جدا۔ ہمارے واپس آنے میں صرف دو دن ہی رہ گئے تھے اور اس شام وہ مجھے مل گئی۔ میں نے وقت ضائع کیے بغیر فوراً ہی سودا کرلیا اور اسے لے کر اپنے ہوٹل چلا آیا۔ میں نے فیصلہ کرلیا کہ اب دو دن میں نے اسی کے ساتھ ہی گزرنا ہے۔ طوائفوں سے محبت نہیں ہوتی ہے، ہونی بھی نہیں چاہیے۔ مجھے بھی نہیں ہوئی تھی مگر انسیت ضرور ہوگئی۔ میں نے سوچا کہ اب اگر بنکاک آنا ہوگا تو اسی کے لیے آنا ہوگا۔ وہ تھی ہی ایسی۔ ایک تو خوب صورت پُرکشش، اوپر سے اس طرح سے ملی تھی وہ گلے سے جیسے صدیوں سے شناسائی ہے۔ یہ بھی ایک ادا تھی اس کی، یہ بھی ایک کمال تھا اس کا۔ میں ایسا مرا اس پہ کہ بس ریجھ ہی گیا، یہ سوچے بغیر کہ وہ بھی بنکاک کی طوائف ہے۔ دھندا کرنے والی ایک پروفیشنل عورت۔
واپس آنے کی شام اسے میں نے بھرپور طریقے سے گلے لگایا اور بوجھل دل کے ساتھ اسے چھوڑ کر آگیا۔ جہاز پہ کئی دفعہ یہ خیال آیا کہ وہ کسی اور کے ساتھ ہوگی مگر میں نے دل کو بہلالیا۔ یہی دنیا کا نظام ہے۔ کوئی کسی کے ساتھ کوئی کسی کے ساتھ۔
پاکستان کا نظام ویسا ہی چل رہا تھا مگر یکایک حکومت بدل گئی اور نئی حکومت نے مجھے تلاش کرنا شروع کر دیا۔ حکومت کے ہی لوگوں نے سمجھایا کہ مجھے فرار ہوجانا چاہیے۔ ابھی پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے، جھٹکے میں پکڑا جاؤں گا تو اچھا نہیں ہوگا۔ اپن لوگوں کو بھی جیل میں رہنے کا شوق نہیں۔ کھلے ہوا کے آدمی ہیں۔ اپن کو کھلے ہوا میں ہی رہنا ہے۔ میں نے دیر نہیں کی اور پکڑے جانے سے بہت پہلے ہی بنکاک چلا آیا تھا۔ جا تو کہیں بھی سکتا تھا مگربنکاک میرے دل سے نہیں نکلا تھا۔ حکومت مجھے وہاں تلاش کرتی رہی اور میں آرام سے نکل گیا۔ میرے جیسے بہت سے لوگ نکل گئے تھے۔ اس کا انتظام رکھنا ہوتا ہے۔ حکومتی آتی ہیں پھر قیمت لگنے میں دیر لگتی ہے۔ اچھا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہی پھوٹ لو جب سب ٹھیک ہوجائے تو واپسی میں کتنی دیر لگتی ہے۔
پاکستان میں بھی یہی ہوتا ہے۔ نئی حکومت آتی ہے تو پرانی حکومت کے ہمارے جیسے لوگ نکل جاتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے چھٹیاں ہوتی ہیں۔ تھوڑا سا بریک ملتا ہے، روز روز کے کام سے بچنے کا۔ پھر حکومت سے بات چیت ہوتی ہے۔ کچھ دینا ہوتا ہے کچھ وعدے کرنے ہوتے ہیں پھر سب کچھ صحیح ہوجاتا ہے۔
بنکاک جاتے ہی میں نے ایک اپارٹمنٹ بگلم پو کے علاقے میں لے لیا تھا۔ یہ علاقہ شہر میں ہی ہے۔ دنیا بھر کی دکانیں، مساج کرنے کے سینٹر، بڑے چھوٹے ہوٹل بزنس۔ ہر قوم کا آدمی یہاں مل جاتا ہے۔ یورپ اور امریکا کے وہ لوگ جو اپنے ملکوں میں چائلڈ لیبر کے خلاف مہم چلاتے ہیں ان کے ہی ملک کے لوگوں کے لیے چائلڈ طوائفوں کا بڑا منظم انتظام ہے۔ ایک گھنٹے سے لے کر ہفتوں مہینوں تک کے لیے بھی لڑکیوں کا بندوبست ہوسکتا ہے۔ بیچ میں بدلی بھی جا سکتی ہیں۔ اگر ڈالر ہیں تو جب چاہے لے گئے جب چاہا چھوڑدیا۔ حسن، جوانی، شباب اور عیاشی کو اس طرح کاروبار کا درجہ دیا جاچکا ہے کہ یہ بھی ایک طرح کی صنعت بن چکی ہے۔
میں نے ایک اچھا اپارٹمنٹ لے لیا۔ مجھے پتا تھا کہ ابھی اور بھی مہمان پاکستان سے آئیں گے، کچھ ایسے مہمان جو مستقبل میں سفیر، وزیر اور وزیراعظم بنیں گے، کچھ ایسے افسر جو بعد میں چیئرمین، ڈائریکٹر اور مشیر بنیں گے۔ اپنا کام ہی ایسا ہے کہ ہر بات کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ہر ایک سے دوستی رکھنی ہوتی ہے، ہرایک کی ضرورت پوری کرنی ہوتی ہے۔ عمرے کے شوقین کے لیے جدہ کا ٹکٹ، شاپنگ کے لیے سنگاپور۔ جس کا جو شوق ہو اس کے مطابق اس کی خدمت۔ میں ہوں نئے دورکا نیا بیوپاری۔
میں نے اسے بھی فون نہیں کیا بلکہ پیٹ پینگ کے اس نائٹ کلب میں پہنچ گیا تھا جہاں پہلی دفعہ ملی تھی وہ۔
میں نے سوچا کہ اسے حیران کردوں مگر وہ وہاں نہیں تھی۔ کلب کے منیجر نے بتایا کہ وہ ڈیوٹی پر ہے۔ مجھے اچھا نہیں لگا تھا۔ وہ کسی امریکی کے ساتھ ہو گی، کوئی عربی شیخ اسے لے کر گھوم رہا ہوگا یا کوئی بوڑھا یوروپین ساحل سمندر پہ اس سے لپٹا ہوا ہو گا یا کوئی اور کسی ہوٹل میں اسے بھنبھوڑ رہا ہوگا۔
میں نے منیجر سے کہا، ”مجھے ماریا چاہیے، چاہے جتنے بھی ڈالر لگیں۔ میں کافی کچھ خرچ کرنے کو تیار ہوں۔ “
”مگر بزنس کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں مسٹر۔ اگر وہ کسی کے ساتھ ہے تو اس کے ساتھ ہے۔ ایک اگریمنٹ ہے اس کے مطابق چلتے ہیں ہم لوگ۔ “ کام غلط صحیح مگر کام میں ایمان داری ہونا چاہیے۔ اس کا تو میں بھی قائل تھا۔ ”آپ اپنا نمبر بتادیں۔ ہم خود ہی آپ کو فون کرلیں گے اور جب تک وہ نہیں ملتی ہے اور حسینائیں ہیں۔ ماریا نہیں تو میری مل جائے گی۔ آپ حکم تو کرو۔ “
عورت نہیں ہوئی بیئر ہوگئی، گٹس نہیں ہے تو ہارپ پی لیں۔ ہارپ نہیں ہے تو کچھ اور سہی۔ میرا کچھ دل نہیں کیا۔ میں تو اس کے بارے میں ہی سوچتا ہوا آیا تھا، کچھ دل خراب سا ہوگیا۔ اندر سے تو میں پاکستانی ہی ہوں نا بالکل عوام کی طرح ووٹ ان کو ہی دینا ہے جنہوں نے لوٹا ہے بار بار۔ کبھی اُس نام سے کبھی اِس نام سے۔
میں نے وہاں بیٹھ کر جانی واکر کی آدھی بوتل خالی کی اور لڑھکتا ہوا ٹیکسی میں بیٹھا اور اونگھتا ہوا اپنے اپارٹمنٹ میں آکر سوگیا تھا۔
دوسرے دن شام کو اس کا فون آیا، وہی تھی۔ اس کی آواز میں فوراً ہی پہچان گیا۔ وہ فارغ تھی یا شاید میرے لیے فارغ کرا دی گئی تھی بعد میں اس نے بتایا کہ جب اسے میرے بارے میں پتا لگا تو وہ ایک ڈچ کاروباری آدمی کے ساتھ ہفتے بھر کی ڈیوٹی پر تھی مگراسی دن یکایک اس ڈچ کو ضروری میٹنگ کے لیے کمبوڈیا جانا پڑگیا۔ وہ تو اسے بھی لے جانا چاہ رہا تھا مگرجیسے ہی اسے پتا لگا کہ میں اسے تلاش کررہا ہوں، اس نے اسے بہانہ کرلیا کہ اس کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے۔
پھر وہ خوب ہنسی تھی۔ وہی ہنسی جس کا میں پچھلی ملاقات میں ہی اسیر ہوگیا تھا۔ تھائی زبان کے علاوہ اس میں کچھ بھی تھائی نہیں تھا۔ میں نے اسے رکھ لیا۔ اس رات ہم لوگوں نے مشہور اور ینٹل ہوٹل ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا۔ ایسا ریسٹورنٹ میں نے پہلی دفعہ دیکھا۔ زندہ مچھلی، زندہ مرغی سے لے کر ہرطرح کی تازہ سبزیاں، سب کچھ خوب صورت انداز میں سجا ہوا تھا۔ وہیں پر خریدیں اور جیسے آپ چاہیں ویسا ہی پکا کر وہ لوگ پیش کردیں گے۔ ہر بات نرالی تھی اس رات کی۔ ماحول رومانی تھا اور دھیمی دھیمی روشنی میں وہ تھائی کپڑے پہنے ہوئے کسی حور کی طرح میرے ساتھ تھی۔ دل میں آیا کاش یہ میری ہی بن جاتی، میرے ہی ساتھ رہتی، کبھی ساتھ نہ چھوٹتا اس کا۔
دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینے میں بدلتے گئے میں اس کے ساتھ گھومتا پھرتا رہا بنکاک کے شہر شہر، سمندر سمندر، دریا دریا، جنگل جنگل۔ وہ طوائف تو تھی مگر بہت اچھی طوائف تھی اور بھی بہت کچھ تھا اس کے اندر۔ اس کے بکنے کا بھی ایک انداز تھا۔ میں اسے محبت تونہیں کہو گا مگرمیں اسے چاہنے ضرور لگا تھا۔ یہ تو نہیں سوچا تھا کہ زندگی بھر کا ساتھ ہوگا۔ مگر بنکاک کا ساتھ تو اسی کے ساتھ تھا۔ ڈالروں کی کمی نہیں تھی، بیچ میں اور بھی لوگ پاکستان سے آئے۔
سیاست دان، سابق سیکریٹری، حکومت کے افسر، بینکوں کے کرتا دھرتا، بھاگے ہوئے جج، ستائے ہوئے صحافی اور نکالے ہوئے فوجی۔ ہر ایک کسی نہ کسی وجہ سے یا تو بھاگ کر آیا تھا یا بھگوا دیا گیا تھا۔ جو بھی میرے پاس آیا، اس کا خیال کیا تھا میں نے۔ اوپر والے نے بڑی برکت دی تھی سالوں کی کمائی میں۔ ڈالر ختم نہیں ہورہے تھے۔ ان کا بھی میں نے معقول انتظام کرایا تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

