شکیل عادل زادہ: جن کے ہونے سے بہت کام ہمارے نکلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 
 
ستمبر اکتوبر 2007 میں میری بیگم کی پوسٹنگ کراچی میں ہو گئی۔ مجھے بھی کراچی شفٹ ہونا پڑا۔ ایک وسیلے سے اے آر وائے ون ورلڈ میں ملازمت کی پیش کش ہوئی جسے میں نے یہ کَہ کر ٹھکرا دِیا، کِہ میری فیلڈ انٹرٹینمنٹ ہے، نیوز نہیں۔ سب دوستوں کا کہنا تھا، مجھے اے آر وائے ون ورلڈ جوائن کر لینا چاہیے۔ ایک دوست کی دلیل مجھے بھا گئی، کہ ابھی تم کراچی کے راستوں سے واقف نہیں ہو، نیوز چینل میں جاو گے، تو شہر بھر گھوم لو گے، راستوں کا علم ہو گا۔ پھر ملازمت چھوڑ دینا۔ بالآخر اپریل 2008، میں نے اے آر وائے ون ورلڈ جوائن کر لیا۔ ڈی 20، سائٹ ایریا جو کبھی ملت فین کی فیکٹری ہوا کرتی تھی، وہاں اے آر وائے ون ورلڈ کا دفتر اور اسٹوڈیو تھے، آج بھی وہیں ہے۔ اس زمانے میں مارکیٹنگ، سیلز ٹیم اور رپورٹرز مدینہ سٹی مال صدر میں بیٹھا کرتے تھے۔ میں نے جاب انٹرویو وہیں دیا تھا۔
 
کراچی شہر میں جو تھوڑی بہت شناسائی تھی، تو وہ شو بِز سے وابستہ افراد سے تھی۔ اے آر وائے کے لیے میں، اور میرے لیے اے آر وائے بالکل اجنبی دُنیا تھی۔ تب اس عمارت  میں اے آر وائے کے اسٹوڈیوز، نیوز روم اور دیگر شعبوں کے دفاتر تعمیر ہو رہے تھے۔ اس وقت نیوز روم دُبئی میں تھا، جسے جلد پاکستان منتقل  ہونا تھا۔ خبریں اور پروگرام وہیں سے سیٹلائٹ کے حوالے کیے جاتے تھے۔ عارضی طور پر انیمفوٹینمنٹ کی ٹیم ایک بڑے سے کمرے میں بیٹھا کرتی تھی، جہاں سب پروڈیوسر، ایسوسی ایٹ، اسسٹنٹ اور اینفو ٹینمنٹ کا  ہیڈ یعنی ’’وی پی‘‘ کی نشست  تھی۔
 
پہلے ہی روز وی پی نے میرے نشست کے سامنے سے گزرتے یہ پوچھا، ’’تم سوئچنگ کر لیتے ہو؟‘‘ میرا جواب انکار میں تھا۔ ’’تم  پھر کہاں کے ڈائریکٹر ہوئے؟‘‘ یہ کَہ کر وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔ سب کے سامنے اس بے ہودگی کے مظاہرے پر میں غصے سے لال پیلا  ہو گیا۔ جی چاہا کہ اُٹھ کے پیچھے جاوں، اور کہوں، سوئچنگ کرنا ڈائریکٹر کا کام نہیں ہوتا، آن لائن اڈیٹر کی جاب ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا، کہ اسی روز میں اے آر وائے کے دفتر سے باہر ہوتا۔ میری آنکھوں میں ان دوستوں کی صورتیں گھوم گئیں، جنھوں نے مجھے بہ مشکل قائل کر کے یہ ملازمت کرنے پر راضی کیا تھا۔ انھیں جا کے بتاتا کہ پہلے دن ہی پھڈا کر آیا ہوں، تو وہ میری نیت پر شک کرتے، کہ تم نوکری کرنا ہی نہیں چاہتے تھے، سو بہانہ خوب تلاشا ہے۔
میری زندگی کے ان قلیل لمحات میں سے یہ ایک ایسا لمحہ تھا، جب میں نے صبر سے کام لیا۔ بعد میں اس صبر کا پھل بہت میٹھا نکلا۔ جب اے آر وائے ون ورلڈ جو بعد میں اے آر وائے نیوز کہلایا، وہاں سب شو میں ہی کر رہا تھا اور سوئچنگ کون سی جادو گری تھی، جس کے لیے بہت محنت کرنا پڑتی، سیکھ ہی لی۔ در اصل قصور وی پی کا بھی نہیں تھا، جاب انٹرویو کے وقت مجھ سے پوچھا گیا تھا، آپ ڈائریکٹر کی سیٹ پر آنا چاہتے ہیں یا پروڈیوسر کی؟ میں نے فخریہ کہا، میں ڈائریکٹر کہلوانا پسند کروں گا۔ بعد میں یہیں آ کے پتا چلا، نیوز چینل میں آن لائن اڈیٹر کو ڈائریکٹر کہا جاتا ہے۔
 
ابتدا میں، میں روز پوچھتا کوئی کام بتایا جائے، ہر بار یہی جواب ملتا، وقت آنے  پر بتایا جائے گا۔ کرنے کو کوئی نیا شو آتا بھی تو کسی دوسرے کے نام کی آواز پڑتی۔ ایک ہی کمرے میں ہونے کی وجہ سے جلد ہی ہم کولیگ ایک دوسرے سے گھل مل گئے تھے۔ بہت بے تکلف ماحول تھا۔ ہمارا ایک ساتھی پروڈیوسر دن دیہاڑے کمپیوٹر پہ پتا نہیں کون کون سی سائٹس کھنگالتا رہتا، کہ بعض اوقات پیچھے سے باس آواز لگاتا، کچھ شرم حیا کر لو، یہ دفتر ہے، اور پھر یہاں خواتین بھی ہیں۔ 
 
انیق احمد سے میری اُن ادوار کی دُعا سلام ہے، جب نجی چینلز کا کہیں دور تک نہیں پتا تھا۔ میں جب جب کراچی آتا ’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘ میں شکیل عادِل زادہ سے ملاقات کے لیے جایا کرتا تھا۔ بھائی شکیل تو اپنے مخصوص سوفے پر، اپنے مخصوص انداز میں بیٹھا کرتے تھے، جب کہ میز کے پیچھے رکھی کرسی پر کبھی انیق احمد کو بیٹھے دیکھا، کبھی ’’نِکمت پریس‘‘ کے بھائی خالد کو۔ شروع میں میں سمجھا، یہ انیق احمد، معروف ادیب اشفاق احمد کے بیٹے ہیں۔ ’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘ میں بڑی بڑی شخصیات کی حاضری معمول کی بات تھی، تو وہاں جسے بھی دیکھا، اُسے بڑا ہی جان کر احترام کیا۔ اپنی کم علمی کے باعث میں سوال کم کرتا تھا، اور خاموش رہتے حاضرین محفل کی سنا کرتا تھا۔ کسی نے میرے بارے میں استفسار کیا بھی، تو شکیل عادل زادہ نے ایسے بڑھا چڑھا کے بیان کرنا، کہ یہ کوئی بہت قابل شخص ہے، جب کہ میں محض ان کا پرستار تھا۔ میں سہم کر مزید چپ بیٹھا رہتا، اندیشوں میں مبتلا کہ  ایسا نہ ہو کہیں میری لب کشائی سے بھائی شکیل کے بولوں کا بھرم جاتا رہے۔
انیق احمد

 یہی انیق احمد بعد میں جیو نیوز کے ’’الف‘‘ پروگرام  سے ناظرین کے سامنے آئے تھے، اور جب میں نے اے آر وائے جوائن کیا تو انیق احمد یہاں ’’آغاز‘‘ نامی شو کی اینکرنگ کیا کرتے تھے۔ انیق احمد کا رابطہ براہ راست مالکان سے تھا۔ زرا سی شکایت کی صورت میں وہ مالک حاجی روف کے کمرے میں چلے جاتے تھے۔ پروڈیوسر کو مالک اپنے دفتر میں بلا کے ڈانٹ ڈپٹ کیا  کرتے۔ میں نے یہ دیکھا نہیں، لیکن ایسے قصے سن رکھے تھے۔ نوزائیدہ انفوٹینمنٹ ٹیم انیق احمد سے لیے دیے رہتی تھی۔ ایک دن وہ انفوٹینمنٹ ڈِپارٹ منٹ میں چلے آئے، مجھ پر نظر پڑی تو حیران ہوئے، کہ تم یہاں کیسے؟ اور کب سے؟ مجھے تو وہاں کوئی خاطر ہی میں نہ لاتا تھا، انیق احمد  کا مجھ سے بات کرنا سب کو تجسس میں مبتلا کر گیا، کہ اس لہوریے (پنجابی) کو انیق احمد کیسے جانتے ہیں۔ نا صرف جانتے ہیں، بلکہ اپنائیت سے بات کر رہے ہیں۔ اسی طرح ایک دن اداکار و ہدایت کار اینجلین ملک کسی کام سے وہاں آئی، ہمارے بیچ سلام دُعا کا تبادلہ ہوا، تو سبھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ مجھے دیکھتے رہے۔ میں اور اینجلین، اسلام آباد میں جمال شاہ کے ہنر کدہ کی ٹی وی سیریل ’’کل‘‘ کی ٹیم کا حصہ تھے، اور ایک تھیٹر بھی ساتھ کیا تھا۔

 انفو ٹینمنٹ میں ایک میں ہی تھا، جس کا ڈرامے کی دُنیا سے ناتا تھا۔ پولٹیکل اسٹائر پہ مبنی ایک پروگرام کے لیے قرعہ میرے نام کا نکلا۔ اسے میں نے لکھا بھی اور ڈائریکٹ بھی کیا۔ وہ اتنا پسند کیا گیا کہ اوپر سے حکم آیا  تم ڈائریکٹر نہیں پروڈیوسر ہو، ساتھ ہی بنا مطالبہ کیے میری تن خواہ میں دس ہزار کا اضافہ کر دیا گیا۔ بس وہ دن تھا، جب مجھے پیچھے مڑ کے دیکھنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ میرے ایک اسٹنٹ کے الفاظ مجھے آج تک یاد ہیں، ’’ظفر بھائی، یہاں سب سمجھ رہے تھے، آپ ’پرچی‘ ہیں، اس لیے آپ کو کوئی کام نہیں دیا جا رہا تھا۔ لہوریوں کو کہاں کام آتا ہے۔‘
معلوم نہیں انیق احمد یہ چاہتے تھے یا مجھے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ چاہتے ہیں، ’’آغاز‘‘ شو مجھے دے دیا جائے۔ میں نے کھڑے پیر انکار کر دیا کہ میں انیق احمد کا پروگرام نہیں کرنا چاہتا۔ اندرون خانہ سیاست تھی، اس لیے میرے سینیئر بھی نہیں چاہتے تھے کہ میں وہ شو کروں۔ کیوں کہ اینفو ٹینمنٹ ڈِپارٹ منٹ کی تازہ تازہ بنیاد پڑی تھی، اور اس شعبے کے بننے سے پہلے یہاں ہر کوئی اپنے تئیں اپنی ذات میں ایک شعبہ تھا۔ ہر اینکر سیدھا مالک سے جا بات کرتا تھا۔ وہ انفو ٹینمنٹ کے ہیڈ کی پروا ہی نہیں کرتا تھا۔ میرے انکار کی وجہ اور کچھ نہیں، محض یہ تھی کہ انیق بھائی اپنے پروگرام کے کرتا دھرتا خود تھے، ایڈیٹنگ بھی خود کرواتے تھے، تو میرے کرنے کو وہاں کچھ نہیں تھا۔ اوپر سے ان کے بارے میں مشہور تھا کہ کسی سے ان کا مزاج نہیں ملتا، میرا ان سے رسمی سا ناتا سہی، میں اس تعلق کو بچائے رکھنا چاہتا تھا۔ ان کے ساتھ کام کر کے جھگڑا نہیں مول لینا چاہتا تھا۔ ہم دونوں کے بیچ کی کڑی شکیل عادل زادہ تھے، اس کڑی کا لحاظ کرنا فرض تھا۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 285 posts and counting.See all posts by zeffer-imran