منٹو کا افسانہ ”ساڑھے تین آنے“: اگلی نسل کے لیے لکھی ایک تحریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے منٹو پہ بہت تنقید و توصیف پڑھی، لکھی اس سے بھی زیادہ گئی ہے۔ میں یہ دعوی ہرگز نہیں کر سکتی کہ میں نے منٹو کی ہر تحریر پڑھ لی مگر جب ”ساڑھے تین آنے“ پڑھی تو مجھے حیرت یہ ہوئی کہ منٹو کے مشہورِ زمانہ اور رسوائے زمانہ تحاریر میں اس کا ذکر کہیں موجود نہیں۔ اور اس پہ غور کرنے کے بعد مجھے ایک احساس یہ ہوا کہ یہ تحریر بنیادی طور پہ اردو سمجھنے والے طبقے کی پچھلی صدی یا منٹو کے اپنے دور کے لیے تھی ہی نہیں۔

جہاں ایک طرف منٹو کا ”تماشا“ پڑھ کے اس کی چیخوف کے افسانے ”جادوگر“ سے حد درجہ مماثلت کا احساس ہوا، وہیں ”ساڑھے تین آنے“ پڑھ کے احساس ہوا کہ میرے اب تک کے مطالعے میں منٹو کا یہ بہترین افسانہ ہے۔ میں نے ہوا میں تیر چلانے کی نسبت بہتر سمجھا کہ اس خیال کی تصدیق کروں کہ ممکن ہے میرا خیال غلط ہو اور یہ افسانہ بھی شاہکار کی فہرست میں کہیں موجود ہو اور فیس بک پہ موجود اپنے ادبی حلقے جس میں پاک و ہند کے بہت سے محترم جانے والے نام شامل ہیں اور بہت سے معیاری ادب کی پہچان رکھنے والے قاری بھی ہیں ان سے یہ سوال پوچھا کہ منٹو کے کون کون سے افسانے شاہکار سمجھے جاتے ہیں اور کیوں؟

سر فہرست اگر چند نام دیکھو‍ جن کو کم و بیش سب نے دہرایا وہ تھے ہتک، نیا قانون، کھول دو، کالی شلوار، ٹھنڈا گوشت اور ٹوبہ ٹیک سنگھ۔ سعادت حسن منٹو کے بہترین افسانوں کی کئی مختلف فہرست مرتب ہو چکی ہیں۔ کئی اہم ادبی جرائد منٹو نمبر میں ان کی شاہکار تحریروں پہ تبصرے شائع کر چکے ہیں مگر یہ افسانہ ان کی اہم تو کیا غیر اہم افسانوں میں بھی شامل نظر نہیں آیا کہ کچھ دیر کے لیے شک گزرا کہ یہ واقعی منٹو کی تحریر ہے بھی یا نہیں۔

مگر مزید کچھ ”سرچنگ“ کے بعد یہ تصدیق تو ہو گئی کہ یہ افسانہ منٹو ہی کی تحریر ہے۔ یہاں میں اپنے سوال کے جواب میں دو محترم ادیبوں کا تبصرہ بھی شامل کرنا چاہوں گی گو کہ میرے لیے سب ادیب اور قارئین کی رائے بہت قیمتی اور محترم ہے مگر ان کی بات کا میری بات سے گہرا ربط بن گیا۔ محترمہ فارحہ ارشد کہتی ہیں:
”منٹو کے افسانے میرے تو استاد ہیں میں نے ان سے کردار کی نفسیات کی گرہیں کھولنے کا ہنر سیکھا۔ ان کے افسانوں سے بے جھجک اپنی بات قاری کے سامنے رکھ دینے کا سٹائل سیکھا۔ ان سے سیکھا کہ قاری کی نفسیات اور سماجیات سے کئی سال آگے کی بات کیسے کرنی ہے کیونکہ آج تو وہ مروج روایات کی وجہ سے بات نہیں سننا چاہتا مگر تخلیق کسی مخصوص وقت تک اور خاص عہد تک محدود نہیں ہوتی، اسے تو کئی آنے والے دور دیکھنے ہیں۔“

اسی حوالے سے محترمہ فرحین خالد کہتی ہیں:
” منٹو جنس پہ لکھتے ہیں تو معاشرے کے ان تاریک پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں جن پہ ہم بات کرنے سے گھبراتے ہیں مگر ہمیں پتا ہے کہ معاشرے میں یہ سب ہو رہا ہے۔ بلکہ ہمارے معاشرے میں وہ سب ہو رہا ہے جس کے لیے ہم مغرب کو برا کہتے ہیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ ان کی تحاریر آج بھی اتنی ہی سچی ہیں جتنی ان کے زمانے میں تھیں۔ حقیقت کو افسانے میں چھپا دینا اور وہ بھی اتنی سادگی سے میں نے ان کے افسانے پڑھ کے سمجھا ہے۔“

منٹو کے باقی افسانوں اور اس افسانے میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ ان کی باقی مشہورِ زمانہ تحاریر انہیں ایک بہترین حقیقت نگار کے طور پہ پیش کرتی ہیں اور ان تحاریر سے پتا چلتا ہے کہ منٹو کا زمانے کی تلخ سچائی کے متعلق مشاہدہ کتنا گہرا ہے لیکن اس افسانے کو پڑھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ بات صرف گہرے مشاہدے تک محدود نہیں یہ تحریر ثابت کرتی ہے کہ منٹو کے نظریات اس وقت بھی اپنے وقت سے کم از کم ایک صدی آگے تھے۔ وہ صرف مسائل کا مشاہدہ نہیں کرتے تھے بلکہ انہیں علت و معلول کے مکمل تعلق کے ساتھ سمجھتے تھے اور ان کا معاشرتی و معاشی سائنس کے اصول پہ حل چاہتے تھے۔

اس موضوع کی وسعت کا اندازہ لگانے کے لیے جرم و سزا اور اس کی معاشرتی جڑوں کی گہرائی کے حوالے کچھ پس منظر پہ بات کرتے ہیں 1890 کی دہائی میں ایمائیل ڈرخائم نے معاشرے کے مسائل سمجھنے کے لیے انومی تھیوری پیش کی۔ یہ ان چند ابتدائی اور اہم تھیوریز میں سے ایک ہے جس نے معاشرے کو ایک سسٹمیٹک اور سائنسی طریقے سے سمجھنے کی بنیاد رکھی تھی۔ اس سے پہلے معاشروں کو سائنسی طریقہ کار پہ سمجھنے کا رجحان نہیں تھا۔ معاشرتی اخلاقیات اور سزائیں بنیادی طور پہ مذہبی دائرہء کار کو استعمال کرکے وضع کی جاتی تھیں۔ اینومی تھیوری کے مطابق معاشروں میں انتشار تب پھیلتا ہے جب بطور معاشرہ لوگوں کے لیے مقصدیت ختم ہوجائے۔ ایسے میں معاشرے بے قاعدگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اسی خیال کو آگے بڑھاتے ہوئے مارٹن نے مزید یہ خیال پیش کیا کہ اگر معاشروں کی ساخت کے ساتھ فردِ واحد کے مسائل حل نہ کیے جائیں یا وہ خود اس کو حل نہ کر پائے تو یہ انتشار معاشرتی سطح پہ گڑبڑ پیدا کردے گا۔ یہ تھیوری جرائم کی وجوہات سمجھنے کے لیے اہم بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ اور اسی کو جب ہم کارل مارکس کے طبقاتی فرق کے خیال سے ملا کر دیکھتے ہیں تو سمجھنا کہیں آسان ہو جاتا ہے۔ وہ جرائم جنہیں عام طور پہ جرم سمجھا جاتا ہے وہ اسی انتشار کا نتیجہ ہوتے ہیں لیکن بنیادی طور پہ یہ انتشار پھیلتا ان جرائم کی وجہ سے ہے جنہیں بڑے پیمانے پر جرم سمجھا ہی نہیں جاتا۔ یعنی وائٹ کالر کرائم جو ممالک کی اکانومی کو تہس نہس کرسکتا ہے۔ جرائم کی اس بنیادی پس منظر کو نظر میں رکھتے ہوئے اب ہم افسانے کے متن پہ آتے ہیں۔

افسانے کے دو اہم کردار ایک صدیق رضوی جو کہانی در کہانی، ویسے تو اپنی روداد سنا رہا ہے لیکن اس تمام روداد میں پھگو بھنگی حاوی رہا۔ برصغیر پاک و ہند سمیت کئی مہذب معاشروں میں سب سے ذلیل طبقے سے تعلق رکھنے والا عادی چور، جس پہ اعتبار نہ کرنے کی سب سے مدلل وجہ یہ کافی سمجھی جاتی ہے کہ وہ بھنگی ہے۔

ایک طرف صدیق رضوی قتل کا وعدہ معاف گواہ بن کے ایک سال کی قید کاٹ کے آیا ہے تو وہیں پھگو بھنگی ساڑھے تین آنے چرانے پہ بھی ایک سال قید با مشقت کاٹ کے نکلا کیوں کہ سرکار کی نظر میں وہ ”عادی“ مجرم تھا، وجہ صرف اتنی کہ اس نے عدالت میں ایمانداری سے مان لیا کہ کب کب بھوک سے مجبور ہو کر اس نے کیا کچھ چرایا۔

کہانی شروع ہوئی ایک چائے خانے کے منظر سے جہاں منٹو سمیت کئی ادیب و دانشور اس بحث میں الجھے ہیں کہ جیل معاشروں کو سدھارتی ہے یا نہیں اور جہاں ایک صدیق رضوی جیسا سزا یافتہ مجرم اس بحث کو گھسا پٹا لطیفہ قرار دے کے دو کپ کریم والی کافی پی کے چلتا بنا مگر اس دوران جو کچھ جتا گیا وہ کافی سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک جگہ رضوی کہتا ہے:
”میں نہیں جانتا قانون کی نگاہوں میں ایمانداری کیا ہے مگر میں اتنا جانتا ہوں کہ میں نے بہت ایمانداری سے قتل کیا تھا۔ اور میرا خیال ہے کہ پھگو بھنگی نے بڑی ایمانداری سے ساڑھے تین آنے چرائے تھے۔ میری سمجھ نہیں آتا کہ لوگ ایمانداری کو صرف اچھی باتوں سے کیوں منسوب کرتے ہیں؟ اور سچ پوچھیے تو میں اب سوچنے لگا ہوں کہ اچھائی اور برائی ہے کیا؟ ایک چیز آپ کے لیے اچھی ہوسکتی ہے میرے لیے بری۔ جو ایک سوسائٹی میں اچھی سمجھی جاتی ہے دوسری میں بری۔ ہمارے مسلمانوں میں بغلوں کے بال بڑھانا گناہ ہے لیکن سکھ اس سے بے نیاز ہیں۔“

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات ہیں۔ ان کا تعلق سندھ کے شہر سکھر سے ہے۔ نفسیاتی اور معاشرتی مسائل پہ آرٹیکلز اور کہانیاں لکھتی ہیں۔ ”ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر“ کی کمیٹی اورگنائزر ہیں۔ سوشل میڈیا پہ سائنس کی اردو میں ترویج کے سب سے بڑے پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سےبھی منسلک ہیں۔

absar-fatima has 33 posts and counting.See all posts by absar-fatima