اردو کو تدریسی زبان کیسے بنایا جا سکتا ہے؟


\"aasim\"سال 6 ستمبر 2015 کی ایک خبر نظر سے گزری جس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تمام سرکاری و نجی جامعات کو یہ حکم جاری کیا تھا کہ اُسی ماہ کی پندرہ تاریخ یعنی 15 ستمبر 2015 تک اردو کو بطور دفتری زبان رائج کیا جائے۔ اس سے قطع نظر کہ اس حکم پر کس حد تک عمل درآمد ہوا ہمارا اس وقت بھی یہی کہنا تھا اردو کے نفاذ کے بارے میں حکومتی احکامات کی حیثیت علامتی نوعیت کے علاوہ کچھ نہیں اور اگرچہ حکومت کے لئے تو اردو کے ’نفاذ‘ کے احکامات جاری ہو گئے لیکن سماج میں اس کے نفاذ کے لئے کبھی کوئی عدالت نہیں بیٹھے گی۔ اردو کے نفاذ کا سوال ہو یا اس کے فروغ کا ہمارے ہاں اس مسئلے کی تمام جہتوں کو کافی حد تک ترجمے کی پیچیدگیوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ایک زمانے میں جس طرح’’ اردو میڈیم‘‘ کی اصطلاح کو قدرے تحقیری معنوں میں استعمال کیا جاتا تھا آج اسی طرح اردو اصطلاحات کی طنز و تضحیک سے یہ باور کرانےکی کوشش کی جاتی ہے کہ شاید یہ مسئلہ محض سائنسی و علمی اصطلاحات تک ہی محدود ہے اور ان اصطلاحات کے ثقیل تراجم سے ایک ایسی جناتی زبان وجود میں آ جائے گی جو ہر ایک کے فہم سے بالاتر ہو گی۔ ہماری رائے میں یہ مسئلہ اس حد تک سادہ بھی نہیں۔

پچھلے سال کمرہ جماعت میں ایک مختصر سے تجربے کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ طلباء کو مسلسل تحریک دی جانی چاہیے کہ وہ اردو میں انجینئرنگ اور سائنسی مضامین کو ذرا ہلکا پھلکا سا چکھ کر تو دیکھیں۔ کیا خبر ہم Mass کو کمیت، velocity  کو سمتی رفتار، scalar  کو مقداری یا مقداریہ اور vector کو سمتیہ کہنے پر آمادہ ہو جائیں اور تکرار سے ہماری زبانوں اور ذہنوں میں اس طرح مطابقت پیدا ہو جائے کہ جب چاہیں دونوں زبانوں میں سے کوئی بھی استعمال کر لیں۔ ایک سست رفتار لیکن مسلسل لسانی و نفسیاتی تجربہ ہی سہی۔ پہلے بھی مختلف تعلیمی اداروں میں کئی دفعہ یہ بات چھیڑی لیکن ردعمل یا تو کافی شدید اختلاف کا ہوتا ہے یا بالکل عدم دلچسپی کا۔ کچھ دوست تو صرف سر جھٹک کر ہنس دیتے ہیں کہ چھوڑیں صاحب کیا بات کر رہے ہیں۔ راقم کی رائے میں یہ صرف ہمارے ان دوستوں کی جھجک ہے اور کچھ نہیں۔ اپنے اندر ایک دیوار ہے جسے عبور کرنا مشکل لگتا ہے۔ یہ ایک ایسی عجیب و غریب دیوار ہے جو دور سے اونچی لگتی ہے لیکن جوں جوں قریب ہوتے جائیں اس کی بلندی کم ہوتی جاتی ہے۔

جہاں تک پرائمری اور سیکنڈری جماعتوں کا تعلق ہے تو کافی عرصے سے سوچی سمجھی رائے یہی ہے جس کا ذکر بچوں کو ریاضی پڑھانے والے اساتذہ کو دئیے گئے ایک سیمینار میں بھی کیا کہ اگر ہم بطور اساتذہ اپنی اردو اس حد تک بہتر کر لیں کہ ایک اندازے اور احساس کی حد تک لفظوں کے اشتقاقی پس منظر سے واقف ہوں اور پھر کلاس میں انگریزی اور اردو دونوں کا استعمال اس طرح کریں کہ اصطلاحات اور ان سے جڑے مباحث دونوں زبانوں میں پیش کئے جائیں تو ہماری نئی نسل کی سائنسی و تکنیکی تفہیم کی استعداد میں سرعت کے ساتھ نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ میں باضابطہ ادب و فلسفہ ، معاشیات یا مینجمنٹ سائنسز نہیں پڑھا اور ظاہر ہے نہ ہی پڑھاتا ہوں لہٰذا اس سلسلے میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں کہ وہاں کیا نتائج حاصل ہو سکتے ہیں لیکن گمان ہے کہ وہاں پر نتائج سائنس سے بھی زیادہ مثبت ہوں گے۔ اس گمان کی وجہ ترجمے کے دوران اپنے مطالعے اور ترجمے کے بغیر عمومی مطالعے میں تقابل ہے۔ دوسری زبان میں ادب کے بارے میں سوچنے، بحث کرنے اور غور کرنے سے ذہن کے کئی بند دریچے کھلتے ہیں۔

سائنسی تعلیم مادی ترقی اور معیشت سے جڑی ہے اور جب تک اس دائرے میں اردو کی اہمیت کو ثابت نہیں کیا جاتا یہ محض ایک اضافی سی چیز ہی رہے گی جس کو سیکھنا نہ سیکھنا محض ذوق و شوق یا زبان سے محبت جیسے غیرمرئی عوامل پر منحصر ہو گا۔ ہمارے کچھ ’ترقی پسند‘ دوست ہمیشہ یہ سوال اٹھاتے رہیں گے کہ کیا ’فائدہ‘ کیوں کہ ان کے ذہن میں فائدہ بہرحال مادی فائدہ ہے۔ دوسری طرف نظریاتی سرحد کے دوسری جانب موجود دوست لارڈ میکالے پر تبرا پڑھنے میں تو آج تک آگے آگے ہیں لیکن برٹش کونسل کی پاکستانی تعلیمی نظام پر وہ حالیہ رپورٹ نہ جانے ان کی نظر سے گزری ہے یا نہیں جس میں یہ مدلل تجاویز دی گئی ہیں کہ ابتدائی جماعتوں میں بچوں اپنی ماں بولی میں ہی تعلیم دی جائے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں یہ یاد رکھا جائے کہ ان کے اذہان کبھی بھی اعلیٰ تعلیم کے پیچیدہ تصورات کو ایک غیرملکی زبان میں اس طرح اپنے اندر نہیں اتار سکیں جس طرح وہ ان کی اپنی زبان ہو۔ ہماری رائے میں یہ مسئلہ اب محض تنقید سے حل ہونے والا نہیں اور اس کے لئے نفسِ مسئلہ کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد انفرادی و اجتماعی سطرح پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

 مثال کے طور پر اوپر دی گئی مثالوں میں ’سکیلر‘ اور ’ویکٹر‘ کے اردو متبادل الفاظ (یعنی مقداریہ اور سمتیہ) کو دیکھیں کہ مضمون کے تکنیکی پہلوؤں سے بالکل ناواقف شخص یا طالبعلم بھی دیکھتے ہی یہ بتا سکتا ہے کہ اول الذکر کا تعلق ’مقدار‘ سے ہے اور آخرالذکر میں ’سمت‘ کو اہمیت حاصل ہے۔ اس کے برعکس محض لفظ ’سکیلر‘ کو دیکھ کر یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ لاطینی لفظ ’سکیلارس‘ سے نکلا ہے جو ایک اور لاطینی لفظ ’سکیلا‘ کی صفت ہے جس کے معنی سیڑھی کے ہیں۔ کسی حد تک گمان کیا جا سکتا ہے کہ اس کا انگریزی لفظ ’سکیل‘ سے بھی تعلق ہے جو کہ درست ہے کیوں کہ دونوں کا لاطینی مادہ ایک ہی ہے۔ لیکن لفظ ’ویکٹر‘ کو دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں کر سکتا کہ اس لاطینی لفظ کے معنی ’کچھ اٹھا کر ایک جانب چلنے والے‘ کے ہیں یعنی یہ مقدار بھی رکھتا ہے اور سمت بھی۔

وطن عزیز میں واقعہ یہ ہے کہ کلاس میں ہمیں انجینئرنگ کے طالبعلم کو بھی کم از کم ان بنیادی تعریفوں کی یاد دہانی کروانی پڑتی ہے جو وہ ساتویں، آٹھویں جماعت سے پڑھتے آ رہے ہوتے ہیں۔ ہر بار کم و بیش دس سے پندرہ فی صد طلباء یہ بنیادی ترین تعریفیں بھی یکسر فراموش کر چکے ہوتے ہیں یا ان کے ذہن میں یہ حددرجہ دھندلا چکی ہوتی ہیں۔ ابتدائی درجے کا ہی سہی، مگر اس سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ان دس پندرہ فی صد طلباء کا مسئلہ کہیں نہ کہیں زبان سے جڑتا ہے کیوں کہ بہرحال یاداشت اور زبان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

بآسانی دیکھا جا سکتا ہے کہ اردو کے معقول استعمال اور اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ملی جلی تدریس سے بنیادی تعریفات طلباء کے ذہن میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اتارنے کا مسئلہ کسی نہ کسی حد تک حل ہو سکتا ہے کیوں کہ لفظ اپنے ساتھ جڑی تصویر ذہن میں اتارنے کی قوت لے کر ہی پیدا ہوتا ہے۔ آپ کی تہذیب و ثقافت سے جڑے لفظ میں یہ قوت کسی اجنبی تہذیب سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ایک عجیب و غریب حرفیت زدہ شدت پسندی سے دوسری کسی بھی زبان سے بغض رکھا جائے۔ ہر زبان اپنے ساتھ ایک امکانات کی دنیا رکھتی ہے، ایک جہانِ تصویر ہے جو دوسری زبان سے بعینہٖ اسی طرح منتقل ہونا ناممکن ہے۔ انگریزی کا کوئی بھی سادہ یا پیچیدہ تکنیکی لفظ یا اصطلاح اٹھا لیجئے اور ذرا سی اشتقاقی تحقیق کر دیکھئے تو قدیم یونانی یا لاطینی تک جا پہنچیں گے۔ لیکن ضروری نہیں کہ لفظ کا استعمال اسی قدیم اصل تک محدود ہو۔ عصری طبیعات میں ایٹم کا لفظ ذہن میں وہ تصویر نہیں بنا سکتا جو قدیم یونانی کے ذہن میں بنتی تھی۔ لفظ phenomenon کا استعمال کانٹ کی وجہ سے جدید فلسفے میں متعارف ہوا لیکن سائنس میں اس کے معنی فلسفے تک محدود نہ رہے۔ کم و بیش یہی حالت پوری سائنسی اور فلسفیانہ لغت کی ہے۔

لہٰذا اگر کوئی ایٹم کو ’جوہر‘ کہنے پر مصر ہے اور تھیوری کو ’نظریہ‘ کہنا چاہتا ہے تو بہت اچھی بات ہے لیکن جو تصویر وہ اپنے مخاطب کے ذہن میں بنانے کا خواہش مند ہے، اس پر لازم ہے کہ ایک تو وہ اسے مکمل سے مکمل تر بنائے اور ساتھ ہی اس حد تک مبہم نہ بنا دے کہ ’گیم تھیوری‘ (Game Theory) کے معنی ’حکمت چال‘ ٹھہریں اور فزکس کی مشہور Wave Theory کو ’نظریہ تموج نور‘ کہا جائے جیسا کہ قومی اردو لغت میں لکھا گیا ہے۔ لغت میں مزید درج ہے کہ ’یہ نظریہ کہ روشنی کی ترسیل برقناطیسی امواج کی طرح ہوتی ہے نظریہ تموج نور کہلاتا ہے‘۔ ہماری رائے میں اس قسم کی مبہم تصاویر بنانے پر اصرار کا واحد نتیجہ ان طبقات کی طرف سے ردعمل ہو گا جنہیں کسی بھی وجہ سے اردو سے امیدیں نہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ یہ تصاویر ترسیل معنی میں کسی کمی کے باعث نہیں بلکہ بنیادی طور پر اس لئے مبہم ہیں کہ سماج میں اردو زبان پہلے ہی ارزل ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔

زبانیں تہذیبوں کو سینچتی ہیں اور انہیں آنے والے زمانوں سے بامعنی مکالمے کے لئے تیار کرتی ہیں۔ اگر ہم واقعی اس معاملے میں سنجیدہ ہیں تو جان لینا چاہئے کہ یہ ہماری تہذیب کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ بلکہ یوں کہئے کہ تہذیب کی پیدائش کا معاملہ ہے جو ابھی صرف ایک خوبصورت خواب ہے۔ ایک حقیقت میں آنے کے لئے مچلتا خواب۔ مستقبل بعید میں اس منزل تک پہنچنے کا صرف اور صرف ایک طریقہ ہے اور وہ ہے اردو کی تعلیم و اشاعت کو سرمایہ دارانہ معاشی مفادات کے ساتھ اس مضبوطی جوڑ دینا کہ اسے الگ کرنا ناممکن ہو جائے۔ ہم پہلے ہی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ضمن میں یہ دیکھ چکے ہیں کہ معاشی مفادات کے باعث مختلف سافٹ وئیر سیکھنے کے لئے اردو زبان میں کتابیں وافر مقدار میں مارکیٹ میں موجود ہیں۔ لیکن چونکہ دوسرے سائنسی و غیر سائنسی مضامین کے ساتھ تاحال ایسے مفادات وابستہ نہیں لہٰذا مستقبل قریب میں ایسا ہونے کے امکانات معدوم ہیں۔ جہاں تک اردو زبان کو دفاتر میں رائج کرنے کا سوال ہے تو نہ جانے اس سے کون سے تہذیبی و ثقافتی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں جن پر ہماری آنے والی نسلیں فخر کر سکیں۔

ہمیں اپنی کم علمی کا اعتراف ہے لیکن  گمان یہی ہے کہ اس سلسلے میں حکومت کا انتظار کئے بغیر انفرادی طور پر فوراً کرنے والا کام صرف اور صرف یہ ممکن بنا کر دکھانا ہے کہ ہم ہر وہ بات اردو میں کہہ سکتے ہیں، ہر وہ مسئلہ اردو میں تحریر کر سکتے ہیں، ہر وہ ذہنی خاکہ اردو میں کھینچ سکتے ہیں جو تاحال انگریزی کے بغیر ناممکن تصور کیا جاتا ہے۔حکومت کیا کوئی بھی اردو کو سماج میں نافذ نہیں کر سکتا اگر ہم نہ کرنا چاہیں۔

Facebook Comments HS

عاصم بخشی

عاصم بخشی انجینئرنگ کی تعلیم و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ادبی تراجم اور کتب بینی ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔

aasembakhshi has 80 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

2 thoughts on “اردو کو تدریسی زبان کیسے بنایا جا سکتا ہے؟

  • 12/09/2016 at 5:22 شام
    Permalink

    بالکل صحیح ! اردو کو رائج کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس میں لکھا اور پڑھا جائے- اردو مطالعہ بڑھے گا، کتابوں کی مانگ بڑھے گی تو معاشی عوامل اردو کی حق میں سازگار ہوتے جائیں گے-

  • 15/09/2016 at 1:23 شام
    Permalink

    بہترین تحریر

Comments are closed.