دیر کیا ہے آنے والے موسمو!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خالی جگہ پر کریں۔ ”مجھے بہت خوشی ہو گی جب۔ “

” میری زندگی بہتر ہو جائے گی اگر۔ “

اس قسم کی سوچ آپ کی بھی کسی نا کسی مقام پر رہی ہو گی۔ کسی ”خاص“ وقت یا موقع کا انتظار رہا ہوگا۔

میرا بھی کچھ ایسا ہی حال رہا ہے۔ ایک عرصہ تک یہ احساس رہا کہ زندگی اس طرح نہیں گزاری جس طرح گزارنے کی خواہش تھی۔ لگتا تھا ابھی تک جینا شروع ہی نہیں کیا۔ ایک انتظار کی سی کیفیت ذہن پر سوار رہی۔ وہ زندگی جس میں سکون و اطمینان ہو اپنی مرضی ہو، وہ کب آئے گی؟ تمام وقت نت نئے چیلنجیز کا سامنا رہتا ہے۔ شادی سے پہلے پڑھائی، ڈگری، کریئر، پھر شادی، بچے اور پھر پردیس{ ناروے }۔ اور یہاں آکر دوبارہ صفر سے زندگی کا آغاز۔ نئی زبان، جوب، بچوں کی تعلیم، گھر، قرضہ، گاڑی اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ۔ میں تو یہی سوچتی رہی کہ ذرا یہ مسلئے حل ہو جایں تو جینا شروع کریں گے۔ اور پھر انتظار کرنا شروع کردیا اس وقت کا جب وقت ہمارے ہاتھ میں ہوگا۔

ہم اس گمان میں رہتے ہیں کہ اور خود کو باور بھی کرا دیتے ہیں کہ زندگی آگے جا کر بہت حسین ہو جائے گی۔ بس ذرا تعلیم سے فارغ ہو جایں، یا بس شادی ہو جائے۔ اچھا بچے ہو جایں اور جب بچے ہو جایں تو یہ ذرا بڑے ہوجایں اسکول جانے لگیں پھر فرصت ہو گی اور زندگی کا لطف اٹھایں گے۔

بچے بڑے ہوئے تو ان کے مسائل بھی پڑے ہوگئے۔ ٹین ایج اور بھی بڑے چیلنج ساتھ لائی۔ سن بلوغت میں داخل ہوئے تو ہارمونز کا اتار چڑھاؤ۔ موڈ سوینگز اور بات بے بات الجھنا۔ کسی کا پہلا کرش، کسی کا پہلی بار دل ٹوٹنا۔ اچھ چلو یہ دور بھی گزر ہی جائے گا بڑے ہو جایں گے۔ اور بس ذرا گھر کی ساری قسطیں ادا ہو جایں۔ گاڑی بھی نئی لے لیں پھربے فکری ہو جائے گی۔ بچوں کے امتحان ہو جایں اچھا نتیجہ بھی نکل آئے۔ پھر چھٹیوں میں مزا کریں گے۔

چھٹیاں ہویں تو گھر کی کئی خرابیاں نظر آنے لگیں۔ پردے بدل لیں۔ دیواروں پر بچوں نے پنسل سے لکیریں کھینچ دی ہیں ایک کوٹ رنگ کا کر لیں۔ الماریاں بہت بے ترتیب ہیں۔ اسٹور میں کاٹھ کباڑ جمع ہو گیا اس کی صفائی ہی کر لیں۔ کہیں گھومنے پھرنے کا پروگرام بنا بھی تو ٹینشن میں وقت گزرا۔ سامان باندھو پھر کھولو۔ کچھ رہ نہ جائے کچھ بھول نہ جایں۔ تفریح کہاں ہو پائی۔ چھٹیاں ختم اور پھر وہی روز کے معمولات۔

بچوں کی تعلیم کے ختم ہونا کا انتظار ختم ہوا۔ تو پھر یہ فکر کہ اب یہ اپنے پیروں پہ کھڑے ہو جایں۔ شادی ہو جائے ان کے گھر بس جایں پھر اپنا بھی سوچیں گے۔ خوب سیاحت کریں گے۔ جب جب دل چاہے گا نکل کھڑے ہوں گے۔ پھر فرصت ہو گی اور ہم ہوں گے۔ وقت کی لگامیں ہاتھ میں ہوں گی اور بے فکری جیب میں۔

لیکن ایسا کب ہوتا؟ زندگی کے ساتھ نت نئے بکھیڑے لگے ہی رہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم خوش ہونے کے لئے کسی خاص وقت کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اور اس وقت کا لطف اٹھانا بھول جاتے ہیں جس میں ہم ہیں۔ وہ خاص وقت جس کا ہمیں انتظار رہتا ہے وہ کبھی نہیں آتا۔ لمحے وہی قیمتی ہیں جن میں ہم ہیں اور جو گزرتے جا رہے ہیں۔ دیواروں پر لکیریں اور بے ترتیب الماریاں بھی زندگی کا حصہ ہیں۔

زندگی مسلسل جد و جہد ہے۔ ہر آنے والا دن ساتھ نئے چیلنج لئے چلا آتا ہے۔ اور ہم ہیں کہ اس انتظار میں ہیں کہ ایک دن آئے گا جب سب مسلئے حل ہو چکے ہوں گے۔ ہم بے فکری سے بیٹھے ہوں گے۔ آخر وہ وقت کب آئے گا؟ اور ہمیں کس وقت کا انتظار ہے؟ اور کیوں؟

ایک لمبے عرصہ تک ایسا لگتا رہا جیسے کہ میں کسی سفر ہوں منزل ابھی نہیں آئی اور حیرت اس بات کی تھی کہ مجھے یہ بھی علم نہ تھا کہ مجھے جانا کہاں ہے۔ پھر بھی یہ احساس کہ جب میں ”وہاں“ پہنچ جاونگی تو میں آرام سے زندگی کو گذارنا شروع کرونگی۔ مجھے اور کتنا چلنا ہے جب میں ”اس جگہ“ پہنچ جاوں؟ اور میری اصلی زندگی شروع ہو۔ اور مجھے کیسے پتہ کہ وہ جگہ آ گئی ہے؟ جہاں پہنچ کر مجھے خوشی کا احساس ہوگا۔

خاصی دیر میں یہ بات پتہ چلی کہ خوشی کا کوئی راستہ نہیں۔ راستہ ہی خوشی ہے۔ ہر لمحہ آپ کا ہے۔ چھوٹا ہو یا بڑا۔ اسے اپنایئے، منایئے اور لطف اٹھایئے۔ زندگی سفر بھی ہے اور منزل بھی۔ اس کے ہر پڑاو، ہر موڑ ہر اونچ نیچ سے گزرنا ہے اور ہر لمحے کو جینا ہے۔

میرا کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اہداف نہ بنایں، اس طرف قدم نہ اٹھایں، محنت نہ کریں اور بس بیٹھے خوش ہوتے رہیں۔ نہیں۔ میرا ہرگز یہ مطلب نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کسی ہدف کے حصول کی کوشش بھی ایک خوشی ہے۔ خوشی کو ملتوی نہ کریں۔ خوش ہونے کے لئے ہدف کا حاصل ہونا ہی ضروری نہیں۔ اس کی کوشش کے عمل سے بھی لطف اٹھایں۔

وقت ٹھہرتا نہیں، وہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ اس لئے اچھا تو یہ ہے کہ ہم زندگی کے گزرتے ہوئے لمحات سے لطف اندوز ہوں۔ کسی آنے والے وقت کے انتظار میں خوشی کو ملتوی نہ کریں۔ ذرا یہ ہو جائے ذرا وہ ہو جائے۔ پڑھائی ختم ہو جائے۔ یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے۔ وزن پانچ کلو کم ہو جائے یا بڑھ جائے۔ جوب مل جائے یا ریٹایئرمنٹ ہو جائے۔ یہ سب ہوتا رہے گا۔ زندگی کو اپنا لیں اس وقت اس لمحے میں جیں۔

ہم نے رکھا کئی طرح خود کو

فرصتِ انتظار میں مصروف

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •