سراب کا مستقبل تخلیق۔ سگمنڈ فرائڈ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(تلخیص و ترجمہ ڈاکٹر خالد سہیل)

نواں باب

گفتگو کے اس مرحلے پر کوئی معترض کہہ سکتا ہے۔

”آپ کی باتیں مجموعہِ تضادات ہیں۔ ایک طر ف توآپ کہتے ہیں کہ آپ کی تحریر بے ضرر ہے اور آپ کے دلائل سے کوئی اپنا ایمان نہ چھوڑے گا۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی واضح ہے کہ آپ کی تحریر لوگوں کے دلوں میں اپنے عقائد کے بارے میں شکوک کھڑے کر رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آخر ایسی تحریر کو چھپوانے کا مقصد کیا ہے؟

آپ نے اس بات کا بھی اقرار کیا ہے کہ بعض لوگوں کے لئے یہ تصور کہ لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور وہ سب زنجیروں اور پابندیوں کو توڑ کر شتر بے مہار کی طرح زندگی شروع کر سکتے ہیں۔ آپ کے یہ کہنے سے کہ اخلاقیات اور قوانین کی عمارت کو مذہبی عقائد پر استوار کرنا تہذیب کے لیے مضر ہے، عین ممکن ہے کہ لوگ مذہب کو بالکل ہی چھوڑ دیں۔

آپ کی گفتگو میں ایک اور تضاد بھی ہے۔ ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ انسانی زندگی عقل کی نسبت جذبات اور جبلتوں کی مرہونِ منت ہے تو دوسری طرف آپ یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ انسانوں کو اپنی زندگیوں کے فیصلے جذبات کی بجائے عقل و شعور کے حوالے سے کرنے چاہییں۔

آپ کی گفتگو سے یہ بھی واضح ہو تاہے کہ آپ نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ اس سے پہلے بھی کئی معاشروں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم زندگی کے مسائل کا حل تلاش کرنے میں مذہب کی بجائے عقل اور منطق کو استعمال کریں گے، لیکن وہ سب تجربات ناکام ثابت ہوئے۔ انقلابِ فرانس اس کی عمدہ مثال ہے۔ وہی تجربہ روس میں دہرایا جارہا ہے اور ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ ان تجربوں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ انسان مذہب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔

آپ نے مذہب کو انسانیت کا ایک نفسیاتی مسئلہ قرار دیا ہے اور آپ انسانیت کو اس سے نجات دلانا چاہتے ہیں لیکن مذہب سے نجات حاصل کرنے کے عمل میں انسان کتنی قیمتی چیزوں سے محروم ہوجائے گا، اس کی طرف آپ نے کوئی توجہ نہیں دی۔ ”

میں ان اعتراضات کے جواب میں یہ کہوں گا کہ میری گفتگومیں بظاہر تضادات شاید اس لئے نظر آرہے ہیں کیونکہ میں نے اپنا مافی الضمیر بڑے اختصار سے پیش کیا ہے۔ اگر میں اپنے خیالات تفصیل سے لکھتا تو شاید میرا موقف واضح ہو جاتا۔ میں اب بھی اصرار کرتا ہوں کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ ایک حوالے سے بے ضرر ہے۔ کوئی بھی ایمان رکھنے والا میرے دلائل کو سن کر اپنا ایمان نہ بدلے گا۔ ایمان رکھنے والا اپنے عقائد سے عقل کی بجائے جذبات سے جڑا ہوتا ہے۔

لیکن ہمارے ارد گرد بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو مذہبی عقائد کو دل سے تو نہیں مانتے، لیکن ان پر اس خوف سے عمل کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے انکار کیا تو ان کی زندگیوں کو مشکل بنا دیا جائے گا۔ انہوں نے ان مذہبی روایات کو زندگی کی دیگر تلخ حقیقتوں کی طرح قبول کر رکھا ہے۔ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ ان عقائد کو پیچھے چھوڑ دیں۔ ایسے لوگ جب یہ دیکھیں گے کہ باقی لوگ مذہب سے خوف زدہ نہیں ہیں تو ان کے دلوں سے بھی مذہب کا خوف ختم ہوجائے گا۔ میری گفتگو کا مخاطب ایسے لوگ ہی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں اس قسم کی تبدیلی آہستہ آہستہ آتی رہے گی، چاہے میری تحریریں چھپیں یا نہ چھپیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان عقل اور شعور کی بجائے جذبات اور جبلتوں کے غلام ہیں تو انہیں اس جذباتی تسکین سے کیوں محروم کریں۔ میرا جواب یہ ہے کہ اگر ”ایسا ہے“ تو کیا ”ایسا ہونا چایئے۔ “ کیا یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے یا صدیوں کی تربیت کا ماحصل؟

اگر ہمیں ماہرین بشریات بتائیں کہ ایک قوم میں بچوں کے سروں پر پیدا ہوتے ہیں لوہے کی ٹوپیاں پہنا دی جاتی ہیں تاکہ ان کے سر نہ بڑھ سکیں اور وہ کند ذہن رہ جائیں، تو کیا ہم ایسے انسانوں کے جاہل اور کند ذہن ہونے کو انسانی فطرت کا حصہ سمجھیں گے۔ میرے خیال میں انسانوں کا عقل اور شعور کو قبول نہ کرنے کا عمل اس مذہبی تربیت کا حصہ ہے جو انسانوں کو بچپن سے دی جاتی ہے۔ ہم بچوں کو اس چھوٹی سی عمر میں خدا، مذہب اور حیات بعد الموت کے بارے میں تصورات سکھاتے ہیں، جب ان کی عقل انہیں سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے اور وہ انہیں بنا سوچے سمجھے قبول کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

میری نگاہ میں ہم اپنے بچوں کے ساتھ دو طرح کی نا انصافیاں کرتے ہیں۔ ہم انہیں انسانی زندگی کے جنسی پہلو کی صحیح تعلیم سے محروم رکھتے ہیں۔ ہم انہیں مذہب کی غیر ضروری تعلیم دیتے رہتے ہیں۔ ایسی تربیت سے بچوں کا ذہن اور شخصیت اس حد تک متاثر ہوتے ہیں کہ جوانی کے بعد بھی ان میں سے بہت سے اس تعلیم و تربیت کے مضر اثرات سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ وہ ہمیشہ جہنم کی آگ سے ہی ڈرتے رہتے ہیں اور عقل اور شعور استعمال نہیں کرتے۔

اگر ہم اپنی عقل اور فہم و فراست کا پورا استعمال نہ کریں گے تو ہم کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ انسان اپنی بلوغت تک پہنچیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں پر بچپن سے مردوں سے زیادہ جنسی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور انہیں جوانی میں ان پابندیوں کے مضر اثرات سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور اگر کسی انسان کو بچپن میں جنسی ہی نہیں مذہبی پابندیوں کے مضر اثرات سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور اگر کسی انسان کا بچپن جنسی ہی نہیں مذہبی پابندیوں سے بھی داغدار ہو تو اس کے ایک صحتمند زندگی گزارنے کے امکانات اور بھی کم ہوجاتے ہیں۔

عین ممکن ہے کہ میں بھی ایک سراب کا پیچھا کر رہا ہوں۔

عین ممکن ہے کہ مذہبی پابندیاں اتنی نقصان دہ نہ ہوں جتنا کہ میں سمجھ رہا ہوں۔

عین ممکن ہے کہ مذہبی پابندیوں کی غیر موجودگی میں بھی انسان زیادہ عاقل، بالغ اور صحتمند نہ ہوں۔

لیکن میرا خیال ہے کہ ہمیں ایک بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے چاہییں اور انہیں شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ ایسا مستقبل جس میں انسانی بچوں کو مذہب کی غیر ضروری تعلیم نہ دی جائے گی اور وہ اپنی عقل کا پورا پورا استعمال کر سکیں گے۔ اگر ایسا کرنے کے بعد بھی انسانوں نے بہتر زندگی نہ گزاری تو میں مان لوں گا کہ انسان فطری طور پر کمزور عقل رکھتا ہے اور جبلی خواہشات کا غلام ہے۔

میں ایک حوالے سے اپنے معترض سے متفق ہوں۔ میرے خیال میں کسی معاشرے سے مذہب کو طاقت کے زور سے اور ایک ہی جھٹکے سے جدا کرنا کوئی دانشمندانہ قدم نہیں، کیونکہ اس کے نتائج غیر تسلی بخش ہوں گے۔ اگر ایسا کیا گیا تو وہ ایک ظالمانہ عمل ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص جو برسوں سے بے خوابی کا شکار ہو اور رات کو سونے سے پہلے نیند کی گولیاں کھاتا ہو، وہ اچانک سے وہ گولیاں کھانا بند کردے۔ مذہبی عقائد بھی بہت سے لوگوں کے لئے نشہ آور ادویہ کی طرح کام کرتے رہے ہیں اور ان کے استعمال پر یک دم پابندی عائد کرنا اپنے لئے علیحدہ مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔

مجھے اپنے معترض کی اس بات سے اختلاف ہے کہ انسان مذہبی سراب کے بغیر زندگی کے مسائل اور حقیقتوں سے نبرد آزما نہیں ہو سکتے۔ یہ صرف ان لوگوں کے لئے درست ہو سکتاہے، جو بچپن سے مذہب کے کڑوے میٹھے زہر پر پلے ہوں اور ان کے لئے اس سے نجات پانا ناممکن ہو۔ لیکن وہ لوگ جن کی پرورش صحتمند اور آزاد خیال ماحول میں ہوئی ہے، انہیں اس زہر اور اس سراب کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ زندگی کے حقائق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکتے ہیں۔

وہ جانتے ہیں کہ اس بڑے کارخانہ حیات میں ان کی حیثیت کیا ہے وہ اپنے آپ کو کائنات کا مرکز اورخداؤں کا چہیتا نہیں سمجھتے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایسے خیالات سے بچپنا جھلکتا ہے۔ انسان بچپن میں اپنے آپ کو والدین کا منظورِ نظر سمجھتے ہیں، لیکن جب وہ بالغ ہو کر زندگی کے تلخ حقائق سے نبرد آزما ہوتے ہیں تو ان کا رویہ حقیقت پسندانہ ہو جاتاہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک بالغ اور صحتمند زندگی گزارنے کے لئے اپنے والدین سے آزادی اور خودمختاری حاصل کرنا ان کے لئے بہت اہم ہے۔

میری اس کتاب کا مقصد انسانوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ زندگی میں بلوغت کے زینے پر اگلا قدم اٹھا سکیں اور بہتر مستقبل کی طرف سفر جاری رکھ سکیں۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ انسان اس امتحان میں کامیاب نہیں ہوگا، لیکن میں ان سے متفق نہیں۔ کیوں نہ ہم یہ امید رکھیں کہ انسان اس مرحلے کو بھی ماضی کے دیگر مراحل کی طرح خوش اسلوبی سے نبھائے گا۔ جب انسان کو نئے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ ان کا حل بھی تلاش کر ہی لیتا ہے اور اب تو انسان اکیلا بھی نہیں، اب سائنسی علم اور تحقیقات کی مدد بھی حاصل ہے۔

میری نگاہ میں چاند پر بستیاں آباد کرنے کے خوابوں سے زمین پر ایسا چھوٹا سا باغ لگا نا جو ہماری ضروریات کے لیے کافی ہو، زیادہ حقیقت پسندانہ عمل ہے۔ اگر انسانوں نے اگلے جہانوں سے بے جا امیدوں کو چھوڑ کراسی دنیا میں اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا شرو ع کیا تو انسانی زندگی میں ایک توازن پیدا ہوگا اور و ہ انسانی تہذیب کے ارتقاء میں ایک اہم کردار ادا کرسکیں گے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 269 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail