دو لیڈر، دو چیمبر اور دو قیدی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہانی ساری پارلیمنٹ ہاؤس کی ہے، بلکہ آصف زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے اور پھر نہ ہونے کے بعد کی ہے، جہاں ایک طرف بجٹ اجلاس پہ بحث ہوتی رہی تو دوسری طرف نظرین اس چیمبر کی طرف بھی متوجہ رہیں جس چیمبر کے دروازے پر عمرایوب کے نام کی تختی آویزاں کی ہوئی ہے۔ عمرایوب کے نام کی تختی والے اس دروازے کو جیسے ہی اندر کی طرف کھولیں تو ایک طرف عمر ایوب کا چیمبر تو دوسری طرف بلاول بھٹو کا چیمبر نظر آئے گا۔

عمرایوب کے نام والی تختی والے دروازے پر سیکیورٹی بلاول بھٹو کی چوکس کھڑی رہتی ہے، جو سارا دن قطارون میں کھڑی ”بلاول سے ملاقات کرواؤ“ جیسی فرمائش لیے پی پی پی کے جیالوں کے درمیان کبھی کبھی عمرایوب سے ملنے آئے ہوئے لوگوں کو ”حکومتی چیمبر کے لئے دروازہ نمبر دو کھولیں“ کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے تو کبھی کبھی اندر سے پی ٹی آئی کے وزراءعمرایوب سے ملاقات کرکے نکلتے ہیں تو صحافیوں کے اچانک کیے گئے سوال کہ آپ نے بھی بلاول بھٹو سے ملاقات کی ہے؟

پر ایسی لمبی وضاحت کرتے ہیں کہ جیسے ابھی ان سے وزارت چھینی جائے گی۔ پی پی چھوڑ کر پی ٹی آ ئی میں شمولیت اختیار کرنے والے نورعالم خان کے نکلتے ہی صحافیوں نے سوال کردیا تھا کہ آپ واپس پی پی میں تو نہیں جا رہے؟ نور عالم خان نے مسکراکر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تو میں آپ کے پاس آرہا ہوں۔ سامنے سے عمرایوب ہنستے مسکراتے کہنے لگے کہ بھائی ہمیں ابھی بجلی کے کھمبوں پر بات کرنی ہے اور نورعالم کو لے کر آگے نکل گئے۔

ایک طرف ایوب خان کے پوتے کا چیمبر تو دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے کا چیمبر اکثر اوقات پوچھے جانے والے اس سوال کی طرف جاتا ہے کہ باہر والے دروازے پر عمرایوب کے نام کی تختی کے ساتھ بلاول بھٹو کے چیمبر کی تختی کیوں نہیں آویزاں کی جاتی۔

یارب زمانہ مٹاتا ہے کس لیے مجھے
لوح جہاں پہ لکھا حرف مقرر تو نہیں ہوں میں

صرف یہی نہیں بلکہ جمہویت کے حسن کا نظارہ ایسی ملاقات میں بھی ملتا ہے جس میں چوہدری فواد کے بلاول بھٹو کے اسی چیمبر کے سامنے سے گزرتے ہوئے بلاول کا ان کو کہنا بھائی صاحب کہاں بھاگ رہے ہیں، جس پہ چوہدری فواد کا مسکراتے بلاول کو گلے لگاتے ہوئے کہنا کہ آپ کے لیے راستہ صاف کر رہا ہوں۔ بلاول بھٹو کے اس چیمبر میں خواجہ سعد رفیق، سابق اسپیکر ایاز صادق کی موجودگی کبھی کبھی ایسا ماحول پیدا کردیتی جیسے یہ چیمبر پی پی کا نہیں مسلم لیگ (ن) کا ہو۔

خواجہ سعد رفیق آصف زرداری سے ایسی ملاقات کے سوال کے جواب میں مسکراتے ہوئے بولتے تھے۔ بھائی صاحب پروڈکشن آرڈر پہ آئے ہوئے ایک قیدی کی دوسرے قیدی سے ملاقات ہے۔ لیکن یہ ساری کہانی یہ سارا جمہوریت کا حسن آصف زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد کا ہے ”اب تو کسی لیلیٰ کو بھی اقرار محبوبی نہیں“ کی طرح یہ سارے چیمبر اداس اور ویران ہے، اب اسپیکر صاحب کا حکم ہے کہ کوئی پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوگا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے تمام اجلاس ملتوی کرکے سادگی کا عظیم مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ ورلڈ کپ فائنل کے دو دن بعد صرف ایک دن پر مشتمل اجلاس کا 153 نکاتی ایجنڈا دیکھ کر تمام ممبران کی طرح ہم بھی پریشان ہوگئے کہ یہ سب نکات ایک دن میں کیسے پورے ہوں گے۔ اوپر سے ایک گھنٹہ اجلاس میں دیر سے پہنچنے پر تقاریر سمجھ سے بالاتر تھیں۔ ممبران اپنی تقریر میں وزیراعظم عمران خان، پی سی بی اور اسپیکر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ یہ جو ورلڈ کپ ہم جیتے ہیں۔ یہ سب آپ کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ والوں کے سامنے یہ سوال رکھا تو انہوں نے وضاحتی انداز میں سمجھاتے ہوئے کہا کہ یہ انگلینڈ میں ہوئے انٹرا پارلیمانی ورلڈ کپ کی بات ہو رہی ہے، میں نے پوچھا اور جو سرفراز احمد کی کپتانی میں ورلڈ کپ ہارکے آئے ہیں وہ کن کی مہربانی ہے، میرے اس سوال کے جواب میں سینیٹ سیکریٹریٹ نے قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس کا ایجنڈا ہاتھ میں تھمادیا۔ میں نے پھر سوال کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے تو سادگی مہم کا اعلان کرتے ہوئے تمام قائمہ کمیٹیوں (جن کمیٹیوں میں آصف زرداری اور خواجہ سعد رفیق کو پروڈکشن آرڈر کے ذریعے آنا تھا) کے اجلاس ملتوی کردیئے ہیں کہ کیا سینیٹ کی کمیٹیوں میں خرچہ نہیں ہوتا کہ سوال کے نتیجے میں جواب ملا کہ ”جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ذوالفقار گرامانی کی دیگر تحریریں
ذوالفقار گرامانی کی دیگر تحریریں