کلبھوشن جادھو کیس:جیت کس کی


کلبوشن جادھو کو 3 مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ انڈین نیوی کے حاضر سروس کمانڈر ہے اور پاکستان میں دہشت گردی، تخریب کاری اور جاسوسی میں ملوث رہے ہیں۔ جلد ہی ملٹری کورٹ میں اس کا ٹرائل شروع ہوا اور 8 مئی 2017 کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے سیکشن 53 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت کلبھوشن جادیو کو سزائے موت سنائی۔ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے کلبھوشن کو مجرم قرار دیا۔

نیز کلبھوشن نے بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے اور راء کے لئے کام کرنے کا اعتراف بھی کردیا۔ کلبوشن جادھو کی سزائے موت رکھوانے کے لئے انڈیا نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے پاس درخواست جمع کرادی اور 15 مئی 2017 کو آئی سی جے نے کلبوشن جادھو کے سزائے موت پر حکم امتناعی جاری کردیا۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے انڈیا کو 13 ستمبر 2017 تک جبکہ پاکستان کو 13 دسمبر 2017 تک اپنے عرض داشت جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

انڈیا نے 1963 کے ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 تحت اپنا کیس دائر کیا۔ بین لاقوامی قانون میں آرٹیکل 36 تحت ایک ملک دوسرے ملک کے شہری کی گرفتاری کے بعد اسے اپنے ملک کے قونصل عملہ کے ساتھ ملاقات اور ٹرائل کے متعلق مشاورت کا حق دیتا ہے۔ 21 فروری کو تین دن کے سماعت کے بعد آئی سی جے نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ اور آج 17 جولائی کو اس کیس پر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ فیصلہ میں پاکستان کو 1963 کے ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا اور جادیو کو قونصل رسائی دینے اور اس کیس پر دوبارہ نظر ثانی کا فیصلہ دیدیا۔ اب ایک بحث چھڑ گئی ہے کہ فیصلہ میں جیت کس کی ہوئی۔

انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے انڈیا کے تین مطالبات مسترد کیں۔ اول کہ ملٹری کورٹ کے جادھو کے سزائے موت کے فیصلہ کو کالعدم قرار دیا جائے۔ دوم کہ پاکستان کو کلبھوشن جادھوکو پھانسی کرنے سے روکا جائے، سوم کہ کلبھوشن کو رہا کرکے انڈیا واپس بھیجا جائے۔ دلچسپ بات ہے کہ انٹرنیشل کورٹ آف جسٹس نے پاکستان کو 1963 کے ویانا کنونشن کے ٓرٹیکل 36 کی خلاف ورزی کا مرتیب قرار دیا اس کو پاکستان نے اپنے ملکی قانون میں توثیق یعنی ratificationہی نہیں کی ہے۔

بین الاقوامی قانون میں توثیق یعنی ratificationبہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے جب تک کسی ملک کی پارلیمنٹ بین الاقوامی معاہدات کی منظوری نہیں ہوتی تب تک یہ معاہدات لاگو نہیں ہوتے۔ دوسرا 1963 کے ویانا کنونشن کا اطلاق جاسوسوں پر نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے عالمی عدالت کے سولہ رکنی بنچ کے جسٹس تصدق حسین جیلانی جوکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں نے اختلافی نوٹ بھی لکھا کہ ویانا کنونشن کا اطلاق جاسوسوں پر نہیں ہوتا اور بھارت اس مقدمے میں حقوق سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا مرتکب ہوا۔

Facebook Comments HS