بے نام یادگار اور مشاہیر کی قدر کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر قوم کو پہچان دینے والی ان گنت شخصیات ہوتی ہیں، جو کسی بھی خطے کی بنیاد پڑنے سے لے کر مختلف شعبہء ہائے زندگی میں اُس ملک اور اس میں رہنے والی اقوام کے لئے اپنی نمایاں خدمات کی وجہ سے اس درجہ ممتاز ہوجایا کرتی ہیں، کہ وہ قومیں ان کی خدمات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یاد رکھنے کا بالخصُوص اہتمام کیا کرتی ہیں اور اس ضمن میں نہ صرف پہلے سے موجودعمارات اور راستوں وغیرہ کو ایسی شخصیات کے ناموں سے منسُوب کرتی ہیں، بلکہ ایسی شخصیات کے نام پر نئے اداروں اور دیگر یادگاروں کی بنیاد ڈال کر، ایسی شخصیات کے کارناموں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یادگار بنا دیتی ہیں۔

آپ امریکا یا یورپ کے کسی بھی خطے میں جائیں، آپ کو جابجا، گھُومتے پھرتے ایسے مقامات نظر آئیں گے، جوایسی شخصیات کے ناموں سے منسُوب ہیں، جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی غیر معمُولی خدمات کی انجام دہی کی وجہ سے اُن اقوام کے دلوں خواہ اپنے خطے کی تاریخ کے اوراق میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہیں۔ نہ صرف مقامات اور عمارتیں، بلکہ شہروں کے شہر آپ کو ایسی شخصیات کے ناموں سے منسُوب ملیں گے، جس کی بہترین مثال امریکا کا دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی ہے، جو امریکا کے اوّلین صدر، جارج واشنگٹن کے نام پر قائم ہے۔

اسی طرح سینٹ لُوئس، کولمبیا، کولمبو، الیگزینڈرا اور ایسے دنیا کے لاتعداد شہر، یادگار شخصیات کے نام پر قائم ہیں۔ مغربی دنیا میں بڑے خواہ چھوٹے شہروں میں شاید ہی کسی شہر کی کوئی چورنگی، چوراہا یا راہداری ایسی ہو، جس پر اس ملک کی کسی عظیم شخصیت کا مُجسمہ نصب نہ ہو۔ کئی علاقے اُن مجسموں کی وجہ سے اُن شخصیات کے ناموں اور حوالوں سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اور تو اور، امریکا کے اب تک رہ چکنے والے 44 صدُورمیں سے ہر کسی کے نام سے کئی سڑکیں، ادارے اوریادگاریں منسُوب ہیں۔

واشنگٹن میں قائم امریکا کی پہچان بنی ہوئی تاریخی عمارت ’یُوایس کیپیٹول ہل‘ کے اندر 300 سے زائد مُجسمے نصب ہیں، جن میں سے امریکا کی 50 ریاستوں میں سے ہر ایک کے بانی سمیت امریکا کے تمام ’آبائے قوم‘ کے مُجسمے بھی موجُود ہیں۔ امریکا کے پہلے صدرجارج واشنگٹن اور عالمی سطح پر جمہوریت کے بانی، ابراہام لنکن کے نام پر نہ صرف امریکا میں بلکہ پُوری دنیا میں جتنے یادگار تعمیر شدہ ہیں اور جتنے ادارے قائم ہیں، اُتنے شاید ہی کسی اور شخصیت کے نام پرقائم ہوں۔

خود واشنگٹن شہر کے اندر ابراہام لنکن کے نام سے بہت بڑا یادگار، (جس کے اندر لنکن کا دیو قامت مجسمہ نصب ہے، جس کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر مارٹن لُوتھر کنگ دوئم نے اپنی شہرہ آفاق تقریر ’آئی ہیو اے ڈریم‘ کی تھی) ، اُسی کے سامنے واقع، جارج واشنگٹن میموریل (جو ایک ٹاور کی صُورت میں موجُود ہے ) اور ایک اور امریکی صدر جیفرسن کے نام سے منسُوب یادگار، ’جیفرسن میموریل‘ امریکا کی آنے والی کئی نسلوں تک کو ان شخصیات کو بھُولنے کا موقع ہی نہیں دیں گے۔

دنیا میں ایسی کئی مثالیں موجُود ہیں، جن سے قوموں نے اپنے محسنین کو بھُلانے کا راستہ ہی نہیں چھوڑا۔ اور ہمارے یہاں اگر دیکھا جائے تو صُورتحال اس حد تک قابلِ فکر بلکہ تشویشناک ہے کہ ہم نہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے ہیرو کون ہیں، اور نہ اپنی آنے والی نسلوں کو اس بات کا ادراک دینے کا کوئی انتظام ہی کیا ہے، اور نہ اس بات کی کوئی فکر ہی ہے۔ آپ پاکستان کی اہم ترین شخصیت، بانیء پاکستان، بابائے قوم، قائدِ اعظم محمّدعلی جناح کے نام پر کتنے ادارے یا یادگار قائم شدہ دیکھتے ہیں؟

میں یقین سے کہتا ہوں کہ آپ کراچی میں واقع اُن کے مزار، اُن کی مُبیّنہ جائے پیدائش واقع کھارادر، بنامِ ’وزِیر منشن‘ ، ایم۔ اے۔ جناح روڈ (جو بھی پہلے سے قائم سڑک تھی، جو بندر روڈ کے نام سے جانی پچانی جاتی تھی) ، جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اسلام آباد میں واقع قائدِ اعظم یُونیورسٹی کے نام گن لینے کے بعد آپ کوذہن پر زور دینا پڑے گا کہ بابائے قوم کے نام پر اور کون سے ادارے قائم ہیں، اور شاید اس قدر مُشقّت کے بعد بھی آپ کو مشکل سے ایک آدھ اور ادارے، گرائُونڈز، پارکس یا سڑکوں کے نام ذہن میں آئیں، جبکہ بلا مُبالغہ، محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے نام پررکھے جانے والے اداروں کی تعداد، قائدِاعظم کے نام سے منسُوب اداروں اور یادگاروں سے زیادہ ہے۔

بینظیر شہید بجا طور پر ایک بہت عظیم لیڈر تھیں، مگر بہتر ہوتا کہ پی پی پی حکومت گذشتہ 11 برس میں اُن کے نام پر نئے ادارے قائم کرتی، ناں کہ پہلے سے قائم شدہ اداروں کے نام بدل کر، ان کو بی بی کے نام سے منسُوب کرتی۔ پی پی پی نے اپنی پارٹی کے لیڈر، شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نام پر بھی اتنے ادارے منسُوب نہیں کیے، جتنے بی بی کے نام پر۔ اس وقت سندھ کی 5 کے قریب یُونیورسٹیوں کے نام بی بی کے نام سے منسُوب ہیں، جن میں سے صرف 2 یُونیورسٹیز تو کراچی ہی میں قائم ہیں۔ پی پی پی کی حکومتوں نے وفاق اور صوبے میں اور کچھ تو کیا ہے یا نہیں کیا، مگر زیادہ سے زیادہ سڑکوں اور اداروں کے نام بی بی کے نام منسُوب ضرُور کر دیے ہیں۔

کراچی، سندھ کا دارالحکُومت ہے، جس میں ہزاروں سڑکیں، سینکڑوں چورنگیاں (راؤنڈ اباؤٹس) ، لاتعداد پارکس، درجنوں لائبریریاں، کالونیز، علاقے اور نہ جانے کتنی تعمیرات موجُود ہیں، جن کو اس سرزمین کی عظیم شخصیات کے ناموں سے منسُوب کیا جا سکتا ہے، مگر یہاں پر بیشتر روڈ، راہداریاں اور علاقے ’100 فٹ روڈ‘ ، ’پتلی سڑک‘ ، ’موٹی سڑک‘ ، ’انڈا موڑ‘ ، ’دو مِنٹ چورنگی‘ ، ’مچھر کالونی‘ ، ’کنواری کالونی‘ اور نہ جانے کون کون سے عجیب و غریب ناموں سے منسُوب ہیں، جبکہ اگر یہ دیکھا جائے کہ اس سرزمینِ پاکستان، بالخصُوص سرزمینِ سندھ سے مُتعلق کتنی شخصیات کے نام سے یہاں کے یادگار موجُود ہیں تو مجھے سرزمینِ مہران سے وابستہ شخصیات کے حوالے سے منسُوب چند ہی مقامات ملیں گے، جن میں شاہ عبداللطیف بھٹائی روڈ، ایم۔اے۔ جناح روڈ، سرحاجی عبداللہ ہارُون روڈ، حکیم فتح محمّد سیوہانی روڈ، مولانا دین محمّد وفائی روڈ، میراں مُحمّد شاہ روڈ، شہید صبغت اللہ شاہ پیر پگارا روڈ اور بیدل لائبریری کے نام گننے کے بعد آپ کو ذہن پر زور دینا پڑے گا، جبکہ ایسا بھی ہوا ہے کہ اپنی ذاتی پسند کی بنا پر کچھ سیاسی جماعتوں نے اپنے اقتداری عرصے میں فلائی اوورز، پارکس اور سڑکوں کے نام اپنی پھُوپھیوں، خالاؤں اور والداؤں کے نام بھی منسُوب کیے، جن کا قوم کی تعمیر میں کوئی کردار نہیں رہا۔

موجودہ سندھ حکومت، جو بظاہر تو بڑی مستعد نظر آتی ہے، کو یہ مشورہ ہے کہ اگر وہ یہ چاہتی ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں اس سرزمین کے حقیقی ہیروز کو یاد رکھیں تو نہ صرف شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ، سچل سرمستؒ، بیدلؒ، بیکسؒ، صُوفی شاہ عنایتؒ، میاں شاہ کریم بلڑی والے ؒ، دُولہہ دریاء خان، جرنل ہوش مُحمّد شِیدِی، علامہ آئی آئی قاضی، شہید اللہ بخش سُومرو، جی ایم سیّد، فاضل راہُو، کامریڈ حیدر بخش جتوئی، شیخ عبدالمجید سندھی، شیخ ایاز، رسول بخش پلیجو، کامریڈ سوبھو گیانچندانی، ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، مسکین جہان خان کھوسو، ایم ایچ پنہور، محمّد ابراہیم جویو، عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی اور ایسی لاتعداد شخصیات کے نام پر یادگار بنائیں یا موجُود بے نام تنصیبات کو اُن اور ان جیسی لاتعداد ایسی شخصیات کے نام کریں، جنہوں نے اپنے خون پسینے سے اس سرزمین کی خدمت کی ہے، تاکہ ہم بھی اپنے مشاہیر کی قدر شناسی کا حق ادا کرسکیں اور ہمارا شمار بھی زندہ قوموں میں ہو۔

Statue of Winston Churchill, Parliament square, London.
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •