کلبھوشن جادھو کیس: ’فیصلے کو انسانیت کی جیت کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا‘

دانش حسین - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کلبھوشن

Getty Images
نریندر مودی نے عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے کو ‘سچ اور انصاف کی فتح’ جبکہ عمران خان نے ‘قابلِ تحسین’ قرار دیا ہے

مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کیس میں عالمی عدالتِ انصاف کی جانب سے بدھ کے روز سنائے گئے فیصلے کے بعد سے انڈیا اور پاکستان میں اسے اپنی اپنی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔

انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ’سچ اور انصاف کی فتح‘ جبکہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے فیصلے کو ’قابلِ تحسین‘ قرار دیا ہے۔

دونوں ممالک میں سیاسی رہنما، سرکاری حکام، عوام اور میڈیا اپنے اپنے ریاستی بیانیوں کو لے کر ’فتح‘ کے شادیانے بجا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس

کلبھوشن کی سزا پر ’نظرِثانی‘ کس فورم پر ممکن ہے؟

’انڈیا نے عالمی عدالتِ انصاف جا کر سخت غلطی کی ہے‘

اس رپورٹ میں بی بی سی نے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ درحقیقت انڈیا اور پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران کیا موقف اختیار کیا، کون سا ریلیف مانگا گیا اور بدھ کے روز آنے والے فیصلے میں کس کے موقف کی تائید ہوئی اور کون سے ملک کو کیا ریلیف ملا۔

عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی ماہر ریما عمر نے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی مقدمے میں سب سے پہلے اس کیس کے کسی مخصوص عدالت میں قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کو دیکھا جاتا ہے۔

عالمی عدالت انصاف میں پاکستان نے کلبھوشن جادھو کیس میں انڈیا کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کے عالمی عدالت میں قابلِ سماعت ہونے سے متعلق تین اعتراضات داخل کیے تھے۔

ریما عمر کا کہنا تھا کہ سادہ الفاظ میں پاکستان کا موقف تھا کہ اس درخواست کا سننا عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کار میں نہیں آتا جبکہ انڈیا کا کہنا تھا کہ یہ کیس قابلِ سماعت ہے۔

عالمی عدالت انصاف نے اپنے فیصلے میں انڈیا کے موقف کی تائید کرتے ہوئے پاکستان کے تمام اعتراضات مسترد کر دیے اور قابل سماعت ہونے کا فیصلہ انڈیا کے حق میں ہوا۔

کیس کے قانونی پہلو

ریما عمر کا کہنا تھا کہ قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بعد کیس کے قانونی پہلوؤں کو دیکھا جاتا ہے۔

’اس کیس کی بنیاد یہ تھی کہ انڈیا کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو قونصلر تک رسائی نہ دے کر ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

یہ آرٹیکل کسی ایک ملک کے شہری کے کسی دوسرے ملک میں قید ہونے کی صورت میں اس (قیدی) کو قونصلر تک رسائی دینے سے متعلق ہے۔

کلبھوشن

Getty Images
پاکستان کے ان اعتراضات کو مسترد کیا گیا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کلبھوشن کے کیس کی سماعت نہیں کر سکتی

پاکستان کا موقف تھا کہ چونکہ کلبھوشن جاسوس ہیں جنھوں نے پاکستان میں دہشت گردی کی ہے اسی لیے ان کو قونصلر تک رسائی دینا پاکستان کی ذمہ داری نہیں تھی۔

’پاکستان کا کہنا تھا کہ ویانا کنونشن کا اطلاق جاسوسوں پر نہیں ہوتا جبکہ انڈیا کا موقف اس کے برعکس تھا۔‘

انڈیا نے دلائل دیے کہ کہ اس طرح تو ویانا کنونشن کا مقصد ختم ہو جاتا ہے کیونکہ کوئی بھی ملک کسی شخص کو گرفتار کرنے کے بعد اس کو جاسوس قرار دے کر اس کے تمام حقوق سلب کر سکتا ہے۔

عالمی عدالت انصاف نے اس بات پر بھی پاکستان کے دلائل کو مسترد کیا اور انڈیا کے موقف کو مانا۔

ویانا کنونشن یا دو طرفہ معاہدہ

ریما عمر نے مزید بتایا کہ پاکستان کا کہنا تھا کہ ویانا کنونشن پر انحصار کرنے کے بجائے پاکستان اور انڈیا کے درمیان سنہ 2008 میں ہونے والے دو طرفہ معاہدے کو اس کیس کی بنیاد بنایا جائے۔ اس معاہدے میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان قومی سلامتی سے متعلق امور کو کیس ٹو کیس بنیاد پر دیکھا جائے گا۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کے کیس میں ویانا کنونشن نہیں بلکہ سنہ 2008 کا دو طرفہ معاہدہ قابلِ عمل ہو گا۔

عالمی عدالتِ انصاف نے اس مسئلے پر پاکستان کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ معاہدہ بہت مبہم ہے اور اس میں کہیں بھی یہ واضح نہیں کہ یہ معاہدہ ویانا کنونشن کے قونصلر تک رسائی دینے کی شق کی جگہ لے گا۔

‘ان میرٹس کی بنیاد پر عالمی عدالت انصاف نے قرار دیا ہے کہ پاکستان نے کلبھوشن کو اس کے حقوق کے بارے میں آگاہ نہ کر کے، اس کو قونصلر رسائی نہ دے کر اور انڈیا کو اس کی گرفتاری کا بروقت نہ بتا کر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔’

انڈیا نے کیا عالمی عدالت سے کیا استدعا کی تھی؟

انڈیا کی جانب سے پیش کی جانے والی فہرست کافی طویل تھی جس میں کلبھوشن کو فوجی عدالت سے سنائی گئی سزا کو منسوخ کرنا، اس فیصلے کو خلافِ قانون قرار دینا، اور ان کو رہا کر کے واپس انڈیا بھیجے جانا شامل تھا۔

ریما عمر کا کہنا تھا کہ ‘جس نوعیت کا ریلیف انڈیا نے مانگا تھا اگر دیکھا جائے تو وہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کار میں یہ آتا ہی نہیں۔’

‘عالمی عدالت انصاف نے صاف صاف کہا ہے کہ یہ ہمارا دائرہ اختیار ہی نہیں کہ کسی کی رہائی اور واپس بھیجے جانے کے احکامات جاری کریں۔’

کلبھوشن

Getty Images
راجیو ڈوگرہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ فیصلہ انسانیت کی جیت ہے تو زیادہ بہتر ہو گا

تاہم کیس کو سامنے رکھتے ہوئے عالمی عدالت انصاف نے کہا ہے کہ ایک شخص کے حقوق متاثر ہوئے اور اس کو دفاع کے حق سے محروم کیا گیا اور اسی بنا پر اس کیس پر نظر ثانی کی جائے۔

جبکہ پاکستان کو کہا گیا ہے کہ جب تک نظر ثانی کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا تب تک سزائے موت کے فیصلے پر عمل نہ کرے۔

کون جیتا، کون ہارا

ریما عمر کا کہنا تھا کہ اگر دیکھا جائے تو اس معاملے کے قابلِ سماعت ہونے اور میریٹس (قانونی پہلوؤں) پر عدالت نے انڈیا کے دلائل کو زیادہ وزنی سمجھتے ہوئے ان کے حق میں فیصلہ کیا جبکہ انڈیا کی جانب سے جو داد رسی طلب کی گئی تھی اس معاملے میں عدالت نے اپنے دائرہ اختیار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کو مسترد کیا۔

انڈیا کے سابق سفارت کار اور تجزیہ کار راجیو ڈوگرہ کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ بڑا سوال یہ تھا کہ کیا ایسے معاملوں میں (جہاں قید شخص پر جاسوسی کے الزامات ہوں) ویانا کنونشن کا کتنا عمل دخل ہے، اور اس پر آنے والا فیصلہ بہت واضح ہے کہ ویانا کنونشن کو ہی ایسے معاملات میں فوقیت دی جائے گی۔

’پاکستان کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ دی گئی سزا پر نظر ثانی کی جائے اور کلبھوشن کو قونصلر تک رسائی دی جائے۔‘

راجیو ڈوگرہ کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہیے کہ آیا یہ انڈیا کی جیت ہے یا پاکستان کی۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ انسانیت کی جیت ہے تو زیادہ بہتر ہو گا کیونکہ ایک آدمی کسی وجہ سے پاکستان کی قید میں ہے تو اس کی زندگی کا فیصلہ اس طرح کیا جائے کہ دنیا کو اس میں کوئی شک و شبہ نہ رہ جائے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10847 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp