سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کوک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چرخہ اور چکی۔ اب کس نے دیکھی۔ قیامِ پاکستان سے قبل چرخہ اور ہاتھ چکی جہیز میں دی جاتی تھی، چرخہ صوفیانہ اور روحانی معنی میں بھی استعمال ہوا۔ امریکی ادیب ’دانشور اور سائنس دان کارل ساگون (Carl Sagan) نے اپنی کتاب ”کوسموس (Cosmos) میں کرہ ارض کی تہذیبوں سے لے کے خلیے کی ساخت تک‘ آسمانوں اور کہکشاؤں کی ہیت سے لے کر تاریخ انسانی میں سائنسی اور فکری تحقیقات ’ماضی اور مستقبل میں انسانی ترقی اور تنوع کے سفر پر روشنی ڈالی ہے۔ کارل ساگون کہتے ہیں“ تہذیبوں میں بدلاؤ آتے رہیں گے‘ علم صرف آنے والے زمانوں میں ہی عیاں ہوگا ’ایسا دور بھی آئے گا جب ہماری اولادیں حیران ہوں گی کہ ہم وہ چیزیں بھی نہیں جانتے جو بالکل سادہ‘ بالکل سیدھی سادھی تھیں ’متعدد دریافتیں آنے والے ادوار کے لئے محفوظ ہیں‘ جب وہ ہماری یادوں سے محو ہوچکی ہوں گی ”۔

کارل ساگون کی کتاب پڑھ کر اندازہ ہوتاہے کہ کائنات اور اس کا سیارہ ”زمین“ میں کتنی خاصیتیں سموئی ہوتی ہیں۔ ارتقاء کی نہ جانے کتنی ہی منزلیں طے ہوچکی، ہمارے آباؤاجداد جن پر ارتقائی ادوار گزرے ’وہ ہی اپنے دور کی مشکلات اور تکالیف جانتے تھے۔ مشکل دور کے باوجود اُن کے پاس وقت تھا۔ ایک دوسرے کے دکھ بانٹنے اور خوشیاں دینے کے لئے دلوں میں وسعت تھی۔ فطری ماحول میں جینے والے فطرت کے کتنے قریب تھے‘ اُن کی صبح اورشامیں سکون سے مرصع تھیں۔

دیہی علاقوں کیا ’شہروں میں بھی صبح کی شفافیت انتہائی دلفریب‘ اب تو ماحولیاتی آلودگی کے باعث روشن صبح بھی گرہن زدہ ہو گئی ہے۔ اس وقت دیہات میں مرد فجر کے بعد بیلوں کی جوڑی لے کر کنویں پر چلے جاتے پھر رہٹ چلتا ’کنویں سے نکلتے پانی کی آواز، رہٹ کی چرچراہٹ اور پرندوں کی چہچہاٹ سے صبح کے سکون آفریں ماحول میں موسیقی کے سُر بکھرتے محسوس ہوتے۔ ہر طرف پھیلی دبیز پر نُور فضاء میں حمد و ثنا گھلی ہوتی۔ گھروں میں رکھی ہاتھ کی چکی کی گڑگڑاہٹ سے باقی لوگ بھی نیند سے بیدار ہونے لگتے تھے۔

پھر مدھانی کی غڑ غڑ اور ساتھ چوڑیوں کی کھنک میں چاہتوں کے پیغام چھپے تھے۔ دن کا پہلا پہر گزرنے کے بعد جب سب مرد کام کاج کے لئے گھروں سے باہر ہوتے تو خواتین کا کڑھائی، سلائی، بنا ئی کا وقت شروع ہوجاتا تھا۔ ان ہی لمحوں میں دور جانے والوں کی یادیں لئے چرخے کی میٹھی میٹھی کوک میں درد اور یاس بسی ہوتی تھیں۔

چرخہ پانچ سو سے ایک ہزار برس قبل مسیح کے درمیان بھارت میں ایجاد ہوا تھا۔ 1234 ء میں بغداد ’1270 ء میں چین اور 1280 ء میں یورپ میں چرخہ متعارف ہوچکا تھا۔ محققین وثوق سے کہتے ہیں کہ چین اور اسلامی دنیا میں کافی پہلے سے ہی چرخہ موجود تھا۔ 18 ویں صدی کے وسط تک فرانس میں ہاتھوں سے ”تکلے“ (Spidal) کی مدد سے دھاگہ یا سوت بنانا شروع ہوا تھا۔ چرخہ دنیا کے ادب‘ آرٹ اور ثقافتی اظہار کا ذریعہ بنا۔ جنوبی ایشیاء میں چرخہ سیاسی طاقت کے اظہار کی علامت بھی بنا رہا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چرخہ چین میں ایجاد ہوا تھا۔ تیرہویں صدی میں یہ ایران کے ذریعے برصغیر میں متعارف ہوا لیکن حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ چرخہ کب اور کہاں ایجاد ہوا تھا۔ دنیا بھرمیں اس کی مختلف اشکال ملتی ہیں جبکہ برصغیر میں ایک ہی طرح کے چرخے نظر آتے ہیں۔ برصغیر ٹیکسٹائل اور اس کی برآمد کے لحاظ سے خوبصورت اور شاندار قدیم تاریخ لئے ہوئے ہے جو تقریباً پانچ ہزار برس قدیم ثقافت پر محیط ہے۔ جب وادی سندھ کی تہذیب و تمدن پروان چڑھ رہی تھی تب سے کپڑا سازی یہاں کے لوگوں کی زندگی کا حصہ تھی۔

ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی کھدائی سے پتہ چلتا ہے کہ چرخہ برصغیر کے باسیوں کے گھروں کی لازمی ضرورت تھا۔ دوسری طرف رنگائی ’پینٹنگ اور کڑھائی کے طریقوں کے علاوہ کپڑا بننے میں وادی سندھ کے لوگ خاص مہارت رکھتے تھے۔ وادی سندھ کی تہذیب کے بعد ایک ہزار سے پندرہ سو قبل مسیح میں ویدک تہذیب اور چوتھی سے پانچویں صدی قبل از مسیح میں بدھ مت تہذیب کے لوگ جب اس علاقے میں آئے اور رہائش پذیر ہوئے تو وہ چرخہ استعمال کرتے تھے۔

کپڑا سازی کا تمام عمل ہاتھوں سے کیا جاتا، مہارت کے با عث برصغیر کی کپڑا سازی میں ان کا کوئی مقابل نہ تھا۔ مشہور اطالوی سیاح مارکویو ( 1288 ء) اور فرانسیسی سیاح اور قیمتی پتھروں کے تاجر ٹیورنیر (Tavernier 1660 ) نے برصغیر میں بننے والے شاندار سوتی کپڑے بارے تفصیل سے لکھا کہ یہاں سے بننے والا سوتی کپڑا افریقہ ’جاوا اور مصر کے علاوہ دنیا کے دیگر حصوں میں برآمد ہوتا تھا۔ جب مغل حکمران اقتدار میں آئے تو کھڈیوں پر کپڑا سازی یہاں کے لوگوں کا اہم پیشہ تھا۔

چرخہ پاکستانی ثقافت کا حصہ رہا اور اب بھی ہے۔ یہ پنجاب کے کلچر کی علامت ’بلکہ یوں کہا جائے کہ چرخہ خصوصاً پنجابی اور سرائیکی ادب میں ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر بھی۔ آج بھی پنجاب کے دیہی علاقوں میں خواتین چرخے پر سوت کاتتی ہیں۔ سوت کاتنے کے دوران خواتین لوک گیت ”ہیر“ اور دیگر علاقائی گیت گنگناتی ہیں۔ ان گیتوں کے ذریعے اپنی خوشیاں اور دکھ آپس میں شیئر کرتی ہیں۔ اِسی دوران کچھ خواتین کڑھائی اور بنائی بھی کررہی ہوتی ہیں لیکن یہ روایات خاصی کم ہو گئی ہیں۔

ہارڈ ویئر اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ یہی وہ پہلی مشین ہے جو کپاس سے سوت کاتنے کے لئے استعمال کی گئی اور پھر تن ڈھانپنے کے لئے کپڑا بنایا گیا۔ یہی چرخہ ترقی کرکے جدید مشینوں کی بنیاد بنا۔ آج پوری دنیا میں سب سے بڑی صنعت ’کپڑے کی صنعت کو سمجھا جاتا ہے۔ انسانی ترقی کا سفر جاری رہا اور کپڑے کے لئے جدید مشینیں ایجاد ہوتی گئیں۔ صنعتی انقلاب آنے سے چرخے کی ضرورت کم ہوتی گئی۔ اس طرح خواتین جو مل بیٹھ کر اپنے دکھ‘ مسائل اور خوشیاں شیئر کرتی تھیں اس کے معدوم ہونے سے خواتین کے اکٹھے بیٹھنے کی روایات بھی تقریباً ختم ہوگئی ہیں یا یوں کہا جائے کہ خواتین کی تنہائی کا ساتھی بدلتی روایات ’جدیدیت اور مصروفیات کے باعث دور ہوگیا ہے۔

تقسیم ہند کے بعد بھارت نے اپنا قومی جھنڈا ڈیزائن کرنا تھا۔ مہاتما گاندھی کی تجویز پر جھنڈا پر چرخے کا نشان بطور محنت کی علامت کے طور پر بنایا گیا۔ چرخہ برصغیر کے معاشرے میں محنت طلب ’ٹیکنالوجی سمجھی جاتی تھی۔ گاندھی اپنی شال خود ہی چرخے پر بنتے تھے۔ وہ چرخہ کاتنے کو انتہائی اہم تصور کرتے اور اسے معاشی آزادی کا نام دیا تھا۔ تحریک آزادی کے ایام میں گاندھی ہر ہندوستانی سے کہا کرتے تھے کہ وہ ہر روز کچھ دیر چرخہ کاتتے ہوئے کھڈی پر اپنا کپڑا تیار کریں۔

تحریک کے دوران انہوں نے ہر ہندوستانی کو برطانیہ کا تیار کردہ کپڑا پہننے سے روکا اور کہتے تھے ہندوستانی کو اپنے دیس کی کھڈیوں پر تیار کیا گیا کپڑا پہننا چاہیے۔ دوسری طرف چرخے کے سافٹ ویئر کو دیکھیں تو اس میں کتنی خوبصورتیاں پنہاں ہیں۔ چرخہ چلانے پر ایک خاص آواز نکلتی ہے اُس آواز کو پنجابی زبان میں ”گھوک“ کہتے ہیں۔ اس آواز ”گھوک“ کو متعدد معنی دیے گئے۔ کہتے ہیں جب کوئی خاتون چرخہ کات رہی ہوتی ہے تو وہ خود کو اس آواز میں اس قدر جذب کرلیتی کہ اپنے دکھ بھی فراموش کردیتی۔ چرخہ ’کاتنے والی خاتون سے پیار کرنیوالا سمجھا جاتا ہے کہ جیسے وہ اپنی میٹھی میٹھی گھوک کے ذریعے سریلے انداز میں اسے آواز دے رہا ہو۔ لہٰذا چرخہ عشق و محبت کا مظہر بھی تھا۔

چرخہ لوک گیتوں کی وجہ بھی بنا۔ متعدد لوک گیت لکھے اور گائے گئے۔ لوک گیت خودرو پھولوں کی مانند چرخہ کا تتی خواتین کے لبوں پر مچل رہے ہوتے تھے۔ وہ لوک گیت کس نے لکھے ’اُن گیتوں کے خالق کون تھے؟ کوئی نہیں جانتا۔ یقیناً وہ گیت ان خواتین کے ہی تھے جو چرخہ کاتتی ہوئی گنگناتی تھیں۔

وے ماہیا تیرے ویکھن نوں

چک چرخہ گلی دے وچ ڈاہواں

میں لوکاں باہنے سوت کتدی

تند تیریاں یاداں دے پا واں

قیام پاکستان سے قبل اور بعد کے چند عشروں میں چرخہ اور ہاتھ چکی لڑکیوں کو جہیز میں دی جاتی تھی۔ پنجاب کے کلچر میں ایک بات یہ تھی کہ ہمسائے، محلے سے لڑکیوں اور خواتین کو دعوت دی جاتی کہ وہ سب ایک گھر میں اپنے چرخے لاکر جمع ہوجائیں۔ ایک بڑے سے صحن میں سب اپنے چرخے رکھ کر کاتنا شروع کرتیں تھیں۔ اس اہتمام کو پنجابی زبان میں ”بھنڈار“ کہتے ہیں۔ عورتوں کے جمع ہونے سے ایک سماں بن جاتا اس سمے میں محبتیں رچی ہوتیں ’کہاں ایک چرخہ اور کہاں پانچ چھ چرخے۔

جب سب ایک ساتھ چلتے تو ان کی اجتماعی ”گھوک“ ایک دوسرے سے مل کر موسیقی کے خاص سُروں کو ترتیب دیتی تھی۔ بالکل ایسے ہی جیسے سائنس کے مطابق جب ایک فریکوئنسی کی لہر دوسری لہر سے ملتی ہے تو ایک نئی فریکوئنسی کو جنم دیتی ہے جو سنگل فریکوئنسی سے طاقتور اور اونچے سُر وں میں ڈھل جاتی ہے۔ اُن سُر وں کے تال میل اور آہنگ میں دل نشیں سحر ہوتا تھا۔ پھر چرخہ چلانے والیاں اور ان کے ساتھ بیٹھی لڑکیاں چرخے کی آواز کے ساتھ ُسریلی آواز میں لوک گیت چھیڑ دیتیں۔

وہ منظر کتنے دلفریب ہوتے تھے۔ اسی دوران چھوٹے بچے اور بچیوں کو اپنی دادی اور نانی کو چرخہ کاتتے انہیں دیکھنے اور ساتھ بیٹھنے کا بڑا شوق ہوتا تھا۔ بچے چرخہ کاتتی دادی یا نانی کے ساتھ بیٹھ جاتے۔ ان کی کوشش ہوتی کہ وہ بھی ان جیسا کوئی کام کریں۔ ظاہر ہے بچے چرخہ تو نہیں چلاسکتے کیونکہ چرخہ اور سوت کاتنا ایک فن اور ہنر تھا۔ بچے جب چلتے چرخے کو اِدھر اُدھر ہاتھ لگاتے تو مائیں ناراض ہوتیں اور وہ بچوں کو دور رہنے کے لئے کہتی تھیں۔

کسی شاعر نے کہا تھا

”بیڑی دا پور ’ترنجن دیاں کڑیاں‘ پھیر نہ بیٹھن رَل کے“ یعنی گزرا ہوا وقت لوٹ کر نہیں آتا، کشتی کے مسافر اور شادی کے بعد ترنجن (چرخہ کاتنے کی محفل) میں چرخہ کاتتے ہوئے گیت گاتی لڑکیاں شاید ہی کبھی اکٹھی ہوں ”۔

چرخہ صوفیانہ اور روحانی معنی میں بھی استعمال ہوا۔ شاہ حسین نے روزمرہ کے استعمال کی اشیاء جو عام لوگ خوب سمجھتے اور یہاں کی روایات کا حصہ تھیں یعنی چرخہ ’سوت‘ ناتا ’بانا وغیرہ کو صوفیانہ انداز میں اپنی شاعری میں سمویا۔

چرخہ بولے سائیں سائیں

بائیڑ بولے گھوں۔

کہے حسین فقیر سائیں دا

میں نا ہیں سب توں

۔ ۔

راہ عشق سوئی دا نکا دھاگہ ہوویں تاں جاویں

باہر پاک اندر آلودہ ’کیہا تُو ں شیخ کہاویں

چرخے کی آواز میں ایک خاص تڑپ جو محبت کرنیوالا ہی سمجھ سکتا ہے۔ یہ محبوب کو یاد کرنے کا ایک ذریعہ بھی ’اس کی پکار میں ایک ہوک جو یادوں کو نئی زندگی بخشتی ہے۔

سُن چرخے دی مِٹّھی مِٹھّی کھوک ماہیا مینوں یاد آوندا

دل وچوں اٹھ دی اے ہوک ماہیا مینوں یاد آوندا

”چرخہ نامہ“ پنجابی شاعری کا ایک تبلیغی اور دینی انداز ہے۔ اس کے ذریعے شاعر مؤثر انداز میں اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ چرخے کو استعار ہ یا تشبیہہ بناکر بے پناہ شاعری کی گئی۔ ”چرخہ نامہ“ نظم میں تصوف کے رنگ بکھرے نظر آتے ہیں جس میں شاعر خود کو چرخے کی مثال دے کر چرخے کے سوت کو اعمال سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ وارث شاہ ’بلھے شاہ‘ خواجہ غلام فرید اور دیگر صوفی شعراء نے اپنی شاعری میں چرخہ کا ذکر کیا ہے۔

شاہ حسین کہتے ہیں ؛

گھم وے چرخے آ گھم

تیری کتن والی جیوے

نلیاں وٹن والی جیوے

اردو میں چرخے کے متعدد محاورے اور شاعری موجود ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں

نواز عصیمی کا شعر؛

ازل سے چاند میں چرخہ چلارہی ہے مگر

نواز اب بھی وہ بڑھیا نڈھال تھوڑی ہے

سبط علی صہبا کا شعر؛

کتنا بوسیدہ دریدہ پیرہن ہے زیب تن

وہ جو چرخہ کاتتی رہتی ہے لڑکی رات کو

امیر خسرو نے کہا؛

کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا

آیا کتا کھاگیا تو بیٹھی ڈھول بجا

سرائیکی وسیب کے شعراء نے بھی چرخے کو اپنی شاعری میں خوب استعمال کیا۔

خواجہ فرید کی کافی 162

چرخہ ڈکھڑی رؤوں روؤں بولے

تند ڈنگی وَل پیندی ہے

(جب انسان کو تکلیف یا دکھ پہنچتا ہے تو وہ بلند آواز میں روتا ہے )

سیف اللہ سیف کہتے ہیں ؛

چرخے تیڈے پونڑیاں تیڈیاں

تنڈوے ودوں ونڈ دے ودوں

قاسم سہانی نے کہا؛

نہ کئی چرخہ نہ کئی پونڑیاں

مکدیاں ویندن تانڑیاں ’ساڈیاں

چرخہ کے حوالے سے کچھ محاورے ملاحظہ ہوں :

”چرخہ پُونی“ (عورت کے ہنر کو کہتے ہیں )

”چرخہ سا پھرنا“ (بہت پھرنا، آوارہ پھرنا)

”چرخہ ہو جانا“ (ضعیف و نحیف ہو جانا)

برفانی عہد کے اختتام کے بعد، دس ہزار قبل مسیح یعنی پتھر کے دور کے دوران ہی انسان ترقی کی طرف بڑھ رہا تھا لیکن ترقی کی رفتار انتہائی سست تھی۔ انسان کو اپنی ضرورتوں کا اندازہ ہونے لگا تھا۔ انسانی خواہشات اور ضرورتوں کے لئے قدرت بھی مہربان تھی۔ خوراک میں پھل سبزیاں تو کھائے جاسکتے تھے لیکن اناج چبانہ آسان نہ تھا۔ اسی ضرورت کے تحت چکی ایجاد ہوئی۔ ابتدائی طور پر بننے والی چکی انتہائی سادہ ’بالکل سل بٹے کی طرح سپاٹ اور اس کے اوپر ایک چھوٹے پتھر سے رگڑ کر اناج اور بیجوں کو پیس لیا جاتا تھا۔

موہن جو دوڑہ اور ٹیکسلا سے 2300۔ 1700 ء قبل از مسیح کے برآمد ہونے والے پتھر ”سل بٹے“ جیسے ہی ہیں۔ وادی سندھ کے تاریخی مطالعے اور ”رگ وید“ میں ہمیں روئی کے ذکر کے ساتھ اس دور کی فصلوں کی معلومات ملتی ہیں۔ ”رگ وید“ میں ”گودھرم“ گندم اور ”ورہی“ چاول کا ذکر ملتا ہے اور وہ ”سل بٹے“ نما چکی پر پیس کر ہی اناج کھاتے تھے۔ مصر میں استعمال ہونے والی چکی وادی سندھ کی چکیوں سے مختلف تھی۔ اس کی وجہ دونوں علاقوں میں انتظامی فرق تھا۔ مصر میں بادشاہت تھی جبکہ سندھ میں کبھی بھی بادشاہت نہ رہی۔ مصر میں محل کے مکینوں اور دیگر متعدد افراد کے لئے ہر وقت چکی پر آٹا پیستا ہوگا۔ یہ کام خادمائیں کرتی تھیں۔ مصر سے برآمد ہونے والے مجسمے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ خاتون آگے کی طرف جھک کر اناج رگڑتی یا پیستی تھی۔

اناج پیسنے کی چکی کا سفر دس ہزار قبل از مسیح سے شروع ہوا تھا۔ طویل سفر کے بعد موجودہ شکل میں دستیاب چکی کو 20 صدیاں بیت چکی ہیں۔ ان چکیوں کا ہر گھر سے رشتہ جڑ گیا تھا۔

سب غذاؤں سے اہم روٹی ہماری بنیادی ضرورت ’ایام قدیم سے ہی روٹی ہماری غذا کا اہم جزو رہی ہے۔ اسی لئے شاید روٹی حاصل کرنے کے لئے تمام تر تگ و دو کی جاتی رہی ہیں۔ روٹی پیسے ہوئے اناج سے ہی بن سکتی ہے اور اناج میں گندم کی روٹی ہی ہماری روزمرہ کی خوراک ہے اس لئے پسائی ایک قدیم فن ہے۔ اُس دور میں ہاتھ چکی کی گڑگڑاہٹ کی آواز پرسکون زندگی کی علامت سمجھی جاتی، اس کی آواز نہ سنی جانا ویرانی تصور کی جاتی تھی۔

وقت کے پہیوں سے صدیوں کے مساقت طے ہوئی اور انسانی شعور بھی بڑھتا گیا۔ انسان کے لئے ہر طرح کے اناج کو ہضم کرنا آسان نہیں جب تک کہ اناج پیس کر پکا نہ لیا جائے۔ قدیم مصری مقبروں سے ملنے والے مجسمے اناج پیسنے کی ابتدائی ہاتھ چکیوں کے استعمال کے نمونے پیش کرتے ہیں۔ وہ چکی دو پتھروں پر مشتمل ہوتی تھی۔ نیچے والے حصے کی سطح معمولی سے ڈھلوانی تاکہ پیسا ہوا آٹا دونوں پاٹوں سے باہر آجائے۔ اوپر والا پتھر نیچے والے سے چھوٹا تھا۔

ہاتھ چکیوں کی بناوٹ تبدیل ہوتی گئی۔ پھر دونوں پتھروں پر کسی نوک دار چیز یا لوہے سے جھر ی ڈالنے لگے جس سے آٹا زیادہ بہتر اور تیزی سے پسنے لگا۔ اوپر والے پتھر میں ایک قیف نما سوراخ بنایا گیا جس میں اناج ڈالتے رہتے اور وہ اناج آہستہ آہستہ دونوں پتھروں کے پاٹوں میں آتا رہتا۔ اتاج پیس کر پاٹوں کے درمیان سے باہر آنے لگتا تھا۔ پانچویں قبل از مسیح میں یونان میں اس ہاتھ چکی میں تبدیلی ہوئی اور اس چکی میں اوپر والے پتھر پرایک لکڑی کا مٹھ لگایا جس سے اوپر والے پتھر کو گھمانے میں آسانی رہتی تھی۔

آٹا پیسنا ایک مشکل اور تھکادینے والا کام اس لئے روز ہی یا دو دن دن کے لئے آٹا پیسا جاسکتا تھا۔ اس چکیوں کو جانور کی مدد سے گھمانا آسان نہیں تھا اس لئے انتہائی طاقت سے ہی یہ چکیاں چلائی جاسکتی ہیں اور یہ مشقت والا کام گھروں میں خواتین ہی کرتی تھیں۔ مزید تبدیلیاں آئیں اور دھرے پر گھومنے والی چکی ایجاد ہوئی۔ یہ جانور کے ذریعے چلائی جاسکتی تھی۔ یہ چکی دوسری صدی قبل از مسیح میں بحیرہ روم کے ممالک میں استعمال کی جانے لگی تھی۔

پہلی صدی قبل از مسیح تک فلسطین میں رہنے والے یہودی ایسی ہی چکی استعمال کرتے تھے۔ جانوروں کی مدد سے چلنے والی چکیاں یونان کے علاقوں میں استعمال ہوتی تھیں۔ یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ پہلے ہاتھ چکی ایجاد ہوئی یا جانوروں سے چلنے والی چکی بنی تھی۔ ہاتھ سے چلنے والی چکیاں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوسکتی تھیں۔ ہاتھ چکی کا قطر 21 سے 24 انچ یا کچھ تھوڑی سی بڑی بھی ہوتی تھیں۔ اوپر والے پتھر کے درمیان میں لگے چول کے باعث اسے گھمایا جاسکتا تھا۔

وزنی یا بڑی ہاتھ چکیوں پر دو خواتین مل کر آٹا پیستیں۔ وزنی پتھر ہونے کے باعث دونوں آمنے سامنے بیٹھ کر ہینڈل کو گھماتیں ان میں سے ایک خاتون وقفے وقفے سے گندم اوپر والے پتھر میں بنے قیف نما سوراخ میں ڈالتی رہتی تھی۔ دوسری عورت چکی کے اطراف میں بچھائے گئے کپڑے یا ٹرے سے آٹا جمع کرتی رہتی۔ کئی ہاتھ چکیوں کی بناوٹ ایسی ہوتی کہ دونوں پاٹوں کے گرد گولائی میں نالی سی بنی ہوتی۔ اس گولائی میں ایک مقام پر کٹ بنا ہوتا جس سے پسا ہوا آٹا باہر نکال لیا جاتا تھا۔

چکی کے حوالے سے کئی اردو محاورے اور ضرب المثل مشہور ہیں

مثلاً ”چکی پھیرنا ’چکی چلانا‘ چکی پیس کر گزارا کرنا“ (نہایت غریب ہونا ’محنت مزدوری کر کے پیٹ پالنا)

”چکی پیسنا“ چکی چلانا ” (آٹا پیسنا ’طویل قصہ شروع کردینا‘ دکھڑا رونا)

ہمارے شادی بیاہ کی رسموں میں ایک رسم ”چکی نا مہ“ بھی ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ رسموں کے نام بھی تبدیل ہوئے۔ ابٹن لگانے کی رسم سے قبل ابٹن پیسا جاتا ہے۔ لڑکیاں اور سکھیاں مل کر ابٹن پیستی تھیں اور گیت گاتی تھیں اسے ”چکی نامہ“ کہتے ہیں۔ ایک گیت ملاحظہ ہو

”میرے میہرے سے آج مجھے آیا ’یہ پیلا جوڑا‘ یہ ہری ہری چوڑیاں“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید غضنفر محمود کی دیگر تحریریں
سید غضنفر محمود کی دیگر تحریریں