اہل کراچی، کچھ دبئی اور لاہور والوں سے سیکھ لیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لکھنے کے لیے بہت باتیں پڑی ہیں اس لیے ابھی یہ نوبت نہیں آئی کہ دبئی کے سفر کا احوال لکھنے بیٹھ جائوں۔ جس کے پاس لکھنے کے لیے کچھ نہ ہو وہ دبئی کے سفر کا حال احوال لکھ سکتا ہے۔ یعنی آنا جانا بھی کیا اور جگہ بھی کیا۔ ایک پرانے شاعر تھے نوح ناروی۔ انھوں نے اپنے بارے میں لکھا کہ نارہ سے نکلا اور آرہ پہنچے، آرے سے نکلے اور نارے پہنچے۔ دبئی کا معاملہ بھی ایسا ہی سمجھ لیجیے۔

کچھ بھی کہہ لیجیے، اس بار مجھے دبئی میں بڑا قابل دید منظر دکھائی دیا، حالانکہ شہر کا موسم بھی اتنا ہی دہلا دینے والا اور عمارتیں بھی اسی قدر سہما دینے والی۔ بتیسویں منزل کے جس اپارٹمنٹ میں مجھے اگلے چار پانچ دی گزارنے تھے، اس کی کھڑکی سے جھلملانے والی روشنیاں ہوٹلوں، دفاتر اور شاپنگ ایریا کی عالمی شان عمارتوں کی تھیں۔ سامنے کی ایک عمارت کا عکس پانی اور گھاس پر لہراتا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ مگر مجھے وہاں جانے سے منع کردیا۔ میرے مہربان میزبان نے کہا، پیدل چلنے کا اپنا شوق یہاں مت پورا کیجیے گا۔ یہ فیصلہ تھوڑا ہے مگر آپ کے لیے زیادہ ہوگا۔ گرمی سے بے حال ہوکر لوگ گر پڑتے ہیں، برداشت نہیں کرپاتے۔ واقعی، میں نے ایک قدم باہر رکھا تو لگا گرمی کے تھپیڑے نے دھکا دیا۔

میں نے اس فاصلے کو دل ہی دل میں دیکھا مگر ان کی بات گرہ میں باندھ لی۔ چناں چہ میں ایئر کنڈیشنڈ عمارت سے نکلا۔ ایئرکنڈیشنڈ شٹل بس میں بیٹھا۔ عمارت کے صدر دروازے پر اترا جہاں سے آگے ہر چیز ایئرکنڈیشنڈ تھی۔ ایئرکنڈیشنڈ واک وے سے پیدل چکتا ہوا میٹرو ٹرین کے ایئرکنڈیشنڈ ڈبّے میں بیٹھا۔ اور لندن کی ٹیوب کے سے انداز میں اگلے اسٹیشن کا نام نشر ہوا تو وہاں اتر گیا۔ مجھے ہنری ملر کا فقرہ یاد آیا جو اس نے امریکا کے لیے لکھا تھا__ ایئرکنڈیشنڈ نائٹ میئر۔ یہ فقرہ دبئی پر اس سے بھی زیادہ صادق آتا ہے۔

جس جگہ جانے کا مجھے مشورہ دیا گیا تھا، وہ دبئی مال تھا کہ یہاں جب تک جی چاہے گھومتے رہیے۔ مال نہیں مول، جیسا کہ عربی میں اس کا نام لکھا جاتا ہے۔ کچھ بھی کہیے، بن مال کے آدمی کے لیے یہ بھی بن مول ہے۔ دنیا کی طرح میں بھی وہاں سےگزر رہا تھا، بازار میں خریدار نہیں تھا۔ کافی کے ایک پیالی کے سامنے بیٹھ کر دنیا کا نظارہ دیکھتا رہا__ خریداروں کا ہجوم، اشیاء کی بھرمار۔ جیسے صارفیت نے سبب کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہو۔ دنیا کی ہرچیز دل کو للچاتی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو کافی کی یہ پیالی بھی کتنی مہنگی معلوم ہوئی۔ اس کی قیمت بھی کس سکّے میں ادا کی جارہی ہے!

کسی بھی نئے شہر میں پہلے پہل میں بے یار و مددگار سا ہو جاتا ہوں۔ جیسے دست و پاکٹ کر رہ گئے ہوں۔ مگر دبئی میں شہر کے نظام کو سمجھنے اور اس سے مانوس ہو جانے میں چند لمحے لگے۔ ہر کام معمول کے مطابق اور بڑے سلیقے سے سرانجام پاتا ہے۔ میں ٹرین سے اترا اور مال میں داخل ہوگیا۔ جیسے یہ میرے روزمرہ کا معمول ہو اور میں یہی کرتا آیا ہوں۔

دبئی پہنچ تو گیا، مگر میں یہاں کروں گا کیا؟ میں نے اس خدشے کا اظہار زیرِلب نہیں بلکہ باآواز بلند کردیا۔ لوگوں سے مشورے ملنے لگے۔ آپ کتابوں کی فلاں دکان پر جائیے اور بڑے اسکرین پر فلم، فلاں سینما میں دیکھ لیجیے، کراچی سے پیرزادہ سلمان نے مشورہ دیا۔ ان کی رائے کی طرح صائب۔ سینما ہال آسانی سے مل گیا، فلم بھی وہی چل رہی تھی اور ٹکٹ بھی مل رہے تھے۔ مگر میں نے سوچا کہ بڑا اسکرین سہی، فلم تو وہی ہوگی اسپائڈر مین! اس فلم کو دیکھوں نہ دیکھوں تو کراچی میں۔ یہاں اس سے سرکیوں کھپائوں؟ وہ وقت بھی میں نے کتابوں کی دکان میں گزار لیا۔

کتابوں کی دکان مایوسی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ دبئی مال میں جابجا ٹچ اسکرین نصب ہیں جن سے آپ کو پتہ چل سکتا ہے کہ آپ کہاں پر ہیں اور فلاں دکان کتنی دور۔ اس سہولت کا فائدہ اٹھا کر فاسٹ فوڈ اور قہوہ خانے ڈھونڈنے میں بچوں کا سا لطف آنے لگا۔ لندن میں ڈبلیو ایچ اسمتھ دکانوں کا باقاعدہ سلسلہ ہے جہاں کتابیں ملتی ہیں۔ یہاں اسکرین پر یہ نام نظر آیا اور میں ہدایت پر عمل کرتا ہوا وہاں جا پہنچا۔ اس دکان میں بس کتاب نہ تھی۔ ٹافیاں، چاکلیٹ، اسٹیشنری کا سامان، متفرقات۔ الٹے پائوں واپس چلا آیا۔ مگر کینو کونیا نے کسر پوری کردی۔

میرے پسندیدہ لکھاری حورخے لوئس بورخیس نے لکھ دیا ہے کہ اس کے لحاظ سے جنّت کبھی نہ ختم ہونے والی لائبریری کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے۔ مجھے بھی فردوس بریں کا نمونہ نظر آتے آتے رہ گیا، کتابوں کی ہوش ربا گرانی نے چونکا دیا۔ داخل ہوتے ہی ایک طرف مشرقِ وسطیٰ، پھر ایشیا میں چین، جاپان، ہندوستان اور پاکستان کے ادیبوں کی کتابیں۔ اس کے بعد بڑے سلیقے اور ترتیب سے کتابیں الماریوں میں سجی ہوئی اور دعوتِ مطالعہ دیتی ہوئی، کھانے پکانے کی ترکیبوں والی کتابوں کے ساتھ لکڑی کے بنچ رکھے ہوئے تھے جہاں دیر تک بیٹھ کر میں ورق گردانی کرتا رہا، بہت سی کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھتا رہا۔

یہ بھی دکانوں کا ایک بین الاقوامی سلسلہ ہے جس کا آغاز غالباً جاپان سے ہوا۔ اس سے میرا تعارف کوالالمپور میں ہوا۔ میں نے دیکھا اور بقول شاعر، میر سو جان سے نثار ہوا۔

غُنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل

خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا

مختلف شہر مجھے کتابوں کی دکانوں کے حوالے سے اچھے لگتے ہیں۔ لندن میں فوئلز کتابوں کی مشہور دکان ہے مگر چیرنگ کراس کے آس پاس پرانی کتابوں کی دکانوں میں بڑی دل چسپ کتابیں مل جاتی ہیں۔ نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی کے آس پاس اور بوسٹن میں ہارورڈ یونیورسٹی کے گرد و نواح میں ایسی کتنی ہی دکانیں ہیں۔ دہلی میں خان مارکیٹ میں واقع بحری سنز خوب جگہ ہے مگر اردو کتابوں کے لیے جامعہ نگر جانا ہوتا ہے۔ لکھنؤ میں رام ایڈوانی کی تاریخی دکان بھی دیکھنے کا موقع ملا ہے اور ایڈوانی صاحب کو بھی۔ ان سے تفصیلی تعارف چودھری محمد نعیم کی بدولت ممکن ہوا۔ جس جگہ میں نے سب سے زیادہ وقت گزارا ہے وہ لاہور کی ریڈنگز ہے۔ صرف کتابوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ اس سے ملحقہ چھوٹی سی کافی شاپ میں دوستوں کے ساتھ۔ لاہور کی دی لاسٹ ورڈ بھی مجھے پسند ہے اور اسلام آباد کی سعید بک بینک بھی جس کے آس پاس پرانی کتابوں کی کئی دکانیں بارونق ہیں۔

میں ساون رین کے اس سپنے سے چونک اٹھتا ہوں جب میرے ایک دوست نے یاد دلایا کہ پسندیدہ دکانوں کی اس فہرست میں کراچی کہاں ہے؟ واقعی، کراچی بہت پیچھے رہ گیا، سلسلہ وار دکانوں کی کئی شاخیں موجود ہیں مگر ان کا مزاج مختلف ہے۔ یہ اس طرح کی دکانیں ہیں جیسے جوتوں اور کپڑوں کی دکانیں ہوتی ہیں۔ بس آپ گئے اور مال خرید لیا۔ کہانی ختم، پیسہ ہضم۔

ایک بار اس کمی کا احساس ہوا تو پھر دکانیں یاد آنے لگیں اور وہ لوگ جو دکان اپنی بڑھا گئے۔ صدر کے علاقے میں بیسیوں دکانیں تھیں۔ پرانی کتابوں کی دکان ٹٹ بٹز(Titbits) ، روسی کتابیں بھی مل جایا کرتی تھیں۔ میٹروپول کے سامنے مڈ ٹائون بک اسٹال۔ اور نہ جانے کتنی ہی چھوٹی بڑی دکانیں جن کے نام کے ساتھ میرے دل میں تختی لگی ہوئی ہے کہ یہاں سے فلاں کتاب حاصل ہوئی تھی، اس لیے یہاں سجدۂ تعظیم واجب ہے۔

سب سے بڑھ کر ریگل سینما کے سامنے تھامس اینڈ تھامس۔ اردو کے علاوہ انگریزی کی تازہ ترین ادبی کتابیں یہاں دیکھنے کو ملتی تھیں۔ سنا ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد اس دکان میں ممتاز شیریں اور ان کے شوہر بھی حصہ دار تھے۔ عسکری صاحب بھی یہاں سے کتابیں حاصل کرتے تھے۔ قرۃ العین حیدر نے بھی اس کا ذکر خاص طور پر کیا ہے۔ کراچی کے کتنے ہی ادیب، شاعر یہاں آتے تھے۔ کتابوں کے رسیا اور طالب علم۔ پھر اس دکان کا اپنا ایک انداز تھا، ایک مخصوص دھیما دھیما سا کلچر۔ کہنے کو تو وہ اب بھی موجود ہے، لیکن

اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے

ایک زمانے میں کراچی یونیورسٹی سے روزانہ احمد فواد، کلیم رضا خاں، قیصر عالم اور میں تھامس اینڈ تھامس جایا کرتے تھے اور دیر تک بیٹھے رہتے۔ یہاں تک کہ نئے آنے والے ہمیں اس دکان کے سیلزمین سمجھنے لگے۔ ہم اس پر بہت خوش ہوئے۔ کتابوں کے درمیان وقت گزرتا بھی کیسے تھا۔

تیزی سے بڑھتے، پھیلتے کراچی میں کتابوں کی دکانیں دیکھتے ہی دیکھتے عُنقا ہوگئیں۔ جیسے سینما اور پرانے آثار مٹ گئے۔ شہر والوں کو اس کمی کا احساس ہے؟ اب تو یہ حال ہے کہ فریئر ہال میں اتوار کے دن پرانی کتابوں کا بازار لگانے والوں اور گلشنِ اقبال میں ٹھیلے پر کتابیں بیچنے والوں کو بھی پیچھے دھکیلا جارہا ہے۔ جو نیا حکمران صاحبِ اقتدار بنتا ہے، وہ ان لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے۔

یہ ظلم چند دکان داروں یا ٹھیلے والوں پر نہیں ہے۔ یہ کتابیں، پڑھنے والوں پر بھی ظلم ہے۔ کراچی کو دنیا کا جدید ترین اور بارونق شہر بنانے کا دعویٰ کرنے والے کیا کتابوں سے عاری شہر کا خواب دیکھ رہے ہیں؟ لاہور سے سبق حاصل کریں۔ اور کچھ نہیں تو دیکھ لیں کہ دبئی جیسے بے روح شہر میں کتابوں کی دکان میں کتنی رونق کا اہتمام ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •