اب وقتِ ٹویٹ ہے آیا


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"دس ستمبر کو ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے سوشل میڈیا کے پاکستان میں قدم جمانے کے بعد پہلی مرتبہ بقر عید پر بکرے کی بجائے فوج کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔

موٹروے پر موٹروے پولیس اور فوجیوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کی خبر اس وقت سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہے۔ اس بارے میں دو مختلف موقف سامنے آ رہے ہیں۔

موٹروے پولیس کے موقف کے مطابق دو گاڑیاں نہایت تیز رفتاری سے خطرناک ڈرائیونگ کرتی ہوئی جا رہی تھیں۔ پولیس نے انہیں رکنے کا واضح اشارہ کیا مگر وہ نہ رکیں۔ اس پر آگے جا کر ان کے سامنے گاڑی لا کر ان کو رکنے پر مجبور کیا گیا۔ گاڑیوں میں کیپٹن قاسم اور کیپٹن دانیال نامی دو افسر موجود تھے۔ پولیس کے بیان کے مطابق جب تیز رفتاری پر چالان کرنے کی کوشش کی گئی تو دونوں افسران لڑنے جھگڑنے لگے۔ کیپٹن قاسم نے نائن ایم ایم کا پستول نکالا اور پولیس افسران پر تان لیا۔ کیپٹن دانیال نے فون پر کمک طلب کی اور کچھ دیر میں ایک میجر صاحب کی کمان میں پچیس کے قریب کمانڈو وہاں پہنچ گئے اور موٹروے پولیس کے افسران کو مارنے پیٹنے کے بعد اٹک قلعے میں لے گئے جہاں سے انہیں اعلی افسران کی مداخلت پر چھڑایا گیا۔

نیٹ پر دکھائی دینے والے فوجی افسران کے مبینہ موقف کے مطابق دونوں فوجی افسران گاڑی چلا رہے تھے اور انہوں نے پولیس کی گاڑی کو اوورٹیک کیا، وہ غالباً تیز رفتار اور انتہائی غیر محتاط طریقے سے ڈرائیو کر رہے تھے۔ پولیس نے گاڑی ان کے سامنے لا کر ان کو رکنے پر مجبور کیا اور گاڑی سے چابیاں نکال لیں۔ کپتان صاحب نے اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ وہ فوجی افسر ہیں۔ یہ سنتے ہی پولیس افسر انہیں برا بھلا کہنے لگے اور انہیں اور فوج کو گالیاں دینے لگے اور دونوں کپتانوں کو مارنے پیٹنے لگے۔ پولیس کے اہلکاروں کی تعداد سات بیان کی گئی ہے۔ اس پر اٹک قلعے سے کپتانوں کو کمک بھیجی گئی۔ دونوں طرف سے کچھ دھینگا مشتی ہوئی ہو گی۔ پھر ان کو پولیس سٹیشن لے جایا گیا جہاں کہ ڈی آئی جی اور کمانڈنگ افسر موجود تھے۔ پھر فیصلہ کیا گیا کہ معاملے کو بھائی چارے سے حل کرنے کے لیے سب کو اٹک قلعے لے جایا جائے۔ جب صلح صفائی ہو گئی تو رات کو اٹک قلعے کے کمانڈنگ افسر کو پتہ چلا کہ پولیس والوں نے پرچہ کٹا دیا ہے۔

\"motorway-police\"

اب آپ خود فیصلہ کریں کہ کون سا موقف آپ کو حقیقت کے قریب دکھائی دیتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فوجی افسران کی طرف سے اس طرح کے رویے کی شکایت سننے میں آتی رہی ہے، اور موٹروے پولیس سے روزانہ سینکڑوں افراد کا واسطہ پڑتا ہے اور اسے پاکستان کا ایک بہترین، صاف ستھرا اور خوش اخلاق ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ ہم عادی مجرم تو نہیں ہیں لیکن دو تین مرتبہ موٹروے والوں نے ہمارا بھی بلاوجہ چالان کر دیا ہے کہ آپ تیز رفتار سے گاڑی کیوں چلا رہے تھے حالانکہ ایک سو چالیس پچاس کی سپیڈ ایسی کوئی خاص تیز تو نہیں ہوتی ہے۔ بہرحال ان موٹروے پولیس افسران کی خوش اخلاقی اور بہترین سروس کے ہمارے سمیت سبھی شاہد ہیں۔

ایسے میں سوشل میڈیا پر عوام کی غالب اکثریت موٹروے پولیس کی حمایت میں کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ خاص طور پر اس واقعے کی تصاویر ریلیز ہونے کے بعد سے تو بہت کم افراد ایسے ہیں جن کو موٹروے پولیس کا موقف غلط ہونے کا شبہ ہے۔

اس معاملے کی شدت کو دیکھتے ہوئے فیس بک پر آئی ایس پی آر آفیشل نے اپنا موقف جاری کیا کہ موٹروے پولیس کے افسران اور دو نوجوان فوجی افسران کے درمیان جھگڑے کے معاملے پر انکوائری کی جا رہی ہے، قانون کے مطابق انصاف کیا جائے گا۔

\"motorway-police-2\"آئی ایس پی آر آفیشل کی اس پوسٹ پر کمنٹ کرنے والے عوام کی غالب اکثریت موٹروے پولیس کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

اصل معاملہ تو تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا، مگر اس وقت جو رجحان چل رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس واقعے نے فوج کی اس ساری ریپوٹیشن پر پانی پھیر دیا ہے جو کہ جنرل راحیل شریف کے دور میں نہایت محنت سے بنائی گئی تھی۔ محض پانچ سو روپے کے چالان سے بچنے کی خاطر فوج کی ریپوٹیشن کو اس قدر زیادہ نقصان پہنچا دینا ایک افسر کے شایان شان نہیں ہے۔

جنرل راحیل شریف صاحب کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک تو وہ ہے جو کہ جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر شازیہ اور جنرل کیانی نے خروٹ آباد کے واقعے کے بعد اختیار کیا تھا، اور رائے عامہ اور عوامی جذبات کو قطعاً نظرانداز کرتے ہوئے غیرشفاف طریقے سے ملزمان کو بچا لیا تھا اور فوج کے لیے ایک مستقل بدنامی کا باعث بن گئے تھے۔

دوسرا رویہ وہ ہے جو کہ جنرل آصف نواز جنجوعہ اور جنرل جہانگیر کرامت نے حیدرآباد میں میجر ارشد جمیل کے کیس میں دکھایا تھا۔ جون 1992 میں ٹنڈو بہاول، حیدر آباد، میں میجر ارشد جمیل نے نو بے گناہ دیہاتیوں کو ایک ذاتی جھگڑے کی وجہ سے دہشت گرد قرار دے کر مار دیا تھا۔ اس پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل آصف نواز جنجوعہ نے میجر ارشد جمیل کا کورٹ مارشل کیا اور انہیں سزائے موت سنا دی گئی۔ 1996 میں جنرل جہانگیر کرامت کے دور میں جائے وقوعہ کے قریب ہی حیدرآباد جیل میں سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔ اس ایک کورٹ مارشل نے پاک فوج کو سندھ میں جو بے تحاشا عزت دی، وہ ایک مثال بن چکی ہے۔

اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ کافی گرم ہے۔ فوج ان محاذوں پر تو دہشت گردوں کے خلاف کام کر سکتی ہے جہاں وہ علاقوں پر قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ لیکن شہروں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا صرف پولیس کے لیے ہی ممکن ہے۔ تاریخ سے یہی سبق ملتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سب سے اہم ہتھیار ایک موثر پولیس ہی ہے۔ اس موقعے پر جبکہ پنجاب میں بھِی آپریشن شروع ہو چکا ہے، اس افسوسناک واقعے نے فوج اور پولیس کے درمیان ایک بڑی خلیج پیدا کر دی ہے۔ پولیس کے سینئیر افسران میں شدید بے چینی دکھائی دے رہی ہے اور حالات کو نہ سنبھالا گیا تو دونوں اہم فورسز کے درمیان ایک ایسی مخاصمت شروع ہو سکتی \"motorway-police-3\"ہے جو کہ پاکستان کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو گی۔

صورت حال کو بہتر کرنے اور فوج کا امیج بحال کرنے کے لیے جنرل راحیل شریف کو خود اپنا موقف براہ راست یا جنرل عاصم باجوہ کے ذریعے دینا چاہیے۔ انصاف ہونا ہی کافی نہیں ہوتا، انصاف ہوتا دکھائی دینا بھی چاہیے۔

دوسری طرف اس میں ہماری سیاسی قیادت کے لیے بھی بہت بڑا سبق موجود ہے۔ کیا وجہ ہے کہ عوام اس طرح موٹروے پولیس کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں جبکہ سیاسی حکومت کے خلاف جب بھی مارشل لا لگایا گیا ہے تو بڑے پیمانے پر مزاحمت نہیں ہوئی؟

ترکی میں جب چند فوجی دستوں نے سول حکومت کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو عوام کی بڑی تعداد نے اس بغاوت کو اپنی جانیں دے کر ناکام کیا۔ صدر ایردوان کی حمایت کرنے والوں میں ان کی سیاسی مخالف ریپبلکن پارٹی اور دشمن سمجھی جانے والی کرد پارٹی بھی شامل تھے۔ ان سب پر عوام کا پریشر تھا۔ جمہوری حکومت کے دس برس میں عوام کی آمدنی چار گنا سے زیادہ بڑھی تھی اور مجموعی ملکی صورت حال بہت بہتر ہو گئی تھی۔ عوام کو جمہوریت نے ڈیلیور کر کے دیا تھا۔ اس لیے عوام جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہو کر اس کی حفاظت کے لیے اپنا خون دے رہے تھے۔

موٹروے پولیس بھی عوام کو ڈیلیور کر کے دکھا رہی ہے۔ عوام اسی وجہ سے اس کے ساتھ کھڑے ہیں حالانکہ پے در پے ہونے والے سروے یہی ظاہر کرتے ہیں کہ عوام کے نزدیک پاک فوج سے زیادہ قابل اعتبار ادارہ کوئی دوسرا نہیں۔ اگر یہی واقعہ پنجاب پولیس کے ساتھ پیش آیا ہوتا، تو گمان غالب یہی ہے کہ اس پر پولیس کو برا  بھلا کہا جا رہا ہوتا اور عوام ان دونوں کپتانوں کے ساتھ ہوتے۔ فرق ریپوٹیشن کا ہے۔

سیاسی قائدین بھی اگر جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو عوام کو کچھ ڈیلیور کرنے پر توجہ دیں۔ صرف شور مچانے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “اب وقتِ ٹویٹ ہے آیا

  • 13/09/2016 at 1:32 صبح
    Permalink

    اس واقعہ سے ایک بات عوام سمجھ چُکے ہیں کہ سپاہی اور فوجی میں کیا فرق ہوتا ہے۔ کیا ایک سپاہی فوجی ہوسکتا ہے یا ایک فوجی سپاہی بھی ہوتا ہے؟ ایک زمانہ تھا کہ سپاہی کا مطلب فوج میں بندوق بردار سرحد پر ملک کی حفاظت میں جنگ کرنے والا ہی سپاہی سمجھا جاتا تھا مگر اب سپاہی کا مطلب فوجی ہرگز نہیں ہے بلکہ ملک کے اندر شہریوں کی حفاظت کرنے والے کو سپاہی کہتے ہیں۔ آج ملک کی سرحدوں کے محافظ اور اسکے شہریوں کے محافظوں کے درمیان مڈبھیڑ کا منظر سامنے ہیں۔ عوام کی دن رات حفاظت پر مامور سپاہی جو آئے دن ہر طرح کی دہشت گردی کا شکار سب سے پہلے ہوتے ہیں آج فوج کے سپاہیوں سے اپنی ایمانداری اور ڈیوٹی فل ہونے کی سزا میں جوتے کھا رہےہیں۔ اگر کریڈیبلیٹی کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں تو دھشت گردی کی جنگ میں فوج کے سپاہیوں کی نسبت پولیس کے سپاہیوں نے اپنی جان کے نذرانے ان سے زیادہ دئے ہیں جنکا نام بھی کوئی نہیں لیتا جبکہ جوتے مارنے والے فوجیوں کو یہ فخر ہے کہ اس ملک میں ان سے زیادہ ڈیوٹی فل، محب وطن اور کون ہوسکتا ہے ؟ دیکھا جائے تو بات فوجیوں کی ٹھیک ہے ان کو حق ہے کہ وہ اپنی عوام ، ان کی پارلیمنٹ اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس کو جوتے ماریں کیوں کہ اس غریب ملک کے مفاد میں ستر فیصد بجٹ ان کے لئے اور تیس فیصد پر تمام ملک جو چلتا ہے۔ اس فوج نے آج تک جتنی بھی جنگیں لڑیں جیتیں اور اس کے تمغے سجائے سب اپنے ملک اور اپنی عوام کے ساتھ جنگیں لڑیں ۔ مارشلاء لگا کر استانیوں، نرسوں اور پٹواریوں کے تبادلے سے لیکر بجلی کے میٹر چیک کرنا ،زرخز زمینیں آباد کرنا پراپرٹی ڈیلرز بن کر کروبار کرنا وغیرہ بھی فوج کا اعزاز ہے کہ انھوں نے یہ سب کر کے ملک کودشمنوں سے بچایا ہے۔ مدرسوں کی لیبارٹریز میں تیار شدہ مہلک ہتھیار "طالبان اور خودکش بمبار” کا فارمولہ بھی ملک کے مفاد میں تھا مگر الٹا پڑ گیا لہذا آجکل اپنے ناجائز خطرناک ہتھیار کو تلف کرنے میں ملکی مفاد اور ڈیوٹی فل ہیں ۔ اب جو بھی کہیں ستر کی دہائی سے اسی کی دہائی اور پھر وہاں سے آج تک کی تمام دہائیوں میں اس ملک کی پانچ نسلوں نے جو سیکھا ہے اس کی بنیاد پر نئی نسل کو اب مزید چوتیا بنانا ناممکن ہے۔ مذھب کی افیون سے کب تک دھندہ چلے گا۔

    • 14/09/2016 at 7:41 صبح
      Permalink

      police walay is liay achy lagty hain k Jo bhe ghalt karo or reshwat do ghar jao police bary logoon ki ghulam hay lakin army nahin

Comments are closed.