شاباش امریکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خلیج میں امریکی جنگی بحری بیڑے کی موجودگی کی وجہ سے ایران اور امریکہ کشیدگی میں دن دگنا رات چوگنا اضافہ ہوتا جارہا ہے جس سے خطے کے حالات کسی بھی وقت بہت خطرناک صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ چند ہفتے قبل ایران نے امریکہ کے ایک ”ڈرون“ کو اس وقت مارگرایا تھا جب وہ آزاد سمندر کی حدود کراس کرتا ہوا ایران کی حدود میں داخل ہو کر یا تو کسی تنصیب کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا یا پھر کسی جاسوسی کے ارادے سے ایرانی حدود میں داخل ہوا تھا۔

یہ بات فرعون مزاج امریکہ کی پیشانی پر کئی شکنیں ابھار گئی تھی اور فرعونِ اعظم نے ایران کے خلاف پہلے تو نہایت متکبرانہ پیغام میں کہا کہ ایران کو اس ”جاہلانہ“ حرکت کی سزا بھگتنا ہوگی پھر بزدل بھارت کی طرح بنا اعلان جنگ رات کی تاریکی میں ایران پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا کر خلیج میں موجود اپنی افواج کو حکم دیا کہ اس گستاخانہ حرکت پر ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی جائے۔ حملے کی منصوبہ بندی مکمل ہو چکی تھی، ہوائی جہازوں میں ایندھن اور گولہ و بارود بھردیا گیا تھا۔

بحری رن وے پر الرٹ جاری ہو چکا تھا۔ بحری جہاز تیار کردیئے گئے تھے۔ جنگی کشتیاں اور سب میرین حرکت میں آچکی تھیں اور خلیج میں موجود افواج چاق و چوبند کھڑی تھیں کہ حملے سے ٹھیک دس منٹ قبل فرعون کا فون آیا کہ ایران پر فی الحال حملہ نہ کیا جائے۔ اب امریکہ لاکھ دلیل دے کہ حملہ کی تمام تر منصوبہ بندی کے باوجود ہم نے (امریکہ نے ) ایران پر حملہ معصوم انسانوں کے زیاں کے ڈر سے نہیں کیا یا ہم نے ایران کو ایک اور موقعہ فراہم کیا کہ وہ ہمارے ہاتھ پر ”بیعت“ کر کے ”دارالامان“ میں داخل ہو جائے لیکن ہم جانتے ہیں کہ جس قوم کو اللہ پر اندھا اعتماد ہو اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ ہی لیتا ہے اور وہ ہر طاقتور گھمنڈی کے دل پر ایسی ہی ہیبت طاری کر دیا کرتا ہے ورنہ کہاں ایران اور کہا امریکہ، دونوں میں پہاڑ اور گلہری کا فرق ہے۔

امریکہ کے ڈرون کو گرائے کئی ہفتے گرز چکے ہیں لیکن تاحال امریکہ بہادر کی یہ مجال نہیں ہو سکی کہ وہ اپنے زخم کا حساب ایران سے مانگ سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سانپ اگر زخمی ہوجائے تو اور بھی خوفناک ہوجاتا ہے لیکن تمام تر طاقت اور خوفناکیت کے باوجود اگر امریکہ انتقام لینے یا جوابی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے تو کوئی نہ کوئی ڈر اور خوف ایسا ضرور ہوگا جو اس کی راہ میں چٹان بناہوا ہوگا۔

خفت ایک ایسا احساس ہے جو انسان کو اس کے اپنے اندر سے بے چین کیے رکھتا ہے۔ کوئی اگر اس گمان میں ہے کہ امریکہ خلیج میں موجود ہونے کے باوجود اور ایرانی سرحدوں کے نہایت قریب ہوتے ہوئے بھی ایران کے خلاف کچھ نہ کر پارہا ہو تو اس کے اندر جو آگ بھڑک رہی ہوگی وہ اس کے وجود کو جھلسائے نہیں دے رہی ہوگی تو اس گمان کو سلام ہی کیا جاسکتا ہے۔ شاید اسی خفت کا نتیجہ ہے کہ اب وہ پوری دنیا کے سامنے شور مچا رہا ہے کہ اس نے ایران کا ایک ”ڈرون“ جو اس کے جنگی ہدف سے صرف چند سو گز ہی دور رہ گیا تھا، اس نے اسے مار گرایا ہے۔

گویا ایک ڈرون کے بدلے میں ایک ڈرون گراکر جیسے اس نے دنیا کو یہ بتایا کہ جو خفت اسے اپنے ڈرون کے مار گرائے جانے کی صورت میں چند ہفتے قبل اٹھانا پڑی تھی اب اس کا بدلہ برابر ہو چکا ہے ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا، میں سب کو آبنائے ہرمز میں ہونے والے واقعے کے بارے میں بتاتا چلوں جس میں امریکی یو ایس ایس باکسر جنگی جہاز نے شرکت کی۔ انھوں نے بتایا کہ ایرانی ڈرون نے دفاعی کارروائی کی ہے جو کہ جہاز سے تقریباً ایک ہزار گز کے فاصلے پر پہنچ گیا تھا۔

متعدد بار امریکہ کی جانب سے تنبیہ کی گئی لیکن پھر جہاز اور اس کے عملے کی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر ڈرون کو مار گرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں جاری اشتعال انگیز کارروائیوں کی حالیہ مثال ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات، لوگوں اور دلچسپیوں کا دفاع کرے۔

امریکہ کہ یہ کارروائی ممکن ہے کہ دنیا میں اس کا سربلند کردے کیونکہ طاقت کے آگے تو ویسے ہی سب سجدہ ریز ہوتے ہیں لیکن کیا اس کارروائی سے ایران دباؤ میں آسکتا ہے؟ ، یہ ہے وہ اصل نقطہ جس پر امریکہ کو ہی نہیں، دنیا کے ہر ملک کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ایران نے امریکی ڈرون کو اپنی سمندری حدود میں مار گرایا تھا، خیال یہی کیا جارہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگی انداز جنون سے تو ایران اب تک محفوظ ہے لیکن ایران پر لگائی جانے والی اور بہت ساری پابندیاں ایران کے لئے مشکلات ضرور پیدا کر رہی ہوں گی لیکن جب قومیں کوئی اٹل فیصلہ کر لیتی ہیں تو کسی بھی قسم کی کوئی مشکل ان کے لئے مشکل نہیں رہتی۔

امریکی ڈرون گرانے کے بعد ایران کو جن مزید پابندیوں کا سامنا ہے اس قسم کی پابندیوں کا سامنا ایران کو کئی دہائیوں سے ہے لیکن ایران کا نہ جھکنے کا عزم آج تک متزلزل نہ ہو سکا۔ حالیہ امریکی پابندیوں کے باوجود بھی ایران اسی طرح جما کھڑا ہے اور یہ بات بھی زخمی سانپ (امریکہ) کے لئے نہایے کبیدگی کا سبب بنی ہوئی ہوگی۔

ادھر امریکہ کے دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کا ”ڈرون“ مار گرایا ہے، ایران نے اس قسم کی کسی بھی کارروائی کا یا ایرانی ڈرون گرائے جانے سے انکار کیا ہے۔ جب ایران نے امریکی ڈرون گرایا تھا تو یقیناً ایران کے پاس ناقابل تردید شواہد رہے ہوں گے لیکن کیا امریکہ کے پاس بھی ایسے ہی ناقابل تردید شواہد ہیں؟ اس سلسلے میں ٹرمپ کی خاموشی ابہام ضرور پیدا کرتی ہے اور دنیا منتظر ہے کہ امریکہ کا صدر ایران کے ڈرون گرانے کے دعوے کو سچ ثابت کرے۔

امریکہ کے خلیج میں آنے کا مقصد صرف ایران کو قابو میں کرنا، ایران کی ایٹمی صلاحیت کو حدود میں رکھنا اور ایران کو اپنے آگے جھک جانے پر مجبور کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا۔ اگر ان باتوں کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ امریکہ اپنی اس پالیسی میں 100 فیصد ناکام ہو چکا ہے۔

امریکہ کے دل میں کیا پوشیدہ ہے، یہ جان لینا کوئی آسان کام نہیں۔ ممکن ہے کہ ایران کو دبانا ایک بہانہ ہی رہا ہو، اصل مقاصد کچھ اور ہی ہوں۔

دنیا جانتی ہے کہ امریکہ افغانستان میں بہت ہی بری طرح پھنسا ہوا ہے اور وہ وہاں سے اپنی عزت و آبرو اور جان و مال کو خیریت کے ساتھ نکال لیجانے کی فکر میں مبتلا ہے۔ افغانستان سے انخلا کا معاملہ سانپ کی منھ میں چھپکلی کی طرح بن کر رہ گیا ہے جس کا اگلنا یا نگلنا، دونوں ہی گلے پڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں یہ گمان کرنا کہ امریکی بحری بیڑا صرف ایران کے خلاف عزائم لے کر خلیج میں داخل ہوا ہے، نادانی ہی ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آخر یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

پاکستان کے موجودہ حکمران بھی امریکہ کی مخالفت پر ہی عوام میں مشہور ہوئے تھے۔ ایک سال تک ان کی بھی بھرپور کوشش رہی تھی کہ وہ چین اور روس کے سہارے پاکستان کی نیا کو پار لگا سکیں لیکن لگتا ہے کہ امریکہ کا جاہ و جلال ان حکمرانوں کو بھی ”یوٹرن“ لینے پر مجبور کر گیا ہے جس کی تازہ ترین دلیل حکمرانوں کا دورہ امریکہ ہے جو اسی ہفتے ہونے جارہا ہے۔

ان تمام حقائق کو سامنے رکھا جائے تو خلیج میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی، ایران پر لگائی جانے والی اقتصادی پابندیاں، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی کڑی شرائط، افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا اور آخر میں پاکستانی حکمرانوں کے سروں کا امریکہ کے آگے جھک جانے پر مجبور ہوجانا، سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں اور اس بات کا اعتراف کہ دنیا کا کوئی بھی ملک نہ تو مسلمانوں کی ہمدردی کرنے کے لئے تیار ہے اور نہ ہی اس پوزیشن میں ہے کہ وہ امریکہ کے مقابل ڈٹ کر کھڑا ہو سکے۔ اس لئے یہ کہنا کہ ”شاباش امریکہ“، فی زمانہ اتنا غلط بھی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •