نیا پاکستان یا اسلامی جمہوریہ تضادستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جج ارشد ملک کی ویڈیو کے بعد جس طرح حکومت نے ریاستی اداروں کو نواز شریف فیملی کے خلاف استعمال کر کے اپنے انتقام اور بغض کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس سے فاشسٹ حکومت اور جناب وزیراعظم کی آمرانہ اور منتقم مزاج شخصیت کے گھناؤنے اور سازشی پہلو تو پوری طرح بے نقاب ہوئے ہی ہیں مگر ملک کے لیے اس سے زیادہ تباہ کن اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ ریاستی اداروں کی ساکھ بری طرح مجروح ہو رہی ہے۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب عمران خان کے دھرنا ون اور ٹو کے دوران جب احتجاجی مظاہرین نے شہریوں کے راستے مسدود کر کے اور امن و امان کو داؤ پر لگا کر اسلام آباد پر چڑھائی کی تھی اور پارلیمنٹ پر ہلہ بولنے اور سپریم کورٹ کو دھوبی گھاٹ بنانے کے بعد پی ٹی وی کی بلڈنگ پر قبضہ کرلیا تھا تو وزیر داخلہ نے رینجرز کے سربراہ کو مظاہرین کو پیچھے ہٹانے کا حکم دیا تھا مگر ڈی جی رینجرز نے یہ کہہ کر اپنے باس کے حکم کو جوتے کی نوک پر رکھا تھا کہ ہم اپنے لوگوں کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اسی دوران نواز شریف یا مریم نواز کے کسی کیس کے دوران جب وزیر داخلہ احسن اقبال نے نیب عدالت کے اندر جانے کی کوشش کی تو نیب کے سپاہیوں نے انہیں زبردستی اندر جانے سے روک دیا تھا۔ یہ باتیں تو اب کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں رہیں کہ دھرنوں کے پس پردہ کون سی قوتیں اور کیا مقاصد پوشیدہ تھے۔

یہ سب باتیں ہمیں اس لیے یاد آئیں کہ سابق وزیر اعظم شاید خاقان عباسی کی گرفتاری کے وقت نیب ٹیم کے ہمراہ رینجرز کے جوانوں کی بھی اچھی خاصی تعداد تھی جس کا برملا ذکر جناب احسن اقبال نے اپنی پریس کانفرنس میں کیا ہے۔ جج ارشد ملک کی متنازعہ ویڈیو آنے کے بعد اگر چہ انہیں وقتی طور پر عہدے سے الگ کر لیا گیا ہے مگر اس کے بعد ریاستی اداروں کے ذریعے مسلسل جس انداز سے چیزوں کو ہینڈل کیا جا رہا ہے اس سے بالکل واضح ہو رہا ہے کہ جج صاحب کی قربانی دے کر ایک مرتبہ پھر نواز شریف، مریم نواز اور ن لیگ کو عبرتناک سزا دی جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر عمران خان اور ریاستی اداروں کو پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کے عوام کا سیاسی، سماجی اور قانونی شعور اب پختہ تر ہو رہا ہے اور وہ کرپشن کی بیخ کنی کے نعرے کی آڑ میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کو دیوار سے لگانے کی مذموم کوشش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

تخلیق کاروں اور کاری گروں کی ناقص فہم اور بعید از عقل حکمت عملی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ ایک ہی جیسے واقعات کے وقوع پذیر ہونے کے بعد ان سے باہم متضاد نتائج اخذ کر تے ہوئے تفتیش و تحقیق کے دہرے معیار اپنا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ آج جو عدالت اور معزز جج صاحبان ارشد ملک کی ویڈیو کے حوالے سے جج کے گھناؤنے کردار کو دیکھنے کے بجائے ویڈیو بنانے والوں کو تلاش کر کے ان کا تانا بانا جیسے تیسے نواز شریف فیملی سے جوڑ کر انہیں مزید سزائیں دینے کے لیے بے تاب ہو رہے ہیں، یہی معزز جج صاحبان ایک سال قبل ایسی ہی ویڈیوز دیکھ کر ن لیگ کے دانیال عزیز، نہال ہاشمی اور طلال چودھری کو پانچ پانچ سال کے لیے نا اہل قرار دے چکے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ پچھلے دنوں چئیرمین نیب کی اخلاق باختہ ویڈیو کے حوالے سے تو ویڈیو بنانے والے کو تلاش کر کے اس پر سائیبر کرائم کے ضمن میں پرچہ درج نہیں کیا گیا۔ جب بھی کسی سرکاری، نیم سر کاری ملازم، استاد، مدرسے کے معلم، پولیس اہلکاریا تاجر و دکاندار کی متنازعہ ویڈیو منظر عام پر آئی ہے تو سب سے پہلے ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کو معطل کیا گیا ہے۔ سیف الرحمن اور جسٹس ملک قیوم کی مبینہ ٹیپ کا انجام بھی جسٹس صاحب کی عہدے سے برخاستگی کی صورت میں ہوا تھا۔

مگر جج ارشد ملک کی یہ پہلی ویڈیو ہے جس میں جج صاحب کے ”کار ناموں“ سے مکل طور پر صرف نظر کر کے سارا زور ویڈیو بنانے اور بنانے والوں کی طبیعت صاف کرنے پر آزمایا جا رہا ہے۔ چئیرمین نیب کی ویڈیو آنے کے بعد جس طرح آئے دن ن لیگ کے راہنما گرفتار ہو رہے ہیں، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ چئیرمین نیب خود بری طرح کسی مافیا کے دباؤ میں ہیں۔ اگر ان گرفتاریوں میں وقفہ آئے گا تو چئیرمین صاحب کے لیے خود مافیا سے جان، مال اور عزت بچانا مشکل ہو جائے گا۔

ہم اپنے قومی اداروں سے دست بستہ عرض کریں گے کہ وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر موجودہ وزیراعظم کا آلہ کار بن کر یہ تاثر نہ دیں کہ وہ قومی نہیں بلکہ کسی ایک سیاسی پارٹی کے نمائندہ ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ دیانتداری سے اس خطرناک مافیا کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کریں جو ستر سال سے اس ملک پر قابض ہو کر ترقی و خوشحالی کے راستے کو روکے ہوئے ہے۔ اگر ملک کے سیاسی حالات اسی طرح جاری رہے اور تمام ادارے لاڈلے کے انتقام کی آگ بجھانے میں تمام قانونی، اخلاقی اور سیاسی حدود پھلانگتے رہیں گے تو اس ملک کو اسلامی جمہوریہ تضادستان بننے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •