سندھ میں ہٹلر کلچر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خانہ بدوش: لفظی ترجمہ، گھر کاندھوں پر۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جوہلکا پھلکا بوریا بستہ رکھتے ہیں۔ جب ایک جگہ سے جی اوب گیا، بوریا بستہ کاندھوں پر رکھا اور نئی منزل کی کھوج میں چل نکلے۔ خاصی مستند روایت ہے کہ رنگ برنگی ثقافت والے یہ لوگ ہمارے راجستھان سے نکلے اور ادھر ادھر پڑاؤ ڈالتے ہوئے پوری دنیا میں پھیل گئے۔ یہ ہے وہ، بے گھر لوگ چھوٹی ہوئی چوری چکاری کر لیتے تھے۔ بڑے ڈاکے نیک کام ہوتے تھے، یہ بے چارے جنہیں یورپ میں ”ڈرما“ کہا جاتا ہے، ہرجگہ دھتکارے گئے۔ مگر دنیا میں انہیں اب بھی نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ہٹلر نے یہودیوں اور کمیونسٹوں کے ساتھ جپسیوں کا بڑی بے دردی سے قتل عام کیا۔

اپنے دور کے مقبول ترین شاعر ساحر لدھیانوی نے اپنے بے حد دل کش گیتوں کے مجموعے کا نام ”گاتا جائے بنجارا“ رکھا۔ بازارمیں آتے ہی ہم نے مزید اور سینے سے لگا رکھا۔ تو اس نام سے یوں ہی محبت ہے، اب خبر سنی کہ حیدر آباد میں ”خانہ بدوش رائٹرز کیفے“ کو نوٹس دے دیا گیا ہے کہ بوریا بستہ باندھو، اور جزیرۂ ”سارا کو راکا ٹا“ میں جاکر پڑاؤ ڈالو۔ (اٹلس میں یہ نام تلاش کرتے رہیں ) ۔

ایک فخر دل میں اتر گیا۔ ارے مردود ہٹلر ابھی زندہ رہا ہے؟ خانہ بدوشوں کو چین سے نہ بیٹھے دے گا۔ سندھی ثقافت کے پیارے دل دادگان ڈھونڈو، سندھ میں کہاں کہاں ہٹلر بیٹھے دھرتی سے پریم کے گیت گا رہے ہیں۔ کتنے جیدو نامی گرامی، ڈاکو، رشوت خور، لیٹرے نیک نامی کی سند ماتھے پر چسپاں کیے لمبی لمبی کاروں میں پھرتے ہیں۔

اور یہ جو چند عورتیں جنہوں نے سورج کو اپنے ہاتھوں پر اٹھار کھا ہے، اس لیے مجرم اور معتوب قرار پائی ہیں کہ چالیس ملین کرائے کی مد میں واجب الادا ہیں، جیب سے نکالو، ورنہ ”سارا کوراکاٹا“ کی طرف روانہ ہوجاؤ۔

ارے، چالیس ملین! اتنی بڑی رقم خانہ بدوشوں کی یہ ہمت کہ قومی خزانے پر بوجھ بنتے ہیں۔ ہاں ہمارے ہٹلروں اور ڈاکوؤں کی دلیری ہمارے لیے اور ہے۔ وہ ٹٹ پونجیے نہیں ہیں اربوں، کھربوں کا ڈاکا ڈالتے اور صاف بچ نکلتے ہیں۔ وہی ہمارے محکمہ ثقافت کے اصل نگراں ہیں۔ ان کے اعلیٰ معیار چرچا ہے۔ ان کے معیار پر تو راؤ انوار پورا اترتا ہے، ان کا ”بہادر اور لاڈلا بچہ“ ہے۔ جیسے یہ بہادری سے قومی خزانہ لوٹتے ہیں ویسے ہی راؤ انوار بچہ دلیری سے لوگوں کے قتل کرتا ہے۔ یہی لوگ ثقافت کو چار چاند لگا رہے ہیں۔

تو پاگل امر سندھو اور دیوانی عرفانہ ملاح تم نے ابتداہی میں غلط قدم اٹھایا۔ تم صحرا کو گلزار کرناچاہتی ہو۔ ہٹلر کا ناپسندیدہ لفظ دھڑلے سے استعمال کررہی ہو۔ خانہ بدوش۔ ارے کوئی اچھا سا نام چنا ہوتا جیسے ”وڈیرا کیفے“، ”داڑھیل ریستوراں“ ۔ اورتم یہ جو اپنے خانہ بدوش رائٹرزکیفے میں ادب اورثقافت کے نام پر وڈیرا دشمن، داڑھیل دشمن کارروائیاں کرتی ہو، کیا اس کا انجام تمہیں معلوم نہ تھا۔ تم امن اورانصاف کا پرچم اٹھا کر داڑھیل معاشرے میں بغاوت کا بیچ بوتی ہو۔ دنیا بھرکے باغی لکھاریوں کو سینے سے لگاتی ہو۔ تمہیں معلوم ہے، اصل مجرم تمہارا بارآور دماغ ہے۔ چالیس ملین تو ایک نیا بہانہ ہے۔ وہ بار بار تم دونوں اور تمہارے ساتھیوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں، لیکن تم چکنی مچھلیوں کی طرح پھسل کر پھر گہرے طوفانی پانیوں میں جا نکلتی ہو۔

ارے امر اور عرفانہ، جانتی نہیں ہو، یہاں ”مجرا کلچر“ چلتا ہے۔ دیکھ لو، سیکڑوں ویڈیو کلپس موجود ہیں داڑھیل لوگ کسی عیاشانہ ترنگ کے ساتھ بلیک ڈاگ کی مستی میں مجرے والیوں پر نوٹ لٹاتے ہیں، اور دوسری طرف لاکھوں ماؤں کے ڈھانچوں جیسے بچے بھوکے سوتے ہیں۔ تمہیں یہی دکھ ہے نہ، اور تم نے جانے ایسے کتنے دکھ پال رکھے ہیں۔ تمھارے یہ دکھ میرے جیسے لاکھوں لوگوں کے خون میں گردش کرتے ہیں، آنکھوں میں چنگاریاں بھرتے۔ یہ یاد دلاتے ہیں کہ جھوٹ اور سچ کے درمیان، ڈاکوؤں اور انصاف کے لئے لڑنے والوں کے درمیان، نادراروں اور زرداروں درمیان ہونے والی جنگ جاری رہے گی، پھول کی خوشبوں امر، کانٹے ہمیشہ نفرت کا نشان بنتے ہیں۔ تمھاری تحریک پر بار بار یہ شعر ذہن کے افق پر جگمگاتا ہے۔

انہی کے فیض سے بازارِ عقل روشن ہے
جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے

میں تمھارے ساتھ ہوں، تم سے پیارکرتا ہوں، آؤ تمھاری پیشانیاں چوموں اور داڑھیل لوگوں اور ہٹلروں کو پیغام سناؤں کہ تمھارے چہروں کی کالک امر اور عرفانہ کی صورت کے سامنے ہمیشہ گھٹنے ٹیکتی رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •