شاہد خاقان عباسی سے نیب کے سوال اور ان کے جوابات

سوال: کیا آپ کو علم ہے کہ ایس ایس جی سی ایل کے پاس کوالیفائیڈ / تجربہ کار انجینئرز موجود تھے؟
جواب: میں 2013 ء سے 2018 ء تک وزیر برائے وزارت پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز تھا اور مجھے علم ہے کہ ایس ایس جی سی کے پاس کیا تجربہ اور کیا اہلیت موجود ہے۔ مجھے یہ علم تھا کہ ایس ایس جی سی کے پاس پیچیدہ انٹی گریٹڈ نیچرل گیس امپورٹ پروجیکٹس یا بڑے بین الاقوامی انفرا اسٹرکچر کے ٹھیکوں بالخصوص ٹولنگ فیس کی بنیاد پر چلنے والے پروجیکٹس جیسا کہ یہ ایل این جی پروجیکٹ ہے، کے متعلق تجربہ نہیں تھا۔
سوال: کیا ایس ایس جی سی ایل کو ایل این جی ٹرمینل اور ایل این جی کے حصول وغیرہ کے معاملے میں نیلامی / بولی کے عمل کے حوالے سے مکمل طور پر غیر موثر / نا اہل / نا تجربہ کار سمجھ لیا گیا تھا؟
جواب: ایس ایس جی سی ایل کے پاس مطلوبہ تکنیکی معلومات یا تجربہ نہیں تھا کہ وہ پیچیدہ بین الاقوامی ٹھیکوں پر کام کر سکے یا انہیں شروع کر سکے، بالخصوص ایسے پروجیکٹس جن میں ٹولنگ فیس کی پیچیدگیاں شامل ہوں۔ ایس ایس جی سی کے تکنیکی لحاظ سے محدود ہونے کا معاملہ اس بات سے عیاں تھا کہ وہ مشعال ایل این جی، ایل پی جی ٹرمینل ریٹرو فٹ اور تین انٹی گریٹڈ ایل این جی پروجیکٹس میں ناکام ہو چکی تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ ایس ایس جی نے کوئی آئل یا ایل پی جی ریفائنری قائم کی تھی۔ ایس ایس جی سی کا بنیادی کام گیس پائپ لائنیں ہے اور ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ کی تمام گیس پائپ لائنیں ایس ایس جی سی نے بحیثیت ٹھیکے دار بچھائی تھیں۔
سوال: آئی ایس جی ایس کا مینڈیٹ کی تھا اور آیا آئی ایس جی ایس کے پاس ایل این جی کی پروکیورمنٹ کے متعلق کوئی تجربہ تھا؟
جواب: آئی ایس جی ایس (پرائیوٹ) لمیٹڈ؛ جی ایچ پی ایل، ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل کی شیئر ہولڈنگ کے ذریعے 100 ؍ فیصدی حکومت پاکستان کی کمپنی ہے اور اسے ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ اور ترکمانستان، افغانستان، پاکستان انڈیا (ٹاپی) گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر کام کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔ کمپنی کے پاس انٹی گریٹڈ اور اَن بنڈلڈ سسٹمز کے تحت اربوں ڈالرز مالیت کے گیس درآمدی پروجیکٹس لگانے کے حوالے سے کافی معلومات اور تجربہ ہے، ڈھانچہ جاتی لحاظ سے یہ پروجیکٹس اَن بنڈلنڈ ایل این جی پروجیکٹ جیسے ہی ہیں، جن میں ٹولنگ فیس شامل ہے، اور جو تعمیر کیے جا رہے تھے۔ پاکستان میں کسی اور سرکاری کمپنی کے پاس اتنی مہارت اور تجربہ نہیں ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ اور ترکمانستان، افغانستان، پاکستان انڈیا (ٹاپی) گیس پائپ لائن پروجیکٹ، جن کی سالانہ قدر پانچ ارب ڈالرز ہے، پر مذاکرات اور ان کے معاہدوں پر کامیابی سے دستخط آئی ایس جی ایس کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
سوال: ٹولنگ فیس کے حوالے سے ایل این جی سے متعلق پروکیورمنٹ کے معاملات نمٹانے میں مسٹر مبین صولت کا کیا خاص میرٹ تھا؟ خصوصاً ان کی اہلیت، تجربہ / مہارت اور ان کی سابقہ پروکیورمنٹ سرگرمیاں کیا تھیں؟
جواب: مسٹر مبین صولت آئی ایس جی ایس کے مینیجنگ ڈائریکٹر تھے، اور ان کی قیادت میں آئی ایس جی ایس نے اربوں ڈالرز مالیت کے گیس امپورٹ پروجیکٹس، جو ڈھانچہ جاتی لحاظ سے یہ پروجیکٹس اَن بنڈلنڈ ایل این جی پروجیکٹ جیسے ہی ہیں، جن میں ٹولنگ فیس شامل ہے، اور جو تعمیر کیے جا رہے تھے، کے حوالے سے ضروری معلومات اور تجربات حاصل کیے۔
سوال: ایل این جی ٹرمینل ایوارڈ کی سرگرمیوں کے متعلق آئی ایس جی ایس اور آئی ایس جی ایس کے بورڈ کی سرگرمیوں کے حوالے سے آپ کا کیا کردار تھا؟
جواب: وفاقی وزیر برائے وزارت پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز، وفاقی کابینہ کے رکن، کابینہ کمیٹی برائے توانائی، اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے یہ میری ذمہ داری تھی کہ پاکستان میں توانائی کے بحران کو ختم کرنے میں مدد کروں۔ ایل این جی سپلائی چین کی تعمیر، بشمول ایل این جی کی درآمدی سہولتیں پیدا کرنا توانائی کا بحران حل کرنے کی جانب اہم قدم تھا۔ ایل این جی سپلائی چین کی تیاری، بشمول پاکستان میں ایل این جی کا پہلا ری گیسی فکیشن ٹرمینل تعمیر کرنا میری بنیادی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ آئی ایس جی ایس کا یہ مینڈیٹ اور ذمہ داری تھی کہ وہ حکومت پاکستان کی پالیسی کے مطابق کام کرے۔ یہ میرے کام کرنے کا طریقہ نہیں کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز یا وزارت پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز کی کمپنیوں کی انتظامیہ میں مداخلت کروں یا ان سے رابطہ کروں ؛ یہ کمپنیاں اپنے مینڈیٹ کے مطابق اور سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے قواعد و ضوابط کے مطابق کام کرتی ہیں۔
سوال: آزاد ارکان (شہزاد علی خان اور زبیر موتی والا) کو آئی ایس جی ایس کے بورڈ سے کیوں ہٹایا گیا؟
جواب: مسٹر شہزاد علی خان اور مسٹر زبیر موتی والا آئی ایس جی ایس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں آزاد ڈائریکٹرز تھے جو اپنے عہدوں پر تین سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد اگست 2016 ء میں بورڈ سے ریٹائر ہو گئے۔
سوال: ایل این جی ٹرمینل ون کی بولی کے موقع پر آئی ایس جی ایس کے بورڈ کے آزاد ارکان کا تقرر کیوں نہیں کیا گیا؟
جواب: پبلک سیکٹر کمپنیز (کارپوریٹ گورننس) رولز 2013 ء کے مطابق آزاد ڈائریکٹرز کو ایل این جی ٹرمینل کی بولی کے وقت نہ صرف مقرر کیا گیا تھا بلکہ وہ کام بھی کر رہے تھے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

