شاہد خاقان عباسی سے نیب کے سوال اور ان کے جوابات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوال: سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے پاس پورٹ قاسم اتھارٹی پر اپنا ایل پی جی ٹرمینل تھا؛ وہ کیا وجوہات تھیں کہ ایس ایس جی سی ایل کا اپنا ٹرمینل استعمال نہیں کیا گیا یا استعمال کرنے کے لئے اس میں ریٹرو فٹنگ (تبدیلیاں) نہیں کی گئیں اور اس کی بجائے اینگرو کا ٹرمینل کیوں استعمال کیا گیا؟ اس سے کرایے اور اینگرو کو ریٹرو فٹنگ کی مد میں کی گئی دیگر ادائیگیوں کا پیسہ بچایا جا سکتا تھا اور اپنے ہی ٹرمینل پر کام کرکے اور ریٹرو فٹنگ کرکے بھی پیسہ بچایا جا سکتا تھا؟

جواب: مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے نام ایک جیسے لگتے ہیں لیکن ان ناموں کی یکسانیت یہیں ختم ہو جاتی ہے۔ ایل پی جی اور ایل این جی میں مکمل طور پر مختلف کیمیکل ہوتا ہے اور ان کی طبعی حالت اور خصوصیات بھی مختلف ہوتی ہیں ا ور انہیں سنبھالنے کا طریقہ کار بھی مکمل طور پر مختلف ہے۔

ایل پی جی ٹرمینلز بنیادی طور پر مال اتارنے (اَن لوڈنگ) ٹرمینلز ہوتے ہیں جہاں ایل پی جی، جو آتشگیر مائع ہوتی ہے اور اسے مناسب درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے، کو اتارا جاتا ہے اور انہیں ایل پی جی کے لئے مخصوص ٹینکرز میں رکھا جاتا ہے، جن کا سائز 15 ؍ ہزار میٹرک ٹن سے کم ہوتا ہے، اسے یہاں سے پائپ لائنز کی مدد سے مائع شکل میں اسٹوریج ٹینکوں میں رکھا جاتا ہے۔

ایل این جی ٹرمینلز پیچیدہ مقامات ہوتے ہیں جہاں ایل این جی، جو بنیادی طور پر قدرتی گیس ہوتی ہے اور مائع حالت میں ہوتی ہے، اسے انتہائی کم درجہ حرارت پر یعنی 110 ؍ ڈگری کیلون (منفی 265 ؍ ڈگری فارن ہائیٹ / منفی 160 ؍ ڈگری سینٹی گریڈ) پر ایٹماسفیرک پریشر پر رکھا جاتا ہے، اسے ایل این جی کے مخصوص ٹینکرز میں نکالا جاتا ہے جن کا سائز 50 ؍ ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ ہوتا ہے، اور اس کے بعد اسے انتہائی کم درجہ حرارت پر مخصوص مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے جو پانی کی سطح پر تیرتے ہیں یا زمین پر قائم کیے جاتے ہیں اور یہاں ری گیسی فکیشن پلانٹ بھی ہوتا ہے جہاں مائع کو قدرتی گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے اور گیس پائپ لائنوں کی مدد سے ہائی پریشر پر گیس یوٹیلیٹی کے ترسیل و تقسیم سسٹم میں شامل کر دیا جاتا ہے۔

ایل این جی ٹرمینلز اور ایل پی جی ٹرمینلز میں کوئی ہم کاری (Synergy) نہیں ہے، اور ایل پی جی ٹرمینل کو ایل این جی ٹرمینل میں تبدیل کرنے سے کوئی مالی فائدہ نہیں ہوگا۔ درحقیقت، اگر ایسی کسی تبدیلی کی کوشش بھی کی جائے تو ایل پی جی ٹرمینل ختم ہو جائے گا اور اسے پرزہ پرزہ کرکے ختم کرنے (Dismantle) کرنے سے ایل این جی ٹرمینل قائم کرنے کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔

ایس ایس جی سی نے پورٹ قاسم پر ایل پی جی اتارنے کے لئے ٹرمینل حاصل کیا جو عموماً تین ہزار میٹرک ٹن کی حد میں آنے والے جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پاکستان کا واحد بحری ایل پی جی ٹرمینل ہے۔ یہی ٹرمینل حکومت پاکستان کے خلاف لندن میں عالمی ثالثی عدالت میں 2013 ء میں زیر سماعت 750 ؍ ملین ڈالرز کے معاملے میں مقدمہ کا موضوع تھا۔

ایس ایس جی سی نے دسمبر 2011 ء میں ایل پی جی ٹرمینل کی سائٹ پر 400 ؍ ملین کیوبک فٹ یومیہ (ایم ایم سی ایف ڈی) کا ایل این جی ٹرمینل لگانے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لئے ایل پی جی ٹرمینل ریٹرو فٹ پروجیکٹ کے طور پر ٹینڈرز بھی جاری کیے۔ ٹینڈرنگ کے عمل کے نتیجے میں صرف ایک بولی وصول ہوئی جو دبئی میں قائم کمپنی کی جانب سے دی گئی تھی، اس کا نام 4 Gas Asia تھا، کمپنی نے 0.84 ؍ ڈالرز میٹرک ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) کا ریٹ دیا۔ بولیوں کی پیشکش اگست 2013 ء میں کھولی گئیں لیکن کنٹریکٹ کسی کو نہیں دیا گیا جس کی بنیادی وجہ پی پی آر اے کے قواعد و ضوابط میں وضع کردہ حدود تھیں اور ممکنہ طور پر یہ وجہ بھی تھی کہ 4 Gas Asia کی ہالینڈ میں قائم اصل کمپنی 4 Gas دیوالیہ ہو چکی تھی۔

ایس ایس جی سی ایل کے ایل پی جی ٹرمینل ریٹروفٹ پروجیکٹ پر بولی کے تھوڑا عرصہ بعد ہی 4 Gas Asia بھی دیوالیہ ہوگئی۔ ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ کے ٹینڈر پراسیس میں شامل ہونے والے مسابقتی بڈرز کو اجازت تھی کہ وہ کوئی بھی مقام (سائٹ) منتخب کر سکتے تھے، لیکن شرط یہ تھی کہ انہیں پورٹ قاسم اتھارٹی کے طے کردہ معیارات پر پورا اترنا ہوگا۔ پورٹ قاسم اتھارٹی نے ای ای ٹی پی ایل (اینگرو) کو اجازت نامہ / منظوری / لائسنس جاری کیا۔ وزارت پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں تھا کیونکہ بولی دینے والا خود ہی تمام قانونی اور ضابطے کے معاملات طے کرنے اور نیلامی کی دستاویزات میں متعین کردہ وقت پر کام مکمل کرنے اور ایل این جی ٹرمینل کے قیام کے لئے مشاورت بشمول فائدہ مند ہونے کی صورت میں ایل پی جی ٹرمینل کو تبدیل کرنے کا ذمہ دار تھا۔

بولی دینے والوں میں سے کسی نے بھی ایل پی جی ٹرمینل کو تبدیل کرنے (کنورژن) کا انتخاب نہیں کیا، شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ایسے کسی بھی کنورژن کے نتیجے میں کوئی مالی فائدہ نہیں تھا۔

سوال: ایل ایس اے کے تحت مختلف مد میں اینگرو کو کی جانے والی مختلف ادائیگیوں پر کس نے مذاکرات کیے؟ آئی ایس جی ایس اور ایس ایس جی سی ایل کے حوالے سے فیصلہ سازی میں آپ کا کیا کردار تھا؟

جواب: ایل این جی سروسز ایگریمنٹ (ایل ایس اے ) کے تحت اینگرو ایلنجی ٹرمینل پرائیوٹ لمیٹڈ کو کی جانے والی مختلف ادائیگیوں پر مذاکرات نہیں کیے گئے تھے۔ اس ضمن میں قیمتیں پی پی آر اے کے وضع کردہ دو سطحوں پر مشتمل مسابقتی اور شفاف ٹینڈرنگ پراسیس کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں۔ ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ کے معاملے میں میرا کردار نگرانی کا تھا کیونکہ میں وزارت پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز کا وزیر تھا۔ آٗی ایس جی ایس (انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز لمیٹڈ) اور ایس ایس جی سی کی انتظامیہ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ کے لئے ٹینڈرنگ کا عمل QED کنسلٹنگ کمپنی اور دیگر کنسلٹنٹس کے ساتھ مل کر مکمل کیا۔

سوال: 2011 ء اور 2012 ء میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اس وقت ڈاکٹر عاصم حسین کے دور کے قائم کیے گئے انٹی گریٹڈ سسٹم سے ہٹنے کی وجوہات کیا تھیں؟

جواب: 2005 ء میں ق لیگ کی حکومت میں انٹی گریٹڈ مشعال پروجیکٹ اور 2012 ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں تین انٹی گریٹڈ منصوبوں کی ناکامی سے کافی شواہد مل گئے تھے کہ انٹی گریٹڈ پروجیکٹس موزوں نہیں اور یہ پاکستان کی ایل این جی سپلائی چین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مالی لحاظ سے معیاری نہیں۔ ایل این جی سپلائی چین کے لئے واحد موزوں آپشن آزاد / نان انٹی گریٹڈ راستہ اختیار کرنا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •