شاہد خاقان عباسی سے نیب کے سوال اور ان کے جوابات

سوال: ایس ایس جی سی ایل کی بجائے بولی کا کام آئی ایس جی ایس کو دینا کہیں ایل این جی ٹرمینل کے متعلق عبوری فیصلوں کے معاملے میں ای ای ٹی پی ایل کو رعایت دینے کے لئے تو نہیں کی گئی تھی اور اس دوران آزاد میمبرز کو بھی باہر رکھا گیا اور ایس ایس جی ایس کی تجربہ کار ٹیم کو بھی نظرانداز کیا گیا؟
جواب: بدقسمتی سے جو الزام عائد کیا گیا ہے اس میں حقائق کی نفی کی گئی ہے ؛ ایل این جی ٹرمینل کے لئے ٹولنگ فیس کی سروسز شفاف اور دو مراحل پر مشتمل ٹینڈر پراسیس کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں اور یہ ممکن نہیں کہ مسابقتی عمل کے دوران کوئی عبوری فیصلہ کیا جائے۔ مسابقتی ٹینڈر پراسیس میں ایوارڈ کا فیصلہ طے شدہ تکنیکی اور مالی شرائط اور معیارات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ آئی ایس جی ایس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے آزاد ممبرز کو اسی وقت مقرر کیا گیا تھا جب ایل این جی ٹرمینل کے ٹینڈر کا کام ہو رہا تھا؛ اور یہ لوگ کام بھی کر رہے تھے۔
جیسا کہ واضح کیا گیا ہے کہ ایس ایس جی سی ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ کے لئے پروکیورنگ ایجنسی تھی جبکہ آئی ایس جی ایس کو پروجیکٹ میں رابطہ کاری کا مینڈیٹ دیا گیا تھا۔ ایس ایس جی سی روزِ اول سے ہی ٹینڈر کے عمل کا حصہ تھی تاوقتیکہ ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ ایوارڈ ہوگیا اور ایس ایس جی سی کی منظوری کے سوا کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا تھا۔
ایل این جی سپلائی چین کی کامیاب تخلیق توانائی بحران کے حل کے لئے خصوصاً پاکستان میں توانائی بحران کے لئے تشویشناک ہے۔ پاکستان میں ہر موثر گیس سے چلنے والے پاور پلانٹ کو قدرتی گیس دستیاب ہے جو غیر موثر اور موحول کی مناسبت سے ناقابل برداشت ایچ ایس ایف او اور ایل ایس ایف او پر انحصار کم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، 1200 میگاواٹ کے 4 آر ایل این جی پاور پلانٹس کی پاکستان میں تنصیب کی گئی ہے جو 60 فیصد موثریت پر آج دنیا میں سب سے زیادہ موثر ہیں اور ایچ ایس ایف او اور ایل ایس ایف او پر چلنے والے پاور پلانٹس کے مقابلے میں آدھی قیمت میں توانائی پیدا کرتے ہیں۔
یہ پاور پلانٹس آج پاکستان کی توانائی پیداوار کی گنجائش کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ پاکستان ایچ ایس ایف او اور ایل ایس ایف او درآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ تھا جس کی آج کی درآمد صفر ہے۔ توانائی پیداوار کے لئے فیول کی بچت کا تخمینہ سالانہ 2 ارب ڈالرز سے زائد لگایا گیا ہے۔ انڈسٹری کو گیس کی دستیابی 24 / 7 / 265 بیسز پر یقنی بنادی گئی ہے ؛ اس کا موازنہ سازگار طور پر 2013 میں 33 فیصد سے کم کی دستیابی سے کیا جاتا ہے۔ اس سے برآمدات اور موثریت اور انڈسٹریز سے وابستہ منافع پر مثبت اثر پڑا ہے جس کا نتیجہ تازہ سرمایے کی صورت سامنے آیا ہے۔
سی این جی کی صنعت 24 / 7 / 365 بیسز پر گیس کی دستیابی کے ساتھ تازہ دم ہوگئی ہے ؛ شٹ ڈاؤنز اور طویل قطاریں اور 2013 کے سی این جی اسٹیشنز پر طویل قطاروں کا خاتمہ ہوا ہے۔ پاکستان 10 لاکھ ایم ٹی یوریا کا درآمد کنندہ تھا جو اب یوریا کا برآمد کنندہ ہوگیا ہے جبکہ پاکستانی کاشتکاروں کے لئے کم قیمتوں اور بہتر دستیابی کو یقینی بنارہا ہے۔ ایل این جی اور ڈومیسٹک گیس کے درمیان سیزنل گیس سویپس کے ذریعے سردیوں میں گھریلو گیس لوڈشیڈنگ کا خاتمہ قیمتوں میں اضافہکیے بغیر کردیا گیا ہے۔ اضافی گھریلو صارفین کی لامحدود تعداد کے لئے اب گیس دستیاب ہے۔ ایچ ایس ایف او اور ایل ایس ایف او کا استعمال ختم کرنے، توانائی پیداوار میں زیادہ موثریت، کیپٹو توانائی پیداوار میں کمی اور سی این جی کے زیادہ استعمال سے ماحول پر بہت مثبت اثر پڑا ہے۔
ڈومیسٹک گیس درآمد شدہ گیس کی نسبت ہمیشہ سستی رہے گی خواہ پائپ لائن یا ایل این جی؛ ڈومیسٹک گیس ہمارا اثاثہ ہے جسے ہم دوسروں کو پیسے دے کر اپنے لئے زمین سے نکلواتے ہیں، درآمد شدہ پائپ لائن گیسز یا ایل این جی تھرڈ پارٹی اثاثہ ہے جسے وہ زمین سے نکالتے ہیں اور ہم سے پیسے لینے کے لئے ہمیں دیتے ہیں۔ پاکستان کے لئے بدقسمتی سے گھریلو گیس قلیل مقدار میں ہے، ہماری نئی دریافتیں موجودہ گیس کے میدانوں کے قدرتی گھٹاؤ سے مطابقت نہیں رکھ پا رہے۔ تیل و گیس کی تلاش امکانی کام ہے ؛ پاکستان میں تیل و گیس کی آن شور پر قابل ذکر تلاش کا امکان کم ہے، آف شور اور شیل آئل اور گیس کا امکان موجود ہے لیکن اس کی اقتصادی نتیجہ خیزی زیر غور ہے۔
پاکستان کے لئے چوائس ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر ڈومیسٹک آئل اور گیس کی دریافت ہونے کا انتظار کرے یا گیس کی درآمد کرے۔ شعور رکھنے والے ممالک انتظار نہیں کرسکتے، وہ توانائی درآمد کرتے ہیں اور اس کا موثر انداز میں استعمال کرتے ہیں ؛ پاکستان نے ایل این جی کے ساتھ یہی کیا ہے۔ متبادل قابل تجدید توانائی کا معالہ، زیادہ تر ہوا اور سولر، جو توانائی کے اسٹوریج میں کسی بھی بڑی تکنیکی پیش رفت کو روک رہا ہے، سادہ ہے ؛ یہ مالی طور پر اسی وقت مناسب ہے جب آپ کے پاس کوئی بیسڈ لوڈ حل ہو اور قابل تجدید پیداوار کی مجموعی لاگت ترجیحاً سستے ترین توانائی پیداوار رکازی ایندھن (فاسل فیول) کی لاگت سے کم ہو۔
یو ایف جی کو بہتربنانے کا سوال کچھ یہ ہے کہ یہ ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل کے لئے مستقل چیلنج ہے ؛ یہ معاشرتی چیلنجز اور پاکستان کے امن و امان اور سلامتی کی صورتحال سے منسلک ہے۔ ان ماحولیاتی اصلاحات کی غیرموجودگی میں حقیقی یو ایف جی کی اصلاحات بہت ہی کم ہوں گی۔ آر ایل این جی کا بڑھتا ہوا استعمال، جیسا کہ آر ایل این جی استعمال کرنے والے ٹرانسمیشن لائنز پر سب سے زیادہ صارفین ہیں اور گیس فراہمی کی مکمل لاگت ادا کرتے ہیں، سسٹم میں قدرتی گیس کی فیصد اور حجم کے طور پر کم یو ایف جی اعداد ظاہر کریں گے ؛ تاہم یو ایف جی لاسز کی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی اور قابل ذکر سطحوں تک یو ایف جی کم کرنے کے لئے ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ میں بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت پڑے گی۔
(بشکریہ جنگ)

