میرے گاؤں اجڑ رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا ملک ستر سال کے طویل سفر کے بعد بھی کچھ زیادہ نہ بدل سکا۔ ہم ایک زرعی معیشت سے جدید صنعتی معیشت میں تبدیل نہ ہو سکے۔ ہمارے پڑوسی ملک چین، بھارت، ایران اور ہمارا مسترد شدہ مشرقی حصہ بنگلہ دیش بھی صنعتی ترقی میں ہم سے بہت آگے نکل گئے۔ چین تو خیر سے دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت بننے کے قریب ہے۔ ان سب کے برخلاف ہمارا شمار ایک زرعی اور نیم صنعتی ملک کے طور پر ہوتا رہا، اور ہم بنیادی طور پر صرف خام مال جیسا کہ کپاس، گنا، گندم اور چاول پیدا کرنے میں ہی لگے رہے۔ اس طرح سے ہماری تقریباً ستر فیصد آبادی دیہاتوں میں رہائش پذیر ہو کر زراعت اور اس کے منسلک پیشوں سے ہی چمٹی رہی۔

جب تک ہمارے حکمران طبقے کا غالب حصہ زمینداروں اور جاگیرداروں پر مشتمل رہا، زراعت کسی نہ کسی حد تک قابل توجہ رہی۔ جب زمام اقتدار شہری طبقے خصوصاً تاجر اور صنعت کار حضرات کے ہاتھ میں آئی اس وقت سے زراعت کا گلا دبانے کے عمل کا آغاز ہوا۔ ان حضرات کو اپنے دھاگہ ساز، شکر بنانے والے اور چاول چھڑنے والے کارخانوں کے لئے سستا خام مال چاہیے تھا، بھلے ہی اس کے لئے کوئی طریقہ ہی اختیار کرنا پڑے۔ تو ان کے ادوار سے زرعی اجناس کی قیمتیں کم سے کم رکھنے کے رجحان میں اضافہ ہوا۔

یہ سرکاری پیسے سے کھاد وغیرہ پر سبسڈی تو دے سکتے تھے، سیلز ٹیکس بھی ختم کر سکتے تھے، تاکہ کسان کسی نہ کسی طرح سے فصلیں کاشت کرتے رہیں، لیکن پورا اہتمام کرتے کہ زرعی اجناس کے دام نہ بڑھنے پائیں کہ اس سے ان کا منافع کم ہونے کا خطرہ تھا۔ اس دوران زرعی مداخل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں جبکہ کسان بدحال سے بدحال ہوتا چلا گیا۔ آخری بار گندم کی قیمت پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بڑھائی گئی۔ یہی حال گنے کا بھی رہا، اور باقی دو بڑی فصلیں کپاس اور چاول آڑھتیوں اور فیکٹری مالکان کے رحم وکرم پر چھوڑ دیے گئے کہ جس طرح چاہیں کسان کو لوٹ کھائیں۔

گزرے پانچ سال میں گنے کی ملوں کے مالکان اور دیگر کارخانہ داروں کی خوب موجیں لگی رہیں۔ پانچ سال بعد تبدیلی سرکار آگئی۔ غریب کسانوں نے بھی صنعت کاروں اور تاجروں کے استحصال سے تنگ آ کر عمران خان کو وو ٹ دیے۔ مگر افسوس، ان کی مثال کفن چور کے بیٹے والی نکلی۔ کسی بھی جنس کا دام ایک روپیہ نہیں بڑھایا گیا، بلکہ زرعی ادویات، کھادوں، ڈیزل اورٹریکٹروں پر اندھا دھند سیلز ٹیکس عائد کر دیے گئے، اور زرعی بینک کے قرضوں پر شرح سود کئی فیصد بڑھا دی گئی۔

نتیجہ، اس سال زرعی پیداوار میں شرح ترقی منفی ہو گئی۔ 1300 روپے فی من پر گندم اگا کر پورے ملک کی خوراک کا بندوبست کرنا اب کسان کے لئے ناممکن ہو چکا ہے، اوپر سے اس سال موسمی تغیرات، حد سے زیادہ بارشوں اور سیلاب نے کسانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس سال لاکھوں ایکڑ گندم کی فصل برباد ہو گئی، اور جن کسانوں کی کچھ نہ کچھ فصل بچ گئی، وہ بیچارے بمشکل اپنے کھانے لائق غلہ ہی پیدا کر پائے ہیں۔ اس سال قرضوں تلے سسکتے بدحال کسان کبھی بھی زیادہ گندم کاشت نہیں کر پائیں گے، اور آٹے کا شدید بحران جنم لے گا۔

موجودہ حکومت کے زرعی اور معاشی مشیروں میں کسی کو دیہاتوں کے ویران ہونے کا احساس نہیں۔ ان میں سے کتنے ہوں گے جنہوں نے کبھی کسی دیہات میں جا کر کسی کسان سے ملنے کی ضرورت محسوس کی ہو گی؟ لوگ اپنی زمینیں بیچ رہے ہیں، اپنے جانور بیچ رہے ہیں، اور اپنا سامان ریڑھوں پر لاد کر شہروں کو روانہ ہو رہے ہیں، کیا ہمارے شہر اتنی زیادہ آبادی کا دباؤ برداشت کر پائیں گے؟

کابینہ اور بیوروکریسی میں بیٹھے شہری بابو خود آلو اگا کر 5 روپے کلو بیچ سکتے ہیں؟ کدو 3 روپے کلو بیچ کر اپنے بچوں کا پیٹ پال سکتے ہیں؟ گندم 1300 روے من بیچ کر زندہ رہ کر دکھا سکتے ہیں؟ جبکہ اس کے اگانے پر ہی 1500 روپے فی من خرچ آتا ہو؟ کیا خان صاحب نے کبھی پیاز کے ساتھ روٹی کھائی ہے؟ کبھی ان کے وزیروں نے چیتھڑوں میں سارا سال گزارا ہو؟ کبھی چنگ چی پر سفر کیا ہو؟ کبھی بہتی ناک والے بچے دیکھے ہوں؟ ، کبھی کسی مدقوق ہڈیوں کے ڈھانچے کسان کے پاس چند لمحے بیٹھے ہوں؟ کبھی جوانی میں ہی جھلسی ہوئی جلد کے ساتھ بوڑھی دکھائی دینے والی کسی بہن یا بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا ہو۔

کبھی چند ہزار روپے کے قرض ادا نہ کر سکنے پر زرعی بنک والوں سے چھپنا پڑا ہو؟ کبھی اپنے قرض اتارنے کے لئے اپنی بیوی یا بیٹیوں کا زیور بیچنا پڑا ہو؟ کبھی برسات میں مٹی کے بنے ہوئے شکستہ گھروں کی چھت اوپر گری ہو؟ یہ وہ بدقسمت اور بدحال لوگ ہیں جو خود زندہ لاشوں کی طرح زندگی گزار کر پورے ملک کے لئے خوراک پیدا کرتے ہیں۔ یہ مر گئے تو ہم سب مر جائیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ مر رہے ہیں۔ یہ روزانہ بھوک سے مر رہے ہیں۔

ان میں امید کی کوئی کرن باقی نہیں رہی۔ دیہات آبادی سے خالی ہو رہے ہیں۔ لوگ کھیتی چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ ان کو زندگی کی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے۔ ان میں سے کوئی بیمار ہو جائے یہ اب بھی چارپائی پر یا بیل گاڑی پر مریضوں کو لاد کر میلوں دور ہسپتالوں میں لے جانے پر مجبور ہیں۔ وہاں بھی ان کی کوئی نہیں سنتا۔ ان کے بچوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ ان کی اچھے تعلیمی اداروں تک کوئی رسائی نہیں ہے۔ ان گاؤں دیہات والوں کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ شہروں میں اب لوڈشیڈنگ ختم ہو گئی ہے۔ یہ تو تک اپنے مسائل کے حل کے لئے ایم پی اے کے ڈیرے پر رل رہے ہوتے ہیں، کہیں ان کی شنوائی نہیں۔ ان کی کوئی عزت نہیں۔ خدار ان کو مرنے سے بچا لیں، میرے گاؤں اجڑنے سے بچا لیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •