مذہبی اقلیتیں، میڈیا اور محرومیوں کے بیانیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب 2017 ءمیں پاکستان میں تقریباً دو عشروں بعد مردم شماری ہوئی تو اس کا ایک حیران کن نتیجہ یہ سامنے آیا کہ پاکستان میں غیر مسلم آبادی کا تناسب کم ہوتا جارہا ہے۔ نہ صرف یہ کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا بلکہ یہ بھی کہ وہ مستقل ایک ڈر اور خوف کی فضا میں رہتے ہیں۔ انہیں خود اپنے آپ پر اور اپنی عبادت گاہوں پر حملوں کا خطرہ لگا رہتا ہے۔

اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارا مرکزی میڈیا غیر مسلموں پر اتنی توجہ نہیں دیتا جتنی دی جانی چاہیے۔ اسی پہلو کی وضاحت کے لیے حال ہی میں اسلام آباد میں دو تحقیقی رپورٹوں کا اجرا کیا گیا جو انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ، ایڈووکیسی اینڈ ڈیولپمنٹ (ادارہ) کی جانب سے تھا۔

یہ تحقیقی رپورٹ ہماری معلومات میں خاصا اضافہ کرتی ہے۔ پہلی تحقیق کا عنوان ہے ”محرومیوں کے بیانیے : پاکستان میں مذہبی اقلیتوں پر میڈیا کی رپورٹنگ“ یہ تحقیق کرنے والے ہیں۔ آفتاب عالم، ایمیلی جیکب سن اور عدنان رحمت۔ غالباً اس تحقیق کے لیے یہ بہترین لوگ تھے کیوں کہ آفتاب عالم ایک وکیل ہیں، ایمیلی ایک محقق اور عدنان رحمت ایک سینئر صحافی۔ اور یہ تینوں اپنے اپنے شعبوں میں خاصا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں مختلف مذہبی اقلیتوں کی میڈیا کوریج کو جانچا جائے۔ تحقیق کا بنیادی سوال بہت سادہ تھا یعنی یہ کہ مذہبی اقلیتوں کو کس طرح کی میڈیا کوریج ملتی ہے اور دوسرے یہ کہ اس کوریج کا مجموعی لب و لہجہ کیسا ہے۔

تحقیق کرنے والوں نے مذہبی اقلیتوں کے بارے میں خبروں اور تصاویر وغیرہ کی مجموعی تعداد یا تناسب کا بھی جائزہ لیا۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ کسی میڈیا میں غیر مسلموں کو کتنی نمائندگی دی جاتی ہے۔

تحقیق سے بنیادی بات یہ سامنے آئی کہ غیر مسلموں کے بارے میں میڈیا کی کوریج بہت ہی کم ہے اور سب سے زیادہ دیکھا اور سنا جانے والا میڈیا یعنی ٹی وی اور ریڈیو غیر مسلم اقلیتوں کو تقریباً بالکل نظر انداز کرتا ہے۔

”مذہبی اقلیتوں کی کوریج میں بھی زیادہ تر صرف ہندو اور مسیحی برادری پر توجہ دی جاتی ہے جبکہ احمدی، سکھ، بدھ مت اور کیلاش کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہے۔ “

تحقیق میں اس بات کی بھی جانچ پڑتال کی گئی کہ مذہبی اقلیتوں کے بارے میں زیادہ کس چیز پر بات کی جاتی ہے۔ اس پر یہ بات سامنے آئی کہ عموماً اقلیتوں کی میڈیا کی کوریج توہین مذہب جیسے حساس موضوعات سے جڑی ہوتی ہے۔ زیادہ تر غیر مسلموں کو مصیبت زدہ دکھایا جاتا ہے۔

”ان سے متعلق زیادہ تر کوریج میں ان کے موقف یا رائے کو بیان ہی نہیں کیا جاتا اور وہ اپنے مسائل کے لیے ہی بے آواز تصور کیے جاتے ہیں۔ “

گوکہ مذہبی اقلیتوں کے بارے میں کوریج کا انداز ان کے خلاف جارحانہ نہیں ہوتا پھر بھی زیادہ خبریں ان سے متعلق ہوتی ہیں نہ کہ ان کے لیے۔ پھر یہ بات بھی سامنے آئی کہ کوریج ہمدردانہ کے بجائے غیر جانب دارانہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ زیادہ تر خبروں میں کوئی واقعہ یا سانحہ موجود ہوتا ہے۔

چوں کہ مذہبی اقلیتوں سے متعلق خبروں اور تصاویر میں میڈیا کی دل چسپی بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے اقلیتوں کو ان کے مسائل کے بارے میں خاموش سمجھا جاتا ہے۔

پھر زیادہ تر خبریں یا تصاویر ایسی ہوتی ہیں کہ جن سے کسی کارروائی یا پیروی کی ضرورت واضح نہیں ہوتی یعنی عوامی بیانیہ اس سے غیر مسلموں کے مسائل سے آگاہ نہیں ہوتا۔

تحقیق نے یہ بات خاص طور پر واضح کی ہے کہ مذہبی اقلیتوں سے متعلق زیادہ تر کوریج مخصوص نوعیت کے ردعمل یا واقعات کی ہے جن پر تجزیہ بہت کم یا بالکل نہیں کیا جاتا جس سے ان کے مفادات اور حقوق کے حوالے سے سوچ محدود ہی رہتی ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے اخبارات مذہبی اقلیتوں کو نسبتاً زیادہ کوریج دیتے ہیں لیکن پھر بھی یہ ٹی وی اور ریڈیو کے وسیع نیٹ ورک سے بہت کم ہے۔ مجموعی طور پر میڈیا کا ساٹھ فی صد حصہ اقلیتوں کو بالکل نظر انداز کرتا ہے۔

اس تحقیق کے نتیجے میں کچھ ٹھوس سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔ مثلاً یہ کہ مذہبی اقلیتوں سے متعلق میڈیا کوریج میں بہتری لانے کے لیے اس موضوع پر میڈیا میں پیشہ ورانہ رویوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ساتھ ہی اس سلسلے میں عوامی آگہی بڑھانا بھی وقت کی ضرورت ہے۔

جب تک میڈیا کو یہ احساس نہیں دلایا جاتا کہ پاکستان ایک کثیر مذہبی ملک ہے جہاں کئی مذاہب اور فرقوں کے لوگ رہتے ہیں اس وقت تک تبدیلی مشکل ہے اس لیے میڈیا کے لوگوں کو تربیت کی ضرورت ہے۔

اس کے ساتھ ہی مذہبی اقلیتوں اور میڈیا کے نمائندوں کے درمیان باقاعدہ باہمی روابط کوفروغ دیا جانا چاہیے۔ اس لیے مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور آن لائن میڈیا پر کام کرنے والوں کو بھی پیشہ ورانہ تربیت دی جانی چاہیے۔

اس سلسلے کی دوسری تحقیق کا عنوان ہے ”نفرت انگیز بیانیے اور آزادیِ اظہار۔ اقلیتوں کے لیے آن لائن مواقع کم ہو رہے ہیں۔ “

اس تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ کس طرح آن لائن آزادیِ اظہار کو خطرے لاحق ہیں اور خاص طور پر مذہبی اقلیتوں کو آن لائن میڈیا پر مواقع نہیں مل رہے۔

اس تحقیق میں جانچا گیا کہ نفرت انگیز مواد اور دھمکیاں غیر مسلموں پر کیا اثر ڈال رہی ہیں۔ تحقیق کرنے والوں نے پاکستان میں انسانی حقوق کے چار کمیشنوں سے رابطے کیے اور شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والوں کی آرا بھی لیں۔ تمام جواب دینے والوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ نفرت انگیز مواد تیزی سے پھیلتا ہے جس سے نہ صرف اقلیتوں بلکہ شہری آزادی کے لیے کام کرنے والے بھی خطرات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

بدقسمتی سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ خود ریاست کی طرف سے نفرت انگیز تقاریر اور مواد کی اشاعت کے خلاف خاطر خواہ ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔ تحقیق کے اسّی فی صد جواب دہندگان نے کہا کہ نہ تو ریاست اور نہ ہی معاشرہ مجموعی طور پر نفرت انگیز مواد اور تقاریر کے تباہ کن اثرات کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی اسے ایک مسئلہ سمجھتے ہیں۔

آن لائن ہراساں کیے جانے کے واقعات عام ہیں۔ گالیاں دینا اور برا بھلا کہنا تو اب عام ہوچکا ہے۔ ان خطرات کے پیچھے سرکاری اور غیر سرکاری دونوں عناصر موجود ہیں۔ یہ دونوں تحقیقی رپورٹیں بہت کارآمد ہیں اور سب کو پڑھنی چاہئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •