اچکن، دستار، ٹی ٹی اور کباڑیا


\"aliچوڑی دار پاجامے کے اوپر اچکن پہنے سر پر قراقلی سجاۓ وہ اپنے ساتھ کے چوڑی دار پاجامے پر کرتہ پہنے سر پر سفید ٹوپی والے سے مختلف نظر آنے  کی کوشش کرتا۔ وہ ق، ع، غ اور خ  کے الفاظ کو ہر وقت حلق سے نکال کر اپنی زبان کو بھی ان سے الگ رکھتا۔ اپنا شجرہ ترکی کے سلاطین سے جوڑنے والے پاشا ، فارس کے امراء کو جد امجد کہنے والےقزلباش،  اصفہانی و شیرازی اور صحراۓ عرب کے قرون وسطیٰ کےسرکردہ  قبائل سےنسبت رکھنے والے ہاشمی و صدیقی بلا  کیسے   خود کو دراوڈوں، رانگڑوں اور شودروں کےبرابر تصور کرتے جن کو ان کے اپنے ہی اچھوت سمجھ کرساتھ نہیں بٹھاتے۔ صدیوں سے رئیس ،  نواب، خان، صوبیدار اور تمندار  اب ان کی کورنش کیسے بجا لاتے جن کے سلام کا جواب بھی وہ نہ دیا کرتے تھے۔

 ساتھ نہ رہ  سکے تو زمین کا بٹواراہ ہی حل نکلا اور  ایک خونی لکیر کھچ گئی۔ چل چلاؤ کا وقت آگیا جو ہاتھ لگا سر پر رکھ لیا باقی پیچھے رہ گیا۔ امیدوں کے نئے مرکز میں لٹے، پٹے ، کٹے ،مرے  پہنچ گئے تو سکھ کا سانس لیا۔  سوچا تھااب تو یہاں خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی، سر پر سائبان ہوگا، در پر دربان ہوگا نہ فکر روزگار نہ غم معاش۔ لیکن کیا ،یہاں تو ایک ہجوم ہے ، ہر طرف چیخ و پکار ہے ، اہ وبکا ہے۔ جس کا جدھر سینگ سمایا گھس گیا ۔ ایک جگہ اس کو بھی مل گئی تو جم گیا۔  ایک ٹاٹ کا سائبان، پھر چھپر بھی بنا لیا جو کچی اور پھر پکی دیوار بن گئی۔ وہ منشی فاضل تو نہیں مگر خواندہ تھا اور اس نئی زمین میں رہنے  والوں  سےزیادہ  ۔  بٹوارے میں سرکاری اہلکاروں کی بھی تقسیم  ہوئی تو یہاں کمی پڑ گئی ۔ پڑھے لکھے  لوگوں کی ضرورت پڑی تو بہت سوں کیطرح بغیر تعلیمی سند کی تصدیق کے بابو گیری  مل گئی تو حالات بھی  بدلے۔ گرمی ہو یا سردی  روزانہ صبح وہ اچکن پہنتا اور سر پر قراقلی رکھے اپنے دفتر  کی راہ لیتا توچلتے لوگوں کے سلام  کا جواب دیتے ہوۓ اخر میں ًکیسے ہو میاںً کا لاحقہ لگانا کبھی نہیں بھولتے۔

  ہجوم نے ایک شہر آباد کیا تو  بھیڑ میں  بہت سے اپنوں سے بچھڑ گئے تھے تو نئی میل ملاپ میں بہت سارے پراۓ اپنے بھی بھی بن گئے  تھے۔ مذہب، علاقہ، زبان اور خاندان کے بعد اب  مسلک بھی  پہچان بننے لگا۔ شادی، نکاح، عقیقہ، جنازہ اور کل پر  سبز عمامہ، سفید دستار اور کالی پگڑی سے پتہ چلتا کہ کون  کس  کا مقلد ہے۔ جمعہ، عیدین بھی الگ ہوۓ۔ الگ منبر و منار،  پہلے مسجدوں اور عبا کے رنگ الگ ہوۓ پھر ڈھنگ بھی الگ ہوگئے۔  وہاں تو دیوالی کی مٹھائی پر لوگ منہ پھیر لیتے تھے مگر اب یہاں  عاشورےکی حلیم متنازع ہونے لگی۔  مسجدیں الگ الگ بنی تو اس پاس کی آبادی بھی بدل گئی۔

 نئی طرز زندگی کے لئے مذہب اور عقائد  بارے مواد  کی کتب، جرائد اور رسائل  کے ترجمے ، تصنیف اور تدوین کی ضرورت محسوس کی گئی۔  مذہب  اور مسلک ایک نئی صنعت بن گئی تو  نیٔے مکینوں کی دوسری نسل اس سے بھر پور طور پر وابستہ ہوگئی کیونکہ اس میں دین و دنیا دونوں کی بھلا ئی سجھائی  دی۔  اب شیروانی اور  اچکن   کے بجاۓ پگڑی، دستار اور عمامہ کیساتھ واسکٹ پہچان بن گیا۔ نئے کتب خانے کھل گئے تو  چھاپہ خانوں میں مدیروں اور قلمکاروں    کی آمد بھی ہوئی۔ نیٔے ملک کی قومی زبان میں ذاکرین، خطباء، علماءِ  اور ادباء کی کمی اب اس شہر سے پوری ہونے لگی۔

دادا جی کے بدن پر اچکن  سر پر قراقلی  مرتے دم تک رہی جو ابّا نے بطور نشانی  سنبھال کر رکھی مگر پہنی انھوں نے شلوار قمیص اور واسکٹ جو اب قومی لباس بن گیا تھا۔  ابّا   سفید  جالی دار  ٹوپی  پہن لیا کرتے تھے لیکں خاص مواقع پر دادا کی قراقلی بھی سر سجا لیا کرتے تھے۔ صبح کے وقت وہ کسی اشاعتی  ادراے میں ملازم تھے شام کو ایک  انجمن میں بھی خدمات انجام دیا کرتے تھے ۔  تعلیم  وتربیت کے بعد بچوں کی  شادی کے فکر نے کبھی چھٹی اور سیر و تفریح کا موقع ہی نہ دیا۔

کالج میں اس کا  کوئی دوست نہ تھا۔ صبح فجر پر اٹھنا ایک معمول تھا اس کے بعد ابّا سیر پر جاتے تھے اور وہ کالج جانے کی تیاری کرتا۔  دو بسیں بدل کر اس کو کالج پہنچنا ہوتا تھا اس لیٔے جلدی گھر سے  نکلنا ضروری تھا تاکہ پہلی کلاس شروع ہونے سے پہلے پہنچا جا سکے۔ وہ پہلی کلاس اس لئے بھی چھوڑنا نہیں چاہتا تھا کہ یہ اسلامیات کی کلاس ہوتی تھی جس کی برکات دن بھر شامل حال رہتی تھیں۔  کلاس میں وہ دوسری   قطارمیں بیٹھا کرتا تھا تاکہ وہ استاد کو سن سکے اور زیادہ اس  نظروں میں بھی نہ رہے۔

وہ کالج کے کینٹین  کی طرف کم ہی جایا کرتا تھا، ایک تو  اس کو گھر سے باہر کھانے پینے کی  زیادہ عادت نہیں تھی اور پھر پیسے بھی اتنے نہیں ہوتے تھے کہ روز روز سموسے اور چاۓ کی عیاشی کر سکے۔  لیکن کبھی کبھار جب بہت زیادہ تھکن ہو توکینٹین جاکر  چاۓ کا ایک کپ ضرور پی لیتا تھا۔ اس دن بھی  انگریزی کے مضمون کے لیکچر کے بعد سر میں درد سا   محسوس ہوا تو چاۓ پینے کے ارادے سے کینٹین چلا گیا۔  وہاں ایک میز پر چار کرسیاں خالی تھیں جن میں سے ایک پر وہ بیٹھ گیا ۔  چاۓ ابھی وہ پی ہی رہا تھا  کہ چار لڑکے آۓ انھوں نے اس کو اٹھنے اور کہیں اور جا بیٹھنے کا کہا تاکہ اس میز پر وہ  چاروں بیٹھ سکیں۔ یہ بات اس کو بری کبھی   نہ لگتی اگر ان کا انداز ملتجانہ ہوتا  اور اس نےان کو باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ ان سے پہلے کا بیٹھا ہوا  ہے اس لیٔے وہ چاروں کہیں اور جا کر بیٹھ جائیں ۔   بات  دلائل سے، دھمکیوں اور گالم گلوچ تک آگئی۔اس نے کبھی گالی نہیں دی تھی تو ان  کو کہا کہ وہ زبان  سنبھال کر بات کریں جس پر ان چاروں نے زبان تو سنبھال لی مگر ہاتھ کھول دیے۔  تھپڑ، مکے اور لاتیں  ، شور سا مچ گیا ، ساتھ والی میز پر بیٹھے  کچھ لڑکے یہ دیکھ رہے تھے وہ اٹھ  کھڑے ہوئے اور مارنے والوں کو روک دیا اور ان کو دھمکی دی اگر انھوں نے  پھر ہاتھ اٹھایا تو  ان سے وہ نمٹ لیں گے۔  جس پر وہ لڑکے وہاں سے چلے گیٔے ۔

بغیر کسی غلطی کے یوں مار کھا کر اس کو عجیب سا محسوس ہورہا تھا۔ جن لڑکوں نے اس کو مارنے والے لڑکوں سے چھڑالیا تھا  اس کو اپنے سٹال پر  لے گئے  جہاں ان کی تنظیم  کے اور بھی لڑکے بیٹھے ہوۓ تھے۔ ان لڑکوں نے اس کو کہا کہ وہ یہاں آیا کرے ، بیٹھا کرے اور کوئی مسئلہ ہو تو ان کو بتا دیا کرے۔ اس کے بعد جب بھی کوئی کلاس خالی ہوتی  تو وہ وہاں  بیٹھ جایا کرتا، ان کی باتیں سنتا او ر ان کی تنظیم کا بیچ بھی سینے  پر سجانے لگا۔

ایک دن کالج میں اس تنظیم کا کسی دوسری تنظیم سے جھگڑا ہوا ، جس میں وہ لڑکے بھی  پیش پیش تھے جنھوں نے اس دن اس کو بچایا تھا۔ اس نے سوچا کہ   موقع اچھا ہے اس جھگڑے میں ان کا ساتھ   دینے سے احسان بھی چکتا ہو جائیگا وہ بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوا ۔   اسلحہ تقسیم ہوا ایک پستول اس کو بھی دیا گیا۔ اس نے کہا کہ اس نے صرف فلموں اور تصویروں میں اسلحہ دیکھا ہے ،  اسےچلانا نہیں آتا۔ ایک لیڈر ٹائپ لڑکے نے اس کو بتایا کہ اس کو عرف عام میں ٹی ٹی کہتے ہیں اور دکھا یا کہ لوڈ کیسے ہوتا ہے، سیفٹی پین کہاں ہے اور فائر کیسے ہوتا ہے۔ اس دن لڑائی تو بڑی نہیں ہوئی لیکن   مخالفین کو ڈرانے کے لئے ہوائی فائرنگ خوب ہوئی جس میں اس نے بھی پہلی دفعہ ٹی ٹی چلائی۔ پہلے فائر پر اس کو ایک جھٹکا سا لگا  پھر  اس کو ایک طمانیت سی محسوس ہوئی۔   پھر جلدی جلدی کالج سے نکل کر گھروں کی راہ لی ۔تنظیم کے ایک لڑکے نے موٹر سائیکل   پر اس کو گلی کے نکڑ پر چھوڑ دیا۔

اگلے دن کالج نہ آنے کی ہدایت تھی، وہ  تنظیم کے مقامی دفتر میں چلا گیا وہاں کالج کے دوسرے لڑکے بھی آۓ ہوۓ تھے۔دفتر میں  ان کی خاطر مدارت کی گئی، کالج کے واقعہ پر واہ واہ ہوئی کیونکہ مخالف تنظیم کے لڑکے کالج سے بھاگ گئے تھے۔  جب  وہ کالج دوبارہ گیا تو لڑکے ہاتھ اٹھا اٹھا کر اس کو سلام کر رہے تھے۔ استاد بھی اب اس کی  بات سن رہےتھے اور  کالج کے کینٹین میں بھی اس سے پیسے لینے سے یہ کہہ کر  انکار کیا کہ وہ تو ان کا بھائی ہے۔

اب جب بھی لڑائی ہوتی  تو اس کے ہاتھ میں ٹی ٹی ہوتا اور وہ فائر کرتا۔ اب وہ محلے میں تنظیم کے دفتر میں بھی شام کو بیٹھنے لگا تھا۔ بات کالج سے محلے میں آئی تو اب محلہ والے بھی اس کو سلام کرنے لگے۔ محلے کا کونسلر عید پر عیدی اور  مٹھائی بھیجتا تو  کوتوال بھی محلے کے جھگڑوں اور تعزیری واقعات میں اس کی سنتا اور اس کی گواہی کو معتبر سمجھنے لگا تھا۔  اب اسکے نام کیساتھ ٹی ٹی کا لاحقہ لگ گیا تھا۔

ابّا کو جب معلوم ہوا تو  ان کو بڑا قلق ہوا  اور وہ ایک دن رات کی خاموش میں عالم  فانی کوچ کر گئے۔   لیکن گھر ابّا کے بغیر پہلے سے بہتر چلنے لگا تھا۔  ابّا کی مہینے بھر کی پگار سے زیادہ ان کی ایک پرچی پر  آمدنی ہونے لگی تھی۔ گھر میں اب پہلی بار ٹی وی، واشنگ مشین اور دیگر سامان تعیش بھی آگیا تھا۔  محلے میں طلاق، خاندانی جھگڑوں سے لیکر جائداد کے تنازعات میں انکی راۓ معتبر تھی۔ ان کا اپنا نکاح بھی ان کے ایک دوست کی بہن سے دونوں کی رضامندی سے ہوا تھا۔

پھر اچانک ایک دن پتہ چلا کہ سب کچھ بدل گیا ہے۔  گرفتاریاں ہوئی ہیں ، کچھ لوگ کئی دنوں سے لاپتہ ہیں ۔تنظیم نے ان  کو پیغام دیا  کہ  وہ بھی روپوش ہو جائیں اور تنظیم کے کسی فرد  سے رابطہ نہ کریں۔  اس نے اپنے ٹی ٹی کو بڑی حسرت سے دیکھا جو اس کے نام کا ابھی لاحقہ بن گیا تھا۔  سٹور روم میں جاکر  ابّا کی کتابوں والی پرانی صندوق کے سب سے نیچے اس نے ٹی ٹی اس کے اوپر ترتیب سے داد ا کی اچکن اور اس پر  ابآا کی دستار اور کتابیں رکھ  دیں۔

وہ ایک دن وہ گھر سے پان سگریٹ لینے  نکلا اور پھر واپس نہ آیا۔ إدھر ادھر سے اس کے متعلق معلوم کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ کئی اور لوگ بھی گھروں کو نہیں لوٹے ہیں۔  اس کی بیوی نے کافی دنوں تک انتظار کے بعد جب اکیلے گھر چلانا مشکل ہو گیا تو دیگر   اشیا کے کیساتھ سٹور روم سے وہ صندوق نکالی اور کھول کر اسے دیکھے بغیر ہی کباڑیئے کے ہاتھ بیچ دیا جو ہاتھ آیا  پکڑ کر رکشے میں بیٹھ کر  میکے چلی گئی۔

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan