لاحاصل


جولائی کی تپتی دوپہر تھی، سورج سوا نیزے پہ کھڑا آگ برسا رہا تھا، سارے لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور تھے اور وہ جو کسی کام سے گھروں سے باہر تھے وہ بھی اس جُھلساتی ہوئی دھوپ سے بچنے کے جتن کرتے نظر آ رہے تھے، ایسے میں انسان ہی کیا تمام چرند پرند بھی اس گرمی کے ہاتھوں ستائے ہوئے کسی سائے کی تلاش میں تھے۔

وہ بھی اس وقت ایک درخت کے سائے میں موجود اپنی منتشر سانسوں کو بحال کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔
”کتنی بار تمہیں کہا ہے کہ یہ بھاگ دوڑ چھوڑ دو، لیکن تم ہو کہ کسی کی سنتے ہی نہیں۔ “

وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے چپ چاپ درخت کے نیچے موجود گھاس پر لیٹ گیا
”جس چیز کے پیچھے تم بھاگ رہے ہو وہ سوائے ایک سراب کے اور کچھ نہیں ہے۔ “
اس بار اس نے ناگواری سے سر جھٹکا اور کروٹ بدل کر منہ دوسری طرف کر لیا۔ اب اس کا منہ اس دھوپ میں تپتی سڑک کی طرف تھا جو تا حدِّ نگاہ ویران تھی۔

”میں جانتا ہوں تمہیں میری باتیں بری لگ رہی ہوں گی، میں خود جب تماری عمر کا نوجوان تھا تو میں بھی کچھ ایسا کرنے کی دوڑ میں مصروف رہا کرتا تھا جو مجھے باقیوں میں ممتاز کرے، دوسرے میری عزت کریں، میرا نام ہو۔ لیکن بعض اوقات اس جوانی کے زعم میں ہم اپنی اوقات بھول جاتے ہیں اور کچھ ایسا کر گزرنا چاہتے ہیں جو کے سرے سے ممکن ہی نہیں ہوتا، اور اسی ناممکن کو ممکن بنانے کے چکر میں ہم اپنی پوری عمر سچ سے نظریں چراتے گزار دیتے ہیں“

اور کیا ہے سچ؟ اس نے سڑک پہ نظریں جمائے تلخ لہجے میں کہا

سچ۔ سچ یہ کے کہ بعض اوقات ہم جس چیز کو خوشی اور کامیابی کا واحد ذریعہ سمجھ رہے ہوتے ہیں، کامیابی اس سے کہیں مختلف ہوتی ہے، لیکن ہم جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس چیز کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں جو ہمارے لیے بنی ہی نہیں ہوتی۔ اسی لاحاصل کو حاصل کرنے کی دوڑ میں جو چیزیں ہمارے بس میں ہوتی ہیں ہم ان سے بھی فائدہ نہیں اُٹھا پاتے۔

وہ چپ ہی رہا۔ اس کو چپ دیکھ کر وہ دوبارہ گویا ہوا

اور بعض اوقات ہم دوسروں کی پیروی کرتے ہوئے کچھ ایسے خوابوں کو پانے کی تگ و دو میں اپنی پوری زندگی برباد کر دیتے ہیں جس کی صلاحیت اور قابلیت ہی ہم میں موجود نہیں ہوتی۔

تو کیا ہم خواب دیکھنا چھوڑ دیں؟ ”گرم زمین پر اس سے لیٹا نہ گیا، وہ اُٹھ بیٹھا“

”نہیں، خواب ضرور دیکھیں لیکن وہ جن کو پورا کرنے کی طاقت اور صلاحیت ہو۔ “

لیکن باقی بھی تو یہی کر رہے ہیں میں کوئی انوکھا کام تو نہیں کر رہا۔ ”اس نے ناگواری سے کہا

یہی تو بنیادی مسئلہ ہے کہ ہم دوسروں کی دیکھا دیکھی اور بعض اوقات ان دیکھے دباؤ اور باقیوں سے پیچھے رہ جانے کے خوف کا شکار ہو کر لاحاصل کی ایسی تگ و دو میں اپنی ساری طاقت صرف کر دیتے ہیں جس کا انجام ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ میں کامیاب ہو جاؤں۔ اس نے سر کو جھٹک کر مکھی کواُڑایا جو کب سے اسے تنگ کر رہی تھی

کیا تم نے کبھی کسی چڑیا کو تیرتے دیکھا ہے۔ ؟ نہیں نا۔ اسی طرح ایک مچھلی بھی جتنی کوشش کر لے وہ اُڑ نہیں سکتی۔ ۔ دوسروں کے نقش قدم پہ چلنے کی بجائے پہلے اپنی قابلیت پہچانو۔

لیکن میں اگر اپنے ہم عمروں کی پیروی نہیں کروں گا، معاشرے کا ایک متعین کردہ رستہ نہیں چنوں گا تو دوسرے کیا میرے اپنے ہی مجھے ناکارہ اور ناکام سمجھیں گے۔ مجھے ان کی نظر میں چھوٹا نہیں بننا۔ میں اور زیادہ جان ماروں گا، کامیاب نہ بھی ہوا تو کم سے کم میرا مذاق تو نہیں اُڑے گا۔ ”اس نے دور خلا میں نظریں دوڑاتے ہوئے کہا

دوسروں کو متاثر کرنے کے چکروں میں ہی میں نے اپنی زندگی گزاردی اور اب یہاں پڑا رہتا ہوں کوئی پوچھنے والا تک نہیں۔ میری نصیحت نہیں تو میری عرضی ہی سن لو۔ جس سراب کے پیچھے تم دوڑ رہے ہو وہ کبھی تمہارے ہاتھ آنے والا نہیں، ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اور اس راستے سے واپس پلٹ جاؤ۔ یہ تمارے بس کا نہیں، جتنی جلدی تم اس حقیقت کو تسلیم کرلو گے اتنا تمہارے لیے بہتر ہوگا۔

”ہنہ۔ تاکہ ہمیشہ کے لیے ناکامی کا داغ میرے ماتھے پہ کلنک بنا چمکتا رہے۔ میں یہ کبھی ہونے نہیں دوں گا، کبھی ہار نہیں مانوں گا“

سڑک پہ بہت دور اُڑتی دھول کسی چیز کی آمد کی خبر دینے لگی، وہ جو پاؤں پسارے بیٹھا اس گفتگو سے بیزار ہو چکا تھا ایک انگڑائی لیتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا، اب اس کی تمام توجہ تیزی سے قریب آتی اس شے پر مرکوز تھی۔ وہ اپنے آس پاس کے ماحول سے کٹ سا گیا تھا۔ اسے کوئی آواز کوئی نصیحت سنائی نہیں دے رہی تھی۔

یہ ایک کار تھی جو کہ اس سنسان سڑک پہ بہت تیز رفتاری سے دوڑتی چلی آرہی تھی۔ وہ اپنے پچھلے پاؤں پہ بوجھ ڈالے بالکل تیار ہو گیا، آخر گاڑی اس کے قریب پہنچ گئی، بندوق سے نکلنے والی گولی کی طرح وہ آگے کی طرف جھپٹا۔ گاڑی کی رفتار سڑک کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے کچھ کم ہو گئی تھی، وہ اب اپنی پوری طاقت استعمال کرتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ بھاگ رہا تھا۔

بعض اوقات ہم دوسروں کی دیکھا دیکھی کچھ ایسے خوابوں کو پانے کی تگ و دو میں اپنی پوری زندگی برباد کر دیتے ہیں جس کی صلاحیت اور قابلیت ہی ہم میں موجود نہیں ہوتی۔ ”کچھ دیر پہلے والی بات اس کے کان میں گونجی، گاڑی اب اس کی پہنچ سے نکلتی جارہی تھی، لیکن وہ اس بار ہمیشہ کی طرح ناکام نہیں لوٹنا چاہتا تھا، اس کو اپنی قابلیت ثابت کرنی تھی۔

اس نے اپنی پوری توانائی صرف کرتے ہوئے دوڑ جاری رکھی، گرم سڑک اس کے پاؤں کو جلا رہی تھی لیکن وہ ہار نہیں ماننا چاہتا تھا، دوڑتے ہوئے اس نے سر جھکائے چند لمحوں کے لیے آنکھیں موندیں۔

تاکہ ہمیشہ کے لیے ناکامی کا داغ میرے ماتھے پہ کلنک بنا چمکتا رہے۔ میں یہ کبھی ہونے نہیں دوں گا، کبھی ہار نہیں مانوں گا ”اپنا ہی کہا جملہ اس کو سنائی دیا۔
میں ہار نہیں مانوں گا۔ ”وہ دوڑتے ہوئے چِلاّیا۔ اس کے پاؤں میں اب جیسے بجلی بھر گئی ہو، اس نے ایک لمبی زقند بھری، وہ گاڑی کے ساتھ پہنچ چکا تھا۔

میں ہار نہیں مانوں گا۔ ”اس بات کی گردان تیز ہوتی جا رہی تھی۔ اس کا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا اور کف بھی جانے کب سے اس کے منہ سے بہ رہا تھا، لیکن اسے کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی، منزل اس کے بہت قریب تھی۔ ٹھیک اسی لمحے ماحول کو چیرتی ہوئی ایک ہولناک آواز بلند ہوئی۔

یہ ایک بڑے ٹرک کا ہارن تھا۔ ہارن کے ساتھ ہی بریک لگنے اور ٹائر وں کی سڑک پر گھسیٹنے سے چرچراہٹ کی آواز دُور تک گونجی۔ لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی، وہ اچانک ہی سامنے سے آتی کار کی سائڈ سے بھاگتا ہوا ٹرک کے سامنے آگیا تھا۔ ماحول میں ایک درد ناک چیخ بلند ہوئی، اس مقام سے کافی فاصلے پر موجود ایک درخت کے نیچے لیٹے ایک انتہائی لاغر اور بوڑھے کتے کے کان کھڑے ہوئے، اس نے بے چینی اور افسوس سے اس سمت دیکھا جدھر سے چیخ کی آواز آئی تھی، اگلے ہی لمحے اس چیخ کا گلا گھونٹا گیا، ٹرک کا پچھلا ٹائر کتے کے سر کے اوپر سے گزر گیا تھا۔

Facebook Comments HS