بزدل (افسانہ)

فضاء میں پہلے گارڈ اور پھر ٹرین کے وسل کی آواز یکے بعد دیگرے گونجی، اس کے ساتھ ہی ٹرین کے بے جان پہیے تھرتھرائے اور گاڑی آہستہ آہستہ پلیٹ فارم سے آگے سرکنے لگی۔ نیچے کھڑے افراد جلدی جلدی گاڑی میں سوار ہونے لگے، اسی افراتفری میں پلیٹ فارم پہ کھڑے لوگوں سے بچتا بچاتا، بیگ کندھے پہ لٹکائے بھاگتا ہوا وہ بھی آخری ڈبے میں چڑھنے میں کامیاب ہو گیا۔ دروازے سے ہی ٹیک لگا کر اس نے اپنی سانس بحال کی۔ آگے جانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا، گاڑی کچھا کھچ بھری ہوئی تھی اس لیے وہ باقی کچھ لوگوں کے ہمراہ دروازے میں ہی کھڑا ہو گیا۔ گاڑی اب شہری حدود سے باہر نکل رہی تھی۔ وہ دروازے کے دونوں اطراف میں موجود پولز کو تھامے باہر کا منظر دیکھنے لگا۔

Read more

عجیب لوگ

عصر کی نماز پڑھ کر مستقیم صاحب نے حسب عادت قریبی پارک کا رخ کیا۔ ریٹائرمنٹ کی بعد سے اس وقت کی واک ان کے معمول کا حصہ تھی۔ پارک میں داخل ہوتے ہی وہ ٹھٹک کر رک گئے، ایک عجیب اور نیا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ انہوں نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں، عام طور پر اس وقت وہاں چند ہی لوگ موجود ہوا کرتے تھے لیکن آج وہاں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔

Read more

انتقام

”نن۔ نن۔ نہیں۔ خدا کے لئے مجھے یہاں بند نہ کرو۔ دیکھو میں تمہیں بہت فائدہ پہنچا۔ “ اس کی بات درمیان میں ہی رہ گئی دروازہ بند کیا جا چکا تھا۔ اندر گھپ اندھیرا تھا، تاریکی اتنی کہ ہا تھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ ”مجھے باہر نکالو میرا یہاں دم گھٹ رہا ہے۔ “ وہ زوردار آواز میں چلایا۔ گرمی، حبس اور اس سے بڑھ کر چاروں طرف پھیلی ایک نامانوس سی بو۔ اس کا واقعی

Read more

اسٹپنی

میں کالج کی بس میں پڑا ایک فاضل پہیہ ہوں۔ عام طور پر مجھے ”اسٹپنی“ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ میرا یہ نام کیسے پڑا اس کے بارے میں میں کچھ بتانے سے قاصر ہوں۔ خیر نام سے کیا فرق پڑتا ہے۔ میرا کام مشکل وقت میں بس کو عارضی سہارا فراہم کرنا ہے۔ ”اسٹپنی“ کا عہدہ عام طور پر انہی کے حصے میں آتا ہے جن سے مستقل گاڑی کا بوجھ اٹھانا مقصود نہیں ہوتا۔ میں اس مقام

Read more

لاحاصل

جولائی کی تپتی دوپہر تھی، سورج سوا نیزے پہ کھڑا آگ برسا رہا تھا، سارے لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور تھے اور وہ جو کسی کام سے گھروں سے باہر تھے وہ بھی اس جُھلساتی ہوئی دھوپ سے بچنے کے جتن کرتے نظر آ رہے تھے، ایسے میں انسان ہی کیا تمام چرند پرند بھی اس گرمی کے ہاتھوں ستائے ہوئے کسی سائے کی تلاش میں تھے۔ وہ بھی اس وقت ایک درخت کے سائے میں موجود اپنی منتشر

Read more