بزدل (افسانہ)
فضاء میں پہلے گارڈ اور پھر ٹرین کے وسل کی آواز یکے بعد دیگرے گونجی، اس کے ساتھ ہی ٹرین کے بے جان پہیے تھرتھرائے اور گاڑی آہستہ آہستہ پلیٹ فارم سے آگے سرکنے لگی۔ نیچے کھڑے افراد جلدی جلدی گاڑی میں سوار ہونے لگے، اسی افراتفری میں پلیٹ فارم پہ کھڑے لوگوں سے بچتا بچاتا، بیگ کندھے پہ لٹکائے بھاگتا ہوا وہ بھی آخری ڈبے میں چڑھنے میں کامیاب ہو گیا۔ دروازے سے ہی ٹیک لگا کر اس نے اپنی سانس بحال کی۔ آگے جانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا، گاڑی کچھا کھچ بھری ہوئی تھی اس لیے وہ باقی کچھ لوگوں کے ہمراہ دروازے میں ہی کھڑا ہو گیا۔ گاڑی اب شہری حدود سے باہر نکل رہی تھی۔ وہ دروازے کے دونوں اطراف میں موجود پولز کو تھامے باہر کا منظر دیکھنے لگا۔
Read more

