خر اندازی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس ملک میں مردم شماری اور خانہ شماری اتنے چاؤ سے نہیں ہوتی جتنی باقاعدگی سے گدھا شماری منعقد ہو رہی ہے۔ یعنی انسانوں کو گننے کا خیال حکومتوں کو کبھی دس اور کبھی بیس سال بعد آتا ہے، لیکن پتا نہیں کیا کرامت وقوع پذیر ہو گئی کہ گدھا شماری ہر سال باقاعدگی سے ہو رہی ہے۔ سال 2018 اور 19 کے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد میں قابل قدر اضافہ ہوا ہے، جو کہ چون لاکھ سے بھی تجاوز کر گئے ہیں، حالانکہ یہ اعداد وشمار مشکوک سے لگتے ہیں، اگر چار ٹانگوں کی شرط ہٹا لی جائے تو یہ تعداد کروڑوں میں پہنچ سکتی ہے۔

ان اعداد وشمار کی رو سے وطن عزیز گدھوں کی آبادی کے لہاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ یہاں بھی کسی دشمن نے ڈنڈی ماری ہے، ورنہ امکان غالب ہے کہ پہلے نمبر پر ہوگا۔ اس آبادی میں بھی پنجاب کے بارے بتایا گیا ہے، کہ یہاں ان کی تعداد سب سے زیادہ بڑھی ہے۔ حالانکہ جتنی خبریں صرف لاہور میں گدھا خوری کے حوالے سے سامنے آ چکی ہیں، اس حساب سے تو یہ مظلوم مخلوق پنجاب میں معدومی کے خطرے سے دوچار ہونی چاہیے۔ ایک امکان تو یہ بھی ہے کہ اس طرح کے اعداد وشمار دوست پڑوسی ملک کے باشندوں نے جاری کروائے ہوں تاکہ ان کا من بھاتا کھاجا بلاروک و ٹوک ”نیل کے ساحل سے تا بخاک کاشغر“ رواں دواں رہے۔

گدھوں کی افزائش کے لئے وطن عزیز کے حالات ہمیشہ سازگار رہے۔ جو بھی حکمران آئے، ان کی پوری کوشش رہی کہ گدھوں کی آبادی بڑھتی رہے، تاکہ وہ آرام سے ان پر سواری کرتے رہیں۔ گدھوں کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ سرجھکا کر سیدھے رستے پر چلتے رہتے ہیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ احتجاجاً دولتیاں جھاڑ دیں، یا سوار کو نیچے پٹخ دیں، اسی لئے تو وہ پسندیدہ سواری ثابت ہوتے ہیں، حالانکہ حکمرانی کا نشہ ایسا ہے کہ، اسے پورا کرنے کے لئے ایسے لوگ اکثر گدھے کو بھی باپ بناتے رہے ہیں، لیکن انہیں بھی کئی سال بعد پتا چلتا کہ اصل میں تو انہیں گدھا بنا کر ان پر سواری کی جاتی رہی۔

گدھے کبھی کبھی اڑ بھی جاتے ہیں۔ لیکن ان کو راہ راست پر لانے کے لئے سواروں کے پاس کئی طریقے ہوتے ہیں۔ کبھی ان کو سبز عینک پہنا دی جاتی ہے تو کبھی چابک سے ڈرانا کافی رہتا ہے۔ گدھے عموماً خاصے رومان پرور ہوتے ہیں، سوار کچھ دیر کے لئے بھی پیٹھ سے اتر کر کسی دیوار کے سائے میں کھڑا کرجائے، تو گرمی جذبات میں آکر خیال آرائی کے بادلوں میں تیرتے ہوئے حالت ظاہری سے بے نیاز ہو جاتے ہیں، ایسے میں ان کی کیفیت ”جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے“ کی عملی تفسیر نظر آتی ہے۔

ایسے میں سوار کا چابک ہی ان کو حقیقت کی بے رحم دنیا میں واپس لے آتا ہے۔ گدھے اور کمہار کے درمیان تاریخی رشتہ ہے، ویسا ہی جیسا کہ ہمارے اور ہمارے حکمرانوں کے درمیان۔ یعنی نہ ان کے ساتھ گزارا ہے، نہ ان کے بغیر۔ ہمارے ہاں کچھ لوگ ایک سیاسی پارٹی کے حمائیتیوں کو گدھے سے تشبیہ دیتے ہیں، جبکہ دوسری پارٹی والے ان کے سیاسی رہنماؤں کو، اس لڑائی میں گدھوں کا نہ فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی نقصان، کیونکہ گدھے تو نرے گدھے ہی رہتے ہیں۔

جہاں ہمارے ملک میں گدھے کو حقارت کا نشانہ بنانا اور حماقت کی علامت سمجھنا عام سی بات ہے، وہی مغرب میں گدھے کو جانفشانی اور محنت کا استعارہ سمجھنا عام ہے۔ اسی لئے تو امریکہ کی دو سیاسی پارٹیوں میں سے ایک ڈیموکریٹک پارٹی کا انتخابی نشان بھی گدھا ہے۔ گدھوں سے چینیوں کی رغبت کی وجہ سے صوبہ خیبر پختونخواہ میں گدھا پروری کی کوششیں زوروں پر ہیں۔ حالانکہ وہاں پہلے بھی گدھوں کی کوئی کمی نہیں۔ اب تو دور جدید ہے پہلے گدھے پالے جاتے تھے، اب تو آسانی سے گدھا بنایا بھی جا سکتا ہے۔ ہمارے مرغی، انڈوں اور بکریوں پر فدا وزیراعظم کو اگر کوئی یہ بتا دے، کہ گدھی کے دودھ سے بنا پنیر اہل یورپ 1200 ڈالر فی کلو خریدنے کے لئے تیار ہیں، تو وہ آئیندہ اور کسی منصوبے کا نام بھی نہ لیں۔

ہمارے چینی دوست گدھوں سے کوئی اچھا سلوک ہرگز نہیں کر رہے۔ وہ ان کے گوشت سے ضیافت اڑاتے ہیں، کھال میں موجود ایک مادے جیلاٹن سے دوائیاں بناتے ہیں، اور چمڑی سے جوتے، بیگ اور دیگر کئی اشیا، اگر گدھوں کو یہ بات معلوم ہو جائے تو گدھے ایسے غائب ہو جائیں جیسے گدھے کے سر سے سینگھ۔ چینیوں کے ہاتھوں مستقبل میں ہونے والے گدھوں کے اس قتل عام کا مرحوم دلاور فگار کو خوب اندازہ تھا، اسی لئے تو وہ فرما گئے۔

بارہ بنکی سے ملی ہے یہ الم ناک خبر۔

ایک انسان نے کیا ایک گدھے کا مرڈر۔

ہے! یہ قتل جس میں کوئی ملزم نہ وکیل۔

نہ عدالت، نہ وکالت، نہ ضمانت، نہ اپیل۔

یہ گدھا کون تھا، کس ملک کا باشندہ تھا؟

کیا کسی خاص جماعت کا نمائندہ تھا ​

قتل سے پہلے کس بات پر شرمندہ تھا؟

کیا ثبوت اس کا وہ مردہ تھا یا زندہ تھا؟

بحر تقریر کبھی اس نے زبان کھولی تھی؟

اور کھولی تھی تو اردو تو نہیں بولی تھی؟ ​

اب سے پہلے وہ پرستارِ وفا تھا کہ نہیں؟

یہ جوان مرگ ہمیشہ سے گدھا تھا کہ نہیں؟

یہ بھی معلوم کیا جائے بہ تحقیقِ تمام۔

کس لیے قتل ہوا ہے یہ خرِ گل اندام​۔

کہیں یہ قتل سیاست کا نتیجہ تو نہیں؟

مرنے والا کسی لیڈر کا بھتیجا تو نہیں؟

کہیں اس قتل کے پیچھے کوئی سازش تو نہیں؟

کہیں یہ بھی کمیونسٹوں کی نوازش تو نہیں؟ ​

کہیں اس قتل کے پیچھے کوئی رومان نہ ہو؟

کہیں یہ قتل کسی نظم کا عنوان نہ ہو؟

کہیں بیمارِ غمِ دل تو نہیں تھا یہ گدھا؟

کہیں خود اپنا ہی قاتل تو نہیں تھا یہ گدھا؟ ​

مجھ کو ڈر ہے یہ گدھا حق کا پرستار نہ ہو۔

ذوق کے دور میں غالب کا طرفدار نہ ہو۔

اگر ایسا ہے تو اس قتل پہ افسوس ہی کیا۔

مارنے والا بھی گدھا، مرنے والا بھی گدھا۔ ​

ہاں مگر غم ہے تو اس کا کہ جواں تھے موصوف۔

صرف ایک خر ہی نہیں، فخرِ خراں تھے موصوف۔

زکر خراں کچھ طوالت اختیار کر گیا، ادب میں اس خراندازی کے لئے معذرت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •