حکمران طبقے کا تعلیم سے ”رشتہ“ ہمارے مسائل کی جڑ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کو ”لاحق“ مسائل کی بات کی جائے تو بے روزگاری، غربت، کرپشن، لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی جیسے بڑے مسائل پر ”نظر“ جا اٹکتی ہے۔ مگر ان تمام مسائل کی جڑ اگر کسی مسئلے کو کہا جا سکتا ہے تو وہ ہے ”تعلیم کا فقدان“۔ اس تعلیمی فقدان کے ذمہ دار کسی حد تک ”سیاسی رویے“ بھی ہیں۔ روزِ اول سے ہمارے حکمرانوں کا تعلیم کے شعبے کے ساتھ وہی رشتہ رہا ہے جو ایک ”سوتیلی ماں“ کا بچے کے ساتھ ہوتا ہے۔

اس ”رشتے“ کو جو بھی نام دیا جائے مگر اسے قائم کرنے کا کریڈٹ نواب آف کالا باغ جیسے نوابوں اور سرداروں کو ہی جاتا ہے۔ ویسے سمند ر سے گہرے اور شہد سے میٹھے اس ”رشتے“ کی بنیاد اسکندر مرزا نے اس وقت رکھی تھی جب اپنی کابینہ تشکیل دی تو تعلیم کی وزارت کسی کو نہ دی۔ کسی نے اس جانب توجہ دلائی تو کہا جاؤ جو بھی ملتا ہے اسے یہ قلمدان سونپ دو۔ کشمیر کے ایک رہنما جو دیر سے گاڑی پر ہاتھ رکھے کھانس رہے تھے، کھڑے کھڑے ان کے ذمے تعلیم کا قلمدان بلکہ ”تعلیم کا ٹھیکہ“ دے دیا گیا۔

نواب آف کالا باغ امیر محمد خان کی تو بات ہی ”وکھری“ تھی۔ جناب خود تو ایچی سن اور آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ تھے مگر قدامت پسند اتنے کہ اپنے علاقے میں پرائمری سکول بنانے کے مخالف تھے۔ یہاں یہ بھی وضاحت کر دوں کہ بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے سرداروں کو اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ بچوں کو تعلیم، دوسرے الفاظ میں ”شعور“ سے دور رکھا جائے۔ اس ”با برکت“ کام میں سردار کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔

نواب آف کالا باغ بھی چونکہ جدی پشتی سردار تھے تو تعلیم سے نفرت ان کی ”گھٹی“ میں شامل تھی۔ صحافی و دانشور الطاف گوہر بیان کرتے ہیں کہ 1962۔ 963 کا بجٹ بنایا گیا تو نواب صاحب نے تمام تجاویز مان لیں صرف اس کو چھوڑ کے کہ پرائمری تک تعلیم مفت کر دی جائے۔ الطاف صاحب مزید بتاتے ہیں کہ نواب صاحب ایک کہانی سنانے لگے کہ الطاف کالا باغ میں ایک مستری ہوتا تھا محمد دین۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے کو کام پر لگایا اور چھوٹے کو میٹرک تک تعلیم دلوائی۔ بڑا آج بھی دس روپے کما لیتا ہے مگر چھوٹا تعلیم سے فارغ ہو کر چوریاں کر نے لگا اور آج کل جیل میں ہے۔ اس سے ثابت ہوا ”تعلیم اچھی چیز نہیں، یہ آدمی کو چور بنا دیتی ہے“۔ یہ ایک واقعہ نواب صاحب کی مکمل سوچ کا ”ترجمان“ ہے۔ یہ وہی نواب صاحب ہیں جن کی سفارش کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر ریاض قدیر نے نہ مانی تو نواب صاحب نے انہیں بلا کر زور دار مکا رسید کیا۔ ایوب خان کا دور تھا اور نوب صاحب کو لائے بھی ایوب خان تھے جس پر جسٹس ایم آر کیانی نے کہا تھا، ”پہلے حکمران سبز باغ دکھاتے تھے انہوں نے کالا باغ دکھا دیا“، لاہور میں کچھ طلبہ نے گڑبڑ کی تو نواب صاحب نے تمام کالج بند کر دیے۔ ایوب خان نے کالج کھلوانے کے لیے قدرت اللہ شہاب کو نواب صاحب کے پاس بھیجا۔ شہاب صاحب نے نواب صاحب سے مکالمے کی تفصیل اپنی کتاب ”شہاب نامہ“ میں درج کی ہے۔ نواب صاحب نے فرمایا:

”اگر پوری نسل ان پڑھ رہ جائے تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آخر میرے آباؤ اجداد بھی تو کوئی بی۔ اے اور ایم۔ اے پاس نہ تھے۔ ان کا ان پڑھ ہونا میرے اعلی عہدے میں رکاوٹ نہیں ڈال سکا“۔ شہاب صاحب نے ”شہاب نامہ“ میں جھنگ کے دو سرداروں کا بھی تذکرہ کیا ہے جنھوں نے ایک دوسرے کے گاؤں میں سکول کھلوانے کے لیے ”انتھک“ محنت کی کیوں کہ وہ تعلیم کو ایک خطر ناک وبا سمجھتے تھے۔

چونکہ ہم آباؤ اجداد کی روایات کا پاس رکھنے والی قوم ہیں اس لیے آج تک ”روایت“ پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔ یقین نہیں آ رہا تو پچھلے چند ادوار کے تعلیمی بجٹ اور وزرائے تعلیم پر ہی نظر دوڑا لیں۔ اگر ”روایت“ بگڑی ہوتی تو سر عام رشوت لینے والا ”عزت دار رانا“ وزیرِ تعلیم نہ ہوتا اور نہ ہی نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں بورڈ میں پوزیشن لینے والے طالب علم کو ”تقریب تقسیم انعامات“ میں سیڑھیوں پر دھکے کھانے پڑتے۔

ہمیں تعلیم کے شعبے میں بہت ساری اصلاحات کی ضرورت ہے، جیسا کہ:

1) ہر حکومت کو سالانہ بجٹ میں تعلیم کو سڑکوں اور پلوں سے زیادہ ”حق“ دینا چاہیے۔

2) ملک میں وزارت تعلیم اس شخص کے حوالے کی جائے جو اس کے قابل ہو۔ کیوں کہ ایف۔ اے یا بی۔ اے پاس لوگ پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دیتے مناسب نہیں لگتے۔

3) تعلیمی نصاب میں مثبت تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔ برسوں سے پڑھائی جانے والی پرانی چیزوں کو اب نصاب سے نکالنا بہتر ہے۔

4) ہمارے تعلیمی نصاب میں تحقیق کا فقدان نظر آتا ہے۔ جیسا کہ مطالعہ پاکستان میں یوم آزادی سے لے کر یوم پاکستان تک کو ”گڑ بڑ“ کر دیا گیا ہے۔ تحقیق ہو گی تو طالب علم ”اصلی تاریخ“ سے وابستہ ہو سکیں گے۔

5) میٹرک تک تعلیم مفت کرنے کا اس لیے کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ اس سے آگے ”ہائر ایجوکیشن“ تو پھر کسی غریب کے بچے کا ”بس“ نہیں۔

6) گورنمنٹ یونیورسٹیز میں ”سیٹیں“ بڑھائی جائیں اور پرائیویٹ یونیورسٹیز کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ پسماندہ علاقوں کا کوٹا بھی بڑھایا جائے۔

7) ہائر ایجوکیشن میں بچوں کو ذہنی طور پر مفلوج کرنے کی بجائے ٹیکنیکل اور پریکٹیکل ایجوکیشن پر غور کیا جائے۔

8) پیپر بنانے اور پھر اس کی چیکنگ کے نظام کو بہتر کیا جائے۔ زیادہ پیپر چیک کر کے زیادہ روپے کمانے کے چکر میں کسی کو کوئی حق نہیں کہ طالب علم کا مستقبل تباہ کر دے۔

9) ہائر ایجوکیشن میں اساتذہ کا ”ڈکٹیٹر نما“ کردار ختم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طبقے کو اخلاقیات کی تربیت دینا بھی ضروری ہے۔ آئے دن درسگاہوں میں اساتذہ کے اپنے مقام سے گرنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

10 ) بہت سارے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی قابلیت پوری نہیں جس کی مثالیں آئے روز ملتی رہتی ہیں۔ اساتذہ کو قابلیت کی بنا پر رکھا جائے۔

11 ) تعلیمی اداروں کو کرپشن اور طالب علموں کو ”منشیات“ سے بچایا جائے، خاص طور پر جو لوگ درس گاہوں اور ہوسٹلز میں منشیات پہنچاتے ہیں ان پر ہاتھ ڈالا جائے۔

12 ) مزید تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں جو کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی بنیادی ضرورت ہیں۔

14 ) ہر لیول پرتعلیمی اداروں میں لائبریریاں قائم کی جائیں تاکہ طالب علم نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ ”علم“ سے بھی مستفید ہو سکیں اور بچوں میں بچپن ہی سے کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہو سکے۔

15 ) دور دراز دیہاتوں کے طالب علموں کی سہولت کے لیے سکول اور کالج کے لیول پر ٹرانسپورٹ کا مناسب بندوبست ہونا چاہیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •