خان صاحب آپ نے امریکہ میں شرمندہ کردیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے کچھ دنوں سے وزیراعظم عمران خان صاحب کے پہلے دورہ امریکہ کی تیاریاں بڑے زور و شور سے جاری رہیں، اور پھر بالآخر وہ امریکہ سدھار گئے۔ امریکہ میں ان کے دوست یار ان پر سرمایہ کاری کرنے والے خان صاحب کے امریکی صدر سے ملاقات اور اس میں ملک کے مسائل اور اپنے بیانئے پہ فوکس کرنے اور امریکی قیادت کو پاکستانی فوج اور قوم کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں اور جنگ کے نتیجے میں ملک کو پہنچنے والے اربوں ڈالرز کے نقصانات اور ان کے ازالے پہ قائل کرنے کے بجائے خان صاحب کے لئے امریکہ میں بھی ایک کنٹینر مہیا کرنے اور پھر اسی کنٹینر سے وہی پرانا راگ الاپنے کا بندوست کرنے میں جُتے رہے۔

اس عوامی اجتماع کے انعقاد کے لئے کیپیٹل ون ایرینا کو چنا گیا اور وہاں امریکہ کے دور دراز علاقوں اور کینیڈا کے مختلف شہروں سے پاکستانیوں کو اکٹھا کیا گیا۔ یہاں پاکستان میں سارے ٹی وی چینلز کو خان صاحب کے کنٹینر انٹرٹینمنٹ پروگرام کی نہ صرف لائیو کوریج کے لئے ہدایات جاری کی گئیں بلکہ اس سے پہلے تیاریوں اور انتظامات تک لائیو دکھانے اور یہ ثابت کرنے کا مکمل بندوست کیا گیا کہ خان صاحب پاکستان کی سیاسی تاریخ کے وہ مسیحا، محبوب و ہر دل عزیز رہنما ہیں جو امریکہ جیسے ملک میں عوامی جلسہ کرکے تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔

ایک دو خریدے ہوئے سرکاری مدح سرا اینکر یہ ثابت کرنے کی لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے نظر آئے کہ خان صلاح الدین ایوبی یا پھر کرسٹوفر کولمبس ہیں جو امریکہ فتح کرنے یا پھر دریافت کرے جا رہے ہیں، ایک دو نے تو انہیں طارق بن زیاد سے تشبیہ دے ڈالی جنہوں نے کشتیاں جلاکر اسپین فتح کرنے کے لئے اندلس کی سرزمین پہ قدم رکھے تھے۔ میں بھی باوجود سیاسی و نظریاتی مخالفت کے باوجود اپنے وزیراعظم کا خطاب سننے کے لئے خاصا پرجوش تھا، رات گئے تک جاگ کر میں نے خان صاحب کی تقریر سنی، لیکن تقریر سننے کے بعد پہلی بار مجھے شدید ترین شرمندگی اور ندامت کا احساس ہوا کہ عمران خان صاحب میرے وزیراعظم ہیں، میرے ملک کی بائیس کروڑ عوام کے وزیراعظم اعظم، میرے ملک کا کیس لے کر سپر پاور امریکہ کی تاریخ کے سب سے بدتہذیب منہہ پھٹ، اسلام مخالف، تارکین وطن کے لئے امتیازی جذبات رکھنے ان سے نفرت رکھنے والے، انسانیت اور انسانی احساسات سے عاری صدر سے ملنے جا رہے ہیں۔

میں ساری رات سو نہیں سکا خان صاحب کا ایک ایک لفظ میری سماعتوں میں گونجتا رہا اور میں بحیثیت پاکستانی اپنی قسمت پہ افسوس کرتا رہا کہ یہ شخص اس ملک کا وزیراعظم ہے، یا اللہ تو ہم سے کس چیز کا امتحان لے رہا ہے۔ پھر مجھے یاد آیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”جیسی بدتر رعایا ہوگی ان پر ان سے بھی زیادہ بدترین حاکم مسلط کروں گا“ خان صاحب جوش خطابت میں اپنے ہوش و حواس بھی کھو بیٹھتے ہیں یہ تو اکثر قوم نے دیکھا ہے، مگر وہ امریکہ جاکر بھی اپنے ہوش وحواس پہ قابو نہیں رکھ سکیں گے اس کی توقع مجھے تو کیا کسی بھی پاکستانی کو نہیں ہوگی۔

خان صاحب نے اپنی تقریر میں جو لب و لہجہ اختیار کیا وہ کسی طور بھی کسی اسلامی جمہوری ملک کے وزیراعظم کا لہجہ نہیں ہو سکتا، وہ بیرون ملک پاکستانیوں اور تقریر سننے والے ان کی ذات سے امیدیں وابستہ کرنے والے لوگوں کی مایوسی کا سبب بن گئے، وزیراعظم کو چاہیے تھا کہ انہیں اعتماد میں لیتے اور ملکی معاشی بحران کے حل کے لئے زیادہ سے زیادہ زر مبادلہ پاکستان بھیجنے پر قائل کرتے، وہ حسبِ روایت اپنے سیاسی مخالفین میاں نواز شریف، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، شھباز شریف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں اور قائدین کے خلاف خوب گرجے برسے۔

امریکہ میں رہنے والے پاکستانیوں کو اور امریکا میں بسنے والے کروڑوں لوگوں کو یہ باور کرانے کے لئے چیختے چلاتے رہے کہ پاکستان ایک بدعنوان ملک ہے اس کی قیادت چور ہے ڈاکو ہے، سارا ملک کھا کر ڈکار چکے ہیں اب نہ ہمارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے نہ ہی کسی کو دینے کے لئے۔ خان صاحب اپنا پرانا راگ الاپتے رہے کہ نواز شریف کے لئے باہر کے ملکوں سے بھی سفارشات آ رہی ہیں کہ مگر میں انہیں نہیں چھوڑوں گا۔ وہ بولے کہ شریف اور زرداری جیلوں میں ایئر کنڈیشنر اور ٹی وی سمیت دیگر سہولیات استعمال کرنے کے مطالبات کرتے ہیں، وہ مختلف نظریات رکھنے والے لوگ ہیں لیکن صرف چوری کا مال بچانے کے لئے اکٹھے ہو گئے ہیں، خان صاحب مکمل طور پر تکبر اور غرور میں ڈوبے نظر آئے اور اسی تکبر اور غرور میں ڈوبے ان کے الفاظ، برسائے گئے ہر ہر نشتر کا نشانہ صرف اور صرف اپنے سیاسی مخالفین تھے۔

خان صاحب اپنی پوری تقریر کے دوران ایک لمحے کے لئے، کسی بھی زاویہ سے وزیراعظم پاکستان خطاب کرتے نظر نہیں آئے۔ وہ وہی پرانے اینگری ینگ مین نظر آئے جو کبھی کنٹننر پہ چڑھے مخالفین پر گرجتے برستے نظر آتے تھے یا پھر ٹی وی انٹرویوز میں کرپشن لوٹ مار کے خلاف اپنا بیانیہ بار بار بیان کرتے نظر آتے تھے۔ خان صاحب کو رات گئے تقریر کرتے ذرا سا بھی احساس نہیں ہوا کہ پاکستانی قوم، ان کے ووٹرز اور ان سے امیدیں وابستہ کرنے والے، ان کی زبان سے اپنے مسائل اور مصائب کے حل کے اقدامات کے بارے میں سننا چاہتے تھے۔

وہ چاہتے تھے کہ خان صاحب انہیں خوشخبری سنائیں کہ گیارہ ماہ میں وہ مہنگائی کی شرح نیچے لے آئے ہیں، انہوں نے ملک کے لوٹے اربوں ڈالرز واپس خزانے میں جمع کروانا شروع کر دیے ہیں اور بہت جلد ملک سے بقول ان کے منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیجے گئے دوسو ارب ڈالر خزانے میں جمع ہو جائیں گے، عوام ان سے توقع کر رہی تھی کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کی مشکلات اور ان کے حل کے کسی جامع پروگرام کا اعلان کریں گے، انہیں ووٹ کا حق دلانے کی خوشخبری سنائیں گے، مگر افسوس کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے کے مصداق کیپیٹل ون ایرینا میں موجود ہزاروں پاکستانیوں کے کان یہ سب خوش کن الفاظ سننے سے محروم رہے اور خان صاحب نے اپنی پرانی روایتی تقریروں کی کیسٹ بجانا شروع کردی۔

دراصل ان کے پاس اپنی قوم، ووٹرز اور چاہنے والوں کو بتانے کے لئے کوئی کارکردگی ہے ہی نہیں، نہ ہی ان کے پاس پاکستان کو قرضوں کے دلدل سے نکالنے، افراط زر کو کنٹرول کرنے، ڈالر کی بڑھتی اور روپے کی کم ہوتی قدر کو روکنے، ترقی کی تیزی سے زمین بوس ہوتی رفتار کو قابو میں کرنے، برآمدات اور درآمدات میں اضافے کی جامع منصوبہ بندی کرنے کا کوئی وژن ہے، ان کے پاس پاکستان کو بھوک، بدحالی، مہنگائی اور بیروزگاری کے عذاب سے نجات دلانے کا کوئی روڈ میپ ہے ہی نہیں، ماسوائے اس کے کہ وہ اپنے بدترین سیاسی مخالفین کے خلاف یک طرفہ احتسابی عمل کو تیز کرکے انہیں سلاخوں کے پیچھے دیکھ کر اپنے ذہنی اور دلی جذبات کی تسکین کا سامان پیدا کریں۔

انہیں پاکستانی عوام کی مہنگائی کی وجہ سے روز بروز بڑھتی مشکلات، ٹیکسوں کے غیر ضروری اور اضافی بوجھ کی وجہ سے تباہ ہوتی کاروباری سرگرمیاں اور اس کے نتیجے میں تیزی سے بڑھتی بیروزگاری کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے، انہیں اپنی عوام، ووٹرز کی بھوک بدحالی سے سسکتی بلکتی آوازوں سے بھی کوئی سروکار نہیں ہے، انہیں اس بات کی بھی فکر نہیں ہے کہ ان کے گیارہ ماہ میں ڈالر ایک سؤ بائیس روپے سے ایک سؤ ساٹھ روپے کی حد پھلانگ کر ڈبل سینچری کی جانب تیزی سے گامزن ہے، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ گیس بجلی پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، وہ عوام کی آنکھوں میں ان کی زندگیاں گل و گلزار بنانے کے سہانے سپنے سجا کر اقتدار میں آئے تھے مگر صرف گیارہ ماہ کی طرزِ حکمرانی نے عوام کی زندگیاں گل و گلزار کرنے کے بجائے جہنم سے بھی بدتر بنا دی ہیں۔

عمران خان صاحب کی ہر تقریر نواز شریف آصف زرداری اور مخالفین کے لئے شدید ترین نفرت اور بغض میں مبتلا نظر آتی ہے۔ پاکستانی عوام خاص طور پر خان صاحب کو ووٹ دینے اور دلوانے والے بھی اب متنفر نظر آتے ہیں ان کی نادم نگاہیں، متفکر چہرے اب خان صاحب سے التجا کرتے نظر آتے ہیں کہ خدارا خان صاحب اب کنٹینر سے اتر آئیں اب آپ وزیراعظم پاکستان ہیں، بلاول بھٹو نے کیا خوب کہا ہے کہ جب خان صاحب بھی اپوزیشن کریں گے اور اپوزیشن بھی اپوزیشن کرے گی تو ملک کون چلائے گا۔ یہی بات آج پاکستان کا بچہ بچہ بول رہا ہے کہ عمران خان صاحب وزیراعظم بن کر پاکستان کی قیادت کریں اور اپنے وعدوں اور دعووں کے مطابق ملک کو بدحالی، مشکلات و مصائب سے نکالنے کی سعی کریں آپ کو اپنے اللہ اور اس کے حبیب صلعم کا واسطہ ہے بحیثیت وزیراعظم ہمیں ایسے بار بار شرمندہ نہ کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •