رانا ثنا اللہ منشیات کیس سننے والے جج مسعود ارشد کو کام سے روکنے پر قانونی حلقوں میں تحفظات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزارت قانون کی طرف سے رانا ثناء اللہ کے خلاف منشیات کے مقدمہ کی سماعت کرنے والے انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج مسعود ارشد کو کام سے روکنے اور لاہورہائی کورٹ سے ان کی جگہ نئے جج کی خدمات طلب کرنے کے اقدام پر قانونی اور عدالتی حلقوں میں حیرت اور تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس کے اعلیٰ افسر چند ہفتے قبل تک نہ صرف مسعود ارشد کی کارکردگی سے مطمئن تھے بلکہ ان کی ایمانداری اور ساکھ کو بھی قابل ستائش قراردے رہے تھے۔ مسعود ارشد کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں کوئی شکایت موجود نہیں، علاوہ ازیں ان کے پورے کیریئر کے دوران ان کی اے سی آرز میں کسی قسم کے منفی ریمارکس شامل نہیں رہے۔

مسعود ارشد بطور وکیل مسعود ارشد باگڑی کے نام سے معروف تھے۔ وہ یکم اگست 2000ء کو ایڈیشنل سیشن جج مقررہوئے، عدالت عالیہ کی انتظامی کمیٹی کی متفقہ منظوری کی بنا پرانہیں 9 جون 2009ء کو سیشن جج کے عہدہ پر ترقی دی گئی۔ فروری 2017ء میں ان کی خدمات 3 سال کے لئے وفاقی وزارت قانون کے سپرد کی گئیں اور 7 فروری 2017ء کو انہیں لاہور کی انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کا جج مقرر کیا گیا۔ انہیں قانون کے تحت 6 فروری 2020ء تک اس عہدہ پر برقرار رہنا تھا لیکن اب وفاقی وزارت قانون نے اینٹی نارکوٹکس فورس کی درخواست پرلاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرارکو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ جج کی غیر جانبداری اور ساکھ کے مسائل سامنے آئے ہیں۔ لہذا رجسٹرار یہ خط لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے رکھیں تاکہ ان کی جگہ انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں کسی غیر جانبدار جج کو تعینات کیا جا سکے۔

وزارت قانون نے مسعود ارشد کو انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج کے طور پر کام کرنے سے بھی روک دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت قانون نے اپنے خط میں جج مسعود ارشد پر عمومی نوعیت کا الزام لگایاہے اور اس حوالے سے کسی مخصوص واقعہ کا ذکر نہیں کیا۔

قانونی حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے راہنما رانا ثناء اللہ کی منشیات کیس میں گرفتاری کے بعد اچانک مسعود ارشد کو انسداد منشیات کی خصوصی عدالت سے الگ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ کیا کوئی ادارہ اپنی مرضی کا جج مقرر کرنے کا تقاضہ کر سکتا ہے اور یہ کہ کیا حکومت کی زیرانتظام عدالتوں میں ججوں کے تقررکے لئے متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کردار بے معنی ہو گیا ہے؟ قانونی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا کسی جج کو حکومت کی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر ڈیپوٹیشن کی مدت ختم ہونے سے پہلے واپس بھیجا جا سکتا ہے؟

مسعود ارشد اس وقت پنجاب کی عدلیہ میں 11ویں سینئر ترین سیشن جج ہیں،وہ 5 فروری 2022ء کو ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچیں گے۔ وزارت قانون کی طرف سے بھیجے گئے خط پر غیر جانبدار ماہرین قانون تعجب کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عدلیہ خودمختارادارہ ہے جوحکومت کے ماتحت نہیں۔ اگر لاہور ہائی کورٹ وفاقی وزارت قانون کا خط قبول کر لیتی ہے تو یہ نظام عدل پر سوالیہ نشان ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •