بابا زبردستی بسیرے نہیں ہوتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ حالات میں والدین کے لئے یہ بات دھیان میں رکھنا اور اس پر عمل کرنا بے حد ضروری اور اہم ہے کہ اپنے بچے بچیوں کا رشتہ طے کرنے سے قبل لڑکا اور لڑکی دونوں کی رائے لیں، خدارا اپنی بچیوں کی زندگیوں کو جیتے جی جہنم نا بنائیں ان کی پسند اور نا پسند کا پورہ خیال رکھے اپنے گھمنڈ، انا، جاہ و جلال، عزت، کو خاطر میں نہ لائے، اور اس گمان میں نہ رہے کہ میری بچی اور بچہ میرے آگے کیسے جا سکتے ہے۔ وہ میری پسند کو کیسے ٹھکرا سکتے ہیں۔

وہ بچوں سے پوچھنے میں اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ لڑکے لڑکی کا حق ہے کہ ان سے ان کی پسند نا پسند کو پوچھا جائے ان سے رائے لی جائے۔ کیونکہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے رشتہ طے کرنے سے پہلے ان کی رائے دریافت کی تھی، جبکہ رشتہ تو آسمان سے طے ہوچکا تھا لیکن آپﷺ نے اپنی دختر سے رائے لے کر قیامت تک کے آنے والی انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنی بچیوں سے ان کی رائے معلوم کریں۔

لڑکے تو اپنی پسند نا پسند کا اظہار کر دیتے ہیں۔ اپنی گرج دار آواز سے لڑکیوں پر رعب طاری کرکے مجبوراً لڑکی کے سر جھکا لینے کو اس کی رضا نہ سمجھ لے تمہیں یہ لگتا ہے کہ وہ تمہاری عزت رکھ رہی ہے۔ لیکن وہ دل پر پتھر رکھ کر سر جھکا دیتی ہے۔ اور اس کا سر جھکانے کا مطلب خود کو ایک ایسی قید میں ڈال دینا ہے کہ جس کی رہائی عمر پھر ممکن نہیں ہوتی۔

وہ دل جلا کر لمحہ لمحہ اندر ہی اندر ختم ہوتی ہے یا پھر وہ موت کی صورت میں رہائی پاتی ہے۔ اگر تم اس کے سر جھکا لینے کو لڑکی کی رضا مندی اور ہاں سمجھ لیتے ہو تو یہ ایسا ہے کہ جیسے کسی جانور کو لے جاکر کھٹے سے باندھ دیا جائے۔ یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ وہ ظالم ہے، شرابی ہے، جاہل ہے، بے دین ہے، گنجیٹی، ہے، عیاش ہے، زانی ہے، یا اور کچھ ہے۔ اور اپنی معصوم بے گناہ لڑکیوں کی زندگی اپنے ہاتھوں برباد کردیتے ہیں۔ جبکہ ان دوشیزاؤں کا کوئی دوش نہیں ہوتا ہے۔

ایسے معاملات میں کچھ ہی سالوں میں طلاقیں ہوجاتی ہے۔ یا وہ بے گناہ ہی ساری عمر ذلت و رسوائی کی اور تمام خوشیوں کو مارکر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ چاہے شوہر کتنا بھی بگڑا ہوا نا ہنجار کیوں نہ ہو اسے برداشت کرتے ہوئے اپنے دل کو مار کر زندہ لاش کی طرح ہوجاتی ہے۔ جب ماں باپ ایسے بغیر رائے لیے رشتے کر دیتے ہیں۔ اور گھر سے وداع کرتے ہے تو اس کی آنکھوں سے بہنے والے بے ساختہ آنسوں یہ چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ بابا زبردستی بسیرے نہیں ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •