”دیوانے“ ٹرمپ کی کامیاب چال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان کے شدید ترین مخالفین کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ تاریخ میں پہلی بار کسی امریکی صدر نے لگی لپٹی رکھے بغیر ٹی وی کیمروں کے سامنے تسلیم کیا کہ ”کشمیر“ ایک مسئلہ ہے۔ اس کا حل پاکستان اور بھارت باہمی مذاکرات کے کئی ادوار کے باوجود اپنے تئیں ڈھونڈ نہیں پائے۔ امریکہ جیسے عالمی اثر کے حامل ممالک کو لہٰذا ثالثی کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ثالثی کا تذکرہ کرتے ہوئے اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارتی وزیراعظم نے امریکی صدر کے ساتھ جاپان میں حال ہی میں ہوئی ایک ملاقات کے دوران اس سے درخواست کی تھی کہ مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنے میں اس کی مدد کی جائے۔

بھارتی حکومت اس دعوے کی تردید میں ہلکان ہوئے جا رہی ہے۔ یہ کالم لکھنے تک لیکن مودی خاموش تھا۔ اس کی جانب سے ٹرمپ کو ”جھوٹا“ قراردینے کا بیان نہیں آیا۔ میڈیا کو مینیج کرنے کی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مودی کے کارندے بھارتی صحافیوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ”وسیع تر قومی مفاد“ میں ضروری نہیں کہ بھارتی وزیراعظم امریکی صدر کو ”جھوٹا“ پکارے۔ بھارتی وزیر خارجہ کا اس ضمن میں پارلیمان میں دیا بیان کافی ہے۔

فی الوقت اسی سے گزارہ کیا جائے۔ دیکھنا ہو گا کہ ”56 انچ چھاتی“ کا حامل کب تک خاموش رہ پائے گا۔ مودی کی شرمسار خاموشی مجھ جیسے پاکستانیوں کو ٹھوس وجوہات کی بدولت خوش کیے ہوئے ہے۔ جان کی امان پاتے ہوئے یہ کہنے کو اگرچہ مجبور ہوں کہ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنے میں ہرگز سنجید نہیں ہے۔ جنوبی ایشیاء کے حوالے سے اس کی سوئی فقط افغانستان پر اٹکی ہوئی ہے۔ پاکستان کی چاپلوسی کرتے ہوئے اس نے اپنی افواج کو افغانستان سے باعزت انداز میں واپس نکالنے کا راستہ ڈھونڈلیا تو وہ کشمیر کو قطعاً فراموش کر دے گا۔

یہ دعویٰ کرنے کے باوجود میں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتا کہ ٹرمپ بھارتی وزیراعظم سے مایوس ہوچکا ہے۔ اس نے دریافت کر لیا ہے کہ پاکستان کا ازلی دشمن اس کا سٹریٹریجک پارٹنر ہو نہیں سکتا۔ یہ دریافت ہمارے طویل المدتی اطمینان کا باعث ہونا چاہیے۔ وائٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد امریکی صدر نے جنوبی ایشیاء کے لئے جو پالیسی تیار کی تھی اس کے مطابق بھارت کو اس خطے کا تھانیدار تسلیم کرنا تھا۔ 1970 کی دہائی میں ایسی ”تھانے داری“ شہنشاہ ایران کو سوپنی گئی تھی۔

خود کو ”تھانے دار“ منوا کر شاداں ہوا مودی مگر ٹرمپ کی اتاولی طبیعت کو ہرگز سمجھ نہیں پایا۔ ٹرمپ میری دانست میں پنجابی محاورے والا دیوانہ تو ہے مگر ”اتنا بھی نہیں“۔ اس کی ”دیوانگی“ شیکسپیئر کے مشہور کردار ہملٹ جیسی ہے جو کسی میتھڈ یا سوچی سمجھی چال کی عکاس ہے۔ بہت کم لوگوں کو یادرہا ہوگا کہ آج سے چند ماہ قبل کیمروں کے سامنے افغانستان کا تذکرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے بہت حقارت سے مودی کا بھی ذکر کیا تھا۔

بہت ”سادگی“ سے گلہ کیا کہ وہ جب بھی بھارتی وزیراعظم سے افغانستان میں ”کچھ کرنے“ کا کہتا ہے تو اسے مودی یہ بتانا شروع ہوجاتا ہے کہ اس کے ملک نے وہاں ایک ”لائبریری“ بنائی ہے۔ مودی نے حقارت بھرے اس ذکر کو بھی نظرانداز کر دیا تھا۔ اس سال مئی میں جب بھارتی عام انتخابات ہورہے تھے تو ٹرمپ نے بے تحاشا بھارتی مصنوعات کی امریکہ درآمد پر بھاری ڈیوٹی عائد کردی تھی۔ مودی کے سیاسی مخالفین اگرچہ ٹرمپ کی لگائی ڈیوٹی کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال نہیں کر پائے۔

خواہشات کو بالائے طاق رکھ کر سوچیں تو جنوبی ایشیاء کا تذکرہ کرتے ہوئے ہمیں اس خطے کا نقشہ بہت غور سے دیکھنا ہوگا۔ بھارت افغانستان کا ہمسایہ نہیں ہے۔ اس کے طیاروں کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزر کر ہی اس ملک جانا ہوتا ہے۔ زمینی راستے فقط واہگہ کے ذریعے میسر ہو سکتے ہیں۔ بحری تجارت کے لئے کراچی اور اب گوادر کی اہمیت کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ افغانستان کا ہمسایہ نہ ہونے کے سبب بھارت کے لئے اس ملک تک رسائی کا وسیلہ صرف ایران ہی فراہم کر سکتا ہے۔

ایران بھی لیکن بھارت کا ہمسایہ نہیں۔ چاہ بہار تک بھی بھارت بحری جہازوں کے ذریعے ہی پہنچ سکتا ہے۔ ٹرمپ کی لیکن یہ ضد ہے کہ ایران سے دُنیا کا کوئی ملک تجارت نہ کرے اس سے تیل کی ایک بوند بھی نہ خریدے۔ بھارت اگر پاکستان کو نظرانداز کرتے ہوئے فقط ایران کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیاء کے دیگر ممالک تک رسائی کی لگن میں مبتلا رہا تو ٹرمپ بھارت سے اپنے ملک میں آئی مصنوعات پر مزید پابندیاں لگا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اس وقت بھارت اور امریکہ کے درمیان جو تجارت ہورہی ہے اس کا توازن بھارت کے حق میں ہے۔ امریکہ بھارت سے تجارت میں سالانہ 60 ارب ڈالر کے خسارے میں رہتا ہے۔ اس بھاری بھرکم خسارے کو امریکہ فرسٹ کا ورد کرتا ہوا ٹرمپ برداشت نہیں کر سکتا۔ اس کا یہ خیال بھی تھا کہ حالیہ پاک۔ بھارت کشیدگی کے دوران مگ طیاروں کی ”اوقات“ دیکھنے کے بعد مودی امریکہ کی اسلحہ سازکمپنیوں سے رجوع کرتے ہوئے جدید ترین اسلحہ کی خریداری کا خواہش مند ہو گا۔

بھارت نے مگر روس سے دس ارب ڈالر کی خطیر رقم کے عوض ایک جدید ترین میزائل سسٹم کو خریدنے کا معاہدہ کر لیا۔ ٹرمپ کو یہ گلہ بھی ہے کہ امریکہ کے مقابلے میں چین کے لئے بھارتی منڈی تقریباً کھلی ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ چین کے ساتھ تجارت میں بھار ت کا خسارہ تقریباً 60 ارب ڈالر ہے۔ امیریکا فرسٹ کا ورد کرتے ہوئے ٹرمپ کے لئے لہٰذا ضروری تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ اپنی مایوسی کا برسرعام تذکرہ کرے۔ گلی کی زبان میں مودی کو ”جھٹکا“ دے۔ پاکستانی وزیراعظم کی وائٹ ہاؤس میں موجودگی نے اسے یہ موقع فراہم کر دیا۔

”دیوانے“ ٹرمپ کو خوب علم تھا کہ اس کی جانب سے پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ بیٹھ کر کشمیر کا ذکر اور بھارتی وزیراعظم کی جانب سے بقول اس کے ”ثالثی“ کی خواہش مودی کو کیا تکلیف پہنچائے گی۔ خود کو ملے موقعہ سے اس نے بھرپور فائدہ اٹھا لیا۔ اب وہ انتظار کرے گا کہ نریندر مودی ”بندے کا پتر“ بنتا ہے یا نہیں۔ بھارت نے اس کی انا کو مجروح نہ کیا تو وہ ایک بار پھر مودی کا ”جگری یار“ ہونے کا دعوے دار ہو جائے گا۔ کشمیر اسے یاد ہی نہیں رہے گا۔

ٹرمپ کے اتاولے پن کی حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے طویل المدتی بنیادوں پر ہمیں بھی چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ نظر بظاہر وزیراعظم عمران خان کے دورئہ امریکہ کے دوران ٹرمپ نے پاکستان کو مکمل اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی پسند کی حکمت عملی کے تحت طالبان کو ا مریکہ کے ساتھ معاہدے پر رضا مند کرے۔ خدانخواستہ اس کی پسند کا معاہدہ نہ ہوا تو وہ پاکستان کو اس کا حتمی ذمہ دار ٹھہرانا شروع ہو جائے گا۔ آنے والے مہینوں میں معاشی مشکلات کا شکار ہوئے پاکستان کی اشد ضرورت ہے کہ اسے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکالا جائے۔

ایف اے ٹی ایف کا آئندہ اجلاس اس سال کے اکتوبر میں ہونا ہے اور ٹرمپ کی خواہش ہے کہ افغانستان کے حوالے سے اس کی خواہش والا معاہدہ ستمبر میں ہو جائے۔ پاکستان کے لئے انگریزی محاورے والی ونڈو آف اپرچونٹی لہٰذا آج سے تقریباً آئندہ تین مہینوں تک کھلی ہے۔ ان تین مہینوں میں ہمیں بہت سوچ بچار کے بعد قدم اٹھانا ہوں گے۔

(ضروری وضاحت) گزشتہ روز کے کالم میں کارگل کے واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے واجپائی کی لاہور آمد کو میں نے سہواً مودی کی لاہور آمد لکھ دیا۔ اسی طرح واجپائی، مشرف ملاقات بھی سہواً مودی، مشرف ملاقات لکھی گئی ہے۔ میرے قارئین نے اس جانب توجہ مبذول کرائی اس لیے یہ وضاحت ضروری سمجھی ہے۔
بشکریہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •