بچپن اور برف گولہ

دیکھنے اور سننے میں ہم چھوٹے تو نہیں مگر شمار بڑوں میں بھی نہیں ہوتے۔ گو کہ زندگی کی پینتیس بہاریں (اوسط پاکستانی عمر کے دو حصے ) ہم دیکھ چکے اور وقت کے سات ساتھ عقل کی سیڑھیاں پہ چڑھ گئے مگر وہ مزہ کہاں جو نادانیوں میں تھا۔ زندگی تو اس دن ختم ہو گئی تھی جب بچپن نے دھکا دے کر جوانی کی دہلیز پار کروائی تھی اب تو سانسوں کا سفر ہے پتہ نہیں کب تک

Read more

عشق مصطفیٰﷺ، اخلاق حسنہ اور ہم

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوةٌ حسنةٌ لمن کان یرجوا اللہ و الیوم الاٰخر و ذکر اللہ کثیراًؕ (21) ترجمہ: بیشک تمہارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے اس کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعلیمات ہی رحمت اور اخلاق حسنہ ہے بے شک آپ نے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی عرب قوم کو

Read more

ملاوٹ زدہ سچ

طاقت کی وجہ سے خوف پیدا ہوا کرتا ہے اور پھر یہ خوف بڑھتا بڑھتا نفرت میں بدل جاتا ہے۔ یہ نفرت آہستہ آہستہ بغاوت بن جاتی ہے اور بغاوت جب طاقت سے ٹکراتی ہے تو طاقت کے پلے کچھ نہیں رہتا۔ یہ عارضی دنیا جس میں خاک کا بنا نادان انسان، مستقل اور پختہ اقتدار چاہتا ہے۔ چاہے اس کے لئے اسے کوئی بھی حربہ اختیار کرنا پڑے۔

یہاں اقتدار کے ایوانوں کی ہوس اس قدر ہے کہ لوگ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کے اپنے پیاروں کی جان تک لے لیتے ہیں۔ تخت کے نشے میں دھت ہوتے ہیں، یوں کہ خبر نہیں رکھتے ارد گرد کے مکینوں کی۔ روشنیوں کی چکا چوند میں گم ہوتے ہیں، اس قدر کہ اندھیروں کی تاریکی کا سن کر گھبرانے لگتے ہیں۔

Read more

محرم الحرام اور ہم (شیعہ و سنی)۔

محرم الحرام کا چاند افق پہ ابھرا تو دل ناتواں نے اک قوی و مصمم ارادہ باندھا کہ مذہبی بحث مباحثہ نہیں کرنا اور حسب معمول کی تکرار سے بچنا ہے تو بعطائے فضل رہی سو فیصد تو نہیں مگر پچانوے فیصد اپنے مصمم ارادے کی تکمیل میں کامیاب رہا ہوں۔ ایک دو جگہ پہ تھوڑی بہت بات کی بھی تو معاملے کی نزاکت و طوالت کو دیکھتے ہوئے خاموشی میں ہی عافیت جانی۔

چونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم و فضل سے بخیر و عافیت دسویں محرم الحرام کا مبارک، عظیم اور دکھوں سے بھرا دن گزر چکا تو سوچا کہ جو جو اس محرم میں دوستوں سے سیکھا اس کو سہارے قلم کے زینت بنا دوں کاغذ کی۔

Read more

پٹواری صاحب کبھی ہنس بھی لیا کریں۔۔۔

ویسے تو پاکستانی سیاست میں ”ڈگری، ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا نقلی“ ، اذان بج رہا ہے ”، مجھے کیوں نکالا“ ، میرے پاکستانیوں گھبرانا نہیں ”اور اس جیسے کافی سارے ضرب الامثال مل جائیں گے جو پاکستانی سیاست کو چار چاند لگاکر اس کے چودہ طبق روشن کرنے کے لیے کافی ہیں مگر جس لفظ نے میدان سیاست میں سب سے زیادہ ترقی اور مقام حاصل کیا ہے وہ چھ حرفوں کا مجموعہ اور پانچویں سکیل (اب ناواں

Read more

اسلام کے وسیع دامن میں ایک مندر کی گنجائش ہے

روز کہتا ہوں بھول جاؤں اسے اور روز یہ بات بھول جاتا ہوں۔ یقین کریں روزانہ کی بنیاد پہ دل ناتواں سے عزم صمیم کرتا ہوں کہ مذہبی بحث و مباحثہ سے پرہیز اختیار کی جائے مگر دماغ منتشر کو دل ناتواں سے خدا واسطے کا ازلی بیر ہے جو دل کے پختہ عزم کو بھی ایسے زمین بوس کرتا ہے جیسے ساون کی تیز بارش کچی دیوار کو گرا دیتی ہے۔ اور میں اسی کشمکش میں ایک بار پھر

Read more

ماروی سرمد، خلیل الرحمٰن قمر اور میری بے وقوفی

فراست اب تم ماروی سرمد کو ڈیفینڈ کر رہے ہو میں نے پوچھا کیسے؟ میرے دوست نے کہا کہ میں نے ماروی کو ”کنجری“ کہا اور تم خاموش ہو گئے۔ دوسرے دوست نے کہا ”فراست آپ ماروی کو سپورٹ کیوں کر رہے ہو۔ میں نے پوچھا کہ ایک لفظ بھی بتاؤ جو میں نے اس کے حق میں بولا یا لکھا ہے؟ اس نے کہا کہ تم نے اس کے خلاف بھی تو نہیں لکھا اور خلیل الرحمٰن قمر کی

Read more

فواد حسین چوہدری: بے وقوف یا دلیر؟

31 اگست 2016 کو حلقہ NA 67 میں نوابزادہ اقبال مہدی کی ناگہانی موت کی وجہ سے ضمنی انتخاب کا انعقاد ہوا جس میں فواد حسین چوہدری اور مطلوب حسین راجہ کے درمیان چناؤ کیا گیا جو کہ مختلف پارٹیوں کی حمایت کے باوجود تحریک انصاف کو شکست کی صورت میں برداشت کرنا پڑا تو بندہ ناچیز نے 3 ستمبر 2016 کو ایک تحریر میں لکھا تھا کہ اگر فواد حسین چوہدری اسی طرح حلقے میں ”متحرک“ رہے جیسے اس

Read more

پاکستانی سیاست اور ہمارا رویہ

بقول نقوی صاحب! ”اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی دشت ہجراں کی شام جیسا ہے۔“ حبس زدہ اور گھٹن سے بھر پور مہیب سایوں سے ڈھکی گہری اور تاریک شام جیسا حال ہے۔ الفاظ ہیں کہ ذہن کے دریچوں پہ دستک دے کر غائب ہو رہے ہیں اور قلم ہے کہ اذیت کی اس گھڑی میں لکھنے سے انکاری ہے دل نادان کی دھڑکنیں بے ترتیب سانسیں گڈ مڈ ہو اور روح گھائل ہوئی جاتی ہے۔ سمجھ سے

Read more

زہر جب کار گر نہیں ہوتا!

زہر جب کار گر نہیں ہوتا لوگ تہمت سے مار دیتے ہیں یہ شعر مجھے کافی پسند ہے کیونکہ اس میں مخالفین ( پاکستانی عوام ) کا رویہ بتایا گیا ہے کہ کسی بھی طریقے سے مخالف کو پچھاڑنا ہے خواہ اس کے لئے انسانیت کے مقام سے بھی نیچے گرنا پڑے اگر زہر سے یک دم مارنے والا وار ناکام ہو جائے تو کردار کشی کر کے لمحہ بہ لمحہ اذیت دے کر مخالف کو موت کے گھاٹ اتارا

Read more

لٹیرا تبدیل کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟

کہتے ہیں زندگی ایک ایسا کھیل جس میں آپ جیت نہیں سکتے ہیں برابر نہیں ہو سکتے ہیں اور نہ ہی آپ نہ کھیلنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ زندگی ایسا کھیل ہے جس میں کھلاڑی کو جونہی سمجھ آ جاتی ہے اس کو ریٹائرڈ کر دیا جاتاہے۔ کتنا عجیب ہے یہ کھیل۔ اس کھیل میں کسی دن آپ سو رنز کر جاتے اور دوسرے دن صفر پہ آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ عجیب معمہ ہے نا زندگی۔ کسی دن آپ آسمان کو چھوتے مسائل چٹکیوں میں حل کر لیتے ہیں اور کسی دن چٹکی جتنے مسائل سالوں حل نہیں کر پاتے۔ کبھی کبھی سامنے کی بات انسان کی سمجھ میں نہیں آتی تو کبھی گمبھیر سوالوں کا جواب لمحوں میں مل جایا کرتا ہے۔

Read more

دہشت گرد مذہب نہیں انسان ہوتے ہیں

جب بھی کوئی انسان اپنے آپ کو دنیا سے کمتر، کمزور اور حقیر سمجھنے لگتا ہے تو وہ اپنی انا کی تسکین کے لئے دنیا پہ اپنا رعب دھونس دھاندلی کے ذریعے جمانے کی کوشش کرتا ہے۔ دنیا میں تخریب کاری، نفرت اور خوف قائم کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔ حتی کہ بے گناہ انسانوں کا خون کرنے سے بھی گرہیز نہیں کرتا ہے۔ ان تمام عوامل کو آج کی جدید اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں دہشتگردی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آج دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی مذہب کے نام پہ کی جا رہی ہے حالانکہ مذہب کی ابتدا انسان کی پیدائش کے بعد شروع ہوئی ہے۔حضرت آدم (ع) کے بیٹے قابیل نے ہابیل کو انا کی تسکین، احساس کمتری اور حسد کی بنا پہ قتل کر کے دنیا میں دہشت گردی کی بنیاد رکھ دی تھی۔ مذہب کی آڑ میں دہشت گردی کو جنم دینے والوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دہشت گرد کا کوئی بھی مذہب نہیں ہوتا بلکہ انسان خود ہی دہشت گرد ہوتے ہیں جن کا تعلق دنیا کے کسی بھی نسل خطے اور مذہب سے ہو سکتا ہے۔

Read more

فرائض سے غفلت اور حقوق خود ساختہ جنگ

مارچ کا مہینہ بچپن سے ہی ہمارے لئے اہم رہا ہے۔ کیونکہ اس روشن اور اجلی دھوپ والے مہینے کی 31 تاریخ کو ہماری کامیابی و نا کامی کا فیصلہ ہوا کرتا تھا۔ سرکاری سکولوں میں 31 مارچ کو کلاسز کا سالانہ رزلٹ نکلا کرتا اور کچھ لوگ کامیابی کے زینے طے کرتے اگلی کلاسوں میں منتقل ہو جاتے اور کچھ دوست مزید وہی تعلیم سیکھنے کے لئے اسی کلاس کا حصہ رہتے۔ اپنے فرائض نبھانے والے خوشی خوشی گھروں کو لوٹتے اور اساتذہ سے صرف اپنے حقوقِ کا رونا رونے والے نم آنکھوں کے ساتھ گھر کی راہ لیتے۔بچپن سے لڑکپن کی دہلیز پہ پہنچے تو 23 مارچ 1940 کی قرارداد بھی کچھ سمجھ میں آنے لگی اور ”مارچ“ کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ لڑکپن سے جوانی کی طرف آئے تو 8 مارچ ”خواتین کا عالمی دن“ کے متعلق معلومات ملیں کہ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک دن متعین کیا گیا ہے جس میں خصوصاً ان عورتوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے نہ صرف فلاح معاشرہ کے لئے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا بلکہ آزادی کی تحریکوں میں بھی اپنے وجود کا کردار درست ثابت کیا۔

Read more

پاکستان بمقابلہ بھارت، عمران خان بمقابلہ نریندر مودی

لفظ ”پاکستان بمقابلہ بھارت“ جب بھی نظروں سے گزرتا ہے ایک عجیب سی سنسنی دونوں ملکوں کے باشندوں کے جسموں میں ایسے دوڑنے لگتی ہے کہ پھر ”جوش سے نہیں ہوش سے“ مشورہ دینے اور کہنے والے بھی خود اتنے جوش میں آ جاتے ہیں کہ تان مقابلہ کرنے پہ ہی ٹوٹتی ہے۔ کہتے ہیں جہاں محبت زیادہ ہوتی ہے وہاں پہ اگر نفرت جنم لے لے تو پھر وہ نفرت محبت سے شدید ہوا کرتی ہے۔ چونکہ پاکستان اور

Read more

حرمت ولادت ہوئی پامال

جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال کی طرح اس سال بھی انتہائی جوش وخروش اور عقیدت سے منایا گیا مگر اس سال کی خاص بات ملک پاکستان میں عید میلاد النبی سرکاری سطح پر پہلی بار منایا گیا۔ سرکاری طور پہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کا فیصلہ درست ہے یا غلط اس بات کا تعین قارئین خود کریں کیونکہ ہم لکھیں گے تو شکایت ہو گی۔

لکھاری کی شاید یہی فطرت ہوتی ہے کہ وہ اپنی خامیاں نظر انداز کر کے ہمیشہ معاشرے کی خامیوں کواجاگر کرتا ہے۔ اور معاشرہ سدھارنے کی ناکام کوشش میں لگا رہتا ہے۔ کل سے میں بھی ان خامیوں کو اجاگر کرنے میں ایسا الجھا ہوں کہ سمجھ نہیں آ رہی کہاں سے شروع کروں اور کہاں پہ ختم کروں۔ موضوع کی طرف آتا ہوں اکیسویں صدی ہے میرے خیال کے مطابق اس بات پہ بحث میں پڑنا ہی نہیں چاہیے کہ میلاد منانا جائز ہے یا بدعت ہے۔

Read more

بھنگی کو بھی بھوک تو لگتی ہے

جالندھر کے خیر المدارس میں جلسہ ہوا اور جلسے کے اختتام پر کھانا لگا، دستر خوان پر امیر شریعت مولانا عطا اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ بھی تھے ان کی نظر ایک نوجوان عیسائی پر پڑی تو اس کو فرمایا
” بھائی کھانا کھا لو“

عیسائی نے جواب دیا
”جی میں تو بھنگی ہوں“

شاہ جی نے درد بھرے لہجے میں فرمایا
”انسان تو ہو اور بھوک تو لگتی ہے“

یہ کہہ کر اٹھے اور اور اس کے ہاتھ دھلا کر اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ وہ بیچارہ تھر تھر کانپتا تھا اور کہتا جاتا تھا
”جی میں تو بھنگی ہوں“

Read more

کپتان کبھی مجھے شرط نہیں ہارنے دے گا

بھائی آپ عمران خان کو سپورٹ کیوں نہیں کرتے؟ کاشف ابھی تم چھوٹے ہو پڑھائی پہ توجہ دیا کرو پچھلے سال بھی اسی سیاست کی وجہ سے دو پیپر میں فیل ہو چکے ہو۔ بھائی اب میں چھوٹا نہیں رہا بائیس سال کا ہو گیا ہوں۔ پچھلے الیکشن میں بھی کم عمری کی وجہ سے ووٹ نہیں ڈال سکا اس سال انشاء اللہ عمران خان کو نہ صرف ووٹ دونگا بلکہ میں کوشش کرونگا کہ میرے دوست بھی عمران خان

Read more

پرانا ٹریفک وارڈن اور نیا عمران خان

بظاہر ٹریفک وارڈن اور عمران خان میں کوئی مماثلت نظر نہیں آتی مگر نجانے کیوں کل پیش آنے والے واقعے نے ان دونوں کے درمیان میری سوچ کو ایک نقطے پہ سوچنے پہ مجبور کیا ہے۔ کل سوشل میڈیا پہ ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک ٹریفک وارڈن شاہ وقت شیخ رشید احمد وفاقی وزیر ریلوے کے لئے راستہ صاف کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کسی راہ چلتے من چلے نے موبائل کی مدد سے نہ صرف

Read more

عمران خان کا بخشا سیاسی شعور اور پل صراط

عمران خان صاحب یوتھ کے” نعروں” ، پنکی پیرنی کے "استخاروں” اور کچھ "خاص دوستوں” کے "اوزاروں” کی مدد سے نہ صرف الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو گئے بلکہ بائیس سالہ دیرینہ خواہش "وزارت عظمیٰ” کی کرسی پہ بھی براجمان ہو گئے ہیں۔اب خان صاحب اس مقام پہ پہنچ کر اس مقام کی باریک بینییوں سے کس طرح پیش آتے ہیں اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔خان صاحب کی حکومتی کارکردگی پہ تو ہم نے کچھ عرصہ

Read more

شہباز شریف صاحب تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی

جنرل نیازی صاحب سے سوال کیا گیا کہ اگر آپ ابھی حوصلہ نہ ہارتے اور جنرل اروڑہ کے سامنے ہتھیار نہ ڈالتے تو آپ مزید تین چار دن جنگ لڑ سکتے تھے تو پھر آپ نے ہتھیار ڈالنے میں جلدی کیوں کی؟ جنرل نیازی صاحب نے جواب دیا کہ جب نتیجہ ہتھیار ڈالنے کی صورت میں ہی نکلنا تھا تو کیوں بے کار کی جنگ جاری رکھی جاتی اور جانی و مالی نقصان کرایا جاتا تو جنرل ٹائیگر نیازی صاحب

Read more

جہانگیر ترین کی پھرتیاں اور نیا پاکستان

شعیب اختر، یوسین بولٹ، رونالڈو رافیل نڈال کی ہھرتیاں اور تیزیاں ہی تھیں، جن کی وجہ سے ان تمام کے ناموں کے ساتھ ورلڈ رِکارڈ ہولڈر کا لفظ لگ گیا اور یہ تمام لوگ دنیا میں پہچانے جانے لگے۔ اس دنیا کی کوئی بھی جنگ یا کھیل جیتنے کے لئے داؤ پیچ اور وقت کی تیزی سے انکار نہیں کیا جا سکتا؛ اگر آپ شطرنج کھیل رہے ہوں تو جتنا جلدی آپ کا دماغ کام کرے گا اور جتنی جلدی

Read more

عمران خان نیا پاکستان اور اداروں کی بالادستی

سب سے پہلے عمران خان اور عمران خان کے تمام ٹائیگرز کو دلی مبارکباد کہ ایک طویل اور صبر آزما سیاسی جنگ کو بلند حوصلوں اور ولولہ انگیز جذبوں سے جیتنے میں کامیاب ہوئے گو کہ خان صاحب یہ میدان نئے اصولوں سے تو نہ جیت پائے بلکہ انہی الیکٹبلز کے وضع کردہ پرانے اصولوں اور سہاروں سے جیتنے میں کامیاب ہوئے مگر اب اس بحث کا فائدہ نہیں کیونکہ اٹل حقیقت یہی ہے کہ خان صاحب جیت چکے ہیں

Read more

صحیح ٹائم پہ کپتان کا غلط شاٹ

سنا ہے محبت اور جنگ میں سب جائز ہے اور پھر جنگ اقتدار کی ہو تو اپنے پرائے کی تمیز بھی بھول جاتی ہے جب اقتدار کا نشہ سر پہ چڑھتا ہے تو ماں بیٹوں کو ذبح کرتی نظر آتی ہے اور بیٹا باپ کا دشمن بنا پھرتا ہے غرض اپنے سوا ہر رشتہ خود غرض نظر آتا ہے اور کبھی اقتدار ختم ہونے کا خوف سر پہ سوار ہو تو پھر بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ علامہ اقبال یونیورسٹی

Read more