لٹیرا تبدیل کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟

کہتے ہیں زندگی ایک ایسا کھیل جس میں آپ جیت نہیں سکتے ہیں برابر نہیں ہو سکتے ہیں اور نہ ہی آپ نہ کھیلنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ زندگی ایسا کھیل ہے جس میں کھلاڑی کو جونہی سمجھ آ جاتی ہے اس کو ریٹائرڈ کر دیا جاتاہے۔ کتنا عجیب ہے یہ کھیل۔ اس کھیل میں کسی دن آپ سو رنز کر جاتے اور دوسرے دن صفر پہ آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ عجیب معمہ ہے نا زندگی۔ کسی دن آپ آسمان کو چھوتے مسائل چٹکیوں میں حل کر لیتے ہیں اور کسی دن چٹکی جتنے مسائل سالوں حل نہیں کر پاتے۔ کبھی کبھی سامنے کی بات انسان کی سمجھ میں نہیں آتی تو کبھی گمبھیر سوالوں کا جواب لمحوں میں مل جایا کرتا ہے۔

Read more

دہشت گرد مذہب نہیں انسان ہوتے ہیں

جب بھی کوئی انسان اپنے آپ کو دنیا سے کمتر، کمزور اور حقیر سمجھنے لگتا ہے تو وہ اپنی انا کی تسکین کے لئے دنیا پہ اپنا رعب دھونس دھاندلی کے ذریعے جمانے کی کوشش کرتا ہے۔ دنیا میں تخریب کاری، نفرت اور خوف قائم کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔ حتی کہ بے گناہ انسانوں کا خون کرنے سے بھی گرہیز نہیں کرتا ہے۔ ان تمام عوامل کو آج کی جدید اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں دہشتگردی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آج دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی مذہب کے نام پہ کی جا رہی ہے حالانکہ مذہب کی ابتدا انسان کی پیدائش کے بعد شروع ہوئی ہے۔حضرت آدم (ع) کے بیٹے قابیل نے ہابیل کو انا کی تسکین، احساس کمتری اور حسد کی بنا پہ قتل کر کے دنیا میں دہشت گردی کی بنیاد رکھ دی تھی۔ مذہب کی آڑ میں دہشت گردی کو جنم دینے والوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دہشت گرد کا کوئی بھی مذہب نہیں ہوتا بلکہ انسان خود ہی دہشت گرد ہوتے ہیں جن کا تعلق دنیا کے کسی بھی نسل خطے اور مذہب سے ہو سکتا ہے۔

Read more

فرائض سے غفلت اور حقوق خود ساختہ جنگ

مارچ کا مہینہ بچپن سے ہی ہمارے لئے اہم رہا ہے۔ کیونکہ اس روشن اور اجلی دھوپ والے مہینے کی 31 تاریخ کو ہماری کامیابی و نا کامی کا فیصلہ ہوا کرتا تھا۔ سرکاری سکولوں میں 31 مارچ کو کلاسز کا سالانہ رزلٹ نکلا کرتا اور کچھ لوگ کامیابی کے زینے طے کرتے اگلی کلاسوں میں منتقل ہو جاتے اور کچھ دوست مزید وہی تعلیم سیکھنے کے لئے اسی کلاس کا حصہ رہتے۔ اپنے فرائض نبھانے والے خوشی خوشی گھروں کو لوٹتے اور اساتذہ سے صرف اپنے حقوقِ کا رونا رونے والے نم آنکھوں کے ساتھ گھر کی راہ لیتے۔بچپن سے لڑکپن کی دہلیز پہ پہنچے تو 23 مارچ 1940 کی قرارداد بھی کچھ سمجھ میں آنے لگی اور ”مارچ“ کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ لڑکپن سے جوانی کی طرف آئے تو 8 مارچ ”خواتین کا عالمی دن“ کے متعلق معلومات ملیں کہ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک دن متعین کیا گیا ہے جس میں خصوصاً ان عورتوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے نہ صرف فلاح معاشرہ کے لئے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا بلکہ آزادی کی تحریکوں میں بھی اپنے وجود کا کردار درست ثابت کیا۔

Read more

پاکستان بمقابلہ بھارت، عمران خان بمقابلہ نریندر مودی

لفظ ”پاکستان بمقابلہ بھارت“ جب بھی نظروں سے گزرتا ہے ایک عجیب سی سنسنی دونوں ملکوں کے باشندوں کے جسموں میں ایسے دوڑنے لگتی ہے کہ پھر ”جوش سے نہیں ہوش سے“ مشورہ دینے اور کہنے والے بھی خود اتنے جوش میں آ جاتے ہیں کہ تان مقابلہ کرنے پہ ہی ٹوٹتی ہے۔ کہتے ہیں…

Read more

حرمت ولادت ہوئی پامال

جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال کی طرح اس سال بھی انتہائی جوش وخروش اور عقیدت سے منایا گیا مگر اس سال کی خاص بات ملک پاکستان میں عید میلاد النبی سرکاری سطح پر پہلی بار منایا گیا۔ سرکاری طور پہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کا فیصلہ درست ہے یا غلط اس بات کا تعین قارئین خود کریں کیونکہ ہم لکھیں گے تو شکایت ہو گی۔

لکھاری کی شاید یہی فطرت ہوتی ہے کہ وہ اپنی خامیاں نظر انداز کر کے ہمیشہ معاشرے کی خامیوں کواجاگر کرتا ہے۔ اور معاشرہ سدھارنے کی ناکام کوشش میں لگا رہتا ہے۔ کل سے میں بھی ان خامیوں کو اجاگر کرنے میں ایسا الجھا ہوں کہ سمجھ نہیں آ رہی کہاں سے شروع کروں اور کہاں پہ ختم کروں۔ موضوع کی طرف آتا ہوں اکیسویں صدی ہے میرے خیال کے مطابق اس بات پہ بحث میں پڑنا ہی نہیں چاہیے کہ میلاد منانا جائز ہے یا بدعت ہے۔

Read more

بھنگی کو بھی بھوک تو لگتی ہے

جالندھر کے خیر المدارس میں جلسہ ہوا اور جلسے کے اختتام پر کھانا لگا، دستر خوان پر امیر شریعت مولانا عطا اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ بھی تھے ان کی نظر ایک نوجوان عیسائی پر پڑی تو اس کو فرمایا
” بھائی کھانا کھا لو“

عیسائی نے جواب دیا
”جی میں تو بھنگی ہوں“

شاہ جی نے درد بھرے لہجے میں فرمایا
”انسان تو ہو اور بھوک تو لگتی ہے“

یہ کہہ کر اٹھے اور اور اس کے ہاتھ دھلا کر اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ وہ بیچارہ تھر تھر کانپتا تھا اور کہتا جاتا تھا
”جی میں تو بھنگی ہوں“

Read more

کپتان کبھی مجھے شرط نہیں ہارنے دے گا

بھائی آپ عمران خان کو سپورٹ کیوں نہیں کرتے؟ کاشف ابھی تم چھوٹے ہو پڑھائی پہ توجہ دیا کرو پچھلے سال بھی اسی سیاست کی وجہ سے دو پیپر میں فیل ہو چکے ہو۔ بھائی اب میں چھوٹا نہیں رہا بائیس سال کا ہو گیا ہوں۔ پچھلے الیکشن میں بھی کم عمری کی وجہ سے…

Read more

پرانا ٹریفک وارڈن اور نیا عمران خان

بظاہر ٹریفک وارڈن اور عمران خان میں کوئی مماثلت نظر نہیں آتی مگر نجانے کیوں کل پیش آنے والے واقعے نے ان دونوں کے درمیان میری سوچ کو ایک نقطے پہ سوچنے پہ مجبور کیا ہے۔ کل سوشل میڈیا پہ ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک ٹریفک وارڈن شاہ وقت شیخ رشید احمد وفاقی…

Read more

عمران خان کا بخشا سیاسی شعور اور پل صراط

عمران خان صاحب یوتھ کے" نعروں" ، پنکی پیرنی کے "استخاروں" اور کچھ "خاص دوستوں" کے "اوزاروں" کی مدد سے نہ صرف الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو گئے بلکہ بائیس سالہ دیرینہ خواہش "وزارت عظمیٰ" کی کرسی پہ بھی براجمان ہو گئے ہیں۔اب خان صاحب اس مقام پہ پہنچ کر اس مقام کی باریک بینییوں…

Read more

شہباز شریف صاحب تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی

جنرل نیازی صاحب سے سوال کیا گیا کہ اگر آپ ابھی حوصلہ نہ ہارتے اور جنرل اروڑہ کے سامنے ہتھیار نہ ڈالتے تو آپ مزید تین چار دن جنگ لڑ سکتے تھے تو پھر آپ نے ہتھیار ڈالنے میں جلدی کیوں کی؟ جنرل نیازی صاحب نے جواب دیا کہ جب نتیجہ ہتھیار ڈالنے کی صورت…

Read more