مثبت خبر: زیادہ پن بجلی بنانے کا عالمی اعزاز اور واپڈا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واٹر اینڈ پاور ڈولپمینٹ اتھارٹی (واپڈا) کا شمار پاکستان کے اہم ترین اداروں میں ہوتا ہے جس نے خود درجن بھر اداروں کو جنم دیا ہے جو خود آگے بڑھتے اور ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔ واپڈا نے اپنی تاریخ میں این ٹی ڈی سی، آئیسکو، لیسکو، فیسکو، گیپکو، میپکو، ہیسکو، سیپکو، کیسکو، پیسکو، ٹیسکو، جینکو۔ 1، جینکو۔ 2، جینکو 3۔ ، جینکو۔ 4، حبکو اور کیپکو کوٹ ادو سمیت ”نیسپاک“، ”برق آب“ جیسی طاقتور بجلی بنانے، تقسیم کرنے اور آبی و برقی شعبوں میں کنسلٹنٹ اور کانٹریکٹر کمپنیوں اور ”واپڈا فاؤنڈیشن“ جیسے فلاحی اداروں کو جنم دیا جو اس وقت بذات خود الگ بڑی اہمیت رکھتے ہیں، اور اس وقت واپڈا اور وزارت آبی وسائل سے علیحدہ ہو کر بھی بہتر کام سرانجام دے رہے ہیں۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پورے ملک کی آبپاشی، زراعت، کھاد انڈسٹری، شگر انڈسٹری اور کاٹیج انڈسٹری سے لے کر ملک کی پوری اکانامی کو چلانے میں بھی واپڈا کا بہت اہم اور ناقابل فراموش کردار ہے۔

تربیلا اور منگلا ڈیمز تو واپڈا کے سر کے تاج ہیں۔ ان ڈیمز کی تعمیر کے بعد ملک میں جو زرعی انقلاب آیا وہ سب کے سامنے ہے۔ واپڈا ایک ایسی فیملی ہے جس میں شامل تمام ادارے اور لوگ ایک دوسرے سے باہم جڑے ہوئے ہیں اور تمام ملازمین ایک خاندان کی طرح ہیں۔ یہ امر کافی دلچسپ ہے کہ واپڈا کے دفاتر پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں اسی وجھ سے قومی یکجھتی کی یہ عظیم مثال بھی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کی طرح واپڈا ہاؤس میں بھی پاکستان کے ہر صوبے اور ہر ضلعے کا کوئی نہ کوئی رہائشی مل جاتا ہے۔

یہ ہی صورتحال تربیلا، منگلا ڈیم اور نیلم جہلم پراجیکٹس پر بھی ملے گی۔ ملک کے شمالی علاقوں میں مہمند ڈیم، داسو ڈیم اور دیامر باشا ڈیم پر کام کرنے والے انجینئرز سندھ اور پنجاب کے ہیں تو کچھی کینال اور رینی کئنال پر پٹھان اور بلوچ افسران کام کر رہے ہیں۔ یہ ان سب افسران، انجنیئرز اور باقی عملے کی محبت کا ثمر ہے کہ واپڈا کو ملکی اور بین الاقوامی طور پر عزت اور شہرت مل رہی ہے۔

آج کل کی زیادہ تر ”غیر مثبت“ خبروں میں یہ دوسری مثبت خبر پورے پاکستان کے لئے نہایت خوشی اور فخر کا سبب ہوگی کہ پاکستان گذشتہ سال پن بجلی کی پیداواری صلاحیت کے حوالے سے دُنیا بھر میں تیسرے نمبر پر رہا، جو پاکستان کے لئے اک عالمی اعزاز ہے، انٹرنیشنل ہائیڈرو پاور ایسوسی ایشن نے عالمی سطح پر پن بجلی کے شعبہ میں پیش رفت کے حوالے سے جاری کردہ اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ”پاکستان میں 2018 ء کے دوران واپڈا منصوبوں کی تکمیل سے پن بجلی کی پیداواری صلاحیت میں 2 ہزار 487 میگاواٹ اضافہ ہوا، جو واپڈا کی جانب سے گولن گول، نیلم جہلم اور تربیلا کے چوتھے توسیعی منصوبے کی تکمیل سے ممکن ہوا۔

انٹر نیشنل ہائیڈرو پاور ایسوسی ایشن کی رپورٹ ”ہائیڈرو پاور سٹیٹس رپورٹ۔ 2018 سیکٹر ٹرینڈز اینڈ انسائٹس“ کے مطابق بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے حوالے سے دُنیا بھر میں چین پہلے اور برازیل دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ پاکستان تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ پن بجلی بنانے والا ملک رہا، مذکورہ سے جاری کی گئی ہے اور ویب پر بھی دستیاب ہے۔

یونیسکو کے زیر اہتمام 1995 ء میں انٹر نیشنل ہائیڈرو پاور ایسوسی ایشن کے نام سے قائم ہونے والا یہ فورم دُنیا بھر میں پن بجلی کے حوالے سے مفید تجربات کو فروغ دے رہا ہے۔ انٹر نیشنل ہائیڈرو پاور ایسوسی ایشن کی رپورٹ میں شامل پن بجلی کی پیداواری صلاحیت میں حالیہ اضافہ کے حوالے سے ٹاپ 20 ممالک کی فہرست میں بتایا گیا ہے کہ 2018 ء میں پاکستان نے مختلف منصوبوں کی تکمیل سے اپنے قومی نظام میں 2 ہزار 487 میگاواٹ پن بجلی کا اضافہ کیا۔

چین دُنیا بھر میں پہلے نمبر پر رہا جس نے اپنے نظام میں 8 ہزار 540 میگاواٹ پن بجلی کا اضافہ کیا جبکہ 3 ہزار 866 میگاواٹ پن بجلی اضافہ کے ساتھ برازیل فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ایک ہزار 85 میگاواٹ پن بجلی اضافہ کے ساتھ ترکی چوتھے جبکہ 668 میگاواٹ پن بجلی اضافہ کے ساتھ انگولا پانچویں نمبر پر رہا۔ اپنے ہمسایہ ملک بھارت کی فہرست میں آٹھویں پوزیشن ہے جس نے اپنے نظام میں 535 میگاواٹ پن بجلی کا ہی اضافہ کیا۔

واپڈا کے تعلقات عامہ نظامت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پن بجلی کی پیداواری صلاحیت میں حالیہ اضافہ کے حوالے سے واپڈا نے سال 2018 ء میں تیزی سے پیش رفت کرتے ہوئے 2 ہزار 487 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے تین میگا منصوبوں کو مکمل کیا، اِن منصوبوں میں گولن گول، تربیلا کا چوتھا توسیعی منصوبہ اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شامل ہیں۔ یہ تینوں منصوبے طویل عرصہ سے تاخیر کا شکار تھے۔ اِن منصوبوں کی تکمیل کی بدولت واپڈا کی پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں صرف ایک سال میں 36 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 9 ہزار 389 میگاواٹ ہو گئی ہے۔ قبل ازیں 1958 ء میں اپنے قیام سے 2017 ء تک 59 برس میں واپڈا کی پن بجلی پیداکرنے کی صلاحیت 6 ہزار 902 میگاواٹ تک پہنچ سکی تھی۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کا پوٹینشل 60 ہزار میگاواٹ سے بھی زائد ہے۔ اِس صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لئے واپڈا نے ایک ہمہ جہت حکمت ِ عملی تیار کی ہے۔ قلیل مدتی پلان کے تحت 2025 ء تک مختلف منصوبوں کی تعمیر سے پن بجلی کی پیداواری صلاحیت میں 828 میگاواٹ، وسط مدتی پلان کے تحت 2030 تک 5 ہزار 653 میگاواٹ جبکہ طویل مدتی پلان کے تحت 2050 ء تک مزید 6 ہزار 245 میگاواٹ اضافہ کیا جائے گا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس وقت واپڈا پن بجلی پیداوار میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ دنوں واپڈا کے پن بجلی گھروں نے نیشنل گرڈ کو پیک آورز کے دوران 7 ہزار 591 میگاواٹ بجلی مہیا کی، جو پاکستان میں اب تک پن بجلی کی ریکارڈ پیداوار ہے۔ پن بجلی کی یہ ریکارڈ پیداوار تربیلا کے چوتھے توسیعی منصوبے اور نیلم جہلم سے بجلی کی بھرپور پیداوار کی بدولت ممکن ہوئی۔ قبل ازیں واپڈا پن بجلی کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کا ریکارڈ 7 ہزار 585 میگاواٹ تھا جو گزشتہ سال 19 ستمبر کو بنا تھا۔

گزشتہ روز پیک آورز کے دوران پن بجلی کے پیداواری اعداد و شمار کے مطابق تربیلا پن بجلی گھر سے 2 ہزار 907 میگاواٹ، تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے سے ایک ہزار 372 میگاواٹ، غازی بروتھا پن بجلی گھر سے ایک ہزار 450 میگاواٹ، نیلم جہلم پن بجلی گھر سے 973 میگاواٹ، منگلا پن بجلی گھر سے 210 میگاواٹ، وارسک پن بجلی گھر سے 175 میگاواٹ جبکہ واپڈا کے دیگر بجلی گھروں سے نیشنل گرڈ کو 504 میگاواٹ پن بجلی پیدا ہوئی۔

پن بجلی کے تین بڑے منصوبوں یعنی نیلم جہلم، تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے اور گولن گول کی مرحلہ وار تکمیل سے واپڈا کی پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 6 ہزار 902 میگاواٹ سے بڑھ کر 9 ہزار 389 میگاواٹ ہوچکی ہے۔ توقع ہے کہ اس سال دریاؤں میں پانی کی زیادہ آمد، آبی ذخائر میں پانی کی بلند سطح اور ارسا کی جانب سے صوبوں کی ضروریات کے مطابق آبی ذخائر سے پانی کے اخراج کی بدولت رواں سال پن بجلی کی پیداوار میں مزید اضافہ ہوگا اور یہ 8 ہزار میگاواٹ سے بھی بڑھ سکتی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ واپڈا کے مجموعی طور پر 22 پن بجلی گھر ہیں، جو نیشنل گرڈ کو ہر سال اوسطاً 31 ارب یونٹ سستی پن بجلی مہیا کرتے ہیں۔ پن بجلی کی یہ پیداوار ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے اور سستی ترین بجلی ہونے کی وجہ سے صارفین کے لئے بجلی کے نرخوں کو کم سطح پر رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

واپڈا کے چیئرمین رٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین واپڈا کے لئے اک نیا وژن اور نعرہ لے کر آئے ہیں کہ ”ہر دس سال میں ایک ڈیم“ اس سلسلے میں اس وقت مہمند اور دیامر باشا ڈیم پراجیکٹ پر کام کو باقاعدہ شروع کیا گیا ہے، اگر واپڈا اپنی اس رفتار کو قائم رکھے اور ہر دس سال میں ایک ڈیم بنائے تو ملک کے باقی منسلک ادارے اور ملکی معیشیت ازخود ترقی کرتی جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •