بد تہذیبیاں


کافی نمازیں قضا ہونے کے بعد غلطی کا احساس ہوا تو ایف ٹین کی ایک مسجد کا رخ کیا جیسے ہی وضو کے لئے بیٹھا تو ”خاں خاں اور زو زو“ کی آوازوں نے استقبال کیا، اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو دوسرا تیسرا بندہ اسی کیفیت میں مبتلا پایا۔ اسی اثنا میں کچھ لوگوں نے یہ حرکت دیکھ کر بجائے وضو کر کے نماز پڑھنے کے مسجد سے باہر نکلنے میں عافیت جانی۔

جی ہاں یہ آوازیں تھیں ناک صاف کرنے کی اور لوگ یوں صفائی کر رہے تھے جیسے اس سیارے سے پانی کی آخری بوندوں سے عمر بھر کا گند صاف کرنا ہو، یہ کسی ایک مسجد کا حال نہیں اجکل ہر دوسری جگہ یہ منظر آپ کو دیکھنے کو ملے گا۔

مسجد میں لوگ ذہنی و قلبی سکون کے لئے جاتے لیکن جب وہاں اس طرح کی حرکتیں ہو رہی ہوں تو سکون تو درکنار نماز پڑھنا بھی محال ہو جاتا۔

ہمارا دین جس نے صفائی کو نصف ایمان کا درجہ دیا ہے یقینا ایسی حرکات کی حوصلہ شکنی کرتا ہے لیکن منبر پہ بیٹھے علما کرام کو بھی بتانا چایئے کہ خدا کے گھر میں ایسی حرکات و سکنات سے پرہیز کریں۔

بد تہذیبیوں کی داستاں اتنی لمبی ہے کہ آپ کو اپنے گھر کے دروازے سے لے کر گلی گلی کوچا کوچا ہر جگہ بے لگام دنداناتی نظر آئیں گی۔

نماز کے بعد ایک ہوٹل میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں کی خاموشی انتہائی دلفریب تھی اسی اثنا ہمارے ساتھ والی ٹیبل پر ویٹر نے کھانا سرو کرنا، کھانا رکھنے کی دیر تھی کہ ٹک ٹک کی آواز نے سب بیٹھے لوگوں کو چونکا دیا

یہ آواز کسی ہتھوڑے سے کم نہ تھی دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ایک صاحب پائے کی ہڈی سے گودا نکالنے کے لئے اسے ہتھوڑے کی طرح پلیٹ پر مار رہے ہیں۔

یہ اس ہجوم کی چند ایک کارستانیاں تھیں جو ہر وقت حکمرانوں کو کوستا رہتا ہے، یقین مانیں دنیا بھر کے کرپٹ ترین حکمرانوں کی حکمرانی کے لئے یہ موزوں ترین ہجوم ہے جو کہ پیدا ہی زندہ باد اور مردہ باد کے نعروں کے لئے ہوا ہے۔

وہ حکمران جن کی ایک ری ٹوئٹ کے بعد یہ ہجوم سب کچھ بھلا کر ان پر جان چھڑکنے کو تیار ہو جاتا ہے انہیں شودر سے بھی برترین مخلوق تصور کیا جاتا ہے

وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا کی حقیقت افسانوں سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں، جب تک اس کوڑھ زدہ ذہنیت کو نہیں بدلا جائے گا معاملات یوں ہی بگڑے رہیں گے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).