’سبزوار‘ اور ’سبزواری‘


جس طرح ہر شخص ایک کہانی ہے، اسی طرح ہر نام بھی ایک تاریخ ہے۔ خواہ وہ نام کسی فرد کا ہو، شہر کا، علاقے کا، تحریک کا، یا قبیلے کا۔ ہر نام نے کوئی نہ کوئی ارتقائی اور تاریخی سفر ضرور طے کیا ہوا ہوتا ہے، یہ اور بات ہے کہ ہمیں اس ارتقائی سفر کی جُزیات اور اصلیت معلوم ہو یا نہ ہو۔ بہت سے نام دلچسپ تاریخی پسمنظر رکھتے ہیں اور ان کو صحیح معنوں میں جاننے کا سفر سائلِ علم کے لئے بہت دلچسپ ہوتا ہے۔ بہت سارے افراد کے نام اُن کے قبیلے کی نسبت ہوتے ہیں، مگر مشرق میں بالخصُوص یہ روایت بھی عام دیکھی گئی ہے کہ بہت سے افراد اپنے ملک، شہر یا علاقے کا نام اپنی نسبت کے طور پر جوڑتے ہیں۔

گوکہ یہ روایت مشرق تک محدود نہیں ہے، مگر مغرب میں اس کی مثالیں ہماری نسبت کم ملتی ہیں۔ ہمارے یہاں شعرائے اکرام ہی نہیں، بلکہ بُزرگانِ دین نے بھی اپنے شہرِ پیدائش کی نسبت کو اپنے نام کے ساتھ فخریہ طور پر جوڑا۔ شعراء میں ہمیں جہاں لکھنوی، دہلوی، جالندھری، لدھیانوی، ایرانی، اصفہانی، میرٹھی، ناتھن شاہی، گاڑھوی، حیدرآبادی اور اکبر آبادی جیسی متعدد مثالیں ملتی ہیں، وہیں بُزرگانِ دین کے ناموں کے ساتھ مروندی (حضرت لال شہباز قلندرؒ کی نسبت) ، بھٹائی (حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ کی نسبت) ، درازی (حضرت سچل سرمست ؒ کی نسبت) ، ملتانی، ٹھٹوی، سرہندی، ایرانی، فارسی وغیرہ وغیرہ جیسی نسبتیں عموماً ملتی ہیں۔

بُزرگانِ دین کی ایک کثیر تعداد ’سبزواری‘ کی نسبت سے بھی جانی جاتی ہے۔ ان بُزرگانِ دین، مؤرخین اور دیگر مشہورشخصیات میں، کئی اور کے ساتھ، میر ابوالمکارم بکھری سبزواری، میر ابوالبقا بہرور علی سبزواری، میر حیدرالدین سبزواری، میر عبدالبقا سبزواری، میر رضی الدین فدائی سبزواری، میرابوالمکارم ’شہود‘ سبزواری، میر عبداللہ ٹھٹوی سبزواری، سیّد مُلّا میر سبزواری وغیرہ کے نام بھی آجاتے ہیں۔ ان میں سے بیشترشخصیات کے ساتھ ’سبزواری‘ کی نسبت، ایران کے شہر ’سبزوار‘ کی وجہ سے جُڑی ہے۔

ایران کا یہ قدیم شہر سبزوار، خراسان کا شہر ہے، جو بُزرگانِ دین کے حوالے سے مشہُور ایک اور شہر، نیشاپورکے مغرب میں اندازاً 64 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ سبزوار، بھی بُزگانِ دین کے شہر کے طور پر جانا جاتا ہے، مگر اِس پہچان کے ساتھ ساتھ اس شہر کی ایک اور شناخت، شجاعت کی کئی داستانیں بھی ہیں، جو اس شہر سے منسُوب ہیں، ان میں سے جہاں کچھ نیم تاریخی لوک داستانیں ہیں، تو وہیں پر متعدد تاریخی اور مُستند واقعات بھی ہیں۔

میرے قارئین میں سے شاید بہت سوں کو یہ پڑھ کر حیرت ہو کہ ’رُستم اور سُہراب‘ کا مشہورِ عالم واقعہء شجاعت بھی اسی شہر سے منسُوب ہے اور ان دونوں پہلوانوں کے درمیان سجنے والا اکھاڑہ بھی اسی شہر کے ایک چوراہے پر لگا تھا، جہاں رُستم اور سُہراب نے کُشتی کا دنگل سجایا تھا، گویا رُستم اور سُہراب بھی سبزوارشہرہی سے متعلق تھے۔ یہ میدان اب بھی موجود ہے اور ’سفید دیو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آج کل ’بیہق‘ نامی شہر اس ضلع کا صدر مقام ہے، مگر ابتدا میں سبزوارہی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر کا درجہ رکھتا تھا۔

ایران کے اہم سلجُوقی دور (جو 1037 ء سے لے کر 1157 ء تک تھا) ، خواہ چنگیزی اور ایلخانی دورِ حکومت میں بھی سبزوار شہر کا ذکر تاریخ میں واضع طور پر ملتا ہے۔ اس دور میں یہاں متعدد خودمختار حکومتیں بھی وجُود میں آئیں، جن میں ’سلسلہء آلِ مُظفر‘ بھی شامل ہے۔ اگر تاریخی حوالے سے اس شہر پر نگاہ ڈالی جائے، تو معلوم ہوگا کہ جب منگول حکمران چنگیز خان نے سن 1220 ء میں خُراسان پر دھاوا بولا، تو سبزوار کے نواح میں نیشاپُور میں اُس کا داماد قتل ہوگیا، جس کے ردِ عمل کے طور پر چنگیز خان نے اپنے روایتی تیش میں آکر اس گردونواح میں بے گناہ لوگوں کا بے دریغ قتلِ عام کروایا۔

اس حملے میں سبزواربھی نہ بچ سکا اور یہاں کے تقریباً 70 ہزار انسانوں کو چنگیز نے اپنے غصے کا شکار بنا کر بے گناہ قتل کروا دیا۔ یہ حملہ یہاں تک محدُود نہ رہا، بلکہ سبزوار سے آگے بڑھ کر حملہ آوروں نے چنگیز کے حکم پر اُس دور کے علم و دانش و عرفان کے محور و مرکز شہر ’مرو‘ پر بھی حملہ کیا اور متعدد تواریخ کے مطابق اِس حملے میں مرو میں 5 لاکھ شہریوں کا قتلِ عام ہُوا۔

سبزوارماضی میں تجارت کے بڑے اہم مرکز کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔ 14 ویں صدی عیسوی میں ایک سیّاح نے سبزوار دیکھنے کے بعد اپنے سفرنامے میں تحریر کیا: ”اس شہر کے بازار، لکڑی کی چھتوں کے ساتھ، ستُونوں کے سہارے کھڑے ہیں۔ “ علمی وثقافتی لحاظ سے اس شہر نے اہم شخصیات پیدا کیں، جن میں نظام المُلک، الپ ارسلان (وزیر) ، مدرسہء نظامیہ کے بانی۔ ملک شاہ، ’تاریخِ بیقہی‘ کے مُصنف۔ ابوالحسن سبزواری، ’انوارِسہیلیِ‘ کے مُصنف۔

حسن واعظ کاشفی اوراُن کے بیٹے۔ فخرالدّین علی وغیرہ شامل ہیں۔ اسی شہر کے عظیم و مشہور صُوفی، پیر شمس سبزواری (ولادت: 560 ہ بمطابق 1165 ء) اپنی عمر کے آخری حصے میں مُلتان تشریف لائے اور اسماعیلی نقطہء نظر کی تبلیغ کرتے رہے۔ جن کے پیروکاروں نے اپنے نام کے ساتھ ’شمسی‘ کی نسبت لگادی۔ سندھ میں ’لوہانو‘ نامی ہندو قبیلے کے لوگ بھی پیر شمس سبزواری کے معتقد اور مُرید تھے، جنہُوں نے خوجہ رسم الخط میں اُن کے گنان (کلام) کو قلمبند کرکے سندھ میں عام کیا۔ پیرشمس سبزواری سندھ بھی تشریف لاچکے ہیں۔

جدید ایران کی ادبی تاریخ میں مُلّا ہادی سبزواری کا نام بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جو ایک بہت بڑے فلسفی تھے۔ جب سندھ پر ارغُونوں اور ترخانوں کی حُکومت تھی، اُس دور میں جو خانوادے ایران سے ہجرت کرکے سندھ میں آکرآباد ہوئے، اُن میں ’سبزواری ساداتوں‘ کا خاندان بھی شامل ہے۔ سندھ میں بکھر کی اہم شخصیت، میرمعصُوم شاہ بکھری کے نانا، میر کَلاں بھی سبزوار سے ہجرت کرکے یہاں آئے تھے اور آکر سیوہن میں سکونت پذیر ہوئے تھے۔ آج بھی سیوہن اور ٹھٹہ میں ’سبزواری ساداتوں‘ کی اولادیں آباد ہیں۔

سبزوار میں رہنے والے یا وہاں پیدا ہونے والوں کے علاوہ، سیّد محمُود سبزواری بن مُحمّد سبزواری کی اولاد بھی ’سبزواری سیّد‘ کہلاتی ہے، جن کا شجرہء نسب کچھ اس طرح ہے : سیّد طالب بن سیّد میر کلاں، بن سیّد ابراہیم، بن سیّد محمُود، بن سیّد مُحمّد جعفر، بن سیّد مغفُور، بن سیّد محمّد، بن سیّد علی ابنِ ابی طالب محمّد، بن علی، بن ہیبت اللہ بن ثعلب، بن سیّد مُحمّد، بن سیّدعلی، بن سیّد احمد، بن حسن، بن مُحمّد، بن ابراہیم، بن سیّد مُحمّد، بن امام مُوسیٰ کاظم، بن امام جعفر صادق، بن امام مُحمّد باقر، بن امام زین العابدین، بن امام حسین، بن امامِ علی کرم اللہ وجہ۔

ایک اور روایت کے مُطابق، سیّد مِیرکلاں، سن 927 ہجری بمطابق 1521 ء میں قندھار سے سیوہن کے علاقے ’کھابروٹ‘ میں ہجرت کرکے سکُونت پذیر ہوئے، جن کے چاربیٹے تھے، جن میں سیّد طالب، سیّد برکو، سیّد مُحمّد اور سیّد محمُود شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سیوہن کے سبزواری سیّد، سیّد طالب کی اولاد میں سے ہیں۔

Facebook Comments HS